تازہ ترین
جنوبی کشمیر کے عوام نے محبوبہ مفتی کے سیاسی آنسوؤں کا بہت خمیازہ بھگتا : عمر عبداللہ
خبراردو:
ہمارے دشمن نہیں چاہتے کہ ہم ایک آواز میں بات کریں، جب ہم کہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس کا سیاسی حل ہونا چاہئے تو ہمیں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے ، ہمیں کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور ایک سازش کے تحت ہمیں ٹولیوں میں بانٹا جاتا ہے۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے آج ڈاک بنگلہ اننت ناگ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کے این ایس کو موصولہ بیان کے مطابق اس موقعے پر جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سٹیٹ سکریٹری سکینہ ایتو، شمالی زون صدر ڈاکٹر بشیر احمد ویری، ضلع صدر اسلم آباد الطاف احمد کلو اور پیر محمد حسین کے علاوہ کئی لیڈران موجو دتھے۔ اجتماع میں سابق جسٹس سید توقیر احمد اور پی ڈی پی کے سابق جنرل سکریٹری غلام رسول ملک نے باضابطہ طور پر نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی اور دونوں کا پارٹی میں خیر مقدم کیا گیا۔ عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’’میں جمہوریت کیخلاف نہیں ، مجھے یہ غلطی فہمی نہیں ہے کہ صرف نیشنل کانفرنس کو ہی اقتدار کی کرسی سنبھالنے کا حق ہے ، لیکن یہ نئی جماعتیں صرف کشمیر کیوں آرہی ہیں ، جموں اور لداخ میں ایسا رجحان کیوں نہیں ، وہاں کے لوگ کو بھی جمہوری حق حاصل ،وہاں جب لڑائی ہوتی ہے تو سیدھے دو یا تین جماعتوں میں ہوتی ہے لیکن وادی میں دس پندرہ جماعتوں میں مقابلہ آرائی ہوتی ہے، کوشش یہی ہوتی ہے کہ جنوبی کشمیر میں کوئی ایک جماعت آئے، وسطی کشمیرمیں دوسری جماعت جیتے اور شمالی کشمیر میں تیسری پارٹی جیت حاصل کرے، تاکہ ہم بکھر جائیں اور ہماری آواز میں کوئی وزن نہ رہے۔ نیشنل کانفرنس کے بانی شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے اپنی قید حیات میں ہی اس کی پیش گوئی کی تھی اور کہا تھا کہ مرکز میرے مرنے کے بعد یہاں کے لوگوں کی آواز کو تقسیم کرنے کیلئے گلی گلی لیڈر بنائے گا۔ ‘‘
نیشنل کانفرنس نائب صدر نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم ایک ہی لگام کو پکڑیں اور اُن تمام سازشوں کو ناکام بنائیں جس کے ذریعے ہمیں بانٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پی ڈی پی کی سربراہی والی سابق حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ان لوگوں نے یہاں حالات اتنے خراب کئے ہیں کہ اننت ناگ پارلیمانی نشست کے انتخابات 3مراحل میں ہیں جبکہ کئی ریاستوں میں، جہاں 20تیس پارلیمانی نشستیں ہیں، ایک ہی دن ووٹنگ ہے۔حالات اس قدر خراب کئے گئے ہیں کہ یہاں تین دن ووٹنگ ہوگی، 2016، 2017اور 2018میں تو یہاں اس نشست کے ضمنی انتخابات بھی نہیں کر پائے اور لوگوں کو فیصلہ کرنے کا موقع نہیں ملا۔ انہوں نے کہا ’’ الیکشن کا بگل بج گیا ہے، جس الیکشن کی ہم اُمید کررہے تھے وہ نہیں ہوئے لیکن پارلیمانی انتخابات ہورہے ہیں، وقت آگیا ہے کہ ہم دوبارہ حساب کتاب نکالیں، سب سے پہلے ذہن میں جو سوال آتا ہے وہ یہ ہے کہ جنوبی کشمیر کے ووٹروں نے 2002سے لگاتار پی ڈی پی بھر پور حمایت دی اور وفا کی، کیا پی ڈی پی نے یہاں کے لوگوں کیساتھ وفا کی؟جنوبی کشمیر کے حالات دیکھ کر ایسا بالکل بھی نہیں لگتا‘‘۔ پی ڈی پی کے عوام سے کئے گئے تمام وعدوں کو سراب قرار دیتے ہوئے عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’’گولی نہیں بولی،امن، مفاہمت، مصلحت، ہیلنگ ٹچ اور دیگر طرح طرح کے تمام نعرے کھوکھلے نکلے، پی ڈی پی کی حکومت جنوبی کشمیر کے عوام کیلئے ایک ڈراونا خواب ثابت ہوئی، سب سے زیادہ کریک ڈاؤن جنوبی کشمیر میں دیکھنے کو ملتے ہیں، سب سے زیادہ زیادتیوں جنوبی کشمیر میں ہوئیں، سب سے زیادہ پی ایس اے کا اطلاق اور گرفتاریاں جنوبی کشمیر میں ہوئیں، سب سے زیادہ خون خرابہ جنوبی کشمیر میں ہورہا ہے، سب سے زیادہ بنکر جنوبی کشمیر میں بنائے گئے، سب سے زیادہ ٹیئر گیس، پیلٹ اور گولیوں کا استعمال جنوبی کشمیر میں ہوا۔ کیا یہی سب دیکھنے کیلئے پی ڈی پی والوں کو عوام نے ووٹ دیئے تھے؟۔مختلف تنظیموں نے بھی الیکشن میں پی ڈی پی کا اندرونی ساتھ دیا،کچھ کا ہم نام لیتے ہیں اور کچھ کا ہم نام بھی نہیں لیتے، کیا یہ تنظیمیں اپنا محاصبہ کرینگی؟۔
محبوبہ مفتی کے مگرمچھ کے آنسوؤں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’آنسو بہانا انہیں اقتدار کھونے کے بعد یاد آتے ہیں، محبوبہ جی آج ہر بات پر ہمدردی، افسوس اور آنسو بہاتی ہے لیکن 2016میں جب نوجوان گولیوں کے شکار بنائے جارہے تھے ، اُس وقت کسی کو یہ آنسو نظر نہیں آئے، جب یہاں اندھا دھند گرفتاریاں اور مظالم جاری تھے تب محبوبہ جی نے کسی کیساتھ ہمدردی نہیں کی، تب تو موصوفہ کہتی تھی کہ جو لڑکے گولیوں کا شکار ہوئے وہ ٹافی اور دودھ لانے نہیں گئے تھے ، اقتدار کے نشے میں دُھت موصوفہ نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ فوجی اور فورسز کی بندوقیں صرف دکھانے کیلئے نہیں ہوتیں بلکہ استعمال کرنے کیلئے بھی ہوتی ہیں،اس کے برعکس تب محبوبہ جی کی آنکھوں سے آنسو نکلے ہوتے تو وہ سب کے دلوں کو چھو جاتے لیکن تب ایسا نہیں ہوا ۔ آج موصوفہ آنسو بہارہی ہیں، یہ آنسو الیکشن کے آنسو ہیں، ان آنسوؤں کی سیاسی قیمت ہوتی ہے۔ جنوبی کشمیر کے لوگوں نے ان سیاسی آنسوؤں کا بہت خمیازہ بھگتا ہے، خدارا دوبارہ غلطی نہ دہرانا‘‘۔ نیشنل کانفرنس نائب صدر نے کہا کہ محبوبہ مفتی آج حالات کی خرابی کا رونا رو رہی ہیں، آج محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے، گرفتاریاں نہیں ہونی چاہئیں، لیکن شائد بھول جاتی ہیں کہ یہ سب کو اُن کی اپنی ہی حکومت کی ہی دین ہے۔این آئی اے کارروائیوں پر واویلا کرنے پر پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کو لتاڑتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ میں اُس وقت حیران ہوا جب میں نے اخبار میں شاہد الاسلام کی رہائی کیلئے محبوبہ مفتی کی اپیل دیکھی، ’’محبوبہ جی وہ تو آپ کے دورِ اقتدار میں گرفتار ہوئے، تب آپ نے ہمدردی کیوں نہیں کی تب گرفتار کی اجازت کیوں دی؟ آج جب میرواعظ مولانا عمر فاروق صاحب کیخلاف این آئی اے والے تحقیقات کررہے ہیں، اُن کو پوچھ تاچھ کیلئے دلی بلایا جارہا ہے، تو محبوبہ جی پھر ناراض ہوئیں اور کہا کہ یہ غلط ہے، یہ نہیں ہونا چاہئے، لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کون سا کیس ہے تو پتہ چلتا ہے کہ 2017کا کیس ہے، جب محبوبہ مفتی وزیر اعلیٰ تھیں، تب محبوبہ جی نے ان کیخلاف کیس دائر کرنے کی اجازت کیوں دی ؟ تب اپنا اثر و رسوخ کیوں نہیں استعمال کیا؟‘‘۔
پی ڈی پی کی طرف سے جماعت اسلامی پر پابندی کیخلاف واویلا کو محض فریب کاری قرار دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’جماعت اسلامی پر پابندی عائد ہوئی، اُس کی شروعات کہاں سے ہوئی، جب آپ (پی ڈی پی )نے یہاں بی جے پی لاکر حکومت بنائی، ہم نے تو روکنے کی کوشش کی تھی، 2014الیکشن کے بعد ہم مفتی صاحب سے کہا تھا کہ بھاجپا کو لانا ریاست کیلئے بہت نقصان دہ ثابت ہوگا، ہم نے غیر مشروط حمایت دینے کا وعدہ اور اعلان کیا لیکن مفتی صاحب نے ہمارا نہیں مانا اور بھاجپا کیساتھ گل مل گئے، وہ دن اور آج کا دن حالات آپ کے سامنے ہیں۔‘‘ عمر عبداللہ نے کہا کہ محبوبہ مفتی نے خود تسلیم کیا کہ 2016میں انہوں نے اپنی جماعت کو بچانے کیلئے بھاجپا کیساتھ الحاق کیا، اب اس بات کا کیا بھروسہ ہے کہ محبوبہ مفتی پھر ایک بار اپنی جماعت کو بچانے کیلئے بھاجپا کیساتھ اتحاد نہ کر بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ پی ڈی پی اور بھاجپا میں آج بھی برابر تال میل ہے، حکومت چھن جانے کے بعد بھی پی ڈی پی نے راجیہ سبھا کے نائب چیئرمین کے انتخاب میں غیر حاضر رہ کر بھاجپا کی مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی جماعت پر کیسے بھروسہ کیا جاسکتا ہے؟کیا جنوبی کشمیر کا ووٹر دوبارہ نریندر مودی کو مدد کرنے کیلئے تیار ہے، کیا جنوبی کشمیر کے لوگ پھر سے سنگ پریوارکے ہاتھ مضبوط کرنے آگے آئیں گے؟
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
