تازہ ترین
جنوبی کشمیر کے عوام نے محبوبہ مفتی کے سیاسی آنسوؤں کا بہت خمیازہ بھگتا : عمر عبداللہ
خبراردو:
ہمارے دشمن نہیں چاہتے کہ ہم ایک آواز میں بات کریں، جب ہم کہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس کا سیاسی حل ہونا چاہئے تو ہمیں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے ، ہمیں کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور ایک سازش کے تحت ہمیں ٹولیوں میں بانٹا جاتا ہے۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے آج ڈاک بنگلہ اننت ناگ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کے این ایس کو موصولہ بیان کے مطابق اس موقعے پر جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سٹیٹ سکریٹری سکینہ ایتو، شمالی زون صدر ڈاکٹر بشیر احمد ویری، ضلع صدر اسلم آباد الطاف احمد کلو اور پیر محمد حسین کے علاوہ کئی لیڈران موجو دتھے۔ اجتماع میں سابق جسٹس سید توقیر احمد اور پی ڈی پی کے سابق جنرل سکریٹری غلام رسول ملک نے باضابطہ طور پر نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی اور دونوں کا پارٹی میں خیر مقدم کیا گیا۔ عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’’میں جمہوریت کیخلاف نہیں ، مجھے یہ غلطی فہمی نہیں ہے کہ صرف نیشنل کانفرنس کو ہی اقتدار کی کرسی سنبھالنے کا حق ہے ، لیکن یہ نئی جماعتیں صرف کشمیر کیوں آرہی ہیں ، جموں اور لداخ میں ایسا رجحان کیوں نہیں ، وہاں کے لوگ کو بھی جمہوری حق حاصل ،وہاں جب لڑائی ہوتی ہے تو سیدھے دو یا تین جماعتوں میں ہوتی ہے لیکن وادی میں دس پندرہ جماعتوں میں مقابلہ آرائی ہوتی ہے، کوشش یہی ہوتی ہے کہ جنوبی کشمیر میں کوئی ایک جماعت آئے، وسطی کشمیرمیں دوسری جماعت جیتے اور شمالی کشمیر میں تیسری پارٹی جیت حاصل کرے، تاکہ ہم بکھر جائیں اور ہماری آواز میں کوئی وزن نہ رہے۔ نیشنل کانفرنس کے بانی شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے اپنی قید حیات میں ہی اس کی پیش گوئی کی تھی اور کہا تھا کہ مرکز میرے مرنے کے بعد یہاں کے لوگوں کی آواز کو تقسیم کرنے کیلئے گلی گلی لیڈر بنائے گا۔ ‘‘
نیشنل کانفرنس نائب صدر نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم ایک ہی لگام کو پکڑیں اور اُن تمام سازشوں کو ناکام بنائیں جس کے ذریعے ہمیں بانٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پی ڈی پی کی سربراہی والی سابق حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ان لوگوں نے یہاں حالات اتنے خراب کئے ہیں کہ اننت ناگ پارلیمانی نشست کے انتخابات 3مراحل میں ہیں جبکہ کئی ریاستوں میں، جہاں 20تیس پارلیمانی نشستیں ہیں، ایک ہی دن ووٹنگ ہے۔حالات اس قدر خراب کئے گئے ہیں کہ یہاں تین دن ووٹنگ ہوگی، 2016، 2017اور 2018میں تو یہاں اس نشست کے ضمنی انتخابات بھی نہیں کر پائے اور لوگوں کو فیصلہ کرنے کا موقع نہیں ملا۔ انہوں نے کہا ’’ الیکشن کا بگل بج گیا ہے، جس الیکشن کی ہم اُمید کررہے تھے وہ نہیں ہوئے لیکن پارلیمانی انتخابات ہورہے ہیں، وقت آگیا ہے کہ ہم دوبارہ حساب کتاب نکالیں، سب سے پہلے ذہن میں جو سوال آتا ہے وہ یہ ہے کہ جنوبی کشمیر کے ووٹروں نے 2002سے لگاتار پی ڈی پی بھر پور حمایت دی اور وفا کی، کیا پی ڈی پی نے یہاں کے لوگوں کیساتھ وفا کی؟جنوبی کشمیر کے حالات دیکھ کر ایسا بالکل بھی نہیں لگتا‘‘۔ پی ڈی پی کے عوام سے کئے گئے تمام وعدوں کو سراب قرار دیتے ہوئے عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’’گولی نہیں بولی،امن، مفاہمت، مصلحت، ہیلنگ ٹچ اور دیگر طرح طرح کے تمام نعرے کھوکھلے نکلے، پی ڈی پی کی حکومت جنوبی کشمیر کے عوام کیلئے ایک ڈراونا خواب ثابت ہوئی، سب سے زیادہ کریک ڈاؤن جنوبی کشمیر میں دیکھنے کو ملتے ہیں، سب سے زیادہ زیادتیوں جنوبی کشمیر میں ہوئیں، سب سے زیادہ پی ایس اے کا اطلاق اور گرفتاریاں جنوبی کشمیر میں ہوئیں، سب سے زیادہ خون خرابہ جنوبی کشمیر میں ہورہا ہے، سب سے زیادہ بنکر جنوبی کشمیر میں بنائے گئے، سب سے زیادہ ٹیئر گیس، پیلٹ اور گولیوں کا استعمال جنوبی کشمیر میں ہوا۔ کیا یہی سب دیکھنے کیلئے پی ڈی پی والوں کو عوام نے ووٹ دیئے تھے؟۔مختلف تنظیموں نے بھی الیکشن میں پی ڈی پی کا اندرونی ساتھ دیا،کچھ کا ہم نام لیتے ہیں اور کچھ کا ہم نام بھی نہیں لیتے، کیا یہ تنظیمیں اپنا محاصبہ کرینگی؟۔
محبوبہ مفتی کے مگرمچھ کے آنسوؤں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’آنسو بہانا انہیں اقتدار کھونے کے بعد یاد آتے ہیں، محبوبہ جی آج ہر بات پر ہمدردی، افسوس اور آنسو بہاتی ہے لیکن 2016میں جب نوجوان گولیوں کے شکار بنائے جارہے تھے ، اُس وقت کسی کو یہ آنسو نظر نہیں آئے، جب یہاں اندھا دھند گرفتاریاں اور مظالم جاری تھے تب محبوبہ جی نے کسی کیساتھ ہمدردی نہیں کی، تب تو موصوفہ کہتی تھی کہ جو لڑکے گولیوں کا شکار ہوئے وہ ٹافی اور دودھ لانے نہیں گئے تھے ، اقتدار کے نشے میں دُھت موصوفہ نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ فوجی اور فورسز کی بندوقیں صرف دکھانے کیلئے نہیں ہوتیں بلکہ استعمال کرنے کیلئے بھی ہوتی ہیں،اس کے برعکس تب محبوبہ جی کی آنکھوں سے آنسو نکلے ہوتے تو وہ سب کے دلوں کو چھو جاتے لیکن تب ایسا نہیں ہوا ۔ آج موصوفہ آنسو بہارہی ہیں، یہ آنسو الیکشن کے آنسو ہیں، ان آنسوؤں کی سیاسی قیمت ہوتی ہے۔ جنوبی کشمیر کے لوگوں نے ان سیاسی آنسوؤں کا بہت خمیازہ بھگتا ہے، خدارا دوبارہ غلطی نہ دہرانا‘‘۔ نیشنل کانفرنس نائب صدر نے کہا کہ محبوبہ مفتی آج حالات کی خرابی کا رونا رو رہی ہیں، آج محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے، گرفتاریاں نہیں ہونی چاہئیں، لیکن شائد بھول جاتی ہیں کہ یہ سب کو اُن کی اپنی ہی حکومت کی ہی دین ہے۔این آئی اے کارروائیوں پر واویلا کرنے پر پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کو لتاڑتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ میں اُس وقت حیران ہوا جب میں نے اخبار میں شاہد الاسلام کی رہائی کیلئے محبوبہ مفتی کی اپیل دیکھی، ’’محبوبہ جی وہ تو آپ کے دورِ اقتدار میں گرفتار ہوئے، تب آپ نے ہمدردی کیوں نہیں کی تب گرفتار کی اجازت کیوں دی؟ آج جب میرواعظ مولانا عمر فاروق صاحب کیخلاف این آئی اے والے تحقیقات کررہے ہیں، اُن کو پوچھ تاچھ کیلئے دلی بلایا جارہا ہے، تو محبوبہ جی پھر ناراض ہوئیں اور کہا کہ یہ غلط ہے، یہ نہیں ہونا چاہئے، لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کون سا کیس ہے تو پتہ چلتا ہے کہ 2017کا کیس ہے، جب محبوبہ مفتی وزیر اعلیٰ تھیں، تب محبوبہ جی نے ان کیخلاف کیس دائر کرنے کی اجازت کیوں دی ؟ تب اپنا اثر و رسوخ کیوں نہیں استعمال کیا؟‘‘۔
پی ڈی پی کی طرف سے جماعت اسلامی پر پابندی کیخلاف واویلا کو محض فریب کاری قرار دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’جماعت اسلامی پر پابندی عائد ہوئی، اُس کی شروعات کہاں سے ہوئی، جب آپ (پی ڈی پی )نے یہاں بی جے پی لاکر حکومت بنائی، ہم نے تو روکنے کی کوشش کی تھی، 2014الیکشن کے بعد ہم مفتی صاحب سے کہا تھا کہ بھاجپا کو لانا ریاست کیلئے بہت نقصان دہ ثابت ہوگا، ہم نے غیر مشروط حمایت دینے کا وعدہ اور اعلان کیا لیکن مفتی صاحب نے ہمارا نہیں مانا اور بھاجپا کیساتھ گل مل گئے، وہ دن اور آج کا دن حالات آپ کے سامنے ہیں۔‘‘ عمر عبداللہ نے کہا کہ محبوبہ مفتی نے خود تسلیم کیا کہ 2016میں انہوں نے اپنی جماعت کو بچانے کیلئے بھاجپا کیساتھ الحاق کیا، اب اس بات کا کیا بھروسہ ہے کہ محبوبہ مفتی پھر ایک بار اپنی جماعت کو بچانے کیلئے بھاجپا کیساتھ اتحاد نہ کر بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ پی ڈی پی اور بھاجپا میں آج بھی برابر تال میل ہے، حکومت چھن جانے کے بعد بھی پی ڈی پی نے راجیہ سبھا کے نائب چیئرمین کے انتخاب میں غیر حاضر رہ کر بھاجپا کی مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی جماعت پر کیسے بھروسہ کیا جاسکتا ہے؟کیا جنوبی کشمیر کا ووٹر دوبارہ نریندر مودی کو مدد کرنے کیلئے تیار ہے، کیا جنوبی کشمیر کے لوگ پھر سے سنگ پریوارکے ہاتھ مضبوط کرنے آگے آئیں گے؟
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عالمی سطح پر تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں: ای آئی اے
ویانا، بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں، اس لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔امریکی حکام نے بھی پیش گوئی کی ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت کم رہنے کی صورت میں تیل اور گیس کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
ایران اور عمان کے درمیان واقع آبنائے ہرمز سعودی عرب، عراق اور کویت سمیت بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے خام تیل کی برآمدات کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے مطابق، معمول کے حالات میں روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل، یعنی دنیا کی روزانہ مجموعی پیداوار کا تقریباً پانچواں حصہ، اس آبی گزرگاہ سے گزرتا تھا۔ ادارہ اسے “تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ” قرار دیتا ہے۔
ای آئی اے کے مطابق اگر آبنائے ہرمز بند ہوجائے تو “اس راستے سے تیل باہر منتقل کرنے کے متبادل راستے بہت محدود ہیں۔”
یہ آبی گزرگاہ عالمی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تجارت کا بھی تقریباً پانچواں حصہ منتقل کرتی ہے۔
توانائی کے تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت قابل اعتماد نہیں ہوجاتی، تیل اور گیس کی قیمتیں بلند رہیں گی۔ تاہم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اپنے خام تیل کی برآمدات کے لیے متبادل راستوں کو وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایران نے خلیج فارس اور اس کے اطراف کے پانیوں میں آلودگی پر معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہرمز سے تجارتی آمدورفت سے فائدہ اٹھانے والے ممالک پر ماحولیاتی نقصان سے نمٹنے کی “قانونی اور اخلاقی دونوں ذمہ داری” عائد ہوتی ہے۔
ایران کے قشم جزیرے کے قریب ایک ساحل پر تیل کی تہہ دیکھی گئی ہے، جبکہ عمان نے کہا ہے کہ پابندیوں کا شکار ٹینکر کیرولین بیزینگی سے خارج ہونے والا تیل راس مدرکہ کے ساحلوں تک پہنچ گیا ہے۔ اس ٹینکر میں ایک اندازے کے مطابق 8 لاکھ بیرل روسی خام تیل موجود تھا۔
عمان کے مطابق ساحلی پٹی کا 40 کلومیٹر تک کا علاقہ متاثر ہوا ہے اور خدشہ ہے کہ تیل کا اخراج مصیرہ جزیرے تک پہنچ سکتا ہے، جہاں حساس ساحلی ماحولیاتی نظام اور سمندری کچھوؤں کے انڈے دینے کے مقامات موجود ہیں۔
دریں اثنا، نیم فوجی بسیج آرگنائزیشن کے کمانڈر اور پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) سے وابستہ حسین طائب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز “ایران کے کنٹرول اور انتظام میں ہے۔”
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق طائب نے کہا، “آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز اسلامی جمہوریہ کے انتظام اور کنٹرول میں ہے اور ہمارا ملک مکمل تحفظ کے ساتھ اپنے راستے پر آگے بڑھ رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، “امریکیوں نے اسلامی انقلاب کی طاقت دیکھ لی ہے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز میں آمدورفت معمول سے بدستور بہت کم، تہران کا امریکہ کو ’غلط اندازے‘ سے خبردار
واشنگٹن/تہران، آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت بدستور شدید متاثر ہے اور صرف 14 بحری جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرے ہیں۔ یہ صورتحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بار بار اس دعوے کے باوجود برقرار ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور امریکہ اس پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے واشنگٹن پر اس اہم بحری راستے کے حوالے سے “مزید بڑا غلط اندازہ” لگانے کا الزام عائد کیا ہے۔
سمندری انٹیلی جنس کمپنی کپلر کے مطابق 14 بحری جہازوں کی یہ تعداد ہفتے کے اختتام کے مقابلے میں معمولی اضافہ ظاہر کرتی ہے، تاہم فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے قبل روزانہ تقریباً 120 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے۔
کپلر نے بتایا کہ منگل کو گزرنے والے 11 بحری جہازوں نے ایران کی جانب سے منظور کردہ راستہ استعمال کیا، جبکہ کسی بھی جہاز نے آبنائے کے وسط سے گزرنے والے روایتی راستے کو استعمال نہیں کیا۔
کمپنی نے کہا کہ بحری آمدورفت میں یہ اضافہ “معمول کی صورتحال میں واپسی کا باعث نہیں بنا”، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کے آبنائے کے کھلے ہونے کے دعووں کے باوجود آمدورفت اب بھی شدید متاثر ہے۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر اصرار کیا کہ واشنگٹن کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “ان کا کنٹرول نہیں ہے۔ ہمارا مکمل کنٹرول ہے۔ یہ ہمارے اختیار میں ہے، اور کسی وقت شاید وہ کچھ کریں، پھر انہیں تباہ کردیا جائے گا۔ اس وقت ہم بہت اچھی پوزیشن میں ہیں۔”
ٹرمپ نے مزید کہا، “امریکہ کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے۔ میرے خیال میں ہم اسے برقرار رکھیں گے! ہماری بحری ناکہ بندی کو ہر کوئی ’فولادی دیوار‘ قرار دے رہا ہے اور ایران اس کے بارے میں کچھ نہیں کرسکتا۔”
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کا فوجی بنیادی ڈھانچہ بری طرح تباہ کردیا گیا ہے۔
اس کے بعد ٹرمپ نے ایران کی معیشت کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا، “ان کے پاس صرف جعلی خبریں اور 300 فیصد مہنگائی ہے، اور صورتحال مزید خراب ہورہی ہے! ایران صرف باتیں کرتا ہے، عمل نہیں، مشرق وسطیٰ کا غنڈہ اب نہیں رہا۔”
ان کے یہ بیانات اس دعوے کے بعد سامنے آئے کہ امریکی افواج نے آبی گزرگاہ میں بارودی سرنگوں کی تلاش کا کام مکمل کرلیا ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے “کھلی” ہے۔
تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واشنگٹن پر ناقص انٹیلی جنس پر انحصار کرنے کا الزام عائد کیا۔انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکہ طویل عرصے سے “انٹیلی جنس کی ناکامیوں کے باعث غلط اندازے لگاتا رہا ہے”، جن میں ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔
عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں واشنگٹن کے اقدامات “اس سے بھی بڑا غلط اندازہ” ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، “جعلی خبروں سے بھی بدتر جعلی انٹیلی جنس ہے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر24 hours agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
