تازہ ترین
حج 2023: سری نگر ہوائی اڈے سے 7 جون سے حج پروازوں کا سلسلہ شروع ہوگا: حج ایگزیکٹیو افسر
سری نگر، 31 مئی (یو این آئی ) سال رواں کے فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے سے 7 جون سے حج پروازوں کا سلسلہ شروع ہوگا جو 22 جون کو اختتام پذیر ہوگا حج ایگزیکٹیو افسر عبدالسلام میر نے بدھ کے روز میڈیا کو بتایا کہ امسال سری نگر ہوائی اڈے پر حج پروازوں کا سلسلہ 7 جون سے شروع ہوگا جو 22 جون کو اختتام پذیر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ 7 جون کو ہوائی اڈے سے 2 حج پروازیں اٹھیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلی پرواز 3 بجے روانہ ہوگی جبکہ دوسری پرواز 7 بجے شام روانہ ہوگی۔
موصوف افسر نے کہا کہ 3 بجے کی پرواز کے عازمین حج کو صبح دس بجے حج ہائوس پہنچنا ہے جبکہ 7 بجے کی پرواز والے عازمین کو 2 بجے دن حج ہائوس پہنچنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ امسال بھی عازمین کے لئے تمام تر تیاریوں کو حتمی شکل دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عازمین کو افواہوں پر کان نہیں دھرنا چاہئے۔
حج افسر نے کہا کہ جو بھی ٹونٹفکیشن ہماری طرف سے جاری ہوگی اس کو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے مشتہر کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ عازمین کو چاہئے کہ وہ معلومات کے لئے ہماری ویب سائیٹ مسلسل دیکھا کریں۔
بتادیں کہ امسال جموں وکشمیر کے قریب 10 ہزار عازمین حج کا فریضہ انجام دیں گے۔
جموں و کشمیر
جموں جی آر پی نے 12 سال بعد مفرور کو گرفتار کر لیا
جموں، گورنمنٹ ریلوے پولیس (جی آر پی) جموں نے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 12 سال کے بعد ایک مفرور کو گرفتار کر لیا ہے۔
سرکاری ہینڈ آؤٹ کے مطابق، مفرور کی شناخت پنکج کمار ولد روی داس مندر ہری پورہ، آر ایس پورہ جموں، حال مقیم ایسٹ حسین پورہ شریف پورہ، رانی بازار امرتسر کے طور پر ہوئی ہے، جو ریلوے کورٹ جموں سے جی آر پی مانوال میں درج ایک کیس کی سماعت کے دوران 12 سال سے مفرور تھا۔
انہیں ریلوے کورٹ جموں میں پیش کیا گیا اور ڈسٹرکٹ جیل امپھالا جموں میں بھیج دیا گیا۔
ملزم چھین جھپٹی اور چوری کے ایک اور کیس میں بھی ملوث پایا گیا جبکہ پنجاب کے بڑے شہروں اور جموں و کشمیر میں ایک این ڈی پی ایس کیس بھی اس کے خلاف درج ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ ملزم 2022ء سے 2025ء تک سب جیل پٹھان کوٹ میں بند رہا۔
ترجمان کے مطابق یہ جی آر پی جموں کی جانب سے دو سال میں گرفتار کیا گیا 17واں مفرور ہے۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی کے اختیارات کو نوکرشاہی سے ملے چیلنج پر کانگریس ایم ایل اے کے سوالات
سری نگر، کانگریس ایم ایل اے نظام الدین بھٹ نے منگل کے روز سینئر بیوروکریٹس کی جانب سے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی کارروائی اور اختیارات کو چیلنج کرنے کے مجاز ہونے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ افسران منتخب حکومت سے آزاد ہو کر کام نہیں کر سکتے۔
اسمبلی کارروائی کے دوران قانون کا نقطہ اٹھاتے ہوئے بھٹ نے کہا کہ سینئر بیوروکریٹس کی جانب سے اسپیکر کو بھیجے گئے خطوط ایوان کی “عزت، وقار اور اختیارات” کو چیلنج کرنے کے مترادف ہیں۔
بھٹ نے پوچھا کہ اگر ایک عام قانون ساز حکومت سے مشورہ کیے بغیر حکومت کی حیثیت سے کام نہیں کر سکتا، تو افسران اس ایوان کے وقار اور اتھارٹی کو کیسے چیلنج کر سکتے ہیں؟
ان کے یہ تبصرے جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری اٹل ڈلو اور سکریٹری قانون اچل سیٹھی کی جانب سے اسمبلی اسپیکر کو الگ الگ لکھے گئے خطوط کے بعد سامنے آئے، جن میں دلیل دی گئی تھی کہ ریاست کے درجے کی بحالی کی قرارداد کو زیر غور نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے۔ جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کے روز بی جے پی ایم ایل اے کے ہنگامے اور واک آؤٹ کے درمیان ریاست کے درجے کی بحالی کی قرارداد منظور کی تھی۔
یہ خطوط وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے قرارداد پیش کرنے کے چند دن بعد بھیجے گئے تھے۔
بھٹ نے بیوروکریسی کے اعتراضات کی آئینی اور قانونی بنیاد پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ آئین یا جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ میں کہاں اسمبلی کو اپنے قانون سازی اور طریقہ کار کے اختیارات استعمال کرنے سے روکا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نہ تو آئین، نہ ری آرگنائزیشن ایکٹ، نہ یہ خود قانون ساز ادارہ، اور نہ ہی کوئی روایت یا نظیر اس نفی کرتی ہے۔
انہوں نے جموں و کشمیر کے سابقہ سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کے تحت بنائے گئے بعض قواعد و ضوابط اور نظیروں پر مسلسل انحصار پر بھی سوال اٹھایا، اور دلیل دی کہ سابقہ تین سطحی نظام کے خاتمے کے بعد ادارہ جاتی ڈھانچہ بدل چکا ہے۔
بھٹ نے کہا کہ وزراء منتخب نمائندے ہیں جو عوام کے سامنے جوابدہ ہیں اور انہیں بیوروکریٹک مداخلت کے ذریعے اپنی ذمہ داریاں نبھانے سے نہیں روکا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک کام کا تعلق ہے، وزراء فعال ہیں۔ وہ عوام کے سامنے جوابدہ ہیں، ان کے پاس عوامی مینڈیٹ ہے اور وہ جوابدہ ہیں۔ لیکن ان کے ہاتھ باندھے جا رہے ہیں۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے بیوروکریٹک مداخلت کو “مکمل طور پر غیر آئینی” قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ اس خط کو باقاعدہ طور پر ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے اور اس پر بحث کرائی جائے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز اسمبلی میں کہا تھا کہ انہیں اپنی طرف سے پیش کی گئی قرارداد پر اسپیکر کو رائے دینے والے افسران کے بارے میں باخبر نہیں کیا گیا تھا۔
عمر نے کہا کہ اسپیکر صاحب، میں وزیر قانون اور چیف منسٹر بھی ہوں لیکن مجھے اس بات کا کوئی علم نہیں کہ میری بیوروکریسی نے میری قرارداد پر آپ کو کوئی رائے بھیجی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کس کی ہدایت پر بھیجی گئی تھی۔
بھٹ کی یہ مداخلت ریاست کے درجے کی قرارداد پر اسمبلی میں جاری وسیع تر تصادم کے درمیان سامنے آئی، جس میں اپوزیشن اس کے مندرجات پر سوال اٹھا رہی ہے اور حکومت اس مسئلے پر بحث کرنے کے ایوان کے اختیار کا دفاع کر رہی ہے۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
دنیا
عالمی قوانین کے زوال سے دنیا ’ہابسیائی‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے: جے شنکر
نیویارک، ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے خبردار کیا ہے کہ عالمی قوانین کے زوال اور دو طرفہ معاہدوں پر بڑھتے زور سے دنیا زیادہ مسابقتی اور ممکنہ طور پر ’’ہابسیائی‘‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان بدلتے عالمی حالات میں اپنی شراکت داریوں کو متنوع بنا کر اور اسٹریٹجک مفادات کا تحفظ کرکے آگے بڑھے گا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایشیا سوسائٹی سے خطاب کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ بین الاقوامی نظام بنیادی تبدیلی سے گزر رہا ہے اور ممالک اب اپنے قومی مفادات کی واضح ترجیحات کے مطابق نئے معاہدے کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی قوانین بالخصوص اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں ایک طویل عرصے سے کمزور ہوئے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے دو طرفہ تجارتی معاہدوں پر بڑھتا زور کثیرالجہتی تجارتی نظام کے سابقہ مفروضوں کو چیلنج کر رہا ہے۔
جے شنکر نے کہا کہ بڑی طاقتوں کے تنازعات کا خمیازہ بعض اوقات ان ممالک کو بھی بھگتنا پڑتا ہے جن کا ان مسائل کو پیدا کرنے میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق موجودہ عالمی نظام زیادہ مسابقتی اور مشکل ضرور ہوگا، تاہم ممالک کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ استحکام برقرار رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان امریکہ، یورپ، جاپان، چین، روس، خلیجی ممالک، آسیان اور عالمی جنوب کے ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے اسے ’’پورٹ فولیو مینجمنٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شراکت داریوں میں تنوع عالمی غیر یقینی کے مقابلے میں زیادہ استحکام فراہم کر سکتا ہے۔
ہندوستان۔چین تعلقات میں بہتری
جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان اور چین کے تعلقات چند سال پہلے کے مقابلے میں ’’بہتر‘‘ ہیں اور سرحدی کشیدگی میں کمی کے ساتھ تعلقات معمول کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’سرحد کی صورت حال تعلقات کی صورت حال کا تعین کرتی ہے۔ آپ سرحد پر کشیدگی برقرار رکھتے ہوئے یہ نہیں کہہ سکتے کہ تعلقات معمول کے مطابق ہونے چاہئیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں اور اس سے تیسرے فریق کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
جاپان کے ساتھ تعاون میں توسیع
جے شنکر نے ہندوستان۔جاپان تعلقات میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جاپانی کمپنیاں سپلائی چین میں تنوع کے لیے ہندوستان میں سرمایہ کاری بڑھا رہی ہیں، خصوصاً سیمی کنڈکٹرز اور جدید مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے دفاعی تعاون میں بھی توسیع ہوئی ہے جبکہ طلبہ اور عوامی روابط میں اضافے کے ساتھ ہندوستان میں جاپانی زبان کی تعلیم کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان5 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
