ہندوستان
رتن ٹاٹا نے خواب دیکھنے والوں کی ایک پوری نسل کو بااختیار بنایا:وزیراعظم
نئی دہلی، شری رتن ٹاٹا جی کو ہم سے جدا ہوئے ایک مہینے کا عرصہ گزرا ہے چہل پہل والے شہروں اور قصبات سے لے کر گاؤوں تک ان کی عدم موجودگی معاشرے کے ہر حصے میں گہرائی سے محسوس کی جارہی ہے معمر صنعت کاران ابھرتے ہوئے کاروباری اور سخت محنت کرنے والے پیشہ واران ان کے سانحہ ارتحال سے مغموم ہیں جو ماحولیات کو لے کر بیدار ہیں اور انسان دوستی کے لیے وقف ہیں، وہ بھی مساویانہ طور پر غمزدہ ہیں ن کی عدم موجودگی نہ صرف ملک کے اندر بلکہ پوری دنیا میں بڑی گہرائی سے محسوس کی گئی ہے۔ان خیالات کا اظھار وزیراعظم نریندرا مودی نے یہاں جاری ایک مضمون میں کیا-
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے، شری رتن ٹاٹا ایک ترغیب کار تھے، وہ ان کو اس بات کی یاد دلاتے تھے کہ خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے ساتھ ساتھ کوشش اور کامیابیاں حاصل کرنے کا عمل پورے جوش و جذبے کے ساتھ اور انکساری کے ساتھ انجام دیا جا سکتا ہے۔ دیگر افراد کے لیے وہ ہندوستانی صنعت کی عمدہ ترین روایات کی نمائندگی کرتے تھے اور سالمیت، عمدگی اور خدمت جیسی اقدار کے لیے ان کی عہد بندگی اپنی جگہ محکم تھی۔ ان کی قیادت میں ٹاٹا گروپ نے نئی بلندیاں حاصل کیں۔ احترام، ایمانداری اور پوری دنیا میں معتبریت حاصل کی۔ اس کے باوجود وہ اپنی حصولیابیوں کو بہت ہلکے پھلکے انداز میں پوری انکساری اور وضع داری کے ساتھ پیش کیا کرتے تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ شری رتن ٹاٹا دیگر افراد کے خوابوں کو بھی غیر متزلزل حمایت فراہم کرتے تھے، یہ ان کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک خوبی تھی ۔حالیہ برسوں میں، وہ ہندوستان کے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کی سرپرستی کرنے، متعدد ترقی پذیر صنعتوں میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے معروف ہوئے تھے۔ وہ نوجوان صنعت کاروں کی امیدوں اور امنگوں کو سمجھتے تھے اور ہندوستان کے مستقبل کو سنوارنے کے معاملے میں ان کے مضمرات کو بھی تسلیم کرتے تھے۔ ان کی کوششوں کو تقویت بہم پہنچاکر انہوں نے خواب دیکھنے والوں کی ایک پوری پیڑھی کو بااختیار بنایا تاکہ وہ بے باکانہ طور پر خدشات کا سامنا کر سکیں اور بندھے ٹکے اصولوں سے تجاوز کر سکیں۔ اس سے اختراع اور صنعت کاری کی ایک نئی ثقافت بہم پہنچانے کے معاملے میں دور رَس اثرات مرتب ہوئے ہیں، جس کے بارے میں مجھے پورا یقین ہے کہ اس کا استعمال آنے والی دہائیوں میں ہندوستان پر اپنے مثبت اثرات مرتب کرتا رہے گا۔
انہوں نے لگاتار عمدگی کی علمبرداری کی، ہندوستانی صنعت کاروں سے گذارش کی کہ وہ عالمی معیارات اور شناخت قائم کریں۔ یہ تصوریت، میرے خیال سے مستقبل کے قائدین کو بھارت کو عالمی درجے کی حامل عمدگی کا مترادف بنا دے گی۔
انہوں نے کہا کہ ان کی عظمت محض بورڈ روم یا اپنے جیسے دیگر انسانوں کی مدد تک ہی محدود نہیں تھی، وہ تمام تر ذی روح کے تئیں فیاضی سے سرشار تھے۔ جانوروں کے تئیں ان کی گہری محبت بہت مشہور تھی اور وہ جانوروں کی فلاح و بہبود پر مرتکز تمام تر ممکنہ کوششوں میں اپنی جانب سے امداد فراہم کیا کرتے تھے۔ وہ اکثر اپنے کتوں کی تصاویر ساجھا کیا کرتے تھے۔ وہ ان کی زندگی کے اتنے ہی بڑے حصے تھے جیسے کہ ان کی دیگر کاروباری صنعتیں۔ ان کی زندگی ہم سب کو اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ اصل قیادت کا تعین کسی شخص کی اپنی حصولیابیوں سے نہیں بلکہ ازحد خستہ حال لوگوں کی نگہداشت کرنے کی اہلیت سے ظاہر ہوتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ کروڑوں ہندوستانیوں کے لیے شری رتن ٹاٹا کی حب الوطنی نے بحران کے وقت میں روشن ترین علامت کی حیثیت اختیار کی۔ انہوں نے ممبئی میں 26/11 دہشت گردانہ حملے کے فوراً بعد معروف تاج ہوٹل کو بڑی سرعت سے کھولا۔ یہ ملک کے لیے جوش و جذبے کا ایک نعرہ تھا-ہندوستان متحد ہوکر کھڑا ہے اور دہشت گردی کے آگے ہرگز سر جھکانے والا نہیں ہے۔
ذاتی طور پر مجھے گذشتہ برسوں میں ان سے واقفیت کا فخر حاصل رہا ہے۔ ہم نے گجرات میں بڑے قریب ہو کر کام کیا تھا جہاں انہوں نے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی تھی۔ ان میں ایسے متعدد پروجیکٹ شامل تھے جن کو لے کر وہ ازحد پرجوش تھے۔ محض چند ہفتے قبل، میں اسپین کے صدر جناب پیڈرو سانچیز کے ساتھ وڈودرا میں تھا اور ہم نے مشترکہ طور پر ایک طیارہ کامپلیکس کا افتتاح کیا تھا جہاں بھارت میں سی۔295 طیارے بنائے جائیں گے۔ یہ شری رتن ٹاٹا جی ہی تھے جنہوں نے اس پر کام شروع کیا تھا۔یہاں یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ شری رتن ٹاٹا کی عدم موجودگی شدت سے محسوس کی جائے گی۔مجھے یاد ہے کہ شری رتن ٹاٹا جی بڑے دانشور تھے۔ وہ مختلف موضوعات پر اکثر و بیشتر لکھا کرتے تھے خواہ یہ حکمرانی کے موضوعات ہوں، حکومت کے تئیں امداد فراہم کرنے کے معاملے میں ستائش کا اظہار ہو یا انتخابی فتوحات کےبعد مبارکبادی پیغامات ارسال کرنے کا موضوع ہو۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا قریبی تعلق قائم رہا جب میں مرکز کی جانب منتقل ہوا اور وہ تعمیر قوم کی ہماری کوششوں میں ایک کلی طور پر وقف شراکت دار کے طور پر کارفرما رہے۔ سوَچھ بھارت مشن کے تئیں شری رتن ٹاٹا کی امداد بطور خاص میرے دل میں خاص مقام رکھتی ہے۔ وہ عوامی تحریک کے زبردست علمبردار تھے۔ صفائی ستھرائی، حفظانِ صحت اور شفافیت کی اہمیت کو سمجھتے تھے اور جانتے تھے کہ یہ ہندوستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ سوَچھ بھارت کی دسویں سالگرہ کے موقع پر ماہ اکتوبر کے اوائل میں ان کا دلی جذبات پر مبنی ویڈیو مجھے اب بھی یاد ہے۔ عوامی طور پر منظر عام پر آنے کا یہ ان کا آخری سلسلہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایک دیگر موضوع جو ان کے دل کے بہت تقریب تھا، وہ تھا حفظانِ صحت خصوصاً کینسر کے خلاف نبرد آزمائی۔ مجھے دو سال قبل آسام میں منعقدہ ایک پروگرام کی یاد آتی ہے جہاں ہم نے مشترکہ طور پر ریاست میں مختلف النوع کینسر ہسپتالوں کو افتتاح کیا تھا۔ اپنے کلمات میں اس وقت انہوں نے زور دے کر کہا تھا کہ وہ اپنے زندگی کے تمام سالوں کو حفظانِ صحت کے لیے وقف کرنے کے خواہش مند ہیں۔ صحت اور کینسر کے معالجے کو لائق رسائی اور قابل استطاعت بنانے کی ان کی کوششوں کی جڑیں اس گہری دردمندی میں مضمر تھیں جو وہ اس مرض سے جوجھ رہے افراد کے تئیں رکھتے تھے۔ انہیں اس بات کا یقین تھا کہ ایک مبنی بر انصاف معاشرہ وہ ہوتا ہے جو اپنے سب سے خستہ حال طبقے کی حمایت میں کھڑا ہوتا ہے۔
آج ہم جب انہیں یاد کرتے ہیں تو ہمیں اس معاشرے کی یاد آتی ہے جس کی تصوریت ان کے ذہن میں تھی جہاں کاروبار بھلائی کی ایک قوت کے طور پر خدمت انجام دے۔ جہاں ہر کس و ناکس کے مضمرات کی قدر ہو اور جہاں ترقی کا تعین سب کی خیر و عافیت اور مسرت کے پیمانے پر ممکن ہو۔ وہ ان زندگیوں میں زندہ ہیں جن کو انہوں نے چھوا اور وہ خواب جو انہوں نے دیکھے اور پروان چڑھائے۔ پیڑھیاں ان کے تئیں احسان مند ہوں گی جب وہ یہ محسوس کریں گی کہ انہوں نے ہندوستان کو بہتر، مبنی بر رحم دلی اور مزید امید کا حامل مقام بنایا۔
یواین آئی۔ایف اے-م ا
ہندوستان
ہندوستان پر 100 فیصد امریکی برآمدی ڈیوٹی کے خدشے کے درمیان مودی اور ٹرمپ نے کی ٹیلی فون پر بات چیت
نئی دہلی، روس-ایران پابندیوں کے قانون کے تحت امریکہ کی طرف سے ہندوستان پر مجوزہ 100 فیصد برآمدی ڈیوٹی کے تعلق سے دونوں ممالک کے درمیان جاری تبادلۂ خیال کے درمیان وزیرِ اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز بات چیت کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا۔
اس بات چیت کے بعد مسٹر مودی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دونوں نے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
انہوں نے کہا، “صدر ٹرمپ کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی۔ ہم نے تجارت، دفاع، توانائی، اہم ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں اپنے باہمی تعاون کا جائزہ لیا۔ ہم اپنی ‘جامع اسٹریٹجک شراکت داری’ کو آگے بڑھانے کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر متفق ہوئے۔ ہم نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا، جن میں عالمی امن اور سکیورٹی کو فروغ دینے کے لیے جاری کوششیں بھی شامل ہیں۔”
وزیرِ اعظم کے دفتر نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے ہند-امریکہ جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کے تئیں اپنے عزم کو دہرایا اور دونوں ممالک کے لوگوں کے فائدے کے لیے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے قریب رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ امریکی پارلیمنٹ کی طرف سے منظور شدہ یہ قانون امریکی صدر کو روس سے خام تیل یا قدرتی گیس خریدنے والے سرفہرست پانچ ممالک پر 100 فیصد تک برآمدی ڈیوٹی عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
بیلا کلسٹر کے 729 ووٹوں میں سے 728 کو حذف کرنا ووٹ کی چوری : راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ بیلا کلسٹر کچی آبادیوں کے ووٹر لسٹ سے 729 میں سے 728 ووٹروں کا نام ہٹانا ووٹ چوری کا واضح ثبوت ہے، اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
مسٹر گاندھی نے بدھ کو سوشل میڈیا پر کہا کہ ہندوستانی شہریت کے تمام دستاویزات اور ثبوت ہونے کے باوجود یہ لوگ دفاتر اور عہدیداروں کے ارد گرد چکر لگا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ نسلوں سے وہاں رہ رہے ہیں، زرعی مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں اور ہر الیکشن میں ووٹ دیتے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا کسی شہری سے ووٹ کا حق صرف اس لیے چھین لیا جا سکتا ہے کہ وہ غریب یا بے گھر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین ایک شخص، ایک ووٹ کی ضمانت دیتا ہے اور ایک ووٹ کو بھی حذف کرنا محض ایک فعل نہیں بلکہ ووٹ چوری ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ 728 ووٹوں کے حذف ہونے پر افسوس کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہے اور اسی ڈھٹائی کے ساتھ ملک بھر میں لاکھوں ووٹوں کی چوری ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم ایک ووٹ کو بھی حذف نہیں ہونے دیں گے” اور ذمہ داروں کو نتائج کا سامنا کرنے کی تنبیہ کی۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
ہندوستان
شیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
نئی دہلی، گھریلو شیئر بازاروں میں بدھ کو مسلسل تیسرے دن گراوٹ دیکھی گئی اور بی ایس ای کا سینسیکس تقریباً پورے دن سبز نشان میں رہنے کے بعد آخر میں 49 پوائنٹس نیچے بند ہوا سینسیکس 88 پوائنٹس گر کر 72,441.15 پوائنٹس پر کھلا، لیکن کچھ ہی دیر میں سبز نشان میں پہنچ گیا۔ تاہم آخری گھنٹے میں ہوئی فروخت سے یہ 48.78 پوائنٹس (0.07 فیصد) کے نقصان کے ساتھ 72,480.29 پوائنٹس پر بند ہوا۔ نیشنل اسٹاک ایکسچینج کے نفٹی-50 انڈیکس میں سینسیکس کے مقابلے میں زیادہ اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ یہ 95.75 پوائنٹس یعنی 0.42 فیصد نیچے 22,620.45 پوائنٹس پر بند ہوا۔ یہ دونوں انڈیکس کا اس سال 30 مارچ کے بعد کی نچلی سطح ہے۔
وسیع تر بازار میں ملا جلا رخ رہا۔ نفٹی مڈ کیپ-50 انڈیکس 0.01 فیصد پھسل گیا۔ اسمال کیپ-100 انڈیکس 0.27 فیصد کی برتری میں رہا۔ سیکٹر پر مبنی انڈیکسوں میں نفٹی ہیلتھ 2.57 فیصد، نفٹی فارما 1.84 فیصد اور نفٹی میٹل 1.50 فیصد ٹوٹ گیا۔ پائیدار صارف مصنوعات کے گروپ میں 1.35 فیصد اور ایف ایم سی جی میں 0.63 فیصد کی گراوٹ رہی۔
میڈیا گروپ کا انڈیکس 2.74 فیصد، ریئلٹی گروپ کا 1.62 فیصد اور کیمیکل گروپ کا 1.19 فیصد چڑھا۔ بینکنگ، آئی ٹی اور آئل اینڈ گیس گروپ بھی سبز نشان میں رہے۔
سینسیکس میں ایٹرنل کا شیئر سب سے زیادہ سوا دو فیصد ٹوٹا۔ سن فارما اور ٹائٹن میں دو فیصد سے زیادہ کی گراوٹ رہی۔ اڈانی پورٹس، ٹاٹا اسٹیل، ایچ ڈی ایف سی بینک، بجاج فائنینس، انفوسس اور بھارتی ایئرٹیل کے شیئرز ایک سے دو فیصد تک پھسل گئے۔ ٹرینٹ، بجاج فن سروس، این ٹی پی سی، آئی ٹی سی اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا بھی نقصان میں رہے۔
کوٹک مہندرا بینک کا شیئر پونے تین فیصد اوپر رہا۔ آئی سی آئی سی آئی بینک اور انڈیگو میں بھی دو فیصد سے زیادہ کی تیزی رہی۔ ایکسس بینک اور الٹرا ٹیک سیمنٹ کے شیئرز ایک سے ڈیڑھ فیصد کی برتری میں رہے۔ ٹیک مہندرا، ہندوستان یونیلیور، بی ای ایل، ٹی سی ایس، ماروتی سوزوکی، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز اور ریلائنس انڈسٹریز کے شیئرز بھی سبز نشان میں رہے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا6 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
-
ہندوستان6 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا6 days agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا6 days agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
