جموں و کشمیر
سالانہ امر ناتھ یاترا :سیکورٹی کے فقید المثال انتظامات کے بیچ اضافی کمپنیوں کی تعیناتی
سری نگر، سالانہ امر ناتھ یاترا کو خوش اسلوبی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچانے کی خاطر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ یاترا کے احسن انعقاد کے لئے ‘امسال یاترا کے لئے جموں صوبہ میں سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں، لکھن پور سے جواہر ٹنل تک جو 268 کلو میٹر قومی شاہراہ پانچ اضلاع کٹھوعہ، سانبہ، جموں، اودھم پور اور رام بن سے گزرتی ہے، کو مختلف زونوں اور سیکٹروں میں تقسیم کیا گیا ہے اور زونل سطح پر ایک افسر کو لگایا گیا ہے’۔انہوں نے کہا کہ یاترا کو سب سے زیادہ دراندازی کا خطرہ رہتا ہے جس کے لئے سیکورٹی گرڈ کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا: ‘سالانہ امرناتھ یاترا کو سب سے بڑا خطرہ یہ رہتا ہے کہ کہیں دراندازی نہ ہوجائے اور اس کے بعد کہیں کوئی واردات پیش نہ آجائے اس لئے سیکورٹی گرڈ کو مزید مستحکم کیا گیا ہے’۔
ذرائع نے کہا کہ یاترا کو فول پروف سیکورٹی فراہم کرنے کے لئے بارڈر پولیس فورس کے ساتھ ساتھ بی ایس ایف کی اضافی کمپنیوں کو تعینات کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سرحد کی طرف سے قومی شاہراہ کی طرف آنے والی تمام سڑکوں پر چیک پوسٹ قائم کئے گئے ہیں، کئی جگہ گاڑیوں کی چیکنگ کے لئے ناکے لگائے گئے ہیں اور جو قومی شاہراہ کے چیک پوسٹس ہیں انہیں مزید مستحکم کیا گیا ہے وہاں سینٹرل پیرا ملٹری فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ امسال لنگروں میں خصوصی لائٹس اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا: ‘امسال تمام لنگروں نے سی سی ٹی وی کیمرے لگائے ہیں اور لائٹس بھی نصب کی ہیں، اور وہاں مستقل طور پر سیکورٹی فورسز تعینات رہیں گے’۔
بتادیں کہ29 جون سے جموں سے شروع ہونے والی سالانہ امرناتھ یاترا کے دوران اب کی بار سی آر پی ایف یاترا گاڑیوں کی آر ایف آئی ڈی ٹیگنگ کرے گی۔ اس کے علاوہ سبھی یاتریوں کو بار کوڈ کے ذریعے رجسٹر کیا جائے گا۔سالانہ امر ناتھ جی یاترا کے سلسلے میں پولیس، فوج اور سراغ رساں ایجنسیوں سے وابستہ آفیسران نے سیکورٹی انتظامات کا ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران جائزہ لیا۔
ذرائع نے بتایا کہ سری نگر اور جموں میں پولیس ، فوج ، سی آر پی ایف اور سراغ رساں ایجنسیوں کے سینئر آفیسران نے سالانہ امر ناتھ یاترا کے سلسلے میں اٹھائے جارہے اقدامات کا بھر پور جائزہ لیا۔
میٹنگ کے دوران آفیسران نے پولیس، سیکورٹی فورسز اور دیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں سے وابستہ افسران و اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ یاترا کے دوران باہمی تال میل کو بنائے رکھیں۔
سالانہ امر ناتھ جی یاترا کو خوش اسلوبی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچانے اور یاتریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی خاطر تمام تر وسائل کوبروئے کار لانے کی بھی تلقین کی گئی۔انہوں نے کہاکہ پولیس ، پیرا ملٹری فورسز ، بی ایس ایف کے ساتھ ساتھ فوج کو بھی تعینات کیا جارہا ہے تاکہ یاترا کو خوش اسلوبی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے۔
دریں اثنا سری نگر میں یاترا روٹوں خاص کر جو شہر کے مضافاتی جن میں حبک ، زکورہ، گلاب، پاندچھ شامل ہیں وہاں پر جگہ جگہ عارضی بینکرز بنائے گئے ہیں۔ نامہ نگار نے بتایا کہ ان علاقوں میں اضافی کمپنیوں کو تعینات کیا گیا ہے جو چوبیس گھنٹے اپنے فرائض خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جعلی کرنسی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا، تین افراد گرفتار
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے چوواڑی علاقے میں جعلی نوٹ چھاپنے کے الزام میں تین افراد کو گرفتار کرکے جعلی کرنسی کے ایک ریکیٹ کا پردہ فاش کیا ہے۔
پولیس ذرائع نے منگل کو بتایا کہ شہر میں جعلی کرنسی کے نوٹ چھاپنے میں ملوث ایک گروہ کا پردہ فاش کرتے ہوئے پولیس نے پیر کو دیر رات چوواڑی علاقے میں کارروائی کرکے تین ملزمان کو گرفتار کیا۔
انہوں نے بتایاکہ ’’ملزمان مبینہ طور پر ایک کرائے کے کمرے سے جعلی کرنسی کے نوٹ چھاپنے کا کام کر رہے تھے۔ چھاپے کے دوران 13,500 روپے مالیت کے جعلی نوٹ، اسکیننگ مشین، پرنٹر، کمپیوٹر اور دیگر سامان ضبط کیا گیا۔‘‘
ذرائع نے مزید بتایا کہ گرفتار کیے گئے تمام ملزمان سے یہ معلوم کرنے کے لیے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے کہ انہوں نے کتنے جعلی نوٹ بازار میں چلائے ہیں۔
گرفتار ملزمان کی شناخت بہار کے رہنے والے وجے ساہنی، مدھیہ پردیش کے رہنے والے راہل اہروار اور جھارکھنڈ کے رہنے والے اندرپال کمار کے طور پر ہوئی ہے۔
ذرائع نے بتایاکہ ’’ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران گرفتار افراد نے پولیس کو بتایا کہ وہ چند روز قبل اس علاقے میں آئے تھے اور ایک کمرہ کرائے پر لیا تھا۔‘‘
پولیس کے مطابق ملزمان سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی کو پاکستان کے ایجنڈے کا پلیٹ فارم نہیں بننے دیں گے: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی کی جانب سے ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے سے متعلق قرارداد منظور کیے جانے کے چند گھنٹے بعد اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے پیر کو کہا کہ بی جے پی اسمبلی کو ان کے بقول پاکستان کے ایجنڈے کے لیے پلیٹ فارم نہیں بننے دے گی۔
سینئر بی جے پی لیڈر نے کہا کہ پارٹی جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کی حمایت کرتی ہے، لیکن اسمبلی سے منظور قرارداد میں دفعہ 370، دفعہ 35 اے اور 1953 سے قبل کی آئینی پوزیشن کے حوالوں کی سخت مخالفت کرتی ہے۔
جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو بی جے پی ارکان کے احتجاج کے درمیان ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے قرارداد منظور کی۔
ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد منظور ہونے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شرما نے کہا کہ اگر قرارداد صرف ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے تک محدود رہتی تو بی جے پی اس کا خیرمقدم کرتی۔
انہوں نے کہاکہ ’’بی جے پی محض مخالفت برائے مخالفت نہیں کرتی۔ ہم ریاستی حیثیت کی بحالی کے حق میں ہیں۔ اگر قرارداد صرف ریاستی حیثیت کے نام پر پیش کی جاتی تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے۔‘‘
شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک حساس خطہ ہے اور اپوزیشن کے لیے حکومت کی ہر تجویز کی مخالفت کرنا ضروری نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’اس ایوان سے غریب عوام کو بہت سی توقعات ہیں۔ اسمبلی کا یہ پانچواں دن ہے اور کئی ایسے مسائل ہیں جن پر اتفاق رائے ہونا چاہیے۔ یہ ضروری نہیں کہ اپوزیشن ہر معاملے کی مخالفت کرے۔‘‘
تاہم، انہوں نے نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر ان کے بقول ایسے مسائل دوبارہ اٹھانے کی کوشش کا
الزام لگایا جو پہلے ہی طے ہوچکے ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
اچن میں 361 کروڑ روپے کا سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پروجیکٹ ٹینڈر کے مرحلے میں
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے پیر کو قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ سری نگر کے اچن میں مجوزہ 800 ٹن یومیہ (ٹی پی ڈی) مربوط سالڈ ویسٹ مینجمنٹ (آئی ایس ڈبلیو ایم) پروجیکٹ، جس کی تخمینی لاگت 361 کروڑ روپے ہے، فی الحال ٹینڈر کے مرحلے میں ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ کا قلمدان بھی سنبھالتے ہیں، نے جاری خزاں اجلاس کے دوران وقفۂ سوالات میں رکن اسمبلی مبارک گل کے سوال کے جواب میں یہ اطلاع دی۔
وزیر اعلیٰ نے ایوان کو بتایا کہ ابھی تک کسی ایجنسی یا ٹھیکیدار کو یہ پروجیکٹ الاٹ نہیں کیا گیا ہے، کیونکہ یہ فی الحال ٹینڈر کے عمل سے گزر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مجوزہ پروجیکٹ میں روزانہ 800 ٹن کچرے کو پروسیس کرنے کی صلاحیت ہوگی اور اس کی مدت 25 سال مقرر کی گئی ہے، جس میں تعمیراتی کام کے لیے 24 ماہ شامل ہیں۔
مجوزہ مربوط پروجیکٹ میں کمپوسٹنگ سہولیات، بایو-سی بی جی پلانٹ، میٹریل ریکوری فیسیلٹیز (ایم آر ایف)، ریفیوز ڈیریوڈ فیول (آر ڈی ایف) سہولت، سائنسی سینیٹری لینڈ فل، ٹرانسفر اسٹیشنز، لیچیٹ مینجمنٹ انفراسٹرکچر اور دیگر ماحولیاتی بنیادی سہولیات شامل ہوں گی۔
دریں اثنا، ایوان کو بتایا گیا کہ نئے مربوط پروجیکٹ کے شروع ہونے تک سری نگر میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) کی جانب سے اچن میں میونسپل کچرے کے سائنسی انتظام، ماحولیات کے تحفظ اور پرانے جمع شدہ کچرے کی صفائی کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یواین آئی۔ طا۔
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا7 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا7 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان7 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر7 days agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
