تازہ ترین
سمبل آبروریزی معاملہ:وادی میں احتجاجی مظاہرے ،جھڑپیں جاری، مکمل رپورٹ
خبراردو: سمبل بانڈی پورہ میں تین سالہ معصوم بچی کی وحشیانہ آبروریزی کے خلاف منگلوار دن بھر وادی کے مختلف حصوں میں مختلف تعلیمی اداروں سے وابستہ طلبا و طالبات کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران کئی مقامات پر طلاب اور فورسز کے درمیان پرتشدد جھڑپیں بھی رونما ہوئیں۔
ملک پورہ ترہگام بانڈی پورہ میں گزشتہ ہفتے 3سالہ معصوم بچی کی وحشیانہ آبروریزی کے خلاف منگلوارکو دن بھر وادی کے مختلف حصوں میں مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبا و طالبات نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے ریاستی سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ اس انسانیت سوز واقعے میں ملوث مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ متاثرہ بچی کے حق میں انصاف کو یقینی بنانے میں کوئی بھی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں۔ احتجاج کررہے طلبا نے اس موقعے پر کہی تعلیمی اداروں کے اندرون اور کہیں بیرونی سڑکوں پر نکل کر واقعے کے خلاف جم کر اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کئی مقامات پر تعینات فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کی جس کے نتیجے میں یہاں حالات نے کچھ دیر کےلئے غیر یقینی صورتحال اختیار کی۔ تفصیلات کے مطابق شہر سرینگر کے امر سنگھ کالج میں منگلوار کی دوپہر کوادارہ سے وابستہ طلبا و طالبات کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور واقعے کے خلاف اپنے غم و غصے کا زبردست اظہار کرتے ہوئے مجرم کو پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ منگلوار دوپہر کو کالج میں زیر تعلیم طلبا و طالبات کی ایک بڑی تعداد نے کالج کے کیمپس میں جمع ہوکر سمبل بانڈی پورہ میں پیش آئے انسانیت سوز واقعے کےخلاف جم کر احتجاجی مظاہرے کئے۔ طلبا و طالبات نے اس موقعے پر ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اُٹھارکھے تھے جن پرواقعے سے متعلق مذمت ، متاثرہ بچی کو انصاف اور مجرم کو پھانسی پر لٹکانے سے متعلق نعرے درج تھے۔
طلاب نے اس موقعے پر جم کر نعرے بازی کرتے ہوئے کیمپس سے باہر آنے کی کوشش کی تاہم یہاں احاطہ کے باہر موجود فورسز اہلکاروں نے طلاب کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے انہیں اندر دھکیلنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں بعض طلبا نے کالج کی دیواروں کو پھلانگ کر سڑکوں پر اپنے احتجاج کو درج کیا جس کے بعد یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔طلاب نے اس موقعے پر فورسز اہلکاروں پر پتھراﺅ کیا جس کے جواب میں کالج کے مین گیٹ پر موجود فورسزاہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی غرض سے آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے ۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں کالج کے اندر بھگدڑ کا ماحول مچا اور یہاں ہر سو دھواں ہی دھوں چھاگیا جس کے جواب میں کئی طالبات پر غشی طاری ہوگئی۔
اس موقعے پر کالج کی انتظامیہ نے جاری احتجاجی مظاہروں کو کنٹرول کرنے کی انتھک کوششٰں کیں تاہم وہ بارآور ثابت نہ ہوئیں۔ معلوم ہوا کہ احتجاج کی وجہ سے گوگجی باغ کے علاقے میں کئی گھنٹوں تک افرا تفری کاماحول چھایا ریا جس کے نتیجے میں یہاں دوکانات، کارورباری و تجارتی ادارے بند ہوئے۔ اسی طرح شہر کے بمنہ علاقے میں قائم ڈگری کالج میں زیر تعلیم طلبا و طالبات نے بھی اس واقعہ فاجعہ کے خلاف جم کر احتجاج کرتے ہوئے فورسز پر چہار سو سنگ باری کی۔ معلوم ہوا کہ ڈگری کالج بمنہ میں زیر تعلیم طلاب نے منگلوار کو کالج کیمپس میں جمع ہوکر ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر لئے مین روڑ پر نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے یہاں احتجاجی مظاہرے کئے۔ اس دوران یہاں فورسز کی بڑی تعداد نمودار ہوئی جنہوں نے طلبا و طالباب کو کالج کے اندر جانے کی اپیل کی تاہم احتجاج کررہے طلاب نے فورسز اہلکاروں کی ایک نہ مانی جس کے دوران بعض طلاب نے پولیس و فورسز اہلکاروں پر کئی اطراف سے پتھراﺅ کیا۔ اس موقعے پر علاقے میں کچھ وقفے کےلئے سنسنی پھیل گئی جبکہ فورسز اہلکاروں نے بھی احتجاجی مظاہرین کو کچلنے کی خاطر طاقت کا استعمال کرتے ہوئے طلباب کو منشتر کیا۔
ادھر شہر میں قائم زنانہ کالج واقع ایم اے روڑ مین زیر تعلیم طلاب نے بھی واقعے کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کالج کیمپس کے اندر رہتے ہوئے متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کرنے کی مانگ کررہے تھے۔ مظاہرین نے واقعے میں ملوث مجرم کو سخت سزا دینے کی مانگ کی۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ وادی کشمیر میں اب ایسے واقعات رونما ہونے شروع ہوچکے ہیں جس کے نتیجے میں خواتین اور لڑکیوں کاجینا مشکل لگ رہا ہے۔ طالبات کے بقول حکومت کے چاہیے کہ ایسے شرمناک اور انسانیت سوز واقعات کی تحقیقات فاسٹ ٹریک بنیادوں پر عمل میں لائی جانی چاہیے اور ملوث مجرموں کوایسی سزادینی چاہیے جو سماج میں صدیوں تک یاد رہ جائے۔ طالبات نے ریاستی سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ واقعے کو سیاسی رنگت دینے کے بجائے انسانی بنیادوں پر حل کروانے کی خاطر ٹھوس اور مو¿ثر اقدامات اُٹھائے تاکہ ایسے واقعات معمول نہ بن جائے۔ ادھر وادی کشمیر کی سب سے بڑی جامعہ کشمیر یونیورسٹی میں بھی منگلوار کی صبح طلاب نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے واقعے کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔
عینی شاہدین کے مطابق کشمیر یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں زیر تعلیم طلاب نے منگلوار کی صبح اپنے کلاسوں سے باہر آکر کیمپس کے احاطہ میں جمع ہوئے جس دوران انہوں نے کشمیر یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (کے یو ایس یو) کے بینر تلے جمع ہوکر واقعے کے خلاف احتجاج کیا۔ طلاب نے اس موقعے پر واقعے میں ملوث مجرم کو پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاستی حکومت پر زور دیا کہ وہ واقعے کو طول دینے کے بجائے انصاف کو یقینی بنانے میں جلدی کریں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ آج کے واقعے میں ملوث مجرم کو ایسی سزا دے جس کے بعد مستقبل میں کوئی عنصر اس قسم کی حرکت کا ارتکاب نہ کریں۔بعد میں طلاب نے پرامن طورپر منتشر ہوکر اپنے کلاسوں کا رخ کیا۔ اس دوران کنگن ڈگری کالج کے سینکڑوں طلبا نے بھی واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے حکومت سے مانگ کی کہ وہ ملوث مجرم کوتحفظ فراہم کرنے کے بجائے قرار واقعی سزا دے۔ ادارہ سے وابستہ طلاب نے کالج کے کیمپس میں جمع ہوکر احتجاجی مظاہرے کئے جس کے بعد مظاہرین نے کالج سے باہر آکر مین چوک کنگن کی طرف مارچ کیا ۔ مظاہرین اس موقعے پر یہاں پرامن دھرنے پر بیٹھ گئے اور کچھ وقفے کے بعد پرامن طور پر منتشر ہوئے۔ادھر کشمیر نیوز سروس نمائندے کے مطابق اوڑی بارہمولہ میں بھی طلاب نے سمبل میں پیش آئے المناک سانحے کےخلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مانگ کی وہ قانونی چارہ جوئی کو صاف اور شفاف بنیادوں پر آگے لےجائیں اور متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کرتے ہوئے واقعے میں ملوث مجرم کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔نمائندے کے مطابق ہائر اسیکنڈری اسکول بونیار اُوری میں زیر تعلیم طلاب نے ادارے سے باہر آکر سڑک پر زور دار احتجاج کرتے ہوئے واقعے میں ملوث مجرم کو سخت سزا دینے کی مانگ کی۔
طلاب نے اس موقعے پر زور دار نعرے بازی کرتے ہوئے متاثرہ بچی کےساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔اسی طرح جنوبی قصبہ ترال میں کئی تعلیمی اداروں سے وابستہ طلاب نے بھی سڑکوں پر نکل پر پرامن احتجاجی مظاہرے کئے اور واقعے میں ملوث عناصر کو کڑی سزا دینے کی مانگ کی۔ طلاب نے زور دار نعرے بازی کے بیچ حکومت سے مانگ کی کہ وہ جلد از جلد متاثرہ بچی کو انصاف کریں۔اس دوران وادی ک
ہندوستان
راہل گاندھی نے لوگوں سے اپنے مسائل اور جدوجہد شیئر کرنے کے لیے ’ستیہ گرہ‘ ڈیجیٹل پلیٹ فارم لانچ کیا
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے ’ستیہ گرہ‘ کے نام سے ایک نیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم لانچ کیا ہے، جس کے ذریعے ملک بھر کے لوگ ناانصافی کے خلاف اپنی جدوجہد اور مسائل ان کے ساتھ شیئر کرسکیں گے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ ملک بھر میں لوگ اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں اور اکثر اکیلے ہی جدوجہد کررہے ہیں۔ ’ستیہ گرہ‘ انہی آوازوں کو ایک نقشے پر یکجا کرنے کی ایک پہل ہے، تاکہ مقامی سطح پر جاری جدوجہد کو قومی پلیٹ فارم مل سکے۔
پارٹی نے ہفتہ کو یہ اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ مسٹر گاندھی نے جمعہ کو گاندھی جینتی کے موقع پر اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو لانچ کیا تھا۔
مسٹر گاندھی نے آج اس پلیٹ فارم کے بارے میں کہا، ’’ملک بھر میں لوگ ناانصافی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ اپوزیشن رہنما کی حیثیت سے آپ کی لڑائی میری لڑائی ہے۔ اب نئے ستیہ گرہ کا وقت ہے۔ آپ کن مسائل کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، مجھے بتائیے۔ میں آپ کی بات سن رہا ہوں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں زمین، خواتین کے حقوق، دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے حقوق، تعلیم اور امتحانات سمیت مختلف مسائل کو لے کر احتجاج ہورہے ہیں۔ ’ستیہ گرہ‘ کے ذریعے ان تحریکوں کو منظم کرنے اور انہیں ایک نقشے پر یکجا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے شہری اپوزیشن رہنما کو بتاسکتے ہیں کہ وہ کون ہیں، ان کے لیے کیا اہم ہے اور ان کے حقوق کی راہ میں کون رکاوٹ بن رہا ہے۔ لوگوں کی جانب سے شیئر کیا گیا ہر مسئلہ ’ستیہ گرہ میپ‘ پر ایک پن کی شکل میں نظر آئے گا۔
مسٹرگاندھی نے کہا کہ مسئلے کی سنگینی اور ترجیح کی بنیاد پر ضروری اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ لوگوں کی آواز سڑک سے لے کر پارلیمنٹ تک سنی جاسکے۔ انہوں نے کہا، ’’جہاں سچ کو دبایا جارہا ہے، وہاں لوگوں کو اس کی مخالفت کرنے میں مدد کرنا اپوزیشن رہنما کی حیثیت سے میری ذمہ داری ہے۔‘‘
’ستیہ گرہ‘ پلیٹ فارم پر لوگ اپنی جدوجہد کی کہانی شیئر کرسکتے ہیں۔مسٹر گاندھی نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ، سڑک، خط لکھ کر یا جہاں بھی ان کی ضرورت ہوگی، لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوکر مدد کرنے کی کوشش کریں گے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
کھرگے نے کرناٹک میں خشک سالی پر مودی کو خط لکھ کر مداخلت کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کرناٹک میں شدید خشک سالی کی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر ان سے ذاتی طور پر فوری مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھرگے نے ہفتہ کو وزیراعظم کو خط کے ذریعے کرناٹک میں خشک سالی کی صورتحال سے آگاہ کیا اور کہا کہ ریاست میں ستمبر تک 58 فیصد بارش کی کمی رہی ہے، جس سے بڑے پیمانے پر فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے انہوں نے وزیر داخلہ امت شاہ کو بھی اس سلسلے میں خط لکھا تھا۔
انہوں نے وزیراعظم سے کلیان کرناٹک خطے میں مرکزی ٹیم بھیج کر خشک سالی سے ہونے والے نقصانات کا فوری جائزہ لینے، ریاست کی جانب سے قومی آفات سے نمٹنے کے فنڈ (این ڈی آر ایف) اور ریاستی آفات سے نمٹنے کے فنڈ (ایس ڈی آر ایف) کے تحت مانگی گئی 3705.30 کروڑ روپے کی مکمل امداد جاری کرنے اور چھوٹے و معمولی کسانوں کو راحت دینے کے لیے تازہ ترین اراضی ریکارڈ کی بنیاد پر ان پٹ سبسڈی کا حساب لگانے کی درخواست کی۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ ریاست کے مزید 11 تعلقوں، جہاں فی الحال زمینی تصدیق کا عمل جاری ہے، اور دیگر اہل تعلقوں کو اسی جاری خشک سالی کے واقعے کے تحت مرکزی امداد کے لیے شامل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے پینے کے پانی کی دستیابی یقینی بنانے اور متبادل بجلی کی لاگت کے لیے زیادہ امداد دینے کے ساتھ ساتھ ریاست کو بغیر تاخیر فوری اور مناسب راحت فراہم کرنے کی بھی درخواست کی۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
خمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
ریاض، یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم عرب اتحاد نے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے جنوب مغربی شہر خمیس مشیط کی سمت داغے گئے تین بیلسٹک میزائلوں کو روک کر تباہ کردیا گیا ہے۔
اتحاد کے مطابق جمعہ کی صبح تقریباً تین بجے خمیس مشیط کی جانب داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو راستے میں ہی ناکام بنا دیا گیا، جبکہ اس سے قبل شہر کی جانب داغے گئے دو دیگر میزائل بھی روک کر تباہ کیے گئے تھے۔
بیان کے مطابق حوثی ملیشیا کے چار ڈرونز کو بھی ناکام بنایا گیا۔ اتحاد نے کہا کہ یہ کارروائیاں شہری آبادی اور شہریوں کو نشانہ بنانے کی حوثی کوششوں کے تسلسل کے تناظر میں کی گئی ہیں۔
اتحاد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس کی افواج حوثی ملیشیا کی کارروائیوں کو روکنے اور شہریوں و شہری تنصیبات کے تحفظ کے لیے ضروری عملی اقدامات جاری رکھیں گی۔
یو این آئی۔ م س
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
دنیا1 week agoہم فتح کے قریب : نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کے باوجود نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا1 week agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
-
کھیل1 week agoسروچی سنگھ اور کمل جیت سنگھ نے ہندوستان کو ایشیائی کھیلوں میں دوسرا طلائی تمغہ دلایا
-
دنیا1 week agoامریکہ-چین سربراہ اجلاس کے آغاز پر ٹرمپ کا شی جن پنگ کا شاندار استقبال
-
دنیا1 week agoیو ایس ایس ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
