جموں و کشمیر
ذہنی طورپرمعذور نابالغ لڑکی کیساتھ جنسی زیادتی کاکیس حل DNAنے کی اصل مجرم کی شناخت
غیرمقامی مجرم اور2مقامی ملزمان گرفتار ،مقدمہ درج:پولیس
بارہمولہ : جے کے این ایس : بارہمولہ پولیس نے ذہنی طورپر معذور اورنابالغ لڑکی کیساتھ جنسی زیادتی کے ایک کیس کو طویل تفتیش کے بعد حل کرتے ہوئے سنگین جرم کاارتکاب کرنے والے ایک غیرمقامی ملزم سمیت 3افرادکو گرفتار کرنے میں کامیابی پائی ۔جے کے این ایس کے مطابق ایک بیان میں پولیس نے کہاکہ بارہمولہ پولیس کو ایک ذہنی طور پر معذور نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیس کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔وسیع فرانزک اور تفتیشی کوششوں کے بعد 3 افراد کی شناخت اور گرفتار کیا گیا ہے، جس میںDNA شواہد بنیادی مجرم کی نشاندہی کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔پولیس کے مطابق یہ معاملہ جنوری 2025 میں اس وقت سامنے آیا جب سب ڈسٹرکٹ ہسپتال ماگام میں طبی معائنے کے دوران ایک 16 سالہ لڑکی کے25 ہفتوں کی حاملہ ہونے کا پتہ چلا۔ اس کے بعد، کنزر پولیس اسٹیشن نے فوری طور پر POCSO (جنسی جرائم سے بچوں کا تحفظ) ایکٹ اور BNS (بھارتیہ نیا سنہتا) کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر نمبر 04/2025 درج کیا۔اس وقت کے ایس ایچ او کنزر انسپکٹر شیخ عادل کی سربراہی میں ہونے والی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ نابالغ متاثرہ کو متعدد افراد نے بار بار حملوں کا نشانہ بنایا۔
ابتدائی پوچھ گچھ کے نتیجے میں2 مشتبہ افراد محمد رفیق ساکنہ دھوبی ون ٹنگمرگ اور محمد نصر اللہ خان ساکنہ ہایہامہ کپوارہ کو گرفتار کیا گیا۔ ان پرPOCSO دفعات کے تحت عصمت دری، جنسی زیادتی اور اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تاہم، بعد میں ڈی این اے کے تجزیے نے ان دونوں کو جنین کے حیاتیاتی باپ کے طور پر خارج کر دیا۔پولیس کے مطابق پولیس کے غیرمتزلزل، تفتیش کار اپنی کوششوں میں ڈٹے رہے، اورایک اہم مشتبہ شخص کے طور پراپنی توجہ چمپارن (بہار)کے رہنے والے جواد عالم پر مرکوز کی ۔ بعد ازاں فرانزک میچنگ نے اس بات کی تصدیق کی کہ جواد عالم کا ڈی این اے جنین کے ڈی این اے سے مماثل ہے، اس طرح اسے حیاتیاتی باپ کے طور پر قائم کیا گیا اور حمل کے نتیجے میں ہونے والے جنسی حملے میں اس کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی۔پولیس کی تحقیقات نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تینوں گرفتار ملزمان نے متعدد مواقع پر آزادانہ طور پر متاثرہ لڑکی پر حملہ کیا، جواد عالم خاص طور پراس معذورلڑکی کے حاملہ ہونے کا ذمہ دار تھا۔بیان میں، بارہمولہ پولیس نے ’سب سے زیادہ کمزور لوگوں کے لیے انصاف کے حصول کے لیے اپنے انتھک عزم کا اعادہ کیا۔ پولیس نے روشنی ڈالی کہ فرانزک تجزیہ میں ابتدائی پیچیدگیوں کے باوجود، ان کی ٹیم نے تمام مجرموں کی شناخت کے لیے طریقہ کار کی تحقیقات اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔ انہوں نے بچوں کےخلاف جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس موقف کا اعادہ کیا اور ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔بارہمولہ پولیس نے کسی کو بھی اس کیس یا اس سے متعلقہ واقعات سے متعلق اضافی معلومات کے ساتھ آگے آنے کی تاکید کی ہے۔ فورس نے فوری، پیشہ ورانہ اور حساس تحقیقات کے ذریعے خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی لگن پر زور دیا۔
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں یومِ آزادی سے پہلے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیا
سرینگر، جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلن پربھات نے جمعرات کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں یومِ آزادی کی تقاریب سے پہلے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوں کو مکمل طور پر الرٹ رہنے اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کو مضبوط کرنے کی ہدایت دی۔
میٹنگ میں جموں و کشمیر پولیس، بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف)، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کے سینیئر حکام شامل ہوئے۔ ان میں اسپیشل ڈی جی پی (ہم آہنگی)، اے ڈی جی پی (سی آئی ڈی)، کشمیر اور جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی)، رینج ڈی آئی جی، اضلاع کے ایس ایس پی اور دیگر حکام شامل تھے۔
مسٹر پربھات نے میٹنگ میں 15 اگست کی تقاریب کے لیے سیکورٹی انتظامات اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ الرٹ رہیں تاکہ یہ قومی تقریب بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں سیکورٹی نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے فورسیز کی موثر تعیناتی، علاقے میں بہتر نگرانی اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر بھی زور دیا۔
پولیس ڈائریکٹر جنرل نے اہم مقامات، بالخصوص سرینگر کے بخشے اسٹیڈیم میں انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے تقریب کے مقام کے اندر اور آس پاس ٹریفک کنٹرول اور پارکنگ مینجمنٹ کو موثر طریقے سے کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ باہمی ہم آہنگی کو بہتر رکھیں تاکہ تقریب میں شرکت کرنے والے لوگوں کو کم سے کم پریشانی ہو اور انہیں تمام ضروری سہولیات آسانی سے مل سکیں۔ سیکورٹی تیاریوں، جوانوں کی تعیناتی، انٹیلی جنس معلومات، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر انتظامات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل پورے کشمیر میں سکیورٹی مزید سخت
سری نگر، یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر پورے کشمیر میں سکیورٹی انتظامات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام نے 15 اگست کی تقریبات کو پرامن اور بلارکاوٹ یقینی بنانے کے لیے وادی کے مختلف علاقوں میں فل ڈریس ریہرسل بھی کی۔
جمعرات کو یہاں بخشی اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ودھی کمار بردی نے کہا کہ قومی تقریب کی تیاریوں کے سلسلے میں وادی کے تمام اضلاع میں سکیورٹی ریہرسل کی گئی ہے۔
بردی نے کہاکہ ’’وادی کے تمام اضلاع میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی انتظامات کی بھی مکمل ریہرسل کی گئی ہے، تاکہ 15 اگست کو ہم مرکزی تقریب کو بلارکاوٹ منعقد کر سکیں۔‘‘
گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں ہونے والے دو دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ وادی بھر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان معاملات میں تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ اضلاع کی جانب سے تمام مضبوط سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے۔‘‘
بردی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں اور 15 اگست کو ایک قومی تقریب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ انتظامی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے دارالحکومت میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے عوام سے ان تقریبات کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
دہلی کے لال قلعہ میں 25 نومبر کو ہونے والے دھماکے، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے، کو مبینہ طور پر القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کی ایک ذیلی تنظیم سے باضابطہ طور پر جوڑے جانے سے متعلق رپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو تفصیلات الگ سے شیئر کی جائیں گی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’ابھی ہماری معلومات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کشمیری پنڈتوں کو مبینہ دھمکیوں کی رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنے بیان کو یومِ آزادی اور اس سے متعلق سکیورٹی انتظامات تک محدود رکھیں گے۔
حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک دھمکی آمیز خط میں چھ کشمیری پنڈتوں کے نام درج ہونے کے بعد سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کو زبانی طور پر مشورہ دیا ہے کہ وہ 20 اگست تک اپنے دفاتر میں حاضر نہ ہوں۔
وادی میں تقریباً 6,000 مہاجر ملازمین کام کر رہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں اور اقلیتی ملازمین کی رہائش والے کیمپوں اور دیگر مقامات پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
