کھیل
ستیہ ورت کدیان : فری اسٹائل ریسلر اور رستم بین الاقوامی دنگل ریسلنگ ٹورنامنٹ کا فاتح
یوم پیدائش 9 نومبر
نئی دہلی، ستیہ ورت کدیان ایک فری اسٹائل ہندستانی ریسلر ہیں، جنہوں نے ریسلنگ کے مختلف بین الاقوامی اور قومی سطحوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ستیہ ورت کدیان 9 نومبر 1993 کو روہتک، ہریانہ میں پیدا ہوئے۔ان کو کشتی وراثت میں ملی۔ والد ارجن ایوارڈ یافتہ ستیہوان کدیان نے اولمپکس میں ملک کو ایک نام اور ایک خاص پہچان دلائی ہے،۔ ان کے والدکی خواہش تھی کہ ستیہ ورت بھی ان کے نقش قدم پر چلیں۔ اس کی وجہ سے، بہت چھوٹی عمر میں، ستیہ نے اپنے والد کی انگلی پکڑ کر اکھاڑہ جانا شروع کر دیا. ان کے والد، ستیہوان کدیان، خود ایک پہلوان تھے اور انہوں نے 1988 کے سمر اولمپکس میں حصہ لیا۔ انہیں ارجن ایوارڈ بھی ملاتھا۔ ستیہ ورت کی تربیت اپنے والد کے اکھاڑے میں ہی ہوئی تھی۔ان کے والد خود اپنا اکھاڑا چلاتے ہیں۔ ان کے والد نے بطور کوچ ان کی تربیت کی تھی۔ ستیہ کو ریسلنگ کے کرتب سکھائے اور فری اسٹائل ہیوی ویٹ کیٹیگری کے لیے تیار کیا۔ریو اولمپکس 2016 میں ہندوستان کو پہلا تمغہ دلانے والی ریسلر ساکشی ملک اور ستیہ ورت کدیان دونوں نے شادی کی ہے۔
ستیہ ورت نے سنگاپور میں منعقدہ 2010 کے یوتھ اولمپک گیمز میں 100 کلوگرام کے زمرے میں کانسہ کا تمغہ جیتا تھا۔ سال2013 میں صوفیہ میں منعقدہ ورلڈ جونیئر چیمپئن شپ میں 96 کلوگرام کے زمرے میں کانسہ کا تمغہ جیت کر ملک کے لئے ایک تمغہ میں اضافہ کیا۔
سال2014 میں گلاسگو اور آستانہ میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز اور ایشین چیمپئن شپ میں بالترتیب 97 کلوگرام کے زمرے میں چاندی اور کانسہ کا تمغہ جیتا ۔ سال2015 میں جموں میں منعقدہ پہلے رستم انٹرنیشنل ٹورنامنٹ میں ٹائٹل جیتا۔سنگاپور میں منعقدہ 2016 کامن ویلتھ چیمپئن شپ میں 97 کلوگرام کیٹیگری میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔ سال2019 ایشین چیمپئن شپ میں 97 کلوگرام زمرے میں کانسہ کا تمغہ جیتا۔
سنگاپور2010 یوتھ اولمپکس کدیان کے لئے بہت یادگاری مقابلہ تھا۔یہ کدیان کا پہلا بین الاقوامی تمغہ تھا۔ وہ 100 کلوگرام بوائز فری اسٹائل ریسلنگ میں حصہ لے رہے تھے۔ انہوں نے کانسہ کا تمغہ حاصل کیا۔ سال2013 ورلڈ یوتھ ریسلنگ چیمپئن شپ – بلغاریہ کے مقابلہ میں اانہوں نے ترکی کے علی بونیک گل کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیتا۔ انہوں نے سشیل کمار اور یوگیشور دت کے ساتھ مل کر اس مقابلہ کی تیاری کی تھی۔2014 آسیان ریسلنگ چیمپئن شپ میں قازقستان کے علیحان جمائیف کو ایک پوائنٹ سے شکست دے کر کانسہ کا تمغہ جیتا۔ سال2014 کامن ویلتھ گیمز – گلاسگو، سکاٹ لینڈ میں وہ کینیڈا کے ارجن گل سے ہار گئے اس کے باوجود وہ چاندی کا تمغہ گھر لے آئے۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
کھیل
سروچی سنگھ اور کمل جیت سنگھ نے ہندوستان کو ایشیائی کھیلوں میں دوسرا طلائی تمغہ دلایا
آئیچی-ناگویا (جاپان)، ہندوستان کی سروچی سنگھ اور کمل جیت سنگھ کی جوڑی نے جمعہ کو ایشیائی کھیلوں کے نشانہ بازی مقابلے میں 10 میٹر ایئر پسٹل مکسڈ مقابلے میں جنوبی کوریا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے طلائی تمغہ حاصل کیا۔ یہ ایشیائی کھیلوں میں ہندوستان کا دوسرا تمغہ ہے۔
آج یہاں ہوئے مقابلے میں ہندوستانی جوڑی نے مجموعی طور پر 484.6 اسکور کے ساتھ سرفہرست مقام حاصل کیا۔ کمل جیت اور سروچی نے شروعات سے ہی اچھی برتری بنا لی تھی، لیکن جنوبی کوریا مسلسل ہندوستانی نشانہ بازوں پر دباؤ بنائے ہوئے تھا۔ تاہم ہندوستانی جوڑی نے دباؤ میں کوئی غلطی نہیں کی اور جنوبی کوریا کو 6.6 پوائنٹس کے فرق سے شکست دے کر طلائی تمغہ اپنے نام کرلیا۔ جنوبی کوریا 478 اسکور کے ساتھ دوسرے جبکہ ایران 415.8 اسکور کے ساتھ تیسرے مقام پر رہا۔
یو این آئی۔ ایم جے
کھیل
سلطان واریئرز بارہمولہ نے افتتاحی چنار پریمیئر لیگ کا خطاب جیت لیا
سری نگر، سلطان واریئرز بارہمولہ نے افتتاحی چنار پریمیئر لیگ (سی پی ایل) کرکٹ ٹورنامنٹ 2026 کا خطاب جیت لیا۔ اس نے بارہمولہ کے جنرل بپن راوت اسٹیڈیم میں کھیلے گئے شاندار فائنل میں رمزی اسپورٹس سری نگر کو شکست دی۔
پہلے بلے بازی کرتے ہوئے سلطان واریئرز نے مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 182 رنز بنائے، جس کے جواب میں رمزی اسپورٹس سری نگر کی پوری ٹیم 142 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ اس طرح سلطان واریئرز نے شاندار کامیابی کے ساتھ خطاب اپنے نام کر لیا۔
سلطان واریئرز کے عاقب کھانڈے کو میچ جیتنے والی کارکردگی پر ’مین آف دی میچ‘ قرار دیا گیا، جبکہ ان کے ساتھی کھلاڑی عاصم بشیر کو پورے ٹورنامنٹ میں مسلسل عمدہ کارکردگی پر ’مین آف دی سیریز‘ کا اعزاز دیا گیا۔
فوج کی سری نگر چنار کور کی جانب سے منعقد کیے گئے اس ٹورنامنٹ میں ریکارڈ تعداد میں ٹیموں نے شرکت کی۔ مقابلے کے لیے 130 ٹیموں نے رجسٹریشن کرائی تھی، جن میں سے کشمیر وادی کے مختلف علاقوں سے 79 ٹیموں کا انتخاب کیا گیا۔
تقریب میں جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اتل ڈلو کے علاوہ بارہمولہ میں تعینات ڈیگر ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ اور مقامی برادری کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
منتظمین نے کہا کہ سی پی ایل 2026 نے پوری کشمیر وادی کے کرکٹ ٹیلنٹ کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کیا اور خاص طور پر نوجوانوں کے درمیان ہندوستانی فوج اور مقامی برادری کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا۔
دفاعی ترجمان نے کہا کہ سی پی ایل 2026 کا کامیاب انعقاد خطے کے کھیلوں کے کیلنڈر میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس کے ذریعے وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوان کرکٹرز کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملا۔
یواین آئی۔ ظ ا
کھیل
بابر اعظم کی سات سال بعد ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپسی
اسلام آباد، پاکستان کے ٹیسٹ کپتان بابر اعظم موجودہ پریذیڈنٹس ٹرافی گریڈ ون فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کی نمائندگی کریں گے۔ انہیں ٹیم نے بطور گیسٹ کھلاڑی شامل کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بابر نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے درخواست کی تھی کہ انہیں کسی ٹیم میں شامل کیا جائے تاکہ وہ طویل فارمیٹ میں اپنی فارم بہتر کرسکیں۔ اس کے بعد بورڈ نے انہیں او جی ڈی سی ایل کے ساتھ جوڑ دیا۔ بابر نے دسمبر 2022 کے بعد سے ٹیسٹ کرکٹ میں کوئی سنچری نہیں بنائی۔ اس کے بعد سے 39 اننگز میں وہ صرف آٹھ نصف سنچریاں بناسکے ہیں، جبکہ 2023 کے آغاز سے ٹیسٹ میں ان کی اوسط 30.43 رہی ہے۔
ان کی خراب فارم پاکستان کرکٹ میں مسلسل بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ حالیہ انگلینڈ دورے میں پاکستان کو تین ٹیسٹ کی سیریز میں 0-3 سے شکست ہوئی، جبکہ لارڈز اور ایجبسٹن ٹیسٹ میں انگلینڈ کے تیز گیندبازوں نے شارٹ گیند کے خلاف بابر کی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔ تاہم گزشتہ پانچ ٹیسٹ میں وہ چار نصف سنچریاں بناچکے ہیں اور گزشتہ ماہ ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں ان کا اسکور 88 رنز رہا، جس سے پاکستان نے جولائی 2023 کے بعد پہلی بار بیرون ملک ٹیسٹ جیتا۔
بابر نے آخری بار 2019 میں ڈومیسٹک فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ کھیلا تھا، جب انہوں نے سینٹرل پنجاب کی کپتانی کرتے ہوئے فائنل میں ناردرن کو شکست دے کر قائداعظم ٹرافی جیتی تھی۔ حالیہ برسوں میں ٹیسٹ اور آئی سی سی ٹورنامنٹس میں پاکستان کی خراب کارکردگی کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں کے ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ میں زیادہ حصہ لینے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ اس سیزن میں شاہین شاہ آفریدی اور سلمان آغا سمیت کئی دیگر بین الاقوامی کھلاڑی بھی پریذیڈنٹس ٹرافی میں حصہ لے رہے ہیں۔
پی سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹ کے تحت اے کیٹیگری کے ٹیسٹ ماہر کھلاڑیوں کے لیے سالانہ کم از کم چھ، اے بی کیٹیگری کے ٹیسٹ اور ون ڈے ماہر کھلاڑیوں کے لیے چار، جبکہ بی سی کیٹیگری کے وائٹ بال ماہر کھلاڑیوں کے لیے کم از کم دو فرسٹ کلاس میچ کھیلنا ضروری ہے۔ پاکستان اس وقت آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں نویں نمبر پر ہے اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی نو ٹیموں کی جدول میں آخری مقام پر ہے۔ وہ گزشتہ چار آئی سی سی ٹورنامنٹس میں ناک آؤٹ مرحلے تک بھی نہیں پہنچ سکا ہے۔
یو این آئی۔ م س
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا6 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
-
ہندوستان6 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا6 days agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا6 days agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
