تازہ ترین
روبینہ تبسم: ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ کامیاب تجارت پیشہ خاتون
سری نگر،5 مئی (یو این آئی) وسطی ضلع بڈگام کے قصبہ چاڑورہ سے تعلق رکھنے والی اعلیٰ تعلیم یافتہ روبینہ تبسم گل فروش، تجارت پیشہ خاتون اور خواتین کے لئے ایک رول ماڈل ہونے پر فخر محسوس کر رہی ہیں چاڑورہ کے دیو باغ گائوں میں پیدا ہونے والی روبینہ تبسم کی بارہویں جماعت پاس کرنے کے فوراً بعد شادی خانہ آبادی انجام دی گئی لیکن اس کے باوصف انہوں نے عزم مصمم اور عمل پیہم کے فارمولا پر عمل کرکے نہ صرف اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے شوق کو پورا کیا بلکہ تجارت کے زینوں کو بھی کامیابی سے طے کیا۔
انہوں نے یو این آئی کے ساتھ گفتگو میں کہا: ‘بارہویں جماعت پاس کرنے کے فوراً بعد میری شادی ہوئی لیکن مستقبل میں کچھ کرنے کے جذبے کی موجیں میرے دل میں ہمیشہ موجزن رہیں جنہوں نے مجھے اپنی تعلیم جاری رکھنے کا حوصلہ دیا’۔
ان کا کہنا تھا: ‘میں ڈاکٹر بننا چاہتی تھی لیکن شاید یہ خدا کو منظور نہیں تھا، تعلیمی سفر جاری رکھنے میں میرے شوہر اور دیگر اہلخانہ نے میری حوصلہ افزائی کی جس کی وجہ سے ہی ممکن ہوسکا کہ میں نے گریجویشن کی ڈگری مکمل کی اور بعد میں اندار گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی (آئی جی این او یو) سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی’۔
روبینہ تبسم نے اپنی کاروباری سرگرمیوں کی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ سال 2006 میں، میں نے جموں وکشمیر انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ (جے کے ای ڈی آئی) سے دس دنوں پر محیط کمرشل فلوریکلچر ٹریننگ کی۔
انہوں نے کہا: ‘اسی سال میں نے کٹ پھولوں کا کاروبار شروع کیا جس کے لئے میں نے گھر سے دو کلو میٹر دور ایک رقبہ اراضی کرایے پر لے لیا’۔
روبینہ نے اپنے کاروبار کو مزید وسعت دینے کے لئے گرین ہائوس اور مختلف قسم کے پھول اگانے شروع کئے جس کے لئے انہیں بیرون وادی سے اعلیٰ قسم کے پودے لانے پڑے اور مزید زمین کرایہ پر لینا پڑی۔
انہوں نے کہا: ‘ای ڈی آئی کی طرف سے ضروری جانکاری ملتی رہی جن پر عمل کرکے میں نے اپنا منصوبہ جاری رکھا’۔
ان کا کہنا تھا کہ بعد میں میں نے کٹ پھول اگانے کے لئے چاڑورہ میں مزید زمین کرایے پر لے لی اور اس کے ساتھ ساتھ لیوینڈر اور گلاب کے خوشبو دار پھولوں کے لئے نرسری بنائی۔
موصوفہ نے کہا کہ بعد ازاں میں نے آرای گام علاقے میں ڈھائی سو کنال زمین کرایے پر لے لئے جس پر مختلف قسموں کے پھولوں کے پودے لگائے گئے ہیں’۔
انہوں نے کہا: ‘چار سے پانچ سو کنال اراضی پر لیوینڈر اور گلاب پھول زیر کاشت ہیں جن سے عرق گلاب اور تیل تیار کیا جائے گا’۔
انہوں نے کہا کہ ان چیزوں کو ملک بھر کے بازاروں میں آروما کے نام کے تحت فروخت کیا جا رہا ہے۔
روبینہ نے تیل نکالنے کا ایک یونٹ بھی قائم کیا ہے جہاں ‘آروما پور اینڈ نیچرل’ نام کے تحت تیل کو بوتلوں میں بھر کے ملک اور مقامی بازاروں میں فروخت کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو چیزیں تیار کی جا رہی ہیں ان میں گلاب عرق، لیوینڈر آئیل، جیرانیم آئیل ،تھیم اور کلیری سیج آئیل شامل ہیں۔
موصوف پھول فروش نے کہا کہ پہلے انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا دفعہ370 کی تنسیخ اور بعد میں کورونا وبا پھیلنے سے مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا۔
انہوں نے کہا: ‘ تجارت میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں لیکن میں نے مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنے منصوبے کو جاری رکھا’۔
ان کا ماننا ہے کہ ہمت اور جوش و جذبہ ہو تو کسی بھی مشکل کو سرکیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا: ‘میرے شوہر اور دیگر اہلخانہ نے مجھے کافی سپورٹ کیا آج میں ایک ماں ہوں اور میرے بچوں کو بھی مجھ پر فخر ہے’۔
روبینہ نے کہا کہ میرے پھول دلی کے فلور مارکیٹ میں فروخت کئے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے چیزوں کو ہر جگہ کافی پذیرائی مل رہی ہے اور لوگ ان کے آنے کا انتظار کرتے ہیں’۔
موصوفہ مستقبل میں ایک ایسا بزنس ماڈل تیار کرنا چاہتی ہے جس سے اس کی مصنوعات نہ صرف ملک میں بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچ جائے۔
انہوں نے کہا: ‘قومی ہارٹی کلچر بورڈ نے پہلے میرے پروجیکٹوں کو سپانسر کیا اور جموں وکشمیر بینک نے مالی معاونت فراہم کی’۔
گھریلو ذمہ داریوں کے بارے میں پوچھے جانے پر ان کا کہنا تھا: ‘ گھریلو کاموں اور تجارت کے ساتھ مصروف رہنے کے باوجود بھی میں اپنے بچوں کو خود ٹیویشن کلاسز دیتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ تجارت کے ساتھ مصروف رہنے کے لئے باوجود بھی میں نے ایک ماں اور اہلیہ کا رول بخوبی انجام دیا۔
روبینہ کو شاندار کام انجام دینے کے اعزاز میں کئی اعزازات و اسناد سے نوزا گیا ہے ۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا17 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر17 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان19 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا17 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا21 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا21 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا21 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
