ہندوستان
خصوصی فاسٹ کورٹ کے قیام سے تاریخ پر تاریخ کا کلچر ختم ہونے کے قریب: رپورٹ
نئی دہلی،عدالتوں میں مقدمات کے سلسلے میں مشہور محاورہ ”تاریخ پر تاریخ“ کلچر بدنام ہونے کے باوجود فاسٹ ٹریک اسپیشل کورٹس (ایف ٹی ایس سی) عصمت دری اور جنسی زیادتی کے متاثرین کے لیے امید کی شمع بن کر ابھری ہیں جو اس سلسلے میں انصاف کے منتظر ہیں۔ انڈیا چائلڈ پروٹیکشن کی حال ہی میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2022 میں ملک بھر کی عدالتوں میں عصمت دری اور پوکسو کے مقدمات کو نمٹانے کی شرح صرف 10 فیصد تھی،وہیں ان خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتوں میں یہ شرح 83 فیصد رہی جو 2023 میں بڑھ کر 94 فیصدتک پہنچ گیا۔ رپورٹ ‘فاسٹ ٹریکنگ جسٹس: کیس بیک لاگز کو کم کرنے میں فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتوں کا کردار’ نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر عدالتوں میں ایک بھی نیا کیس شامل نہیں کیا جاتا اور اگر ہر تین منٹ میں ایک ریپ یا پوکسو کیس نمٹا دیاجاتا ہے تو لگ بھگ دسمبر، 2023 تک زیر التواءمقدمات ایک سال کے اندر ختم ہو سکتے ہیں۔ یہ اطلاع یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں دی گئی۔
رپورٹ میں زیر التواءمقدمات کو نمٹانے کے لیے ملک بھر میں کام کرنے والی تمام خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتوں کو چلانے کے علاوہ ایک ہزار نئی خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں اس حقیقت کا بھی نوٹس لیا گیا کہ نربھیا فنڈ میں پڑے غیر استعمال شدہ فنڈز کا استعمال کرکے یہ اضافی خصوصی عدالتیں دو سال میں قائم کی جاسکتی ہیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر یہ اضافی فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتیں قائم نہیں کی گئیں تو عصمت دری اورپوکسو کے زیر التوا مقدمات کبھی بھی حل نہیں ہو سکتے۔
ان خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتوں کی ضرورت اور متاثرین کے لیے انصاف کو یقینی بنانے میں ان کے مرکزی کردار پر زور دیتے ہوئے بچوں کے حقوق کے نامور کارکن اور چائلڈ میرج فری انڈیا کے بانی، بھوون ریبھو نے کہا، “عصمت دری اور جنسی استحصال کے واقعات میں متاثرین کو انصاف تک رسائی کی ضرورت ہے۔ لامحدود انتظار کو ختم کرنے کی سمت میں ہندوستان اب ‘ٹپنگ پوائنٹ’ یعنی اس مقام پر پہنچ رہا ہے جہاں ایک چھوٹی تبدیلی بڑی تبدیلی کی نقیب بن جاتی ہے۔ یہ ایک نازک لمحہ ہے جب ہمیں اپنے بچوں اور خواتین کے تحفظ اور سلامتی کے لیے سرمایہ کاری کرنی چاہیے اور اگلے تین برسوں میں تمام زیر التوا مقدمات کو نمٹانے کے لیے ایک ہزار خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کر کے ہم انصاف کے حق کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ . یہی وہ لمحہ ہے جب زیر التوا مقدمات اور اپیلوں کے بروقت نمٹانے کے حوالے سے پالیسی بنائی جائے تاکہ متاثرین کی بحالی اور معاوضے کو یقینی بناتے ہوئے معاشرے میں انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے تاکہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سمیت تمام ایجنسیاں اس معاملے میں انصاف فراہم کر سکیں۔ انصاف کی فراہمی کے عمل میں شامل عدالتوںکی جوابدہی طے کی جاسکے۔
چائلڈ میرج فری انڈیا 200 سے زیادہ این جی اوز کا ملک گیر اتحاد ہے جو ملک کے 400 سے زیادہ اضلاع میں بچوں کی شادی کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔این جی او انڈیا چائلڈ پروٹیکشن چائلڈ میرج فری انڈیا کا اتحادی ہے۔خیال رہے کہ حکومت نے فوجداری قانون (ترمیمی) بل 2018 میں تجویز کردہ سخت ٹائم لائنز اور سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے عصمت دری اورپوکسو کے مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کے لیے اگست 2019 میں خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کو منظوری دی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔م الف
ہندوستان
ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
نئی دہلی، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام میں زیادہ سے زیادہ انضمام، ڈیجیٹل کاری اور شفافیت پر زور دیا ہے۔
مسٹر سنگھ نے جمعرات کے روز یہاں ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کی 279ویں سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فوج، بحریہ اور فضائیہ کے مالیاتی نظام کو زیادہ سے زیادہ مربوط کرنے نیز مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے اعداد و شمار کو حقیقی وقت میں اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت بتائی۔ انہوں نے کہا کہ روایت سے ہٹ کر بجٹ کا ‘سالانہ جائزہ’ لینے کے بجائے کسی بھی وقت جائزہ لینے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کو ملک کی دفاعی تیاریوں کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے اس کے تقریباً تین صدیوں کے تعاون کی ستائش کی۔
وزیرِ دفاع نے ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے ڈیجیٹل نیز مربوط اکاؤنٹنگ اور ادائیگی کے نظام ‘سکشم’ کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اسے ہندوستانی فوج کے مالیاتی معلومات کے نظام سے جوڑنے سے بجٹ، منظوری اور بلوں سے متعلق معلومات کا ڈیجیٹل تبادلہ ممکن ہوا ہے اور بلوں کا عمل مکمل طور پر بغیر کاغذ ہو گیا ہے۔
انہوں نے سال 26-2025 میں بجٹ کے 100 فیصد اخراجات پر شعبے اور تینوں افواج کی مشترکہ کوششوں کی ستائش کی۔ پنشن سے متعلق شکایتوں کے ازالے کے لیے بات چیت پر مبنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) نظام تیار کرنے کی تجویز دیتے ہوئے انہوں نے شکایتوں اور عدالتی معاملات کے جلد تصفیے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دفاع میں زندگی وقف کرنے والوں کے جائز بقایا جات اور سروس حقوق کے معاملات میں نظام مضبوط، غیر جانبدار، حساس اور ذمہ دار ہونا چاہیے۔
مسٹر سنگھ نے مکمل طور پر خودکار محصولات کی خریداری کے نظام ‘سمپورن’ کو جلد نافذ کرنے پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر انہوں نے دفاعی مالیاتی معلومات کے نظاموں کے انضمام، دفاعی اخراجات کی نگرانی اور وزارتِ دفاع میں فنڈز کے سنگل اکاؤنٹ کے نظام سے جڑی تین اہم پہل قدمیوں کا بھی آغاز کیا۔
ان میں ‘سکشم’ کو ہندوستانی فوج کے مالیاتی معلومات کے نظام سے جوڑنا، وزارتِ دفاع میں فنڈز کے سنگل اکاؤنٹ کا نظام اور دفاع کے لیے نیا قومی کمپائلیشن سسٹم شامل ہیں۔ نئے کمپائلیشن سسٹم سے بجٹ اور اخراجات کی مزید دقیق نگرانی نیز وزارتِ مالیات، وزارتِ دفاع اور متعلقہ حکام کے لیے تفصیلی رپورٹنگ میں مدد ملے گی۔
تقریب میں ڈیفنس منسٹرز ایکسیلنس ایوارڈز-2026) بھی دیے گئے۔ یہ ایوارڈز دفاعی مالیاتی انتظام میں سدھار، جدت، اہلیت اور شفافیت کے لیے دیے گئے۔ انہوں نے ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کی تین مطبوعات کا بھی اجراکیا۔ ان میں دفاعی اخراجات پر جامع اعداد و شمار کے کتابچہ-2026، رکشا لیکھا بھارتی اور مارکیٹ انٹیلی جنس رپورٹ 25-2026 شامل ہیں۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
راہل نے آن لائن فارم-6 میں تبدیلی پر الیکشن کمیشن، ٹی سی ایس سے پوچھے سوالات
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے نئے ووٹرز کے لیے آن لائن فارم-6 میں کی گئی تبدیلی پر الیکشن کمیشن اور ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) سے ضروری سوالات پوچھے ہیں۔
راہل نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا، “آن لائن فارم-6 میں غیر قانونی طریقے سے تبدیلی کی گئی، جیسا کہ الیکشن کمیشن کے اپنے کمشنروں نے درج کیا ہے۔ الیکشن کمیشن میں کس نے ٹی سی ایس کو یہ تبدیلی کرنے کا حکم دیا؟ ٹی سی ایس میں کس نے اسے منظوری دی اور کیا ان پر ایسا کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا؟”
قابل ذکر ہے کہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے فارم-6 میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) سے متعلق اضافی اعلان کو شامل کیے جانے پر اعتراض درج کرایا تھا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کمرشیل ایل پی جی گیس سلنڈر مہنگا ہوا
نئی دہلی، تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں نے جمعرات سے کمرشیل ایل پی جی ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے، حالانکہ گھریلو سلنڈر کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
دہلی میں ریستوران، ہوٹل وغیرہ میں استعمال ہونے والا 19 کلوگرام کا ایل پی جی سلنڈر آج سے 2810 روپے کا ہوگیا ہے۔ ستمبر میں اس کی قیمت 2747.50 روپے تھی۔ اس طرح یہاں 62.50 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
ممبئی میں تجارتی ایل پی جی سلنڈر 63.50 روپے مہنگا ہوکر اب 2764.50 روپے کا ہوگیا ہے۔ چنئی میں اب یہ 66.50 روپے بڑھ کر 2983 روپے اور کولکاتا میں 70 روپے بڑھ کر 2954 روپے کا ہوگیا ہے۔ اسی طرح دوسرے شہروں میں بھی نقل و حمل کی لاگت وغیرہ کے حساب سے قیمتوں میں تقریباً اسی تناسب سے اضافہ ہوا ہے۔
یہ مسلسل دوسرا مہینہ ہے، جب کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کے دام بڑھے ہیں۔ اس سے پہلے ستمبر میں دہلی میں 9.50 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔
گھریلو ایل پ جی سلینڈروں کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ دہلی میں اس کی قیمت 942 روپے، کولکاتا میں 968 روپے، ممبئی میں 941.50 روپے اور چنئی میں 957.50 روپے پر برقرار ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر نے کتابوں پر پابندی کے معاملے پر سوال اٹھائے، میر واعظ نے ان کے نام اور وجوہات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا
-
دنیا7 days agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
دنیا6 days agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
ہندوستان6 days agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
ہندوستان1 week agoترقی پذیر ممالک کو فیصلہ ساز اداروں میں جگہ دی جانی چاہیے: جے شنکر
