پاکستان
‘زی فائیو’ پر پابندی: ‘صرف وہی دیکھیں جس کی ریاست اجازت دے’
اسلام آباد —
آن لائن پلیٹ فارمز کے حوالے سے جب بھی کوئی نئی سرکاری پالیسی سامنے آتی ہے تو عمومی طور پر اس کا چرچہ بہت دیر تک سوشل میڈیا پر ہوتا ہے۔
اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہوا جب رواں ماہ نو نومبر کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک نوٹی فکیشن جاری کیا۔ جس میں کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں کسی قسم کے بھارتی مواد کی سبسکرپشن اور اس کے لیے رقم کی منتقلی پر پابندی عائد کر دی گئی۔
اسی نوٹی فکیشن میں خاص طور ایک پلیٹ فارم کا نام لے کر تذکرہ کیا گیا ہے وہ ہے ‘زی فائیو۔’
‘وڈیو آن ڈیمانڈ’ کے پلیٹ فارم ‘زی فائیو’ جو کہ بھارت کے ‘زی میڈیا گروپ’ کا حصہ ہے۔ پہلے سے ہی سوشل میڈیا میں بحث کا موضوع بنا ہوا تھا۔ اس کی وجہ اس پر پیش کیا جانے والا ایک پاکستانی سیریل ‘چڑیلز’ ہے۔ اس پر پاکستانی روایات کے برعکس بولڈ تھیمز پیش کرنے کا الزام کچھ صارفین کی جانب سے بہت سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لگایا جا رہا تھا۔ لیکن اس پر کسی قسم کی کوئی حکومتی پابندی عائد نہیں کی گئی تھی۔
ڈرامہ چڑیلز میں لیڈ رول نبھانے والوں میں پاکستانی اداکارہ نمرہ بچہ بھی ہیں جو ڈرامے پر تنقید کے جواب میں سوشل میڈیا پر متحرک دکھای دیتی رہیں۔
‘زی فائیو’ پر سرکاری پابندی کا چڑیلز اور دیگر پیش کیے جانے والے ڈراموں پر کیا اثر پڑے گا؟ اس سوال پر نمرہ بچہ کا کہنا تھا کہ وہ دیگر اداکاروں کی طرح اس فیصلے سے بہت مایوس ہوئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی پلیٹ فارم کو آج کے زمانے میں بند نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول لوگ انہیں دیکھنے کے لیے چور دروازے جیسے کے وی پی این، وغیرہ کا استعمال کر لیتے ہیں۔ ان کے بقول لیکن اس سے انڈسٹری کو نقصان ہوتا ہے۔
بات صرف ڈرامے کے اداکاروں تک محدود نہیں پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری سے جڑے دیگر افراد بھی اس فیصلے سے خائف نظر آرے ہیں۔
کہانی نویس ساجی گل کا کہنا ہے کہ اب کسی بھی آن لائن پلیٹ فارم کو کسی ایک ملک سے منسوب کر دینے کا وقت گزر چکا ہے۔ ان کا اپنا ڈرامہ سیریل ‘من جوگی’ ان ڈراموں میں سے ایک تھا جسے زی فائیو نے پیش کرنا تھا۔ پیش کیے جانے والے باقی ڈراموں میں باغی، میرے قاتل میرے دلدار، رنگ ریزہ، شہر ذات اور دیارِ دل شامل ہیں۔
ان کے مطابق ملک میں لکھنے والوں کے لیے ماحول غیر موافق ہوتا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ ریگولیٹری باڈیز کا بڑھتا عمل دخل ہے۔ ساجی کہتے ہیں کہ آئے دن لگنے والی پابندیوں اور وضح کردہ نت نئے قوانین نے سب کو صرف ساس بہو کے جھگڑے پیش کرنے تک محدود کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کروڑوں افراد دنیا بھر مین بلا تفریق قومیت اردو زبان سمجھتے ہیں۔ اس لیے تخلیقی کام کرنے والوں پر یہ پابندیاں لگانا ان کا ٹیلنٹ ضائع کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے زی فائیو پر پیش کیے جانے والے ڈراموں کے غیر روایتی موضوعات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بھی ایسے پلیٹ فارمز ہونے چاہیے جہاں آن ڈیمانڈ معیاری مواد دستیاب ہو۔ لیکن اس کے موضوعات کو محدود نہیں کرنا چاہیے۔
جہاں ڈرامے پروڈیوس کرنا اور ان میں اداکاری انڈسڑی کا ایک پہلو ہے، وہیں اس کا دوسرا پہلو سامعین یا پاکستانی شہریوں کے ڈیجیٹل رائٹس سے بھی جڑا ہوا ہے۔
نمرہ بچہ نے اس پابندی کے سامعین پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے کہا کہ ایسی پابندی صرف متفرق آرا اور حالات کی حقیقی تصویر کشی سے سامعین کو محروم کرنے کی ایک ترکیب ہے۔
ڈیجیٹل حقوق ایسی پابندیوں سے کیسے متاثر ہوتے ہیں اس بارے میں ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ‘بولو بھی’ کی بانی فریحہ عزیز نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ شہری کیا دیکھ سکتے ہیں کیا نہیں دیکھ سکتے، اس پر پابندی ‘مورال پولیسنگ’ میں آتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ کیا مناسب اور نا مناسب مواد کی تعریف کے حوالے سے حکومت نے کوئی ایسے قوائد وضح کیے ہیں جو سب کے لیے قابل قبول ہوں؟
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایسی پابندیوں سے سوشل میڈیا اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے افراد میں سیلف سنسر شپ کا عنصر بڑھے گا جو ایک تشویش ناک بات ہے۔
THRILLED to share the first of my poster artworks for the groundbreaking, Pakistani series 🔥CHURAILS🔥 @wearechurails Written&Directed by @IllicitusProduc #Churails premiers 11AUG on @ZEE5Premium with @sarwatgilani @yasrarizvi @meharbano10 Nimra Bucha💥 PREPARE TO BE BLOWN AWAY! pic.twitter.com/xMyOzHx2dV
— samya (@samyarif) July 27, 2020
لیکن کیا کسی متنازع میڈیا گروپ کے ساتھ کام کرنے کے بجائے دیگر مغربی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے بہتر آپشن نہیں؟ اس سوال کے جواب میں ساجی گل کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اپنا پورٹل ہو تو اسے بھی اپنی جگہ بنانے میں کئی سال لگیں گے۔
ان کے بقول دوسری طرف “نیٹ فلکس اور ‘ایمزون’ ہمارے ساتھ کام کرنے کے لیے بہت زیادہ دلچسپی نہیں لیتے۔ ان کے مطابق وہاں صرف پاکستان کے ڈراموں کے نشر مکرر چلائے جاتے ہیں جب کہ بھارت ایک بڑی منڈی ہونے کی وجہ سے ان کے لیے بہت اہم ہے۔ یہ پلیٹ فارم بھارت میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں لیکن پاکستانی ڈراموں کو ابھی وہاں تک رسائی ہی نہیں۔
نمرہ بچہ کا کہنا ہے کہ پاکسانی ڈراموں کو ‘زی فائیو’ کے ذریعے ایک بین االاقوامی پلیٹ فامر مل رہا تھا جس سے انڈسٹری کو محروم کر دیا گیا، وہیں ساجی گل سمجھتے ہیں کہ ڈراموں کو معیاری پروڈکشن آلات اور کیمرے با آسانی دستیاب تھے۔ جو فی الوقت پاکستان میں ملنا ناممکن ہیں۔
بین الااقوامی ڈراموں تک محدود رسائی کے بارے میں فریحہ عزیز کا کہنا ہے کہ یہ عجیب قسم کی ایک زبردستی ہے جہاں دیکھنے والے کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ صرف وہی کچھ دیکھیں جو ریاست انہیں دیکھنے کی اجازت دیتی ہے۔
انہوں نے ترکی کے ڈرامہ ‘ارطغرل’ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک کو شاید 80 کی دہائی میں لے جانا چاہتی ہے جب صرف پی ٹی وی تھا اور دیکھنے والوں کے پاس انتخاب کی گنجائش ہی نہیں تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ انڈسڑی ہو یا عام شہری انہیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ان کے کچھ حقوق ہیں جن کے لیے انہیں آواز اٹھانی چاہیے۔
ڈرامہ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے اس بات سے پریشان نظر آتے ہیں کہ سنسر شپ کا دائرہ کار غیر محسوس طریقے سے بڑھایا جا رہا ہے۔ جو معاشرے میں مثبت بحث مباحثے کے کلچر کی حوصلہ شکنی کر رہا ہے۔ جب کہ ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اسے عام زندگی کی شہری میں بلا جواز دخل اندازی قرار دے رہی ہیں۔
پاکستان
تحریک انصاف تحریک ختم کرکے مذاکرات کے لیے آگے آئے، شہباز شریف
اسلام آباد، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایجی ٹیشن اور لانگ مارچ کی سیاست ترک کر کے مذاکرات کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل احتجاج ملک کی اقتصادی ترقی اور بین الاقوامی امیج کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ٹریفک کو کم کرنے کے لیے بنائے جانے والے کشمیر چوک انڈر پاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جناب شریف نے کہا، “میں اب بھی ان سے کہتا ہوں کہ ہوش میں آجائیں، اپنے لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو ہم ضرور آپ کے ساتھ بیٹھیں گے اور بات کریں گے تاکہ پاکستان آگے بڑھ سکے، یہ آپسی محنت اورپاکستانی قوم کی آواز ہے ۔”
تقریب میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین سہیل اشرف سمیت متعدد ارکان پارلیمنٹ اور دیگر معززین نے شرکت کی۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت کی مخلصانہ کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی نے ایک بار پھر دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے تھے لیکن حتمی مسودہ تیار ہونے کے بعد تحریک انصاف کے آخری لمحات میں تبدیلی کے مطالبات کی وجہ سے یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا براہ راست معیشت پر اثر پڑے گا، برآمدات، مینوفیکچرنگ اور درآمدات متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کارکن یا انجینئر وقت پر فیکٹری یا دفتر نہ پہنچ سکے تو پورے ملک کو نقصان پہنچے گا۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت نے میکرو اکنامک استحکام کو بحال کیا ہے اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے معاشی ترقی کی جانب کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات، ترسیلات زر اور صنعتی پیداوار میں اضافہ جیسے اشارے مثبت ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان کامیابیوں کو نقصان پہنچانا ریاست کے مفادات کے خلاف ہوگا۔
انہوں نے کہا، “ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، اور ہم اسے ہر ممکن طریقے سے یقینی بنائیں گے۔”
مسٹر شریف نے کشمیر چوک پروجیکٹ کو ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کرنے پر مسٹر نقوی اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔ منصوبے کی لاگت 1.6 بلین پاکستانی روپے تھی، جبکہ ٹھیکہ 1.4 بلین روپے میں دیا گیا تھا۔ چار سلپ روڈ بنائے جائیں گے۔ اس چوراہے پر فی الحال تقریباً 107,000 گاڑیاں چلتی ہیں اور خاص طور پر وی آئی پی کی نقل و حرکت کے دوران یہ ٹریفک جام کا شکار ہوتا ہے۔
یو این آئی۔ الف الف ۔ م الف
پاکستان
عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
پشاور، جیل میں قید پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ہزاروں حامیوں نے ان کی رہائی اور آئینی و سیاسی حقوق میں اضافے کے مطالبے پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
لانگ مارچ اتوار کو پی ٹی آئی کے زیر اقتدار صوبہ خیبر پختونخوا سے شروع ہوا۔ شرکا اسلام آباد پہنچنے سے قبل راستے میں کئی مقامات پر قیام کریں گے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی جلوس کی قیادت کر رہے ہیں اور انہوں نے نوجوانوں سے اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکام مارچ کو دارالحکومت میں امن و امان کی صورت حال متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ شہر کے اطراف ہزاروں پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
اہم شاہراہوں اور سرکاری علاقے کے اطراف رکاوٹوں کے طور پر مال بردار کنٹینر بھی رکھے گئے ہیں۔ اس علاقے میں پارلیمنٹ، وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔
تازہ کشیدگی ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب ہفتے کے اختتام پر پی ٹی آئی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔ یہ مارچ، جو پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے مطالبات پر مذاکرات کی پیشکش کے بعد ملتوی کر دیا گیا تھا۔
عمران خان اور پاکستان کی سیاسی قیادت کے درمیان سیاسی تنازع 2022 میں پارلیمنٹ کے ذریعے ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جاری ہے۔ خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام فوج پر عائد کیا تھا، جس کی فوج نے تردید کی ہے۔
مئی 2023 میں ان کی گرفتاری کے بعد پرتشدد احتجاج کے نتیجے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جس کے بعد کریک ڈاؤن میں پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور بعض کو بعد میں فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں۔
سابق بین الاقوامی کرکٹ اسٹار اور ملک کی اہم سیاسی شخصیت عمران خان خود کو ’’سیاسی قیدی‘‘ قرار دیتے رہے ہیں۔
فوج اور سویلین حکومت اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کا حوالہ دیتی ہیں۔ عمران خان کو کئی مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہے، تاہم ان میں سے ایک کے سوا باقی تمام سزائیں بعد میں معطل یا کالعدم قرار دی جا چکی ہیں اور ان کے خلاف اپیلیں زیر سماعت ہیں۔
حکومت نے پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرحد سے متصل صوبے میں بڑھتے ہوئے عسکریت پسندانہ حملوں سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کی جانب سے وضع کردہ حکمت عملی میں تعاون کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے مذاکرات کے خاتمے کے حوالے سے اسلام آباد کی وضاحت مسترد کر دی ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صوبائی حکومت وفاقی انسداد دہشت گردی پالیسی پر عمل نہیں کرتی تو اس کے خلاف آئینی اور قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
