جموں و کشمیر
سری نگر لوک سبھا نشست پر شام پانچ بجے تک 36فیصد ووٹنگ ریکارڈ :چیف الیکٹورل آفیسر
سری نگر، سری نگر لوک سبھا سیٹ کی پولنگ کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے چیف الیکٹورل افسر پی کے پولے نے کہا کہ شام بجے پانچ بجے تک پولنگ کی مجموعی شرح 36 فیصد ریکارڈ کی گئی جو سال 1989 سے دوسری سب سے زیادہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس نشست کے ایک بھی پولنگ مرکز پر صفر فیصد ووٹنگ ریکارڈ نہیں کی گئی۔
ان باتوں کا اظہار چیف الیکٹورل آفیسر نے سری نگر میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہاکہ سری نگر پارلیمانی نشست پر شام پانچ بجے تک ووٹنگ کی شرح 36فیصد ریکارڈ کی گئی جو سال 1989کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ٹرن آوٹ ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ سری نگر کے کسی بھی پولنگ بوتھ پر صفر فیصد پولنگ نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے گھر وں سے باہر آکر اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا۔
پی کے پولے نے عوام الناس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج سری نگر پارلیمانی نشست کے رائے دہند گان نے جمہوری عمل کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار اداکیا۔
انہوں نے اعداد وشمار ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ شام پانچ بجے تک پولنگ کی شرح36فیصد رہی جو 1989کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ووٹنگ ریکارڈ ہوئی ہے۔
ان کے مطابق 18اسمبلی حلقوںمیں 2135پولنگ مراکز قائم کئے گئے جبکہ پولیس اور پیر املٹری فورسز اور سرکاری ملازمین سمیت 8500اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس بار سری نگر پارلیمانی حلقے میں پر امن انتخابات ہوئے جس دوران لوگوں نے جمہوری عمل کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔
انہوں نے مزید کہا، “ہم نے خواتین اور عمر رسیدہ افراد کے لیے خصوصی انتظامات کیے تھے، ہر پولنگ اسٹیشن پر سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جارہی تھی۔
نوجوانوں کی شرکت کے بارے میں، پول نے بتایا کہ 2 لاکھ رجسٹرڈ نوجوان ووٹرز تھے، اور تارکین وطن کے لیے 26 خصوصی پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے، جن میں 6 ہزار سے زیادہ تارکین وطن ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ “احتیاطی اقدامات صرف ان صورتوں میں کیے گئے جہاں افراد کا مجرمانہ اور ملک دشمن پس منظر تھا،۔
پول نے مزید کہا کہ سری نگر میں سب سے کم ای وی ایم کی تبدیلی کی شرح 0.1 فیصد ریکارڈ کی گئی، جب کہ جموں میں سب سے زیادہ 3 فیصد ریکارڈ ہوئی۔
وسطی و جنوبی کشمیر کے پانچ اضلاع سری نگر، بڈگام، گاندر بل، پلوامہ اور شوپیاں پر مشتمل سری نگر لوک سبھا سیٹ کی پولنگ کے لئے صبح سویرے سے ہی رائے دہندگان جن میں جوان، بزرگ اور خواتین شامل ہیں، کو اپنے اپنے پولنگ مراکز پر قطاروں میں دیکھا گیا۔
حکام نے آزادانہ اور منصفانہ پولنگ کو یقینی بنانے کے لئے حلقے میں 2 ہزار 1 سو 35 پولنگ مراکز قائم کئے ہیں جہاں پولنگ عملے کے لئے تمام تر انتظامات کئے گئے ہیں۔
جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے سمبورہ گاﺅں جو ایک زمانے میں علاحدگی پسندی کا گڑھ رہا ہے، میں بھی صبح سے ہی پولنگ کا عمل پر امن طریقے سے جاری تھا۔
ایک 45 سالہ ووٹر نے یو این آئی کو بتایا: ‘میں پہلی بار ووٹ ڈال رہا ہوں، میری عمر 45 سال ہے، میں آج اپنی شناخت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ووٹ ڈال رہا ہوں جو خطرے میں ہے’۔
ریٹرنگ افسیر سری نگر بلال محی الدین نے اچھی پولنگ ہونے کی امید ظاہر کی۔
انہوں نے اتوار کی شام کہا: ‘ میں ووٹروں بالخصوص نوجوان ووٹروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرکے جمہوریت کو مستحکم بنانے میں اپنا رول ادا کریں’۔
بتادیں کہ سری نگر لوک سبھا نشست کے لئے گرچہ 24 امید وار میدان میں ہیں تاہم نیشنل کانفرنس کے آغا روح اللہ، جو ایک با ثہر شیعہ لیڈر ہیں، پی ڈی پی کے وحید پرہ جو ملی ٹنسی سے متعلق ایک کیس کے سلسلے میں ضمانت پر رہا ہیں اور اپنی پارٹی کے اشرف میر کے درمیان کانٹے کی ٹکر متوقع ہے۔
اس بار کشمیر کی تین سیٹوں پر بی جے پی نے کوئی امید وار کھڑا نہیں کیا ہے جس پر پارٹی کا تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
روایتی طور پر ماضی میں اگرچہ سری نگر کے رائے دہندگان علاحدگی پسندوں کی بائیکاٹ کالوں کے پیش نظر ووٹ ڈالنے سے گریز ہی کرتے تھے تاہم اس بار صورتحال مختلف ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بائیکاٹ کال کی غیر موجودگی میں اس بار ووٹنگ شرح میں نمایاں اضافہ درج ہونے کی توقع ہے۔
سال 2019 اس سیٹ کے لئے ووٹنگ شرح 14.43 فیصد ریکارڈ ہوئی تھی اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے 48 ہزار 554 ووٹ لیکر کامیابی اپنے نام کی تھی
انتخابی کمیشن کی طرف سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق سری نگر، بڈگام، پلوامہ، شوپیاں اور گاندربل اضلاع کے 18 اسمبلی حلقوں پر مشتمل سری نگر پارلیمانی حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 17 لاکھ 47 ہزار 810 ہے۔
یو این آئی – ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی میں بی جے پی کے احتجاج کے بعد عمر نے ارکان اسمبلی اور وزراء کی تنخواہوں میں اضافے کے بل واپس لیے
سری نگر، بی جے پی کے احتجاج کے بعد منگل کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزراء، وزرائے مملکت اور قانون ساز ادارے کے ارکان کی تنخواہوں اور الاؤنس میں اضافے کی تجویز والے 2 بل واپس لے لیے۔
اتفاق سے جموں و کشمیر اسمبلی کی ایک ایوانی کمیٹی نے، جس کی سربراہی بی جے پی کے رکن اسمبلی سرجیت سنگھ سلاتھیہ کر رہے تھے، مجوزہ اضافے کی منظوری دی تھی۔
بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی نے ایوان میں کہا کہ حکومت کو یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین اور معاہدے پر کام کرنے والے ملازمین کو راحت فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
بل پیش کیے جانے کے بعد بی جے پی ارکان کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایوانی کمیٹی میں کوئی اختلافی نوٹ نہیں تھا، جس نے تنخواہوں اور الاؤنس میں مجوزہ اضافے کی سفارش کی تھی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کے ارکان ایک طرف تنخواہوں اور الاؤنس کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو درپیش مسائل کا حوالہ دے کر اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’میں کبھی اس کے حق میں نہیں تھا۔ اپنے ارکان اسمبلی سے پوچھ لیجیے۔ اگر ایک بھی رکن اس کی مخالفت کرتا ہے تو یہ کبھی منظور نہیں ہوگا۔ میں بل واپس لیتا ہوں۔‘‘
اس کے بعد ایوان نے اکثریت سے قانون سازی واپس لینے کے حق میں ووٹ دیا۔
وزیر اعلیٰ نے قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کے انچارج وزیر کی حیثیت سے یہ بل واپس لیے۔
تاہم، ایوان نے سابق ارکان قانون ساز ادارے سے متعلق ایک بل منظور کرلیا۔ حکمراں اور اپوزیشن دونوں جانب کے ارکان نے کہا کہ چونکہ یہ بل سابق ارکان سے متعلق ہے، اس لیے اسے واپس نہیں لیا جانا چاہیے۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے بلدیاتی نظم و نسق، کاروبار کرنے میں آسانی اور زندگی گزارنے میں آسانی، ٹیکس نظام، ٹیکسوں کو معقول بنانے اور جرائم کو غیر فوجداری بنانے سے متعلق وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کیے گئے 4 بل منظور کر لیے۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بل 24 ستمبر اور 28 ستمبر کو پیش کیے تھے اور متعلقہ تاریخوں پر ارکان میں تقسیم کیے گئے تھے۔ بعد ازاں اسمبلی کے جاری خزاں اجلاس کے دوران انہیں غور و خوض اور منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کیے گئے بلوں میں جموں و کشمیر میونسپل (ترمیمی) بل بھی شامل ہے، جسے انہوں نے مکان اور شہری ترقی کے انچارج وزیر کی حیثیت سے پیش کیا۔
وزیر اعلیٰ نے قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کے انچارج وزیر کی حیثیت سے جموں و کشمیر کاروبار کرنے میں آسانی بل، 2026 پیش کیا۔
اس بل کا مقصد اجازت پر مبنی نظام کی جگہ ضابطوں پر مبنی نظم و نسق قائم کرنے کے لیے قانون کو یکجا اور اس میں ترمیم کرنا اور شہریوں اور کاروباری اداروں کو اعتماد کے ساتھ منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور کام کرنے کے قابل بنانا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا مقصد مرکز کے زیر انتظام علاقے میں کاروبار کرنے میں آسانی اور زندگی گزارنے میں آسانی کو اس طرح فروغ دینا ہے کہ روزگار پیدا ہو، سرمایہ کاری راغب ہو اور طویل مدتی اقتصادی ترقی برقرار رہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر خزانہ کے طور پر اپنی حیثیت میں جموں و کشمیر اشیا و خدمات ٹیکس (ترمیمی) بل، 2026 بھی پیش کیا، جس میں جموں و کشمیر اشیا و خدمات ٹیکس ایکٹ، 2017 میں ترمیم کی تجویز ہے۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کیا گیا ایک اور قانون سازی کا مسودہ جموں و کشمیر جرائم کو غیر فوجداری بنانے اور معقول بنانے سے متعلق بل، 2026 تھا۔ اس بل کا مقصد بعض قوانین میں ترمیم کرکے جرائم کو غیر فوجداری بنانا اور انہیں معقول بنانا ہے تاکہ زندگی گزارنے میں آسانی اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ بعض قوانین کو منسوخ کرنے اور اس سے متعلق یا ضمنی معاملات کو نمٹانے کی بھی تجویز ہے۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: سی آئی ایس ایف کیمپ میں فائرنگ، 4 اہلکاروں کی مبینہ موت
جموں، جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ضلع کے بسوہلی علاقے میں منگل کی شام آپسی فائرنگ کے ایک واقعے میں اسسٹنٹ کمانڈنٹ اور سب انسپکٹر سمیت سی آئی ایس ایف کے 4 اہلکاروں کی مبینہ طور پر موت ہوگئی۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ’’ابتدائی اطلاعات کے مطابق سی آئی ایس ایف اہلکاروں کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی، جس کے بعد فائرنگ شروع ہوگئی۔‘‘ بسوہلی کے مَشکا علاقے میں سیوا پروجیکٹ کے قریب واقع سی آئی ایس ایف کیمپ میں آج شام فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ اہلکار پروجیکٹ کی حفاظت کے لیے تعینات تھے۔
اسسٹنٹ کمانڈنٹ، سب انسپکٹر اور 2 جوانوں سمیت سی آئی ایس ایف کے 4 اہلکار شدید زخمی ہوگئے اور انہیں پڑوسی ریاست ہماچل پردیش کے این ایچ پی سی اسپتال لے جایا گیا، لیکن انہوں نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔
مرنے والے اہلکاروں کی شناخت اسسٹنٹ کمانڈنٹ انکِت کمار پانڈے، سب انسپکٹر لکشمن سنگھ، کانسٹیبل رفیق احمد اور کانسٹیبل سندیپ کمار کے طور پر ہوئی ہے۔مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
کٹھوعہ ضلع کی سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس موہیتا شرما نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
جموں و کشمیر
پہلی بار جموں میں قومی پیراگلائڈنگ ایکوریسی کپ، 24 سے 26 اکتوبر تک مقابلے ہوں گے
جموں، سیاحت کے شعبے کو بڑا فروغ دیتے ہوئے جموں میں پہلی بار قومی پیراگلائڈنگ ایکوریسی کپ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ مقابلہ 24 سے 26 اکتوبر تک سرنسار-مانسر روڈ پر واقع ایتھم میں منعقد ہوگا۔
جموں کے جوائنٹ ڈائریکٹر سیاحت ایجاز قیصر نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ تین روزہ اس تقریب کا انعقاد ڈائریکٹوریٹ آف ٹورزم جموں کی جانب سے مقامی ایڈونچر اسپورٹس اور پیراگلائڈنگ انجمنوں کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 3 روزہ قومی سطح کی پیراگلائڈنگ تقریب ایتھم اور سرنسار علاقے کو ایڈونچر اور بیرونی سیاحت کے ابھرتے ہوئے مرکز کے طور پر فروغ دینے کے ساتھ ساتھ شرکاء اور سیاحوں کے سامنے جموں کے متنوع قدرتی مناظر کو پیش کرنے کا ایک موقع بھی فراہم کرے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کمشنر سکریٹری سیاحت آشیش چندر ورما کی ہدایات پر اس پوری چیمپئن شپ کو قومی سطح کے کھیل مقابلے کے طور پر منعقد کیا جا رہا ہے۔ یہ جموں میں اپنی نوعیت کا پہلا مقابلہ ہوگا، جس میں ملک بھر سے پیراگلائڈنگ کے شوقین افراد اور کھلاڑیوں کی شرکت متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی سطح کی اس طرح کی تقریبات کے ذریعے جموں و کشمیر حکومت جموں کو ایڈونچر کھیلوں اور تجرباتی سیاحت کے ایک اہم مقام کے طور پر فروغ دینا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’پیراگلائڈنگ کھلاڑیوں کو مسابقتی پلیٹ فارم فراہم کرنے کے علاوہ یہ تقریب شرکاء اور سیاحوں کو جموں کے خوبصورت قدرتی مناظر اور ایڈونچر سیاحت کے امکانات سے لطف اندوز ہونے کا موقع بھی فراہم کرے گی۔‘‘
چیمپئن شپ میں 2 مقابلے ہوں گے، جن میں قومی سطح کا اسپاٹ لینڈنگ مقابلہ اور پرواز کے دورانیے کا مقابلہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر کے مقامی افراد کے لیے خصوصی انعامی زمرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چیمپئن شپ کے لیے مجموعی طور پر 7 لاکھ روپے کی انعامی رقم مختص کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف پی 4 سرٹیفائیڈ پائلٹوں کے لیے مفت رجسٹریشن یکم اکتوبر سے 15 اکتوبر تک جاری رہے گی۔
قیصر نے بتایا کہ ڈائریکٹر ٹورزم جموں وکاس گپتا نے چیمپئن شپ کی منصوبہ بندی اور انتظامی امور کے سلسلے میں مقامی ایڈونچر اسپورٹس انجمن اور پیراگلائڈنگ ایسوسی ایشن جموں و کشمیر کے ساتھ تفصیلی بات چیت پہلے ہی کر لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ ہونے والی تقریب کے انعقاد کے طریقہ کار، حفاظتی انتظامات، شرکت اور دیگر انتظامات کے حوالے سے بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا ہے۔
قیصر نے ملک بھر کے پیراگلائڈنگ کے شوقین افراد کو چیمپئن شپ میں شرکت اور جموں میں ابھرتی ہوئی ایڈونچر سیاحت کی سہولتوں اور امکانات کو دریافت کرنے کی دعوت دی۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
دنیا7 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
ہندوستان5 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
