ہندوستان
سال 2025 میں مغربی ایشیا اور افریقہ کے حوالے سے ہندوستان کی طویل المدتی اسٹریٹجک حکمتِ عملی
خصوصی مضمون: محمد عابد
نئی دہلی، ایسے خطے میں جہاں سیاسی اتحاد دیرپا نہیں رہتے، ہندوستان بتدریج اپنی طویل مدتی اسٹریٹجک شراکت داری کو معاشی ترقی، تکنیکی اختراعات اور سیاسی توازن کے ذریعے مضبوط کر رہا ہے وزیر اعظم نریندر مودی کا تازہ ترین دورہ مغربی ایشیا اور افریقہ نہ معمول کی سفارتکاری تھی اور نہ ہی سرخیوں میں نمایاں ہونے کی کوشش۔ بلکہ یہ ہندوستان کی علاقائی پوزیشن میں ایک محتاط، سلامتی پر مبنی ازسرِ نو ترتیب کی عکاسی کرتا ہے، جو قلیل مدتی نمایاں سرگرمیوں کے بجائے استحکام، لچک اور پائیدار اسٹریٹجک پوزیشننگ کو ترجیح دیتا ہے۔
اگر اس دورے کو وزیر خارجہ ایس۔ جے شنکر کے اسرائیل کے دورے کے پس منظر میں دیکھا جائے تو وزیر اعظم مودی کا دورہ ایک واضح اور مربوط اسٹریٹجک حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ نئی دہلی اب مغربی ایشیا کو صرف الگ تھلگ دوطرفہ تعلقات کے طور پر نہیں دیکھتا، جو وقتی سفارتی مواقع پر مبنی ہوں۔ بلکہ ہندوستان اس خطے کو ایک مربوط اسٹریٹجک نظام کے طور پر دیکھتا ہے، جہاں سیاسی اعتدال، معاشی استحکام اور سکیورٹی تعاون ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں۔ یہ نقطۂ نظر ہندوستان کی علاقائی مصروفیت میں ایک نمایاں ارتقا کی نشاندہی کرتا ہے، جو خارجہ پالیسی کے اہداف کو طویل مدتی قومی سلامتی اور معاشی مفادات کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے۔
اس ازسرِ نو ترتیب دی گئی حکمت عملی کے مرکز میں انڈیا–مڈل ایسٹ اکنامک کوریڈور (ائی ایم ای سی) شامل ہے، جسے ایک تبدیلی لانے والا رابطہ کاری فریم ورک کے طور پر تصور کیا گیا ہے جو ہندوستان کو مشرق وسطیٰ کے ذریعے یورپ سے جوڑتا ہے۔ صرف تجارتی سہولت کاری سے آگے بڑھ کر، ائی ایم ای سی ہندوستان کی اس خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ابھرتی ہوئی علاقائی سپلائی چینز اور لاجسٹک نیٹ ورکس میں مستحکم مقام حاصل کرسکے۔ ماہرین اسٹریٹجک کے مطابق وزیر اعظم مودی کا یہ دورہ ایک واضح جیوپولیٹیکل پیغام بھی تھا، خاص طور پر ترکی کی جانب، جس کے ہندوستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں، کیونکہ انقرہ نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی کھلی حمایت کی اور بعد میں اسلام آباد کے ساتھ اپنے دفاعی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کیا۔ اس پس منظر میں، ہندوستان کی عمان، اردن اور ایتھوپیا کے ساتھ مصروفیت کو وسیع پیمانے پر ایک اسٹریٹجک مثلث تشکیل دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو عربی جزیرہ نما کے مشرقی کنارے سے شروع ہو کر مغربی ایشیا کے قلب سے گزرتی ہے اور ہارن آف افریقہ تک مستحکم بنیاد رکھتی ہے۔
وزیر اعظم مودی کے اردن، ایتھوپیا اور عمان کے دورے ہندوستان کے مربوط اسٹریٹجک وژن کی عکاسی کرتے ہیں، جو مشرق وسطیٰ، افریقہ اور بحرِ ہند کو جوڑتا ہے۔ نئی دہلی ان علاقوں کے بڑھتے ہوئے جیوپولیٹیکل انٹرکنکشن کے مطابق اپنی پالیسی مرتب کر رہا ہے، خاص طور پر اس وقت جب عالمی تجارتی راہدریوں اور گلوبل سپلائی چینس میں خلل پیدا ہو رہا ہے۔ یہ دورہ غزہ جنگ کے بعد بڑھتے ہوئے علاقائی عدم استحکام کے دوران ہوا، کیونکہ یمن اور سوڈان میں جاری تنازعات بحر احمر اور اس کے گردونواح کے بحری راستوں کو غیر مستحکم کر رہے ہیں، جو ہندوستان کی تجارت، توانائی کی درآمدات اور بیرونِ ملک مقیم شہریوں کے مفادات کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ وزیر خارجہ ایس۔ جے شنکر نے مشرق وسطیٰ کو ایک “اہم گزرگاہ” قرار دیا ہے جو افریقہ، یورپ، بحرہ روم اور انڈو-
پیسیفک کو جوڑتی ہے۔ یہ نقطۂ نظر ہندوستان کے اس تصور کو اجاگر کرتا ہے کہ یہ خطہ محض ایک مسابقتی میدان نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک کنیکٹر کے طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ مودی کے دورے میں شامل ہر ملک ایک کلیدی جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔ اردن مغربی ایشیا کے اہم علاقے میں واقع ہے، ایتھوپیا ہارن آف افریقہ میں غالب ہے اور افریقی یونین کی میزبانی کرتا ہے اور عمان آبنائے ہرمز اور مغربی بحرِ ہند سے متصل ہے، جو دنیا کے سب سے اہم توانائی نکات میں سے ایک ہے۔
ہندوستان اردن کو خطے میں اعتدال اور استحکام کے ایک اہم ستون کے طور پر دیکھتا ہے، جو عمومی طور پر سیاسی پولرائزیشن سے دوچار ہے۔ اردن کی انتہا پسندی کی نفی اور متوازن سفارت کاری ہندوستان کو مغربی ایشیا میں بغیر کسی الجھن کے تعلقات قائم رکھنے کے قابل بناتی ہے۔
ایتھوپیا ہندوستان کے لیے افریقہ کا دروازہ ہے اور گلوبل ساؤتھ میں اس کی اہمیت مرکزی ہے۔ ہر سال تقریباً دو سو ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ہندوستانی تجارت ریڈ سی کے راستے گزرتی ہے، جس کی وجہ سے خطے میں عدم استحکام جیسے سمندری قزاقی، انسانی اسمگلنگ اور تجارتی بحری جہازوں پر حملے براہِ راست نئی دہلی کے لیے تشویش کا باعث بنتے ہیں۔ ایتھوپیا کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے اس شراکت داری کی اسٹریٹجک منطق پر زور دیا اور کہا کہ ایتھوپیا افریقہ کے اہم علاقے میں واقع ہے جبکہ ہندوستان بحرِ ہند کے قلب میں ہے، اس طرح یہ دونوں خطے میں امن، سلامتی اور رابطے کے شراکت دار ہیں۔
دورے کے دوران پر ہندوستان اور ایتھوپیا نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرتے ہوئے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی بنیاد رکھی۔ افریقی یونین کی میزبانی کی وجہ سے ادیس ابابا ہندوستان کی افریقہ پالیسی میں کلیدی سفارتی حیثیت رکھتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے ایسے ترقیاتی تعاون پر زور دیا جو شفاف، صلاحیت بڑھانے والا اور مقامی ملکیت پر مبنی ہو، اور یہ جان بوجھ کر اس نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے جو قرض پر مبنی ترقیاتی ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ پائیدار اور خودمختار ہے۔
دوسری طرف، عمان خلیج فارس میں ہندوستان کے سب سے زیادہ بھروسہ مند شراکت داروں میں سے ایک ہے اور ہندوستان کی توانائی اور بحری سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے۔
وزیر اعظم مودی کی عمان میں بادشاہ عبد اللہ دوم کے ساتھ بات چیت نے اس شراکت داری کو مزید مضبوط کیا۔ وزیر اعظم کے مطابق یہ دورہ ‘انتہائی نتیجہ خیز’ رہا، جس کے دوران قابلِ تجدید توانائی، پانی کے انتظام، ڈیجیٹل اصلاحات، ثقافتی روابط اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا گیا۔ دونوں فریقین نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اور غیر متزلزل موقف پر زور دیا۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور بحری تعاون مضبوط ہے، اور ہندوستانی بحریہ کو دوکم جیسے بندرگاہوں تک رسائی حاصل ہے, جو مغربی بحرِ ہند میں ہندوستان کی آپریشنل رسائی کو نمایاں طور پر بڑھاتا ہے۔ عمان ہندوستان کی لنک ویسٹ پالیسی ، مہاساگر وژن میں بھی مرکزی کردار ادا کرتا ہے اور خطے میں استحکام کے لیے ایک قابل اعتماد اینکر کے طور پر کام کرتا ہے۔
جیوپولیٹیکل امور سے آگے، اس دورے نے ایک مضبوط عسکری، معاشی پہلو کو بھی اجاگر کیا۔ جیسے جیسے ہندوستان کے عالمی مفادات بڑھ رہے ہیں اور تجارت کی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر امریکہ کے نئے ٹیرف کے دباؤ کے پیش نظر، نئی دہلی سرگرم طور پر اپنے اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو متنوع بنا رہا ہے۔ مڈل ایسٹ اور افریقہ اس تنوع کی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ واشنگٹن کے مبصرین کو مڈل ایسٹ اور مغربی بحرِ ہند میں ہندوستان کے پراعتماد اور فعال کردار کی توقع رکھنی چاہیے، جس میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جو امریکہ کی پانچویں بحری بیڑے کے آپریشنل دائرہ کار میں آتے ہیں۔
دورے کے سیاسی پیغامات بھی اتنے ہی اہمیت کے حامل تھے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے غزہ امن منصوبے کے لیے ہندوستان کی حمایت کا اظہار کیا اور ساتھ ہی اسرائیل کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل تعاون کے مشترکہ عزم کی تصدیق بھی کی۔ یہ دوہرا پیغام، یعنی تنازعات کے حل میں تعاون اور دہشت گردی کے خلاف سختی، ہندوستان کی مغربی ایشیا میں مخصوص پوزیشن کو اجاگر کرتا ہے۔
ہندوستان اس امر کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ وہ کسی مخصوص اتحاد سے وابستہ ہوئے بغیر سرگرم رہے اور کسی جانب داری کا پابند بنے بغیر اثرورسوخ برقرار رکھنے کا اہل ہے۔ یہ محتاط ابہام کسی غیر یقینی کیفیت کی علامت نہیں بلکہ ایک طویل المدتی اسٹریٹجک منصوبہ ہے۔ اس سے نئی دہلی اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط کر سکتا ہے، اور عرب ریاستوں کے ساتھ مثبت تعلقات برقرار رکھتے ہوئے گلوبل ساؤتھ میں اپنی پوزیشنبھی قائم رکھتا ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس دورے کے دوران ایران، چین یا دیگر ملکوں کا کوئی براہِ راست تذکرہ نہیں کیا گیا۔ یہ خاموشی جان بوجھ کر اختیار کی گئی تھی، جو ہندوستان کی عمل پسندی اور لچک کو ترجیح دینے والی حکمت عملی کو ظاہر کرتی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو وزیر اعظم مودی کا اردن دورہ، ایتھوپیا کے ساتھ تعلقات کی اسٹریٹجک اپ گریڈنگ اور ہندوستان–اسرائیل دفاعی تعاون میں اضافہ ایک مربوط علاقائی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ ہندوستان خطے میں اہم شراکت، نازک استحکام کو بھی مضبوط کرنا چاہتا ہے اور دفاعی تعاون کو وسیع اقتصادی اور تکنیکی ڈھانچے میں ضم کرنے کا خواہاں ہے۔
وزیر اعظم مودی کے مڈل ایسٹ میں اقدامات محض سفارتی تسلسل کی عکاسی نہیں کرتے بلکہ ہندوستان کی علاقائی سلامتی کی شراکت داریوں میں ایک خاموش مگر مؤثر ازسرِنو ترتیب کا عندیہ دیتے ہیں، یہ اقدامات اگرچہ فوجی تعیناتی کی طرح ظاہر نہیں ہوتے، مگر آنے والی دہائی کے اسٹریٹجک توازن کو زیادہ دیرپا طور پر تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جیسے جیسے ہندوستان خطے کی سلامتی، اقتصادی اور تکنیکی نظام میں اپنے انضمام کو گہرا کرتا رہے گا، ویسے ویسے اس کی اسرائیل کے ساتھ ہم آہنگی بڑھتی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی مغربی ایشیا اور افریقہ میں اس کی اہمیت بھی نمایاں ہوتی جائے گی۔
یو این آئی ۔ م ع
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
ہندوستان1 week agoبیلا کلسٹر کے 729 ووٹوں میں سے 728 کو حذف کرنا ووٹ کی چوری : راہل
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
