تازہ ترین
زبان یا جر م:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کی شناخت پر بڑھتے سوالات
شمس آغاز
ایڈیٹر،دی کوریج
ہندوستان ایک ایسا عظیم ملک ہے جس کی بنیاد کثیر لسانی، کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ہم آہنگی پر رکھی گئی ہے۔ یہاں زبان، مذہب، نسل اور تہذیب کی گوناگونی کو قومی وحدت کا جزو لاینفک تسلیم کیا گیا ہے۔ یہی تنوع
ہندوستانی آئین اور جمہوری روایات کی روح ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں جو سیاسی، انتظامی اور سماجی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، ان میں ایسے رجحانات واضح طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں جو نہ
صرف جمہوری اقدار سے متصادم ہیں بلکہ اقلیتوں کے بنیادی حقوق کو پامال کرنے کی سمت میں بڑھتے ہوئے قدم محسوس ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک افسوسناک واقعہ حال ہی میں ہریانہ کے صنعتی شہر گروگرام میں پیش
آیا،جہاں مغربی بنگال اور آسام سے تعلق رکھنے والے 74 بنگالی بولنے والے مسلمان مزدوروں کو محض شک کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا۔ ان میں سے اکثریت صفائی، کوڑا کرکٹ چننے اور کچی بستیوں میں رہنے والے مزدوروں پر مشتمل تھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو کسی باقاعدہ چارج، نوٹس یا قانونی کارروائی کے بغیر صرف اس شبہے میں حراست میں لیا گیا کہ یہ غیر ملکی ہیں، جبکہ ان میں سے بیشتر کے پاس
آدھار کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ، پین کارڈ، اور یہاں تک کہ پاسپورٹ جیسےمستند اور قانونی دستاویزات موجود تھے۔
حراست میں لیے گئے ان افراد کے رشتہ داروں نے شہریت کے ثبوت کے طور پر مغربی بنگال کے مختلف تھانوں سے سرکاری دستاویزات فراہم کیےلیکن حکام نے ان ثبوتوں کو غیر مؤثر قرار دے کر نظر انداز کر دیا۔اس عمل سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ صرف شناختی دستاویزات کا نہیں بلکہ ایک منظم تعصب اور امتیازی رویے کا ہے۔ ان تمام تر واقعات میں نہ صرف انسانی وقار کو پامال کیا گیا بلکہ ہندوستانی آئین کی روح کو بھی مجروح کیا گیا،جو ہر فرد کو برابر کے حقوق، مساوی سلوک، اور قانونی تحفظ فراہم کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔
یہ ایک نہایت اہم اور فکرانگیز سوال ہے کہ کیا اب اس ملک میں بنگالی زبان بولنا جرم تصور کیا جانے لگا ہے؟ بنگالی ہندوستان کی آٹھویں شیڈیول میں شامل تسلیم شدہ زبانوں میں سے ایک ہے۔ اسے بولنے والے کروڑوں
افراد نہ صرف مغربی بنگال بلکہ آسام، تریپورہ، جھارکھنڈ، بہار، دہلی اور دیگر کئی ریاستوں میں پائے جاتے ہیں۔ زبان کسی فرد کی شہریت یا وفاداری کا تعین نہیں کر سکتی، کیونکہ زبان کا تعلق تمدن اور تہذیب سے
ہوتا ہےنہ کہ سرحدوں سے۔ اگر محض زبان کی بنیاد پر کسی فرد کی شہریت پر سوال اٹھایا جائے تو یہ پورے لسانی تانے بانے کو بکھیرنے کا
پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک آئینی اور اخلاقی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 21 ہر فرد کو زندگی اور شخصی آزادی کا حق دیتا ہے اور اس میں یہ بھی شامل ہے کہ کسی
فرد کو اس کے حقوق سے اس وقت تک محروم نہیں کیا جا سکتا جب تک مکمل قانونی طریقہ کار اختیار نہ کیا جائے۔ لیکن ان حراستوں میں قانونی عمل کی خلاف ورزی کھلم کھلا کی گئی ہے۔ بغیر کسی نوٹس کے، بغیر
عدالت کے حکم کے اور بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے لوگوں کو حراست میں رکھنا قانون کی روح کے خلاف ہے۔ ان واقعات سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ بنگالی بولنے والے مسلمان ایک خاص سیاسی و انتظامی تعصب کا نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔ جب کسی خاص زبان بولنے والے یا مذہب کے ماننے والے طبقے کو بار بار شک کی نگاہ سے دیکھا جائے، ان کی دستاویزات کو جعلی قرار دے دیا جائے، ان کے
بچوں کو تعلیم سے محروم کر دیا جائے، ان کے گھروں کو بلڈوزر سے ڈھا دیا جائے، تو یہ صرف ان افراد پر ظلم نہیں بلکہ ملک کی جمہوری اقدار، آئینی اصولوں اور انسانی حقوق کی صریح پامالی ہے۔ درحقیقت،یہ واقعات
ملک کے جمہوری ڈھانچے اور برابری پر مبنی نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
آسام میں بھی گزشتہ کچھ برسوں سے ایسی ہی پالیسیوں کا مشاہدہ کیا گیا ہے، جہاں ریاستی حکومت نے مبینہ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف بےدخلی مہم شروع کر رکھی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ مہم بنگلہ دیش
سے غیر قانونی طور پر آ کر بسنے والوں کے خلاف ہے۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس مہم کا اصل نشانہ بنگالی بولنے والے مسلمان ہیں، جن میں سے بیشتر دہائیوں سے آسام میں مقیم ہیں۔ ان کے پاس زمین کی دستاویزات، سرکاری اسکولوں سے تعلیم کے سرٹیفکیٹ، شناختی کارڈز، اور یہاں تک کہ ووٹر لسٹ میں نام بھی درج ہیں، پھر بھی ان کو غیر ملکی قرار دے کر گھروں سے نکالا جا رہا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق تقریباً
8,000 گھروں کو بلڈوزر کے ذریعے منہدم کر دیا گیا ہے۔ بے دخلی کی ان کارروائیوں کے دوران پیش آنے والے دل دہلا دینے والےواقعات نے ریاستی مشینری کی بے حسی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ایک واقعے میں 19 سالہ شاکور علی کی موت اس وقت ہوئی جب پولیس کی موجودگی میں اس کے گھر کو مسمار کیا جا رہا تھا۔ یہ واقعہ صرف ایک نوجوان کی موت نہیں بلکہ انسانی ہمدردی، عدالتی احکامات اور انتظامی ذمہ داری کی موت بھی ہے۔ گوہاٹی ہائی کورٹ نے پہلے ہی ہدایت دی تھی کہ کسی بھی بے دخلی سے قبل متبادل رہائش فراہم کی جائے، لیکن ان ہدایات کو یکسر نظر انداز کر کے ہزاروں افراد کو کھلے آسمان تلے چھوڑ دیا گیا۔بے دخلی کی یہ مہم صرف آسام تک محدود نہیں رہی۔ اس کا اثر شمال مشرق کی دیگر ریاستوں تک بھی پہنچ چکا ہے۔ ناگالینڈ، منی پور، اور میگھالیہ نے بھی ایسے افراد کو اپنی سرحدوں میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے خصوصی الرٹس جاری کیے ہیں، جنہیں وہ غیر قانونی تارکین وطن قرار دیتے ہیں۔ اس قسم کے اقدامات سے نسلی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے اور علاقائی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ان ریاستوں میں حالیہ بے دخلیوں اور نقل مکانی کی وجہ سے اب تک تقریبا پچاس سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بیشتر لوگ غریب، مزدور اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنی روزیروٹی کمانے کے لیے دوسرے شہروں یا ریاستوں میں ہجرت کرتے ہیں۔ ان
کے لیے پہلے ہی تعلیم، صحت، رہائش اور تحفظ جیسی بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں تھیں، اب جب ان کو جبراً ان کے گھروں سے نکالا جا رہا ہےتو ان کی زندگیاں مکمل طور پر اجڑ چکی ہیں۔انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود ان متاثرین کی باز آبادکاری کے لیے کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے۔ حکومت کی خاموشی اور عدالتی نظام کی تاخیر ان لوگوں کی زندگی کو مزید کربناک بنا رہی ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ جب ان لوگوں کے پاس قانونی دستاویزات موجود ہیں، جب وہ ملک میں پیدا ہوئے، وہیں تعلیم حاصل کی، وہیں کام کرتے ہیں، تو انہیں غیر ملکی کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟۔ ان واقعات کا ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بعض سیاسی بیانات کےذریعے معاشرے میں ایک مخصوص قسم کا خوف اور بے یقینی پیدا کی جارہی ہے۔ بعض سیاسی رہنما یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ آسام میں ہندو اگلے10 برسوں میں اقلیت بن جائیں گےکیونکہ مبینہ طور پر لاکھوں کی تعداد میں بنگلہ دیشی مسلمان آ کر بس گئے ہیں۔ یہ بیانات کسی مستند تحقیق یا ثبوت پر مبنی نہیں بلکہ محض سیاسی مقاصد کے لیے دیے جا رہے ہیں تاکہ اکثریتی طبقے میں خوف پیدا کیا جا سکے اور انہیں خاص رخ پر ووٹ
دینے کے لیے آمادہ کیا جا سکے۔ ان بیانات اور پالیسیوں کا مقصد 2026 میں ہونے والے ریاستی انتخابات سے پہلے ووٹروں کو مذہب اور نسل کی بنیاد پر تقسیم کرنا ہے۔ یہ خطرناک حکمت عملی نہ صرف فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہی ہے بلک آئینی اصولوں اور انسانی شرافت کو بھی داغدار کر رہی ہے۔ غیر مصدقہ دعوے، جیسے کہ دس لاکھ ایکڑ زمین پر غیر قانونی تارکین وطن کا قبضہ نہ صرف خوف و ہراس پیدا کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں شک و شبہ کا ایسا بیج بوتے ہیں جو دیرپا نفرت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتیں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔ ایسے تمام اقدامات جو کسی لسانییا مذہبی اقلیت کو نشانہ بناتے ہوں، انہیں فوری طور پر روکا جائے۔ عدالتوں
کو چاہیے کہ وہ ان حراستوں اور بے دخلیوں کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں۔ ان افراد کو فوری انصاف فراہم کیا جائے جنہیں بغیر کسیجرم کے، بغیر کسی مقدمے کے صرف زبان یا مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا
گیا۔
مرکزی حکومت کو بھی اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ہر ریاست آئینِ ہند کی پاسداری کرے۔ اگر ریاستی حکومتیں انسانی حقوق اور آئینی اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہیں تو مرکز کی ذمہ
داری بنتی ہے کہ وہ ان خلاف ورزیوں کا نوٹس لے، اصلاحی اقدامات کرے اور ان مظلوم شہریوں کی زندگیوں کو بحال کرے۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ قومی سطح پر ایک ایسا مکالمہ شروع ہو جو لسانی، مذہبی اور نسلی تنوع کو تسلیم کرے اور اسے قومی طاقت میں تبدیل کرے۔ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی تنوع میں ہے، اور جب اس تنوع کو جرم بنا دیا جائے تو یہ ملک کی روح کو مجروح کر دیتا ہے۔ بنگالی زبان ہو یا اُردو، تمل ہو یا تلگو یہ سب ہماری قومی میراث کا حصہ ہیں، نہ کہ کوئی خطرہ۔ اگر آج بنگالی بولنے والے مسلمان مزدور نشانہ بن رہے ہیں تو کل کوئی اور کمیونٹی بھی اس کی زد میں آ سکتی ہے۔ آج جب ہندوستان خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے پر فخر کرتا ہے، اور اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر انسانی حقوق کی وکالت کرتاہے، تو کیا یہ اُس کی اخلاقی، آئینی اور انسانی ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ اپنے ہی شہریوں کو انصاف، شناخت اور وقار کے ساتھ جینے کا حق فراہم کرے؟ اگر ریاستیں اپنی عوام کو محض ان کی زبان، مذہب یا نسل کی بنیاد پر شک کی نگاہ سے دیکھنے لگیں،تو جمہوریت اپنے حقیقی مقصد اور روح سے دور ہوتی چلی جائے گی۔ یہ وقت ہے کہ ہندوستان بحیثیت قوم اپنے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑے اور ہر اس پالیسی و عمل کی مخالفت کرے جو انسانی حقوق، آئینی اصولوں اور سماجی انصاف کے منافی ہو۔ ہمیں بطور شہری اس سچائی کو تسلیم کرنا ہوگا کہ بنگالی زبان بولنا کوئی جرم نہیں بلکہ ایک عظیم ثقافتی ورثہ ہے۔ کسی انسان کی زبان، اس کی شہریت یا حب الوطنی کا معیار نہیں ہو سکتی۔ زبان دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ ہے، دیواریں کھڑی کرنے کا ہتھیارنہیں۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
