فن و ادب
ریتک روشن ایک باکمال اداکار
دس جنوری سالگرہ کے موقع پر
ممبئی، ریتک روشن ایک ایسے اداکار ہیں جو بالی وڈ میں نہ صرف اپنی شاندار اداکاری کے لیے مشہور ہیں بلکہ ڈانسنگ کی اپنی غیر معمولی صلاحیت، دلکش شخصیت اور ہر کردار میں ڈھل جانے کی اہلیت کے باعث بھی بالی وڈ میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔انہوں نے بالی ووڈ میں کئی کامیاب فلمیں دی ہیں اور اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی ہے۔ ان کا فلمی کریئر بہت کامیاب رہا ہے۔ انہیں 6 بار فلم فیئر ایوارڈز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ ریتک کا شمار ہندوستان سب سے پرکشش سیلیبریٹیز میں ہوتا ہے۔ ان کے ذریعے ادا کیے گئے کرداروں کی نہ صرف ناقدین بلکہ عوام نے بھی خوب تعریف کی ہے۔ وہ ہر طرح کے رول بڑی خوبی اور آسانی سے ادا کرلیتے ہیں۔ اداکاری کے علاوہ انہوں نے اپنے ڈانس مووز سے بھی لوگوں کے دل جیتے اور بالی ووڈ میں انہیں ایک بہترین ڈانسر کے طور پر بھی پہچانا جاتا ہے۔
ریتک روشن کو اداکاری وراثت میں ملی ۔ ان کی پیدائش 10 جنوری 1974 کو بمبئی میں بالی ووڈ سے وابستہ ایک ممتاز خاندان میں ہوئی تھی۔ ان کے والد راکیش روشن بالی ووڈ کے معروف اداکار اور ہدایت کار ہیں، جبکہ والدہ پنکی روشن گھریلو خاتون ہیں۔ ان کے دادا روشن لال ناگرتھ (روشن) بھی اپنے زمانے کے معروف موسیقاروں میں سے ایک تھے اور ریتک کے چچا راجیش روشن نے بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فن موسیقی میں نام کمایا۔ ان کے نانا جے اوم پرکاش بھی بالی وڈ کے معروف فلمساز و ہدایت کار رہے ہیں۔ ریتک کی ایک بڑی بہن سنینا ہیں۔ ریتک نے ابتدائی تعلیم بامبے اسکاٹش اسکول سے حاصل کی اور بعد میں سڈنہم کالج سے کامرس میں گریجویشن کیا۔ ماسٹرز کی تعلیم کے لیے وہ امریکہ بھی گئے۔
رتيك کو بچپن میں ہکلاہٹ کی وجہ سے لوگوں کے سامنے بات کرنے میں دشواری ہوتی تھی۔ اسکول میں زبانی امتحانات سے بچنے کے لیے وہ کبھی چوٹ یا بیماری کا بہانہ کرلیا کرتےتھے۔ انہیں روزانہ اسپیچ تھراپی دی گئی جس سے ان کا کھویا ہوا اعتماد لوٹ آیا ۔
ریتک روشن اکثر اپنے والد راکیش روشن کے ساتھ شوٹنگ پر جایا کرتے تھے۔ ریتک روشن کے نانا پرکاش نے انہیں پہلی بار چھ سال کی عمر میں فلم آشا (1980) میں پردۂ اسکرین پر متعارف کرایا۔ انہوں نے جیتندر پر فلمائے گئے ایک گیت میں رقص کیا، جس کے لیے پرکاش نے انہیں 100 روپے معاوضہ دیا تھا۔ روشن نے اپنے والد کی پروڈیوس کردہ فلم آپ کے دیوانے (1980) سمیت مختلف خاندانی پروجیکٹ کی فلموں میں بغیر پیسوں کے اداکاری کی۔نانا پرکاش کی فلم آس پاس (1981) میں ریتک گیت “شہر میں چرچا ہے” میں نظر آئے۔ اس دوران بطور اداکار ان کا واحد مکالماتی کردار اس وقت سامنے آیا جب وہ 12 سال کے تھے؛ انہیں اپنے نانا پرکاش کی فلم بھگوان دادا (1986) میں مرکزی کردار کے منہ بولے بیٹے گووند کے طور پر پیش کیا گیا۔بعد ازاں وہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر بنے اور اپنے والد کی فلموں کرن ارجن (1995) اور کوئلہ (1997) کی تیاری میں ان کے ساتھ کام کیا۔
ریتک روشن نے فیصلہ کیا کہ وہ اداکاری میں ہی اپنا ہنر آزمائیں گے، تاہم ان کے والد نے اصرار کیا کہ پہلے وہ اپنی تعلیم پر توجہ دیں۔ اسی دوران وہ اسکولیوسس (ریڑھ کی ہڈی کا ٹیڑھاپن) کا شکار ہوئے ، جس کے باعث انہیں رقص یا اسٹنٹس کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ وقتی طور پر وہ صدمے کا شکار ضرور ہوئے لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری ۔ تشخیص کے تقریباً ایک سال بعد، جب وہ ذہنی دباؤ کا شکار تھے، انہوں نے ساحلِ سمندر پر چہل قدمی کے دوران خود کو آزمایا۔ انہیں کوئی درد محسوس نہ ہوا اور مزید اعتماد کے ساتھ وہ اپنی رفتار بڑھانے میں کامیاب رہے۔ ریتک اس دن کو “زندگی کا ایک اہم موڑ” قرار دیتے ہیں۔
ریتک روشن نے باقاعدہ طور پر سال 2000 میں اپنے والد راکیش روشن کی فلم ’کہو نا پیار ہے‘ سے بالی ووڈ میں قدم رکھا، اس فلم میں ان کی ہیروئن امیشا پٹیل تھیں۔ اس فلم کی کامیابی سے وہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔ اپنے کردار کی پیش کش کے لیے انہوں نے سخت ریاضت کی، اپنے تلفظ کو بہتر بنانے پر کام کیا اور اداکاری، گائیکی، رقص، تلوار بازی اور گھڑسواری بھی سیکھی۔ اس فلم میں ریتک فلم میں ڈبل رول ادا کیا۔ ان کے ڈانس اور پرفارمنس کو شائقین نے کافی پسند کیا اور وہ راتوں رات اسٹار بن گئے۔ اس کے بعد انہوں نے ’مشن کشمیر‘، ’لکشئے‘، ’کوئی مل گیا‘، ’کرش‘، ’جودھا اکبر‘، ’دھوم 2‘، ’زندگی نہ ملے گی دوبارہ‘، ’اگنی پتھ‘، ’سپر 30‘، اور ’وار‘ جیسی فلموں میں شاندار اداکاری کے جوہر دکھائے۔
ریتک روشن نے تجربات کا سلسلہ جاری رکھا اور اس کے بعد وہ ودھو ونود چوپڑا کی ایکشن ڈرامہ فلم مشن کشمیر (2000) میں سنجے دت، پریتی زنٹا اور جیکی شروف کے ساتھ نظر آئے۔ ہند–پاکستان تنازعہ کے دوران کشمیر کی وادی میں بنی اس فلم میں دہشت گردی اور جرائم جیسے موضوعات کو اجاگر کیا گیا تھا اور یہ فلم کمرشل طور پر کامیاب رہی۔ آدرش کے مطابق، ریتک اپنی مقناطیسی موجودگی سے اسکرین کو روشن کر دیتے ہیں۔ ان کی باڈی لینگویج اور طرز ادا ناظرین کے دل جیت لیتا ہے۔‘‘
سال 2001میں وہ دو فلموں میں نظر آئے۔ پہلی سبھاش گھئی کی رومانوی ڈرامہ فلم ’یادیں‘ تھی، جس میں وہ کرینہ کپور کے ساتھ دکھائی دیے۔ دوسری کرن جوہر کی میلو ڈرامہ فلم کبھی خوشی کبھی غم تھی، جس میں انہوں نے امیتابھ بچن، جیا بچن، شاہ رخ خان، کاجول اور کرینہ کپور کے ساتھ اداکاری کی۔ کبھی خوشی کبھی غم ہندوستان میں اُس سال کی دوسری سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم ثابت ہوئی۔ سال 2002–2003 میں وکرم بھٹ کی رومانوی فلم آپ مجھے اچھے لگنے لگے میں وہ ایک بار پھر امیشا پٹیل کے ساتھ نظر آئے۔ اس کے علاوہ ریتک کو اَرجن سبلوک کی رومانوی فلم نہ تم جانو نہ ہم، مجھ سے دوستی کروگے! اور سورج آر برجاتیا کی فلم میں پریم کی دیوانی ہوں میں بھی دیکھا گیا۔
سال 2003کی سائنس فکشن فلم کوئی مل گیا، جس کے لیے روشن نے دو فلم فیئر ایوارڈز جیتے، جو ان کے فلمی کریئر کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے اسی سیریز کی فلم کرش (2006) اور کرش 3 (2013) میں مرکزی ہیرو کے طور پر اداکاری کی۔ انہوں نے دھوم 2 (2006) میں ایک چور، جودھا اکبر (2008) میں مغل بادشاہ اکبر اور گزارش (2010) میں ایک کوآڈری پلیجک کا کردار ادا کرکے خوب داد حاصل کی۔ انہوں نے 2011 کی ڈرامہ فلم ’زندگی نہ ملے گی دوبارہ‘، 2012 کی اگنی پتھ، 2014 کی ایکشن تھرلر بینگ بینگ!، 2019 کی بایوپک سپر 30 اور 2019 کی ایکشن تھرلر وار میں مرکزی کردار ادا کر کے زبردست کامیابی حاصل کی؛ ان میں سے وار ان کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم ثابت ہوئی۔
روشن نے اسٹیج پر بھی پرفارم کیا ہے اور رقص پر مبنی ریئلٹی شو جسٹ ڈانس (2011) کے ساتھ ٹیلی وژن پر اپنے سفر کا آغاز کیا۔ وہ کئی فلاحی اور انسانی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں، متعدد برانڈز اور مصنوعات کی تشہیر کرتے ہیں اور انہوں نے اپنے ملبوسات کا ذاتی برانڈ بھی لانچ کیا ہے۔روشن کی شادی چودہ برس تک سوزین خان سے رہی، جن سے ان کے دو بچے ہیں۔ ریتک کی پہلی اہلیہ سوزین خان سے طلاق کے بعد صبا آزاد ان کی زندگی میں آئیں۔ دونوں نے گھر بسانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور جلد شادی کرنے والے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
فن و ادب
نانا پاٹیکر: انسانی سچائی کی بے مثال آواز خاموش ہو گئی
نئی دہلی، معروف اداکار، فلم ساز اور تھیٹر فنکار نانا پاٹیکر، جن کی پُرجوش اداکاری، منفرد آواز اور انسانی جذبات سے بھرپور کرداروں نے ہندوستانی سنیما کو کئی یادگار کردار دیے، جمعرات کی صبح 75 سال کی عمر میں گوا میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کے ساتھ 5 دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ایک شاندار فلمی سفر کا اختتام ہو گیا۔
نانا پاٹیکر، جن کا اصل نام وشواناتھ پاٹیکر تھا، کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہیں گوا کے ڈونا پاؤلا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر شدید دل کا دورہ پڑا۔ انہیں فوری طور پر منی پال اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے تقریباً 45 منٹ تک انہیں بچانے کی کوشش کی، لیکن صبح 5:20 بجے انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔ ان کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے ان کے انتقال کی تصدیق کی۔
ان کے اچانک انتقال کی خبر سے ہندوستانی فلمی صنعت میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں نے صرف ایک معروف اداکار کے انتقال پر افسوس نہیں کیا بلکہ ایسے فنکار کے کھو جانے کا دکھ منایا جس کی محض ایک نظر، ایک لمحے کی خاموشی یا مکالمے کی ایک سطر بھی پردے کو ہلا دینے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ نانا پاٹیکر کبھی روایتی معنوں میں فلمی ستارہ نہیں رہے۔ وہ ایسے اداکار تھے جو عام لوگوں کی جذباتی دنیا میں اتر جاتے تھے، ان کے غصے، زخموں، بے بسی، مزاحمت، کمزوری اور کبھی کبھی بے باک مزاح کو اپنے کرداروں میں پوری سچائی سے پیش کرتے تھے۔
ان کی اداکاری میں ایک ایسی بے ساختگی تھی جو مرکزی دھارے کی فلموں کے بناوٹی انداز کو قبول نہیں کرتی تھی۔ ان کی منفرد آواز اور مکالمے ادا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت عام سے عام جملے کو بھی جذبات اور اثر سے بھر دیتی تھی۔ وہ اپنی آواز بلند کیے بغیر بھی پورے منظر پر چھا جانے کی صلاحیت رکھتے تھے اور خاموشی کے ذریعے بھی کسی کردار کی پوری جذباتی داستان بیان کر دیتے تھے۔
یکم جنوری 1951 کو مہاراشٹر کے رائے گڑھ ضلع کے مروڈ-جنجیرہ میں پیدا ہونے والے نانا پاٹیکر نے مشکلات سے بھرے بچپن کے بعد اپنی نسل کے سب سے قابل احترام اداکاروں میں جگہ بنائی۔ انہوں نے 1978 میں ‘گمن’ کے ذریعے ہندی سنیما میں قدم رکھا اور ہندی و مراٹھی فلموں میں مشکل اور چیلنجنگ کردار ادا کرتے ہوئے اپنے لیے ایک منفرد مقام بنایا۔
ان کی اصل شناخت ایسے کرداروں سے بنی جن میں ظاہری خوبصورتی سے زیادہ اداکاری کی طاقت اور شخصیت کا اثر درکار تھا۔ 1989 کی فلم ‘پرندہ’ میں بے رحم انا کا خوفناک کردار ادا کرنے پر انہیں بہترین معاون اداکار کا قومی فلم ایوارڈ ملا۔ اس کے بعد انہوں نے ‘پراہار: دی فائنل اٹیک’ میں شاندار اداکاری کی، جس کی ہدایت کاری بھی انہوں نے کی تھی۔ اس کے علاوہ ‘انگار’، ‘ترنگا’، ‘اگنی ساکشی’ اور ‘خاموشی: دی میوزیکل’ جیسی فلموں میں بھی ان کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ۔ایم جے
فن و ادب
رانی مکھرجی کو راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ
ممبئی، بالی ووڈ اداکارہ رانی مکھرجی کو ہندوستانی سنیما میں نمایاں تعاون اور مہاراشٹر کے ساتھ ان کی طویل وابستگی کے لیے مہاراشٹر حکومت کی جانب سے باوقار راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
62ویں مہاراشٹر ریاستی فلم ایوارڈز کی تقریب میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے رانی مکھرجی کو یہ اعزاز پیش کیا۔
اعزاز ملنے پر رانی نے کہا، ’’میرے لیے مہاراشٹر صرف ایک ریاست نہیں ہے۔ مہاراشٹر میری جائے پیدائش، میری جائے کار اور میری زندگی کا لازمی حصہ ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’سنیما میرے لیے ایک گہرا جذبہ ہے اور مہاراشٹر اس جذبے کا گھر ہے۔ یہ ایوارڈ میرے لیے اس لیے بھی خاص ہے کہ یہ مجھے میرے اپنے لوگوں اور اس جگہ سے مل رہا ہے، جس سے میں گہری وابستگی رکھتی ہوں۔‘‘
ممبئی میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والی رانی نے تقریباً 3 دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کریئر میں ’بلیک‘، ’نو ون کلڈ جیسیکا‘، ’ہچکی‘، ’مردانی‘ سلسلے کی فلموں اور ’مسز چٹرجی ورسز ناروے‘ جیسی فلموں میں مؤثر کردار ادا کیے ہیں۔
رانی نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ایسی کہانیوں اور کرداروں کا انتخاب کیا جن میں انہیں سچائی اور حوصلہ نظر آیا۔ انہوں نے پردے پر مضبوط خواتین کی نمائندگی کرنے کی اپنی کوشش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہمیشہ ایسی خواتین متاثر کرتی رہی ہیں جو کسی دوسرے شخص کے انہیں بچانے کا انتظار نہیں کرتیں۔
رانی نے یہ اعزاز مہاراشٹر کے فنکاروں، تکنیکی ماہرین، فلم سازوں اور پوری فلم برادری کے نام کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے نسلوں سے ہندوستانی سنیما کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
رانی نے کہا، ’’جب بھی میں اس ایوارڈ کو دیکھوں گی، مجھے صرف ایک ایوارڈ نظر نہیں آئے گا۔ مجھے اپنا ممبئی، اپنا مہاراشٹر نظر آئے گا۔‘‘
یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
ہندوستان1 week agoبیلا کلسٹر کے 729 ووٹوں میں سے 728 کو حذف کرنا ووٹ کی چوری : راہل
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
