تازہ ترین
ریاست کے نامور عالم دین ہم سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو گئے
الطاف جمیل ندوی
موت کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ موت ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے کسی کو بھی مفر نہیں۔ جب پیارے نبی محمد- صلی اللہ علیہ وسلم -کو موت آکر رہی؛تو پھر دوسرے کی کیا بات! موت تو مہربان رب کے دیدار کا ایک ذریعہ ہے؛اگر آدمی کا انتقال نہ ہو؛تو اپنے رحیم وکریم رب کا دیدار کیسے کرے گا
موت نے کسی کو نہیں چھوڑا۔ چاہے انسان ہویا حیوان یا پھر چرند وپرند ہو، سب جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ یہ نظام اس دنیا کے پیدا کرنے والے کا ہی بنایا ہوا ہے۔ سچے مالک نے قرآن کریم میں فرمایا ہے: ”کُلّ نَفْس ذَائِقَة الْمَوْت“ (سورہ آل عمران، آیت:۱۸۵) ترجمہ:(تم میں) ہرجان دار کو موت کا مزہ چکھنا ہے؛ چناں چہ سب کے سب انبیاء ورسل، صحابہ وتابعین اوراولیاء وصلحا کو اس جہان سے کوچ کرنا پڑا۔ ہم سب کو بھی ایک دن جانا ہوگا
وادی کشمیر کے ضلع اسلام آباد کی جامع مسجد راحت دیدی کے خطیب و امام مدرسہ جامع الکبیر کے مہتمم مولانا مبارک کے انتقال کی خبر بجلی بن کر گری اہل علم کے درمیان اہل علم کے قافلہ کے ایک عظیم ساتھی کا یوں بچھڑ جانا انتہائی کربناک ہے پر کیا کیا جائے تقدیر الہی کے سامنے ہم تو صرف دعا کے علاوہ آنسوؤں اور آہون کی سوغات ہی دے سکتے ہیں اس کے سوا ہم سب محتاج ہیں
مولانا کا مختصر تعارفی خاکہ
افسوس کہ سمجھا نہ اھل نظر نے ھم کو
ھم وقت کی زنبیل میں ھیروں کی طرح تھے
نام ۔۔مولانا مبارک احمد شیخ ابن غلام محی الدین شیخ
آبائی وطن ۔۔پاریون کولگام مگر کچھ دہائیوں سے مہی پورہ میں سکونت پزیر تھے اور وہی ناکح بھی ہوا تھا
پانچ بچے ہیں ۔۔دو بیٹیاں اور تین بیٹے۔۔۔ابھی تک صرف ایک بیٹی کی شادی ہوئی ہے
۴۸سال کی عمر میں کل رات خالق حقیقی کے در پر حاضر ہوئے
مولانا مرحوم انتہائی درجہ کے سادہ و منکسر المزاج کے مالک تھے شرافت سادگی ان کی زندگی کا جز تھا لوگ اکثر ایک بات کئی بار پوچھتے محال ہے کہ مولانا کے ماتھے پر شکن نمودار ہو بلکہ ہر بار انتہائی ادب و احترام کے ساتھ جواب دیتے ہر کسی سے مشفقانہ رویہ اختیار کرتے اسی سادہ مزاجی کے سبب ضلع اسلام آباد کی مقبول شخصیت تھی ہر کوئی ان سے استفادہ کرنے کے لئے کوشاں رہتا اور خوشی و مسرت کے جذبات لے کر رخصت ہوجاتا مولانا اپنی زات میں ایک انجمن اک بزم تھے جامع مسجد میں خطابت کے فرائض انجام دیتے تھے جہاں کا ہر نمازی مولانا کی جدائی پر اشک بار آنکھوں سے مولانا کو الوداع کر رہا ہے لوگوں کی کثیر تعداد شریک نماز جنازہ ہوئی اور کچھ ایسے بھی تھے جن کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں
مختصر تعلیمی و تبلیغی سفر
ابتدائی تعلیم دارالعلوم سواء السبیل کھانڈی پورہ میں حاصل کی اسکے بعد اپنے شیخ عارف بااللہ حضرت مولانا حمید اللہ صاحب کھانڈی پورہ کے حکم سے اپنی تعلیمی سفر کو جاری رکھنے کے لئے دارالعلوم بلالیہ کی جانب سفر کیا ۔اسکے بعد وہاں کچھ سال رہ کر وہاں سے عالمیت کرکے اپنے شیخ کے حکم سے 1996 میں اسلام آباد میں مشہور و معروف مسجد رحت دیدی میں بطور امام کے منصبے پر فائز ہوئے ۔۔اور اپنی وفات تک وہیں دین کی خدمت انجام دے رہے تھے۔۔۔۔جہاں اس وقت کفر وشرک کی بہت زیادہ یلغاریں تھیں۔۔۔جہاں مولانا کو تقریبا ابتدائی 15 سالوں تک شرک و بدعت کے پجاری پریشان کرتے تھے اور مولانا کو بہت ستایا گیا ۔ایک مرتبہ فرمانے لگے بیٹا جس مسجد میں آپ ہو یہاں یہ دینی ماحول بنانے کے لئے مجھے اور (جبار کاک کو ۔۔جو تقریبا 35 سالوں سے اس مسجد کی خدمت انجام دے رہے ہیں)یہاں کے لوگوں نے داڈھی پکڑ کر گسیٹا گیا لیکن ہم برداشت کرتے رہے کیوں کہ شیخ کا حکم تھا۔۔۔۔مولانا اپنے شیخ کو پیار سے( مولوی صوب کہتے تھے)کبھی بھی انکی بات کو انہوں نہیں ٹالا ہوگا ۔۔۔
لیکن اس مسجد میں جہاں صرف شرک بدعت کی محفلیں ہوتی تھی۔۔مولانا کی بے انتہاء محنت کی وجہ سے اللہ کے فضل سے پھر دعوت تبلیغ کا مرکز بن گیا۔۔اور اتنے ہی پر بس نہیں بلکہ 2012 سے مدرسے کی ابتداء بھی اسی مسجد سے ہوئی اور مدرسہ بننے تک ۔۔جو کہ تقریبا ڈھائی سال کی مدت ہے۔۔۔اسی مسجد میں مدرسہ رہا۔۔۔اور میں ناچیز اس مدرسے کا سب سے پہلا طالب علم تھا۔۔۔۔۔
مدرسہ کی تعمیر و تجدید میں جو محنت مولانا نے کی شاید ہی کسی عالم کے حصہ میں ایسی محنت و مشقت آئی ہو ۔۔
ایک طالب علم کے تاثرات مجھے آج بھی یاد ہے کی جب مدرسے کے لئے زمین خریدی گئی تو اسکی قیمت اس وقت ایک کروڈ تیس لاکھ مقرر ہوئ ۔۔اور وہ رقم 4 مہینے کے اندر اندر ادا کرنی تھی۔۔ورنہ زمین واپس کرنی تھی۔۔۔۔تو مولانا نے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے محنت شروع کی اور اپنے ساتھ اپنے قریبی تین ساتھیوں کو ساتھ لیا ۔۔۔اور پورے رات دن محنت کرتے رہے ۔۔اللہ گواہ ہے کہ میں اور جبار کاک ہر دن رات کے بارہ بجے کبھی ایک بجے تک کھانا کھانے کا انتظار کرتے تھے۔۔۔۔اور اللہ کے فضل سے چار مہینے کے اندر اندر مولانا نے پورا قرضہ ادا کردیا لوگوں نے بھی مولانا مرحوم کو مایوس نہیں کیا بلکہ ہر کسی صاحب نے بڑھ چڑھ کر اپنی طرف سے مقدور بھر معاونت کی
اتنی بڑی رقم کا جمع کرنا کوئی اسان کام نہیں تھا ۔۔۔مگر مولانا کے ان چوبیس سالوں کی محنت نے ۔۔ جو مولانا نے جامع مسجد سے شروع کی تھی کا یہ بدلہ ملا مولانا نے اسلام آباد کے لوگوں میں اپنے اخلاق حسنہ ۔۔شریف النفسی اور معتدل شخصیت کی وجہ سے عوام کے دلوں میں رچ بس گئے تھے اور عوام کے لئے قابل اعتماد شخصیت کے بطور جانے پہچھانے جاتے تھے
کشمیر کے معروف کالم نگار
مولانا الطاف حسین ندوی کشمیری کے تاثرات
مولانا مبارک صاحب رحمۃ اللہ علیہ انتہائی نرم مزاج مبلغ اور بہت ہی ملنسار ہمدرد داعی دین تھے ۔ میں نے مکتبہ فکر دیوبند سے وابستہ کشمیری مبلغین اورعلماء میں ایسا نرم خو شخص نہیں دیکھا ہے ۔مولاناچراغ الدین رحمۃ اللہ علیہ اور مفتی عبدالغنی ازہری صاحب مدظلہ العالی کے بعد یہ وہ پہلے دیوبندی عالم اور مبلغ ہیں جنہوں نے کامیابی کے ساتھ اسلام آباد قصبہ میں نہ صرف کامیاب دینی ادارہ قائم کیا بلکہ تبلیغی جماعت کے لیے بھی رحت دیدی مسجد میں مرکز قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔تائید الٰہی سے انکار نہیں مگر ان کامیابیوں میں مولانا کی ذاتی لگن خلوص و محبت اورجہد مسلسل سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ مبارک صاحب نے امامت خطابت اور کامیاب عامل کے طور پر اپنی تمام تر صلاحیتوں کو دین کے لئے وقف کیا اور یہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے یہ فروعی اور مسلکی وفکری اختلافات کو اہمیت نہیں دیتے تھے جس سے یہ مشن میں کامیاب ہوئے اور انہیں اس بات کایقین تھاکہ کشمیری مسلمان چند مہینوں یا سالوں تک بڑے سے بڑے اختلاف کرنے والے عالم کو برداشت ضرورکرلیتے ہیں مگر بلاآخر اس طرح نظراندازکردیتے ہیں کہ خود وہ بھی دنگ رہ جاتاہے اس لئے کہ مسلکی اورفکری اختلافات کو جس جلتے معاشرے کی ضرورت ہوتی ہے وہ کشمیریوں کی فطرت سے بہت بعید ہے
ان کے چھوٹے بھائی مکرمی منیب صاحب کے تاثرات
میرا بھائی والد کی طرح میرے لئے فکر مند رہتا تھا جب بھی بازار جاتے اپنے بچوںکی ضروریات کے لئے تو مجھ سے ضرور پوچھتے کہ کچھ چاہئے میں ہاں یا نا کرتا پر کچھ نہ کچھ آکر میرے ہاتھ میں تھمادیتے
جب مولانا مرحوم عمرے کی سعادت کے لئے رخت سفر باندھ رہے تھے میں تھوڑا سا ملول لگ رہا تھا تو مولانا نے میرے پاس آکر میرا کاندھا تھپ تھپایا اور بولے منیب کوئی بات نہیں ہے میرے بعد تم بھی جاؤ گئے گر اللہ نے چاہا جب عمرہ کرکے واپس آئے تو کچھ دن بعد میں نے یوں ہی کہا بھائی جان میں کب جاؤں گا آپ نے بتایا تھا تو کہا بس میں نے انتظام کرلیا ہے جلد ہی پاسپورٹ آجائے گا میں اپنے اس والد جیسے بھائی کو دیکھتا ہی رہ گیا کہ مجھے خبر ہی نہیں مگر بھائی نے انتظام بھی کرلیا ہے روانگی کے وقت میرے والد صاحب نے کچھ رقم دی تو بھائی نے ڈانٹا والد صاحب سے کیوں لی رقم میں دوں گا انہیں واپس کردو
میں دوران تعلیم ریاست سے باہر تھا میرے نکاح کی بات چلی گھر آکر شش و پنچ میں تھا کہ کیا کروں بھائی سے بات کی کہ کچھ خریداری کرنی ہے بازار سے بھائی نے جواب دیا کہ میں نے کرلی ہے دیکھ لو پسند آئے تو بہتر نہیں تو میں پھر سے انتظام کرتا ہوں ان ضروریات کا جو آپ کی پسند کی نہیں ہوں گئی میں بھائی سے نہیں بلکہ اپنے محسن اپنے مربی اپنے دوست سے محروم ہوا ہوں ان کی جدائی کا غم اٹھائے زندگی گزارنا انتہائی کٹھن اور صبر آزما ہے
آئے عشّاق، گئے وعدہٴ فردا لے کر
اب انھیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر
برادر طلحہ ندوی کی زبانی منظر جنازہ
جنازہ کے متعلق یہ معلوم ہوا کہ 2:30 بجے ہوگا ،اس لئے میں نے جمعہ کی تیاری میں مشغول ہونا چاہا مگر دل اچاٹ، کئی بار کتاب کھولی ایک دو منٹ پڑھتا تھا، دل نہ لگنے کی وجہ سے دوبارہ بند کرتا تھا ، بعد میں 12:30بجے نماز جنازہ کا وقت مقرر ہوا ،تو عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جنازہ میں شرکت کے لئے رخت سفر باندھا ، ہچکیاں ہم سفر تھیں ،کرونا وائرس کے باعث تمام بڑے راستے مسدود تھے ، ایس ٹی ایف اور پولیس جنازے میں شرکت سے روکتے تھے مگر ہجوم عاشقان پیدل کھیتوں اور باغوں کے تنگ راستوں سے گزرتے ہوئے مہی پورہ کولگام پہنچتے تھے ،تین جگہ ہمیں بھی روکا گیا بالآخر ایک تنگ گلی سے ہم بھی جنازہ گاہ میں پہنچے۔
اللہ اکبر ____کیا منظر تھا ،
کیا آپ نے کبھی کسی شہید کا جنازہ پڑھا ؟
اگر آپ کا جواب ہاں ہے تو پھر آپ کو سمجھنا مشکل نہ ہوگا ______
دور دور تک سر ہی سر نظر آتے تھے ، ہر ایک کی آنکھیں نم اور چہرے پر غم کے بادل ، ان اداس چہروں کے بیچ جب ہم پہنچے تو عین اسی وقت حضرت رحمہ اللہ کا جنازہ پہنچ گیا ،نعرہ تکبیر کی آواز فضا میں گونجی__واہ واہ __ جس نے پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بلند کیا تھا ،منبر ومحراب میں ، جلسوں اور جلوسوں میں ،خلوت اور جلوت میں ،آج اس کے جنازہ پر بھی اسی رب واحد کا نام بلند ہوا ۔۔۔۔ سبحان اللہ
مفتی غلام محی الدین صاحب مدظلہ نے اعلان کیا کہ عارف باللہ مفتی عبدالرشید صاحب تشریف لارہے ہیں جب تک ان کی تشریف آوری ہوگی ، تب تک وہ مختصر خطاب کریں ، بعد اذاں حضرت مولانا ارشد صاحب ندوی حفظہ اللہ سے خطاب کی فرمائش، حضرت ندوی صاحب نے جوں ہی مائیک ہاتھ میں لی ان پر گریہ طاری ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے تمام لوگوں پر گریہ طاری ہوا ، کچھ دیر بیان فرمایا ، مفتی عبدالرشید صاحب بھی تشریف لا چکے تھے انہوں نے بھی دو تین منٹ خطاب فرمایا ،اس کے بعد ان ہی (حضرت مفتی عبدالرشید صاحب) کی اقتدا میں ہزاروں لوگوں نے نماز جنازہ ادا کی ، جنازہ گاہ میں رونے کی آوازیں تھیں ، ہچکیاں تھیں ،سب غم کے پہاڑ کے نیچے دبا ہوا محسوس کرتے تھے ،
بالآخر حضرت مولانا مبارک صاحب رحمہ اللہ کو ہزاروں عاشقوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا
حق تعالی مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا اللہ تعالی ان کا نعم البدل عطا فرمائے اہل وادی کے ساتھ ساتھ ضلع اسلام آباد کو
ہندوستان
گیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کی کارروائی کے تحت ہٹائے گئے 13.3 کروڑ ووٹروں کے نام اور انہیں ووٹ دینے سے محروم کرنے کی وجہ عام کی جانی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے بدھ کے روز یہاں اپوزیشن پارٹیوں کے انڈیا اتحاد کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی حقیقی ہندوستانی شہری کو غیر شفاف، من مانی یا نا کافی نگرانی والی کارروائی کے ذریعے ووٹنگ کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر نام ہٹائے گئے ہیں، تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ کس کا نام ہٹایا گیا اور کیوں۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 324 کی روح کے مطابق آزاد اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے بغیر قابلِ اعتماد انتخابات ممکن نہیں ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کے دو ساتھی الیکشن کمشنروں نے 10 مہینے میں 14 بار اس کارروائی پر اعتراضات درج کیے ہیں لیکن ان کے اعتراضات پر توجہ نہیں دی گئی، اس لیے چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹایا جانا چاہیے یا انہیں خود استعفیٰ دینا چاہیے۔
کانگریس صدر نے الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی سلیکشن کمیٹی سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ہٹا کر مرکزی وزیر کو شامل کیا گیا۔ انہوں نے الیکشن کمشنروں کو ان کے سرکاری کاموں کے سلسلے میں دی گئی قانونی تحفظ کا بھی معاملہ اٹھایا اور سپریم کورٹ کے اس تبصرے کا ذکر بھی کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا آزاد ہونا ہی نہیں، بلکہ اس کا آزاد دکھائی دینا بھی ضروری ہے۔
مسٹر کھرگے نے پہلی بار ووٹنگ کرنے والے نوجوانوں کے لیے فارم-6 میں کی گئی تبدیلیوں پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ نوجوانوں کے لیے ووٹر رجسٹریشن کی کارروائی آسان اور قابلِ رسائی ہونی چاہیے نیز تمام غیر ضروری رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹایا جانا چاہیے۔ ای وی ایم کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ ووٹنگ بیلٹ پیپر سے کرائی جانی چاہیے، تاکہ انتخابی نظام میں لوگوں کا اعتماد اور بھروسہ بحال ہو سکے۔
انہوں نے پری-ایس آئی آر ووٹر لسٹ کو مستقبل کے انتخابات میں استعمال کرنے، ووٹر لسٹ میں اسمبلی اور بوتھ کی سطح پر نام جوڑنے، ہٹانے اور سدھار کی پوری جانکاری دینے نیز کسی جائز ووٹر کا نام ہٹانے سے پہلے نوٹس، وجہ اور مؤثر اپیل کا موقع دینے کا مطالبہ کیا۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ انتظامی خامیوں، نا کافی دستاویزات یا بیداری کی کمی کی وجہ سے اہل ووٹروں کو ووٹنگ کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کی ادارہ جاتی جواب دہی یقینی بنانے اور تمام سیاسی پارٹیوں کا اعتماد قائم کرنے والے نظام کو ضروری بتایا اور کہا کہ انتخابات میں شفافیت سے ہی جمہوریت مضبوط ہوگی۔
یواین آئی ایف اے
دنیا
ہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
واشنگٹن، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ جنرلوں اور ایڈمرلوں کے لیے مختص فوجی عہدوں کی تعداد میں 20 فیصد کمی کرنے کا اعلان کریں گے۔ پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا کہ اس فیصلے سے امریکی بری، بحری اور فضائی افواج کی اعلیٰ قیادت متاثر ہوگی۔
عہدیدار کے مطابق ہیگستھ بدھ کو ورجینیا میں میرین کور بیس کوانٹیکو کے دورے کے دوران اپنے ’’اسٹیٹ آف دی فورس‘‘ خطاب میں اس فیصلے کا اعلان کریں گے۔ وہ یہ خطاب جونیئر افسران اور فوجی اہلکاروں کے سامنے کریں گے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے پینٹاگون کے عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ ہیگستھ تمام فوجی شعبوں کو تقریباً 800 جنرل اور فلیگ افسران کے عہدوں میں گزشتہ سال کی گئی 10 فیصد کمی کو دوگنا کرنے کی ہدایت دیں گے۔ اس طرح مجموعی کمی 20 فیصد ہوجائے گی اور اسے یکم جنوری 2027 تک مکمل کیا جانا ہے۔
فاکس نیوز کے مطابق نئی کٹوتیوں میں ایک اسٹار جنرل یا اس سے اوپر کے عہدے کے افسران، یا بحریہ میں مساوی رینک رکھنے والے افسران شامل ہو سکتے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ ان کٹوتیوں سے موجودہ اور ترقی کے منتظر ’’سینکڑوں فوجی رہنماؤں‘‘ کے کیریئر متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا ہیگستھ نے جنوری 2025 میں حکومت سنبھالنے کے بعد دو درجن سے زائد اعلیٰ فوجی رہنماؤں کو برطرف کیا یا ریٹائرمنٹ پر مجبور کیا ہے۔
ان میں فوج کے اعلیٰ وردی پوش افسر جنرل رینڈی جارج بھی شامل ہیں، جنہیں اپریل میں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ انتظامیہ نے چار اسٹار رینک رکھنے والی دونوں خواتین افسران کو بھی برطرف کیا، جبکہ متعدد دیگر اعلیٰ عہدے دار ریٹائرمنٹ یا استعفوں کے ذریعے عہدے چھوڑ چکے ہیں۔ فوج کے سیکریٹری ڈین ڈرِسکول نے بھی ہیگستھ کے ساتھ بار بار اختلافات کے بعد رواں ماہ استعفیٰ دیا۔
ہیگستھ نے گزشتہ سال اعلیٰ فوجی عہدوں میں کمی کی کوشش کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد ’’قیادت کو بہتر اور منظم بنانے کے لیے غیر ضروری فوجی ڈھانچے‘‘ کو ختم کرنا ہے۔ مئی 2025 میں جاری ایک یادداشت میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ فوج کو ’’غیر ضروری افسر شاہی کی تہوں‘‘ سے آزاد کرانا چاہتے ہیں۔
گزشتہ سال اسی عرصے میں ہیگستھ نے ’’ووک‘‘ ثقافت کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے فوجیوں کے لیے نئی ہدایات بھی جاری کی تھیں، جن میں جسمانی فٹنس کے لیے ’’صنفی غیر جانب دار‘‘ یا ’’مردانہ معیار‘‘ مقرر کرنا شامل تھا۔
سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے رینکنگ رکن اور رہوڈ آئی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر جیک ریڈ نے اس تازہ اقدام پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ قیادت کے عہدوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کانگریس سے مشاورت کے بعد ہونا چاہیے اور متوقع کٹوتیوں کو ’’ہر امریکی کے لیے باعث تشویش‘‘ قرار دیا۔
ریڈ نے کہا، ’’کانگریس وزیر دفاع پر واضح کر چکی ہے کہ انہیں اس ادارے سے مشاورت کرنی ہوگی اور اعلیٰ افسران کو ہٹانے اور ترقیوں کو روکنے کی وجوہات بتانی ہوں گی۔ اب تک ہمیں تسلی بخش جوابات نہیں ملے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہماری فوج دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کر رہی ہے اور افواج پہلے ہی دباؤ میں ہیں۔‘‘
امریکی قانون کے تحت جنرل افسران کے عہدوں کی تعداد مقرر کی جاتی ہے، تاہم اگر انتظامیہ کانگریس کو نامزدگیاں پیش نہ کرے تو یہ عہدے خالی رکھے جا سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی سپریم کورٹ نے تارکین وطن کو تیسرے ممالک بھیجنے کی اجازت دے دی
واشنگٹن، امریکی سپریم کورٹ نے منگل کو نچلی عدالت کے اس حکم کو عارضی طور پر روک دیا جس نے امریکی حکام کو تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک کے علاوہ تیسرے ممالک میں ڈی پورٹ کرنے سے روک دیا تھا، جس سے انتظامیہ کو ملک بدری کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے 25 فروری 2026 کے حکم اور میساچوسٹس کی وفاقی عدالت کے فیصلے پر روک لگا دی، جس نے پہلے امریکہ سے تارکین وطن کی دوسرے ممالک میں ملک بدری پر عارضی پابندی عائد کی تھی۔
امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ محکمہ انصاف میساچوسٹس کی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرے گا۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ تیسرے ممالک میں تارکین وطن کو تیزی سے ملک بدر کرنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کی قانونی حیثیت پر دسمبر میں سماعت کرے گی۔ سونیا سوٹومائیر، ایلینا کاگن اور کیتنجی براؤن جیکسن نے اس فیصلے کی مخالفت کی۔ یو ایس ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) کے جنرل کونسلر جیمز پرسیول نے اس فیصلے کو محکمے کی ایک اور “فتح” قرار دیا اور تارکین وطن سے رضاکارانہ طور پر امریکہ چھوڑنے کی اپیل کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ تیسرے ممالک کو ڈی پورٹ کرنے کی پالیسی دوبارہ نافذ ہو گئی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 47ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے دن ہی غیر قانونی امیگریشن کو روکنے اور بڑے پیمانے پر ملک بدری شروع کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے امریکی سرحد پر بحران سے نمٹنے کے لیے ملک بھر میں ہنگامی حالت کا اعلان بھی کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان7 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
-
ہندوستان7 days agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
