تازہ ترین
سال2018: سیاسی افراتفری ،35A ٹکراؤ،الیکشن بائیکاٹ، ہڑتال ، ہلاکتیں ، اسمبلی تحلیل : ایک نظر میں
خبراردو
سال 2018ریاست جمو ں وکشمیر میں سیاسی افراتفری اور انارکی سے پر ثابت ہوا جس دوران ریاست کے تینوں خطوں جموں، کشمیر اور لداخ میں سیاسی سطح پر کافی گہما گہمی رہی ۔ جہاں پی ڈی پی ، بی جے پی مخلوط حکومت کے موجود ہونے تک سبھی مذکورہ سیاسی پارٹیوں سے اپنی وفاداریاں ثابت کرنے کی کوشش کررہے تھے وہیں سال کے وسط میں حکومت گرجانے کے بعد سیاسی سطح پر ایک بھونچال آگیا جس دوران بیشتر سیاسی پارٹیوں کے لیڈران اور کارکنان نے اپنی وابستگیوں کو تبدیل کرتے ہوئے خود کو ’ابن الوقت‘ ثابت کرتے ہوئے دوسری سیاسی جماعتوں میں چھلانگیں مارنا شروع کردیا۔ریاست جموں وکشمیر نے 2018میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت کے زوال کے فوراً بعد ہی گورنر راج کا نظارہ کیا جس دورا ن یہاں زمام کار این این ووہرا کے ہاتھ میں آگئی۔ این این ووہرا نے چند مہینوں تک ریاست میں19جون سے لے کر 22اگست تک ریاست میں کام کاج سنبھالا جس کے بعد اُن کی مدت کار مکمل ہونے کے بعد مرکزنے ریاست کے لئے نئے گورنر ستیہ پال ملک کی تعینانی کے احکامات صادر کئے۔

21اگست کو صدر رام ناتھ کوند نے ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے بھاگپت اتر پردیش کے رہنے والے ستیہ پال ملک کو ریاست کے نیا گورنر تعینات کیا اور یوں انہیں ریاست کے انتظامی اُمور کو بحسن و خوبی چلانے کے لیے مامور کیا گیا۔اس دوران سال بھر عموماً اور گورنر راج کے دوران بالخصوص جنگجو مخالف کارروائیوں کے دوران جہاں جنگجوؤں کی بڑی تعداد کو ہلاک کیا گیا اُدھر عام شہریوں کی ایک اچھی خاصی تعداد بھی اس کی زد میں آگئی جس کے نتیجے میں وادی میں تناؤ اور کشیدگی کے ماحول نے نیا رخ اختیار کیا تاہم سرکاری ذرائع نے سال بھر کے دوران جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران مارے گئے جنگجوؤں کی تعداد کو اطمینان کا اظہار کیا اور گورنر راج کے دوران ریاست میں حالات کو ماضی کے بہ نسبت بہتر قرار دیا۔سال کے اوائل سے ہی سیاسی سطح پر افرا تفری کا ماحول بپا رہا جس دوران سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے مارچ 2019میں وزیر مالیات ڈاکٹر حسیب درابو کو کابینہ سے برطرف کردیا۔اسی طرح اپریل کے آخر پر سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ریاستی کابینہ میں بڑے پیمانے پر روبدل کرتے ہوئے مخلوط حکومت میں شامل اکائیوں سے وبستہ نئے چہروں کو متعارف کرایا جن میں اسمبلی کے سابق اسپیکر کوندر گپتا شامل ہے جنہیں کابینی ردوبدل کے بعد ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ کے بطور حلف دلایا گیا۔اسی اثنا میں جب کہ ابھی پی ڈی پی نے اُڑان بھرنے کی نیت ہی کی تھی ، کی شراکت دار بی جے پی نے اچانک پی ڈی پی کے پیروں سے زمین کھسکائی اور اس طرح پارٹی نے مخلوط حکومت سے اپنی حمات واپس لیتے ہوئے ریاست میں سیاسی سطح پر غیر یقینی صورتحال پید اکرکے یہاں گورنر راج کے لیے راہ ہموار کردی۔اس دوران گورنر این این ووہرا جو کہ ایک ہفتے بعد ہی اپنی مدت کار مکمل کرنے جارہے تھے، نے وادی ریاست میں گورنر راج کو نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا تاہم اس دوران انہوں نے ریاستی اسمبلی کو تحلیل نہیں کیا کیوں کہ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اسمبلی کو تحلیل کرنے کے حوالے سے گورنر کو اپنی سفارشات پیش نہیں کی تھی تاہم 6مہینے کا عرصہ گزرجانے کے بعد ریاست میں صدر راج کی راہ بھی ہموار ہوگئی جس کا فیصلہ بالآخر 19دسمبر کی دیر شام گئے جاری کردیا گیا۔صدر رام ناتھ کووند نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کی سفارشات پر تبادلہ خیال کرنے کے بعد ہی ریاست میں صدر راج سے متعلق حکم نامے پر دستخط ثبت کردئے۔اسی طرح سال 2018میں ایسے واقعات بھی رونما ہوئے جنہوں نے انسانیت کا سر شرم سے نیچا کردیا جس کے نتیجے میں ریاست اور بیرون ریاست انسان دوست لوگوں کے کلیجے منہ کو آگئے۔
10جنوری 2018کو کٹھوعہ کے رسانہ علاقے میں گجر طبقے سے وابستہ 8سالہ بچی اچانک لاپتہ ہوئی جس کے بعد گھر والوں نے اُن کو تلاش کرنے کے لیے کافی کوششیں کی تاہم وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔ واقعے نے اُس وقت سنگین رخ اختیار کیا جب 8سالہ بچی کی نعش نزدیکی جنگلات سے برآمد کی گئی۔پولیس نے واقعے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے لاش کا جونہی پوسٹ مارٹم کیا تو اس دوران یہ انکشاف ہوا کہ 8سالہ معصوم بچی کے ساتھ زنا بالجبر کیا گیا ہے۔ابتدائی طور پر پولیس نے واقعے کی تحقیقات کی جبکہ بعد میں واقعے کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے اور لوگوں کے مطالبے پر ریاستی حکومت نے کیس کی تحقیقات کے لیے سی بی آئی کو مقرر کیا۔ سی بی آئی نے جونہی کیس کی گہرائی سے چھان بین کی تو اس دوران انسانیت کو شرمسار کردینے والے انکشاف سامنے آگئے۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ متاثرہ بچی کو پہلے نشیلی ادویات دی گئی تھی جس کے بعد اُس کے ساتھ اجتماعی عصمت ریزی کی گئی تھی۔ اس طرح کے انکشاف سامنے آنے کے بعد وادی سمیت بیرون ریاست میں عوام نے کڑا احتجاج کرتے ہوئے واقعے میں ملوث افراد کو پھانسی پرلٹکانے کا مطالبہ کیا۔اس کے برعکس بی جے پی حکومت میں شامل 2وزرا چودھری لعل سنگھ اور سی پی گگن نے جموں صوبے میں عوامی ریلیاں نکالتے ہوئے ملزمین کے حق میں عوامی حمایت بٹورنے کی کوشش کی اور واقعے کی کرائم برانچ آف انڈیا کی طرف سے تحقیقات کرانے کی مانگ کی۔اس دروان مخلوط اتحاد میں شامل پی ڈی پی نے کٹھوعہ واقعے پر اپنے مؤقف کو سخت کرتے ہوئے عوامی مطالبے کے شانہ بشانہ چلنے کا عہد کیا جس کو محسو س کرتے ہوئے بی جے پی نے چند دن بعد ہی کابینہ میں سے چودھری لعل سنگھ اور سی پی گگن کو مستعفی ہونے پر مجبور کردیا تاہم چودھری لعل سنگن نے اس کے بعد بھی جموں صوبے میں عوامی ریلیوں کو منعقد کیا اور کٹھوعہ واقعے میں ملوث افراد کے حق میں مہم شروع کردی۔ادھرسال کے اوائل میں جموں کے سدراہ علاقے میں رہائش پذیر گجر بستیوں کو تہس نہس کیا گیا ۔

اس حوالے سے جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور جموں میونسپل کارپوریشن نے مشترکہ طور پر جموں کے مضافات میں رہائش پذیر گوجروں کے کوٹھوں کو تہس نہس کرتے ہوئے انہیں زبردستی وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا۔اس طرح کے اقدام پر جموں کی مسلم آبادی نے حکومت اورجموں انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ فرقہ پرستوں کی ایما پر اس طرح کی کارروائی کررہی ہے تاکہ جموں سے مسلمانوں کا انخلا عمل میں لایا جائے۔ادھر سال 2018کے دوران ریاست جمو ں وکشمیر کو خصوصی شناخت فراہم کرنے والی دفعہ 35Aاور 370پر بھی کافی گرما گرم بحث و مباحثہ جاری رہا جس کے نتیجے میں ریاست بالخصوص وادی میں غیر یقینی اور کشیدگی کا ماحول چھایا رہا۔ مرکز میں دائیں بازوں کی طرف سے ریاست کی خصوصی پوزیشن کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا جن کی سماعت کو لے کر وادی میں تناؤ کا ماحول بنارہا۔ اس دوران اگر چہ سپریم کورٹ نے کئی مرتبہ عوامی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے سماعت کو مؤخر کیا تاہم اس دوران ریاست بھر میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے مسلسل احتجاجی ہڑتال کی گئی جس کے نتیجے میں یہاں ہوکا عالم چھایا رہا۔سال کے دوران مسئلہ کشمیر کی گونج نے بھی بیرونی دنیا میں تہلکہ مچادیا جب اقوام متحدہ کے شعبہ حقوق انسانی کے کمیشن نے ریاست جمو ں وکشمیر میں سرکاری فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں سے متعلق رپورٹ منظر عام پر لائی۔ کمیشن نے بھارت پر زور دیا کہ وہ کمیشن کے ممبران کو کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت دے تاکہ یہاں ہورہی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو وہ از خود جائزہ لیں تاہم بھارت نے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے حقوق انسانی کے بیان کو نکارتے ہوئے اسے سیاسی طرفداری سے تعبیر کیا۔

ادھر وادی کشمیر میں سیکورٹی صورتحال میں ابتری واقع ہونے کے بعد مخلوط اتحاد میں شامل بی جے پی نے پی ڈی پی سے اپنی حمایت واپس لی جس کے بعد پی ڈی پی کے اندر موجود خلفشار نے سنگین رخ اختیار کرتے ہوئے کئی چوٹی کے لیڈران کو پارٹی معاملات پر محبوبہ مفتی کی بغاوت پر اُترتے ہوئے دیکھا۔باغی اور ناراض ممبران نے پارٹی صدر محبوبہ مفتی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پارٹی میں اقربا پروری کو ہی ترجیح دیتے ہوئے لوگوں کے منڈیٹ سے کھلواڑ کیا۔اس دوران ریاست میں افواہیں گشت کرنے لگی کہ پی ڈی پی کے ناراض ممبران اور دیگر سیاسی پارٹیوں سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے لیڈران بی جے پی کے ساتھ مل کر نئی حکومت تشکیل دیں گے ۔ پی ڈی پی کے چند ناراض لیڈران کے دل سجاد غنی لون کی پیپلز کانفرنس کے تئیں دھڑک رہے تھے جو ریاست میں بی جے پی کے درپردہ اُمیدوار کی حیثیت سے معروف ہے۔شیعیہ فرقہ سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر عمران رضاانصاری،ایم ایل سی عابد انصاری، ممبر اسمبلی ٹنگمرگ محمد عباس وانی،ممبر اسمبلی بارہمولہ جاوید بیگ، ایم ایل سی یاسر ریشی اور ایم ایل سی سیف الدین بٹ نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی پارٹی معاملات کو لے کر کھل کر مخالف کی۔حتی کہ پی ڈی پی کے سینئر ترین لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید کے دست راست مظفر حسین بیگ نے بھی پارٹی صدر پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پارٹی معاملات کر کبھی بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کی طرف سے بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات سے متعلق بائیکاٹ پر بھی ان کی رائے طلب نہیں کی گئی۔

تاہم چند دن قبل ہی پی ڈی پی ایک اہم نشست میں مظفر حسین بیگ کو پارٹی کا سرپرست مقرر کیا گیا اوراگر اندرون ذرائع کی بات کو صحیح مانا جائے تو انہیں ناراض اور باغی ممبران کو پارٹی میں واپس لانے اور پارٹی کے اندر استحکام پید اکرنے کی ذمہ داری سونپی جاچکی ہے۔ادھر چند دن قبل پی ڈی پی کو اور ایک جھٹکا اُس وقت لگا جب شمالی کشمیر کے اہم ترین لیڈر بشارت بخاری نے بھی پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دتے ہوئے نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔ معلوم ہو اہے کہ کریری بارہمولہ کے رہنے والے بشارت بخاری نے چند ہفتے قبل پارٹی معاملات کے حوالے سے اپنے حلقہ انتخاب کے کارکنوں سے گفت و شنید کے بعد ہی پی ڈی پی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی موجودگی میں نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔ادھر پی ڈی پی کے اور ایک رکن پیر محمد نے اختلاف کرتے ہوئے علیحدگی اختیار کی اور انہوں نے بھی نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔ادھر سال کے وسط میں شروع ہوئی امر ناتھ یاترا کو پرامن اور خوشگوار ماحول میں منعقد کرانے کے لیے مرکز نے ریاست میں تعینات اُس وقت کے گورنر این این ووہرا کی مدت کار میں مزید دو مہینوں کی توسیع کی تاکہ امر ناتھ یاترا کے انتظامات کو بلاخلل جاری رکھا جائے تاہم 22اگست کو نئے گورنر ستیہ پال ملک نے ریاست جمو ں وکشمیر میں انتظامی اُمور کو چلانے کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے کئی اہم فیصلہ جات لیے جن میں بلدیاتی و پنچایتی انتخابات کا انعقاد شامل ہیں۔ اگر چہ ریاست کی بیشتر سیاسی پارٹیوں نے گورنر ستیہ پال ملک کو سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر انتخابات کو مؤخر کرنے کی مانگ کی تاہم گورنر پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کی طرف سے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے باوجود بھی اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے۔ کے این ایس
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
