دنیا
اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کا اتحاد رائے شماری میں آگے، مگر اکثریت سے بدستور دور
یروشلم، اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایک تازہ رائے شماری میں وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والا اتحاد سبقت میں دکھائی دیا ہے، تاہم نہ اسے اور نہ ہی اپوزیشن کو 120 رکنی کنیسٹ میں واضح اکثریت ملنے کا امکان ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل کی ذیلی ویب سائٹ ’زمان اسرائیل‘ کی جانب سے کرائی گئی رائے شماری کے مطابق نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور اپوزیشن لیڈر گادی آئزن کوٹ کی ’یشار‘ پارٹی کو 21، 21 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔
رائے شماری میں نیتن یاہو کی حامی جماعتوں کو مجموعی طور پر 53 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ چار یہودی اپوزیشن جماعتیں 49 نشستیں حاصل کرسکتی ہیں۔ دونوں دھڑے حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستوں سے دور ہیں۔
نیتن یاہو کی مخالفت کرنے والی عرب قیادت والی جماعتوں کو 13 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ یواز ہینڈل اور یارون زیلیخا کی قیادت والے غیر وابستہ دھڑے کو پانچ نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
تازہ نتائج گزشتہ چند ہفتوں میں سامنے آنے والی ان متعدد رائے شماریوں کے بعد آئے ہیں جن میں کئی ماہ تک اپوزیشن سے پیچھے رہنے کے بعد نیتن یاہو کے اتحاد کی حمایت میں اضافہ دکھایا گیا تھا۔ سابقہ سروے میں ’یشار‘ کو لیکوڈ سے کئی نشستوں کی برتری حاصل تھی۔
دیگر جماعتوں میں اپوزیشن کی ’بیاخاد‘ اور ’یسرائیل بیتینو‘ کو 10، 10 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سیفرادی انتہائی قدامت پسند شاس کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔
بائیں بازو کی ’ڈیموکریٹس‘، عرب قیادت والی ’جوائنٹ لسٹ‘ اور اشکنازی انتہائی قدامت پسند ’یونائیٹڈ تورات یہودیت‘ کو آٹھ، آٹھ نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
انتہائی دائیں بازو کی ’اوتزما یہودیت‘ کو چھ، جبکہ ’ریلیجس صہیونزم-زیہوت‘ اور عرب قیادت والی ’راعام‘ کو پانچ، پانچ نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ ہینڈل-زیلیخا دھڑے کو بھی پانچ نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
اوفر ونٹر کی قیادت والی نیتن یاہو حامی ’پیپلز آف اسرائیل‘ پارٹی کو چار نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
رائے شماری میں ووٹروں کے درمیان انتخابات کے نتائج کے حوالے سے وسیع تشویش بھی سامنے آئی۔ نیتن یاہو کے مخالفین میں 88 فیصد نے انتخابی نتائج پر تشویش ظاہر کی، جبکہ ان کے حامیوں میں تقریباً 70 فیصد نے ایسی تشویش کا اظہار کیا۔ مجموعی طور پر 80 فیصد سے زیادہ جواب دہندگان نے نتائج کے بارے میں فکرمندی ظاہر کی۔
یہ سروے 30 ستمبر اور یکم اکتوبر کو یوسی تاتیکا کی ’تاتیکا ریسرچ اینڈ میڈیا‘ نے ’ایجنڈا پینل‘ کے تعاون سے کیا۔ اس میں 500 افراد نے حصہ لیا اور اس میں غلطی کا امکان ±4.4 فیصد بتایا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
واشنگٹن/تہران، امریکہ اور ایران جنگ کے سفارتی حل کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں، لیکن دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے طریقہ کار اور کسی ممکنہ معاہدے کے مقاصد پر گہرے اختلافات کے باعث معاہدے تک پہنچنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
گزشتہ 18 ماہ میں مذاکرات کے دو دور ناکام ہونے کے بعد دو جنگیں ہوچکی ہیں۔ جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت بھی چند دنوں میں ناکام ہوگئی اور دوبارہ لڑائی شروع ہوگئی۔ موجودہ سفارتی کوشش ناکام ہونے کی صورت میں آنے والے ہفتوں میں ایک اور تنازع کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے مذاکراتی انداز میں نمایاں فرق بھی بڑی رکاوٹ ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ فوری معاہدے کے خواہاں ہیں، جبکہ ایران طویل اور مرحلہ وار مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے تاکہ وقت کو مذاکراتی برتری حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکے۔
دونوں ممالک معاہدے کی نوعیت پر بھی مختلف موقف رکھتے ہیں۔ ٹرمپ ایسا جامع معاہدہ چاہتے ہیں جو امریکہ-ایران تعلقات اور پورے مغربی ایشیا پر اثرانداز ہو، جبکہ ایرانی حکام محدود دائرہ کار والے، بالواسطہ اور کم تشہیر کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں، جسے تہران مستقل امن کے بجائے جنگ بندی کے قریب سمجھتا ہے۔
مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ باہمی عدم اعتماد ہے۔ ایرانی حکام کا الزام ہے کہ ٹرمپ نے مذاکرات کے دوران حملے کرکے وعدہ خلافی کی، جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ جون کی مفاہمت کی خلاف ورزی ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملہ کرکے کی۔
امریکی حکام کو یہ خدشہ بھی ہے کہ ایران کی طاقتور پاسداران انقلاب اور دیگر سخت گیر عناصر حکومت کے نسبتاً معتدل حلقوں کی جانب سے کیے گئے کسی معاہدے کی پابندی نہیں کریں گے۔
دونوں ممالک کی داخلی سیاست بھی مذاکرات کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔ ایران میں سفارت کاری کے حامی حلقوں کو سخت گیر عناصر کی تنقید کا سامنا ہے، جبکہ ٹرمپ کو امریکہ میں معاہدے کی مخالفت کرنے والے قدامت پسند حلقوں اور ایسے معاہدے پر بائیں بازو کی تنقید کا سامنا ہے جو جنگ سے پہلے کی صورت حال بحال کرے یا 2015 کے جوہری معاہدے جیسا دکھائی دے۔
ٹرمپ نے جمعرات کو شائع ہونے والے ٹائم میگزین کے انٹرویو میں ایران کی موجودہ تجویز کو ’’کافی نہیں‘‘ قرار دیا اور کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ایران کے ساتھ کبھی امن قائم ہوسکتا ہے۔ انہوں نے وسط مدتی انتخابات کے بعد بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکان کو بھی برقرار رکھا۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعرات کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران کبھی مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹا اور نہ ہٹے گا، تاہم امریکہ کو یہ خیال ترک کرنا ہوگا کہ دہشت گردی کے ذریعے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔
ایرانی پاسداران۔ انقلاب کے بعض عہدیدار اب بھی مذاکرات کے مخالف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جنگ کا خاتمہ میدان جنگ میں دباؤ بڑھا کر ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق ایران کا بنیادی مطالبہ خطے سے تمام امریکی فوجی دستوں کا انخلا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ طویل عرصے تک جنگی حالت برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
فلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
یروشلم، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے کاک پٹ میں حملے کا تعلق ایران سے ثابت ہوا تو تہران کے خلاف ’’بہت سخت‘‘ کارروائی کی جائے گی۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کہا کہ امریکی حکام ممکنہ ایرانی تعلق کی تحقیقات کر رہے ہیں اور جو معلومات انہیں مل رہی ہیں، ان سے بظاہر ایسا تعلق ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔
فلائی دبئی کی دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں عمانی معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر ہندوستانی کپتان سمیت مچھر پر چاقو سے حملہ کیا، جس کے بعد طیارے کو سعودی عرب کے تبوک کی جانب موڑ دیا گیا۔ مسافروں اور عملے نے حملہ آور کو قابو کرلیا اور طیارہ بحفاظت اتار لیا گیا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق، ملزم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اسلام پسند اور جہادی ذہنیت کے آثار ملے ہیں اور تفتیش کار یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ آیا اس کا مقصد طیارے کو گرانا تھا۔
متحدہ عرب امارات نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے یہ معلوم کرنے کی ہدایت دی ہے کہ حملے کا تعلق ’’دہشت گردانہ سرگرمی‘‘ سے تھا یا اسے پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت انجام دیا گیا تھا۔
دریں اثنا، اطلاعات کے مطابق امریکہ خطے میں تقریباً 9,000 اضافی فوجی تعینات کر رہا ہے۔ ادھر ایران اور امریکہ کے درمیان لڑائی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے ثالثی کی کوششیں بھی جاری ہیں، حالانکہ ٹرمپ تہران کی تازہ تجویز کو مسترد کرچکے ہیں۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
فرانس میں طلبہ کے احتجاج میں شدت، تقریباً 400 اسکول بند، پولیس سے جھڑپیں
پیرس، فرانس میں عملے کی کمی، کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ اور اسکولوں کی خراب حالت کے خلاف ہائی اسکول طلبہ کا ملک گیر احتجاج جمعہ کو مزید شدت اختیار کر گیا۔ اس دوران تقریباً 400 اسکول بند رہے اور کئی شہروں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق احتجاج شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 3,000 لائسِی طلبہ کو پولیس حراست میں لیا جا چکا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق صرف جمعرات کو 1,949 طلبہ کو حراست میں لیا گیا۔
گزشتہ ہفتے پیرس کے علاقے سے شروع ہونے والا یہ احتجاج اب ملک بھر میں پھیل گیا ہے اور اس میں تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ فرانس 24 کے مطابق وزیر تعلیم ایڈوارڈ گفری نے کہا کہ فرانس کے 3,700 ہائی اسکولوں میں سے تقریباً 400 جمعہ کو بند رہنے کی توقع ہے، جبکہ تقریباً 100 اسکولوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
پیرس میں دو ہائی اسکولوں کے داخلی راستوں کو آگ لگنے سے نقصان پہنچا، جبکہ بریسٹ میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
اسٹراسبرگ، مارسی، نانٹ اور دیگر شہروں میں بھی پولیس اور طلبہ کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔
وزیر انصاف ژیرالڈ دارماناں نے پراسیکیوٹرز پر زور دیا ہے کہ مبینہ طور پر طلبہ کی جانب سے کیے گئے نقصانات کے سلسلے میں ان کے والدین کے خلاف دیوانی ذمہ داری کے دعوے دائر کیے جائیں۔
وزیر تعلیم گفری نے بتایا کہ کم از کم 65 ملازمین، جن میں 40 ہائی اسکولوں کے پرنسپل بھی شامل ہیں، زخمی ہوئے ہیں، جبکہ تقریباً 170 طلبہ بھی زخمی ہوئے۔ انہوں نے تشدد کو ’’انتہائی پرتشدد عناصر‘‘ کی جانب سے طلبہ تحریک پر قبضہ کرنے کی کوشش قرار دیا۔
طلبہ نے اسکولوں میں طویل اوقاتِ کار، گنجائش سے زیادہ کلاسیں، اساتذہ کی کمی، عملے کی غیر حاضری اور ناکافی سہولیات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان میں ہیٹ ویو کے دوران کلاس رومز کا حد سے زیادہ گرم ہو جانا بھی شامل ہے۔
طلبہ نے اسکولوں کی بندش کو اپنی کامیابی قرار دیا ہے اور پولیس پر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
فرانس کے 2027 کے صدارتی انتخابات سے قبل احتجاج نے سیاسی رنگ بھی اختیار کر لیا ہے۔ حکومت نے بائیں بازو کی جماعت ’’فرانس اَن بووڈ‘‘ (ایل ایف آئی) پر طلبہ تحریک کی حوصلہ افزائی کا الزام عائد کیا ہے۔ ایل ایف آئی کے رہنما مینوئل بومپار نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ’’سازشی نظریات کی طرف جا رہی ہے‘‘۔
وزیر تعلیم گفری جمعہ کو تعلیمی شعبے کی یونینوں اور ہائی اسکول طلبہ کی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے تاکہ بات چیت کا آغاز کیا جا سکے اور کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جائے۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
ہندوستان1 week agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا1 week agoہم فتح کے قریب : نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کے باوجود نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
-
دنیا1 week agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
دنیا1 week agoیو ایس ایس ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں
-
دنیا1 week agoامریکہ-چین سربراہ اجلاس کے آغاز پر ٹرمپ کا شی جن پنگ کا شاندار استقبال
