تازہ ترین
جواہر لعل نہرو کو بدنام کرنے میں بی جے پی پیش پیش: پی ڈی پی
خبراردو:
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے ریاست کی خصوصی پوزیشن سے متعلق مرکزی وزیر ارن جیٹلی کے دئے گئے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کو آصیبی شخصیت کے طور پر پیش کررہی ہے جبکہ پارٹی ملک کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے نقش قدم پر چلنے کے لیے تیار نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی دفعہ 370اور 35Aپر حملہ کرتے ہوئے ریاست کی خصوصی شناخت کے ساتھ وفاقی تعلق کی نوعیت کو قبضے میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیرنعیم اختر نے بتایا کہ بی جے پی ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے ریاست کی خصوصی پوزیشن کی وفاق کے ساتھ تعلق کی نوعیت کو مختلف حیلوں اور بہانوں کی آڑ میں اسے قبضے میں تبدیل کرنے کی خواہش مند ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بڑی قسمتی کی بات ہے کہ سنگھ پریوار نے ملک کے نامور وکیل کو سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس دفعہ 35Aکی مخالفت کے لیے خریدا ہوا ہے جبکہ سپریم کورٹ نے ہی اس طرح کے معاملوں کو ماضی میں نہ صرف ایک بلکہ دو مرتبہ رد کردیا ہے۔ایسا لگ رہا ہے کہ سنگھ پریوار خود کو سپریم کورٹ سے بھی عظیم تصور کرتی ہے اسی لیے بی جے پی لیڈر ارون جیٹلی دفعہ 35Aکو آئینی طور پر کمزور قرار دے رہے ہیں۔ انعیم اختر کا کہنا تھا کہ ارون جیٹلی کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ ریاست کا آئین مرتب کرتے وقت تمام تاریخی پہلوؤں کا مدنظر رکھا گیا ہے لیکن سنگھ پرویوار سے جڑے عناصر اور اُن کے معاونین ووٹ بنک کو مضبوط بنانے کی خاطر میڈیا میں آئے روز بے تکی بیان بازیاں کررہے ہیں۔نعیم اختر نے بتایا کہ سنگھ پریوار والے اگر ایودھیا میں مغل شاہ بابر کے دور سے متعلق فائلوں کو کھولنے اور 500سالہ قبروں کو کھودنے کی باتیں کررہے ہیں تو ریاست جموں وکشمیر کے معاملے میں وہ تاریخ کو نظر انداز کیوں کررہے ہیں۔
پی ڈی پی ترجمان نے بتایا کہ جموں وکشمیر کی طرف سے جدید اور سیکولر بھارت کے ساتھ اتحاد دلچسپ تجربہ تھا لیکن بدقسمتی سے سنگھ پریوار اور دیگر فرقہ پرست جماعتیں ریاست کا نئی دہلی کے ساتھ تعلق کی بنیادوں کو کمزور کرنے کے درپے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مسٹر جیٹلی کو ریاستی آئین اور قانون سے متعلق علمیت حاصل کرنی چاہیے اور آرٹیکل 35Aریاست میں سرمایہ کاری کرنے میں کسی بھی طور مانع نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریاست سے متعلق پشتینی باشندگان کا قانون کسی بھی طور پر ریاست میں سرمایہ کاری میں رکاوٹ نہیں ہیں جیسے کہ بجلی سیکٹر، سیاحت، صنعت اور تعلیم اس کی واضح مثال ہے۔انہوں نے بتایا کہ صوبہ جموں میں زیادہ تر صنعتی ادارے غیر ریاستی سرمایہ کاری سے چل رہے ہیں، اسی طرح ریاست میں شعبہ طب کے حوالے سے بھی متعدد معیاری پروجیکٹوں میں بیرونی سرمایہ کاری کارفرما ہے۔
پی ڈی پی لیڈر کا کہنا تھا کہ بی جے پی ریاست جموں وکشمیر میں غیر یقینیت کو پروان چڑھا نے کی خاطر خصوصی پوزیشن پر دھاوا بولنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔ اگر بی جے پی ریاست میں امن کو بحال کرنے میں مخلص اور سنجیدہ ہے تو اسے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کا طریق کار اختیار کرنا چاہیے جنہوں نے ریاست کے سابق وزیرا علیٰ مرحوم مفتی محمد سعید کے ساتھ اشتراک کرتے ہوئے امن و ترقی کی نئی راہیں کھولی تھیں۔نعیم اختر نے بتایا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ سنگھ پریوار ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو جنہوں نے مرحوم شیخ عبداللہ کے ساتھ وفاق کے ساتھ اتحاد کا معاہدہ تشکیل دیا تھا، کو آصیبی شخصیت کے طور پر پیش کررہی ہے جبکہ دوسری طرف اپنے ہی پیش رو اٹل بہاری واجپائی کے نقش قد م پر چلنے کے لیے بھاجپا تیار نہیں ہے۔
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
ہندوستان1 week agoبیلا کلسٹر کے 729 ووٹوں میں سے 728 کو حذف کرنا ووٹ کی چوری : راہل
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoہندوستان پر 100 فیصد امریکی برآمدی ڈیوٹی کے خدشے کے درمیان مودی اور ٹرمپ نے کی ٹیلی فون پر بات چیت
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
