تازہ ترین
راجیہ سبھا میں متنازع شہریت ترمیمی بل 105 کے مقابلہ 125 ووٹوں سے منظور
خبراردو:
مذہب کی بنیاد پر 3 ممالک سے آنے والے مہاجرین کو شہریت دینے والا شہریت ترمیمی بل راجیہ سبھا میں 105 کے مقابلہ میں 125 ووٹوں سے منظور کیا گیا، صدر کی مہر ثبت ہونے کے بعد یہ بل قانون کی شکل لے لیگا.
قریبا 7 گھنٹوں کے بحث و مباحثے کے بعد شہریت ترمیمی بل راجیہ سبھا سے بھی منظور کر لیا گیا۔ اس بل کے حق میں 125 اور مخالفت میں 105 ووٹ ڈالے گئے۔ اس سے قبل بدھ کی سہ پہر کو وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن ممبران کی طرف سے کئے گئے شدید ہنگامے کے درمیان بل کو ایوان میں پیش کیا۔ کانگریس سمیت متعدد اپوزیشن جماعتوں نے آئین کے حقائق اور اقدار کی بنیاد پر اس بل کی سختی سے مخالفت کی۔ تقریبا 7 گھنٹے بحث و مباحثہ اور اس کے جواب دینے کے بعد بالآخر ووٹنگ کی بنیاد پر بل منظور کیا گیا۔ اب یہ بل صدر کو منظوری کے لئے بھیجا جائے گا۔
شہریت ترمیمی بل کی منظوری کے موقع پر کانگریس کی کارگزار صدر سونیا گاندھی نے کہا کہ یہ ہندوستان کی آئینی تاریخ کا سیاہ دن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا سے اس بل کی منظوری کے ساتھ تنگ نظر اور متعصب ذہنیت کی کثیر جہتی ہندوستان پر جیت ہوئی ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ بل بنیادی طور پر اس نظریے کو چیلنج کرتا ہے جس کے لئے ہمارے آباؤ اجداد نے طویل جنگ لڑی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل ایک منقسم ہندوستان کی تشکیل کرتا ہے، جہاں مذہب ہی کسی کی قوم پرستی کی بنیاد بنے گا۔
قبل ازیں، راجیہ سبھا میں تمام ممبران کو جواب دیتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ ’’کچھ ممبران نے بل کو غیر آئینی کہا ہے میں اس کا جواب دوں گا۔ اگر اس ملک کو تقسیم نہ کیا گیا ہوتا تو اس بل کو لانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ تقسیم کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے، یہ بل لانا پڑا۔ مودی سرکار یہ بل ملک کی مشکلات کو حل کرنے کے لئے لائی ہے۔‘‘
بل کی آئینی حیثیت پر ممبران کے ذریعہ اٹھائے گئے سوالات پر امت شاہ نے کہا کہ کچھ اراکین پارلیمنٹ کو خوف ہے کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں آجائے گی۔ عدالت کا آپشن کھلا ہے۔ کوئی بھی عدالت میں جا سکتا ہے۔ یہ قانون عدالت میں بھی درست پایا جائے گا۔
اس بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایوان میں قائد حزب اختلاف غلام نبی آزاد نے حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ اس بل سے پورا ملک خوش ہے، لیکن آج شمال مشرقی ریاستوں کی بیشتر ریاستوں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ آسام میں فوج کے دستے تعینات کیے جا رہے ہیں۔ دببروگڑھ، گوہاٹی اور دیگر مقامات پر مظاہرے ہو رہے ہیں، لوگ سڑکوں پر ہیں اور تشدد ہو رہا ہے۔ ناگالینڈ اور تریپورہ جل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سب کچھ ٹھیک ہے اور لوگ اس بل سے خوش ہیں تو پھر یہ کیوں ہو رہا ہے؟ اسی دوران، غلام نبی آزاد نے حکومت کی جانب سے پڑوسی ممالک میں مظلوم لوگوں مختلف مواقع پر بتائی گئی تعداد میں تضاد پائے جانے پر بھی سوال اٹھایا اور حکومت سے اس پر وضاحت طلب کی۔
دریں اثنا، بحث کے دوران بل کی مخالفت کرتے ہوئے، عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کہا کہ آپ پاکستان اور افغانستان میں بسنے والے ہندوؤں کے بارے میں پریشان ہیں۔ آپ کی آبائی ریاست گجرات میں یوپی اور بہار کے ہندوؤں کو مارا گیا، مجھے بتاؤ کہ آپ نے ایک بھی لفظ کیوں نہیں کہا؟ آپ اس ملک میں اپنا جنون پورا کرنے کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ ہم دراندازوں کو اس ملک سے نکالیں گے، دوسری طرف بنگلہ دیش سے ہمارے وزیر اعظم نے کہا کہ این آر سی سے بنگلہ دیش متاثر نہیں ہوگا۔ یہ ایک بل ہے جو آئین کی اصل روح کو تباہ کر رہا ہے، لہذا ہم اس بعل کی مخالفت کرتے ہیں۔
قبل ازیں، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کپل سبل نے کہا کہ وزیر داخلہ نے لوک سبھا میں کہا کہ ہمیں بل کی ضرورت ہے کیونکہ کانگریس نے تقسیم ہند کی غلطی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے یہ کس کتاب میں پڑھا ہے! جب کہ وہ نہیں جانتے کہ جناح اور ساورکر دونوں اس بات پر متفق تھے کہ ہندوؤں کے لئے ایک علیحدہ قوم اور مسلمانوں کے لئے الگ قوم ہونی چاہئے۔ سبل نے کہا کہ یہ ایک تاریخی بل ہے، کیوں کہ آپ تاریخ کو بدلنے والے ہیں۔ کپل سبل نے کہا کہ آپ ہندوستانی جمہوریہ کو ایسی ’جوراسک جمہوریہ‘ میں تبدیل مت کریں جہاں ’دو ڈایناسور‘ رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن کو ہندوستان کا کوئی اندازہ نہیں ہے وہ ہندوستان کے خیال (آئیڈیا آف انڈیا) کا دفاع نہیں کر سکتے ہیں۔
شہریت ترمیمی بل پر بات کرتے ہوئے راجیہ سبھا میں شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے کہا کہ جمہوریت میں مختلف آراء ہیں۔ وزیر اعظم مودی کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کہا گیا کہ جو اس بل کی حمایت نہیں کرتا وہ غدار ہے اور جو اس کی حمایت کرتا ہے وہ محب وطن ہے۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ جو اس کی حمایت نہیں کررہا ہے وہ پاکستان کی زبان بول رہا ہے۔ اگر ہمیں پاکستان کی زبان پسند نہیں ہے تو ہمارے پاس اتنی مضبوط حکومت ہے، پاکستان کو ختم کر دیں۔ آپ نے 370 کو ہٹا دیا ہم نے آپ کی حمایت کی۔ آج ملک کے بیشتر حصوں میں اس بل کی مخالفت کی جارہی ہے، تشدد ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھی ملک کے شہری ہیں، ملک دشمن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی ہندو ہیں، ہمیں آپ کی طرف سے حب الوطنی کی کسی سند کی ضرورت نہیں ہے۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
