تازہ ترین
دعاؤں کی قبولیت کے لمحات
پرویز یعقوب مدنی
خادم جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال
__________
اللہ رب العالمین کی ہم انسانوں پر بے شمار اور لا تعداد نعمتوں میں سے ایک عظیم اور بے مثال نعمت دعاء ہے ۔ اللہ رب العالمین بندے کو مخلتف طرح سے آزماتا ہے بندے کا امتحان لیتا ہے کبھی کسی نعمت اور اہم چیز سے محروم کردیتا ہے کبھی رزق میں تنگی اور کبھی مال و اولاد میں فراخی کے ذریعہ ذریعہ آزمائشوں سے دو چار کرتا ہے ایسے حالات اور لمحات میں بندے کو باری تعالیٰ سے منت و سماجت اور دعاء مانگنا چاہئے ۔ دعاء کے ذریعہ اللہ تعالیٰ بندے کی پریشانیوں کو دور کرتا ہے اسی لئے شریعت اسلامیہ نے ہمارے لیے کچھ ایسے اوقات و لمحات کچھ جگہیں مقرر کی ہیں اور کچھ حالات ایسے بتائے ہیں جن میں دعاء زیادہ قبول ہوتی ہے۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
????نمبر ایک: *رات کے آخری تہائی حصے میں دعا کرنا۔*
صحابی رسول جناب ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، يَقُولُ : مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ؟۔ (متفق علیہ)
ترجمہ: ہمارا رب سبحانہ و تعالی ہر رات آسمان دنیا پر نزول کرتا ہے جب کہ رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے وہ کہتا ہے کون ہے جو مجھے پکارے تو میں اس کی دعا قبول کروں کوئی ہے جو مجھ سے سوال کرے تو میں اسے دوں؟ کوئی ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے میں اسے معاف کردوں۔
????نمبر دو۔ *سجدوں میں دعا کرنا:*
صحابی رسول جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَلَا وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ۔ (رواہ مسلم)
ترجمہ:خبردار! یاد رکھو بے شک مجھے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے رکوع میں تم لوگ اللہ رب العالمین کی تعظیم بیان کیا کرو اور سجدے میں خوب دعائیں کیا کرو یہ زیادہ لائق ہے کہ تمہاری دعائیں قبول کی جائیں۔
????نمبر تین۔ *اپنے مسلمان بھائی کے لیے پیٹھ پیچھے دعا کرنا*
صحابی رسول جناب صفوان بن عبداللہ بن صفوان کہتے ہیں کہ ام درداء نے ان سے کہا: أَتُرِيدُ الْحَجَّ الْعَامَ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ. قَالَتْ : فَادْعُ اللَّهَ لَنَا بِخَيْرٍ ؛ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : ” دَعْوَةُ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ مُسْتَجَابَةٌ، عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ مُوَكَّلٌ، كُلَّمَا دَعَا لِأَخِيهِ بِخَيْرٍ قَالَ الْمَلَكُ الْمُوَكَّلُ بِهِ : آمِينَ، وَلَكَ بِمِثْلٍ قَالَ : فَخَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، فَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (رواہ مسلم)
ترجمہ: کیا تم اس سال حج کرنا چاہتے ہو انہوں نے کہا ہاں۔ تو ام درداء نے کہا تو تم ہمارے لیے اللہ تعالی سے خیر کی دعاء کرنا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے مسلمان آدمی کا اپنے بھائی کے لیے پیٹھ پیچھے دعاء کرنا قبولیت کا باعث ہوتا ہے اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ ہوتا ہے جو اسی پر مامور رہتا ہے کہ جب وہ اپنے بھائی کے لیے کسی خیر کی دعاء کرے تو وہ موکل فرشتہ آمین کہتا ہے اور کہتا ہے کہ تمہارے لیے بھی اسی جیسی چیز میسر ہو تو صفوان کہتے ہیں پھر میں بازار کی جانب نکل آیا میں نے ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ سے ملاقات کی انہوں نے بھی مجھ سے ایسے ہی کہا اور وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے۔
دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتی؟؟؟
دعاؤں کی عدم قبولیت کا سب سے بڑا سبب حرام کھانا اور حرام کمائی اور حرام تجارتیں ہیں۔
جناب ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ : { يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ } ، وَقَالَ : { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ } ، ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ : يَا رَبِّ يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ “. (رواہ مسلم).
ترجمہ: اے لوگو! بلاشبہ اللہ تعالی پاکیزہ ہے اور صرف پاک چیزوں کو ہی قبول کرتا ہے۔ اور بلا شبہ اللہ تعالی نے اہل ایمان کو انہیں چیزوں کا حکم دیا ہے جس کا اس نے اپنے پیغمبروں کو حکم دیا. اللہ تعالی نے رسولوں کو فرمایا اے پیغمبرو! تم پاک روزی کھاؤ اور نیک عمل کرو بے شک جو کچھ تم کرتے ہو میں اسے جاننے والا ہوں۔ اور اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو جو ہم نے تمہیں روزی دی ہے اس میں سے پاک چیزیں کھاؤ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا تذکرہ کیا جو لمبے سفر پہ ہو، پراگندہ بالوں والا ہو، غبار آلود ہو، اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے ہو، اے رب! اے رب! کہہ کر پکار رہا ہو اس کا کھانا حرام ہو اس کا پانی حرام ہو اس کا لباس حرام ہو اور حرام مال سے اس کی پرورش کی جا رہی ہو تو ایسے آدمی کی دعا کیسے قبول کی جا سکتی ہے!!
جناب نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہما کی صحیح روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ، قَالَ رَبُّكُمُ : { ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ } (رواہ الترمذی و ابوداؤد)
ترجمہ: دعاء ہی عبادت ہے۔ اللہ رب العالمین نے فرمایا کہ تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔
یہ عبادت خالص اللہ کا حق ہے اس کو کسی اور کی جانب پھیرنا درست نہیں ہے اور اس نے اسی چیز کا حکم دیا ہے اللہ تعالی فرماتا ہے: {إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ} [يوسف : 40]۔
ترجمہ : (یاد رکھو کہ) اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے۔ ایک اور جگہ فرماتا ہے: “فلا ادعوا مع الله أحدا”۔ (الجن 18)۔
ترجمہ : تم اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو۔
شرک و کفر کی اکثر صورتیں جو زمانہ ماضی میں اور حال میں بھی لوگوں کے درمیان پھیلی ہوئی ہیں وہ یہی ہے کہ دعاء جیسی عبادت کو فرشتوں کے لیے انبیاء کے لیے رسولوں کے لیے اولیاء و صالحین کے لیے یا کسی اور کے لیے پھیر دیتے ہیں یعنی اس دعا میں انہیں اللہ کا شریک بناتے ہیں چنانچہ انہیں یہ کہتے ہوئے پکارتے ہیں اے اللہ کے رسول ہمارے لیے کشادگی پیدا کر دیجیے۔ اے بدوی ہماری مدد کرو یا عبدالقادر جیلانی ہماری خبر لے لو۔ اے حسین ہمیں شفا دے دیجیے اے عیدروس ہماری حمایت کیجیے۔ اے میرغنی ہماری مصیبتیں دور کر دیجیے۔ اے رافعی کچھ تو دے دیجیے۔ لہذا اس قسم کی تمام چیزیں عبادت کو غیر اللہ کی جانب پھیرنا ہے اور یہ وہ شرک ہے جس کی وجہ سے انسان ملت اسلام سے خارج ہوجاتا اور نکل جاتا ہے کیونکہ یہ ایسے کاموں میں غیر اللہ کو پکارنا ہے جس پر صرف اللہ تعالی قادر ہے۔
محترم قارئین! بلند آواز سے چلا چلا کے دعاء کرنا برا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے آدمی پر نکیر فرمائی ہے جو ذکر و اذکار میں آواز بلند کرتا ہے۔ صحابی رسول جناب ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنَّا إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى وَادٍ هَلَّلْنَا وَكَبَّرْنَا، ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” يَا أَيُّهَا النَّاسُ، ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ ؛ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، إِنَّهُ مَعَكُمْ، إِنَّهُ سَمِيعٌ قَرِيبٌ، تَبَارَكَ اسْمُهُ وَتَعَالَى جَدُّهُ “. (متفق علیہ).
ترجمہ: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب ہم لوگ کسی وادی میں پہنچتے تو ہم تکبیر و تہلیل کرتے ہماری آوازیں بلند ہو جاتیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! اپنے آپ پر رحم کرو کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو بلاشبہ وہ تمہارے ساتھ ہے سنتا ہے قریب ہے اس کا نام بڑا بابرکت ہے اور اس کا نصیبہ بڑا بلند ہے.
مشہور مفسر امام ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس سے مسئلہ ثابت ہوتا ہے کہ دعاء میں آواز بلند کرنا مکروہ ہے اور یہی اسلاف صحابہ اور تابعین کا عام قول ہے۔
جناب امام آلوسی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ تم اپنے اہل زمانہ میں بہت سارے لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ دعاء میں چلانے کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں خصوصا جامع دعائیں یہاں تک کہ آواز بڑھ جائے اور بہت بلند ہو جائے اور وہ لوگ نہیں جانتے کہ اس طرح کر کے انہوں نے دو بدعتیں جمع کر رکھی ہیں پہلی بدعت دعا میں بلند آواز کرنا اور دوسری بدعت یہ کام مسجد میں ہونا۔ اسی طرح امام کا مقتدیوں کے ساتھ بلند آواز سے فرض نمازوں میں سلام کے بعد اجتماعی دعا کرنا ہے، چنانچہ امام دعاء کرتا ہے سارے مقتدی اس کے پیچھے آمین کہتے ہیں یہ شریعت اسلامیہ میں غیر معروف چیز ہے اسے نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انجام دیا نہ اس پر صحابہ کرام کا عمل ہے نہ ہی قرون اولی سے ثابت ہے نہ ہی ائمہ اربعہ کا یہ فتوی ہے نہ ہی ان کے شاگردوں سے یہ تعلیم ملی ہے بلکہ حرام بدعت ہے۔
مشہور فقیہ امام شاطبی مالکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نمازوں کے بعد امام کا اجتماعی دعاء کرنا اس کی سنت سے کوئی دلیل نہیں ملتی جس سے اسے تقویت ملے بلکہ بعض روایات ایسی ہیں جن سے اس کی نفی ہوتی ہے اور جن کی اقتدا واجب ہے وہ سید المرسلین محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ سے نمازوں کے بعد جو عمل ثابت ہے وہ یا تو خالص ذکر و اذکار ہیں جس میں دعاء نہیں ہے یا پھر ایسی دعائیں ہیں جو اپنے لیے مخصوص ہوتی تھیں آپ سے یہ بات ثابت نہیں ہے کہ آپ نے جماعت کے لیے دعاء کی ہو اور یہی آپ کا پوری زندگی عمل رہا ہے پھر آپ کے بعد خلفائے راشدین کا بھی عمل رہا ہے اور اسلاف صالحین کا بھی عمل رہا ہے۔
محترم قارئین! اہل علم کے نزدیک دعاء میں جو چیز حرام ہے وہ کسی کی عزت یا مخلوقات میں سے کسی مخلوق کے حق کے واسطے سے اللہ تعالی سے دعاء کرنا اور پکارنا ہے مثلا بعض لوگ دعاء کرتے وقت کہتے ہیں اے اللہ میں تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جاہ کے واسطے سے یا حق کے واسطے سے یا انبیاء کی عزت کے واسطے سے یا تیرے نیک بندوں کی عزت کے واسطے سے یا اس جمعہ کے حق کے واسطے سے دعاء کرتا ہوں کیونکہ دعاء میں جاہ یا حق داخل کرنا قرآن مجید میں ایسی کوئی نص نہیں ملتی اور نہ ہی سنت نبویہ سے اس کا کوئی صحیح ثبوت ملتا ہے نہ ہی صحابہ کرام سے اور تابعین عظام سے اس کا ثبوت ملتا ہے اور جو بھی عمل ایسا ہو اس کو علماء بدعت قرار دیتے ہیں اور بدعت حرام ہے بلکہ یہ سب سے بڑا گناہ اور نافرمانی ہے۔ واللہ اعلم
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان3 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
