دنیا
امریکہ-چین سربراہ اجلاس کے آغاز پر ٹرمپ کا شی جن پنگ کا شاندار استقبال
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کا پرجوش استقبال کیا اور بدھ کو میری لینڈ میں ایک فوجی اڈے پر ذاتی طور پر ان کا خیرمقدم کیا۔ تین روزہ سربراہ اجلاس ایسے وقت شروع ہوا ہے جب تجارت، مصنوعی ذہانت، تائیوان اور ایران میں جنگ کے معاملے پر دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے بدھ کی شام جوائنٹ بیس اینڈریوز میں شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کا غیر معمولی طور پر شاندار استقبال کیا۔ تقریب میں 100 فٹ (30 میٹر) طویل سرخ قالین، فوجی طیاروں کی پرواز، 21 توپوں کی سلامی اور امریکی فضائیہ کے بینڈ نے شرکت کی۔
شی کا ایئر چائنا طیارہ مقامی وقت کے مطابق شام 5:39 بجے اترا، جس کے بعد سرخ قالین کے دونوں جانب فوجی اعزاز اور گارڈ آف آنر تعینات ہوگئے۔ ٹرمپ اور میلانیا صدارتی لیموزین ’’دی بیسٹ‘‘ میں پہنچے اور طیارے کی جانب چل کر چینی صدر اور ان کی اہلیہ کا استقبال کیا۔
دونوں جوڑوں نے مصافحہ کیا اور مختصر گفتگو کے بعد ایک ساتھ سرخ قالین پر چلتے ہوئے تصاویر بنوائیں۔
امریکی فوج کے ایئر فورس بینڈ کی جانب سے قومی ترانہ بجائے جانے کے دوران دو بی-1 بمبار طیاروں نے اوپر سے پرواز کی۔ اس کے علاوہ استقبال کے سلسلے میں چھ ایف-16 اور چھ ایف-22 طیارے بھی رن وے پر موجود تھے۔
ٹرمپ کا خود فوجی اڈے پر پہنچ کر شی کا استقبال کرنا اس دورے کی واشنگٹن کے لیے اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ 1962 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کسی امریکی صدر نے فوجی اڈے پر کسی غیر ملکی رہنما کا ذاتی طور پر استقبال کیا ہے۔ اس وقت کے صدر جان ایف کینیڈی نے برطانوی وزیر اعظم ہیرالڈ میکملن کا یہاں استقبال کیا تھا۔
شی کا واشنگٹن کا دورہ، جو 2015 کے بعد ان کا پہلا دورہ ہے، ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا کی دو بڑی معیشتیں کئی برس کی تجارتی کشیدگی کے بعد تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ جدید ٹیکنالوجی اور تزویراتی اثر و رسوخ کے لیے ان کے درمیان مسابقت بھی جاری ہے۔
دونوں رہنماؤں کی جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں بند کمرے میں ملاقات متوقع ہے، جس کے بعد سرکاری عشائیہ ہوگا۔ بات چیت کے ایجنڈے میں محصولات، مصنوعی ذہانت، تائیوان اور ایران جنگ کے وسیع تر اثرات شامل ہونے کی توقع ہے، جبکہ دونوں فریق ایک نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی بھی کوشش کریں گے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ واشنگٹن اور بیجنگ نے محصولات پر جنگ بندی کو جنوری تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ انتظام، جو اصل میں 10 نومبر کو ختم ہونا تھا، بعض اشیا پر محصولات میں کمی اور چین کی جانب سے نایاب ارضی عناصر کی برآمدات پر عائد پابندیوں کو عارضی طور پر روکنے کا باعث بنا۔
بیسنٹ نے چینی نائب وزیر اعظم ہی لی فینگ سے ملاقات کے بعد کہا کہ دونوں فریقوں نے اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ آیا یہ عارضی انتظام بالآخر کسی وسیع تر تجارتی معاہدے کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہم صرف بوسان انتظام کو جاری رکھنے یا بڑے معاہدے پر غور کرنے کے دونوں امکانات کے لیے تیار ہیں۔‘‘
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
پاکستانی فضائی حملوں میں چار افراد کی ہلاکت کے بعد افغانستان کا جوابی کارروائی کا عزم
کابل، پاکستانی فضائی حملوں میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے، افغان طالبان حکومت کے ترجمان نے یہ اطلاع دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان ’’مناسب جواب‘‘ دے گا۔
پاکستان نے جمعرات کو کہا کہ اس نے افغانستان میں ڈرونز کو ذخیرہ کرنے اور انہیں لانچ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے 10 مقامات پر فضائی حملے کیے، جن میں سے بعض ڈرونز پاکستان کے خلاف سرحد پار حملوں میں استعمال کیے گئے تھے۔
افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ فضائی حملے قندھار، پکتیا اور خوست صوبوں میں کیے گئے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق قندھار شہر کے ایک رہائشی نے بتایا کہ جنوبی افغانستان کے شہر میں فضائی حملہ ہوا۔ رہائشی کے مطابق انہوں نے پہلے ایک جنگی طیارے کی آواز سنی، اس کے بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا اور پھر قندھار شہر کے وسط میں آگ بھڑک اٹھی۔
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ فضائی حملے ’’جان بوجھ کر، درست، متوازن اور متناسب‘‘ تھے اور انہیں صرف ان نشاندہی شدہ فوجی اہداف تک محدود رکھا گیا جو براہ راست پاکستان کے خلاف کیے جانے والے حملوں سے منسلک تھے۔
انہوں نے بدھ کو پاکستان میں ڈرونز کے ذریعے ہونے والی ’’جان بوجھ کر اور غیر قانونی دراندازی‘‘ کی مذمت کی۔
انہوں نے کہا، ’’یہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے اور جارحیت کا ایک سنگین اور ناقابل قبول اقدام ہے۔‘‘
طالبان حکام نے اس بات کی تردید کی کہ ان کی حکومت نے بدھ کو پاکستان کے خلاف ڈرون حملے کیے تھے۔
جمعرات کے فضائی حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب پاکستان میں مسلح گروہوں کے حملوں پر سابق اتحادی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں فروری میں دونوں ممالک کے درمیان کئی برسوں کی بدترین لڑائی شروع ہوئی تھی۔
اسلام آباد کا الزام ہے کہ کابل ایسے جنگجوؤں کو پناہ دے رہا ہے جو سرحد پار حملے کرتے ہیں، تاہم افغان طالبان حکومت پاکستان مخالف مسلح گروہوں کو پناہ دینے کی تردید کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ حملے پاکستان کا داخلی مسئلہ ہیں۔
گزشتہ ہفتے شمال مغربی پاکستان میں ایک پولیس مرکز پر حملے میں کم از کم 21 افراد کی ہلاکت کے بعد تقریباً تین ماہ کی نسبتاً کشیدہ خاموشی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہو گئی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے نے دھماکے اور اس کے بعد ہونے والی فائرنگ کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
پیر کو شمال مشرقی افغانستان میں تین مقامات کو نشانہ بنا کر کیے گئے فضائی حملوں میں کنڑ صوبے کے نرگل ضلع میں تین شہری ہلاک ہوئے تھے، افغان حکام نے بتایا تھا۔ اسلام آباد نے کہا تھا کہ اس کارروائی میں 28 ’’دہشت گرد‘‘ مارے گئے۔
اس تازہ کشیدگی سے چین، ترکی، قطر اور سعودی عرب کی جانب سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان دیرپا امن کے لیے جاری ثالثی کی کوششوں کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
فروری میں ہونے والی لڑائی کے بعد سے، جو کئی برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان بدترین لڑائی تھی، سابق اتحادیوں کے تعلقات مسلسل کشیدہ ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
تہران، ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے کسی بھی نئے حملے کی صورت میں جاری مشرق وسطیٰ کی جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے، جبکہ خلیج فارس اور بحیرہ احمر میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے سینئر فوجی مشیر میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی نے کہا ہے کہ ایرانی افواج نے مختلف ممکنہ حالات کے لیے تیاری کر رکھی ہے، جن میں ملک کی تنصیبات یا قومی مفادات پر مزید حملوں کا امکان بھی شامل ہے۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق صفوی نے کہا، ’’ہم نہیں جانتے کہ (امریکی صدر) ٹرمپ اور (اسرائیلی وزیر اعظم) نیتن یاہو کے ذہنوں میں کیا چل رہا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج بدترین حالات سمیت تمام ممکنہ صورت حال کے لیے ہر وقت تیار ہیں اور خبردار کیا کہ مزید کشیدگی سے جنگ کا جغرافیائی دائرہ نمایاں طور پر وسیع ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’اب جبکہ جنگ خلیج اور آبنائے ہرمز سے بحیرہ احمر تک پھیل چکی ہے، یہ ممکن ہے کہ امریکہ کے ساتھ ممکنہ جنگ کے اگلے مرحلے میں یہ محاذ مزید وسیع ہوکر بحر ہند یا کسی اور علاقے تک پہنچ جائے۔‘‘
صفوی کا یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب تنازع پہلے ہی خلیج کے فوری جنگی محاذ سے آگے بڑھ چکا ہے اور بحیرہ احمر اور تزویراتی آبنائے باب المندب کے اطراف کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ باب المندب ایک اہم بحری راستہ ہے جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور وسیع تر بحر ہند سے ملاتا ہے۔
یمن کے حوثی، جو سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے خلاف لڑ رہے ہیں، نے حالیہ دنوں میں یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں کے بعض حصوں پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کیا ہے، جس سے اس تزویراتی آبی گزرگاہ کے اطراف دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد، جن سے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے تازہ مرحلے کا آغاز ہوا، اپنی جنوبی ساحلی حدود کے قریب آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت بھی محدود کردی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی کی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ آبنائے میں کسی بھی طویل رکاوٹ سے بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں اور بحری تجارت پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
صفوی کے بیان سے اشارہ ملتا ہے کہ اگر ایران کو ایک اور حملے کا سامنا کرنا پڑا تو تہران خلیج اور بحیرہ احمر سے باہر تنازع کو وسیع کرنے پر غور کرسکتا ہے، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ایران کون سے فوجی اقدامات کرسکتا ہے یا بحر ہند میں کسی مخصوص ہدف کی نشاندہی کی۔
یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران کو ’’دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست‘‘ قرار دیا۔ صدر نے اپنی تقریر کا بڑا حصہ اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے مختص کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے اس خطرے کا سامنا کیا ہے جس سے امریکہ اور بیرون ملک سابق رہنما نمٹنے میں ناکام رہے تھے۔
سالانہ عام بحث کے لیے جنرل اسمبلی ہال میں جمع عالمی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ 51 برس سے ’’انتہا پسند ایرانی حکومت‘‘ پورے مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر ’’قتل و غارت اور افراتفری‘‘ پھیلا رہی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔‘‘
ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے ایران کو اپنے جوہری پروگرام اور دہشت گردی کی حمایت ختم کرنے کے بدلے اقتصادی تعاون کی پیشکش کی تھی، تاہم تہران نے یہ تجویز مسترد کردی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران شرائط پوری ہونے تک امریکہ سے مذاکرات نہیں کرے گا: محسن رضائی
تہران، ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ جب تک تہران کی شرائط پوری نہیں ہو جاتی، ایران امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔
قبل ازیں ایران کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ملک کے نمائندوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران قطر کے راستے امریکی فریق سے رابطہ کیا تھا۔ ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق اپنی شرائط امریکہ کے سامنے پیش کیں۔ ان شرائط میں تمام محاذوں پر دشمنی کا خاتمہ، امریکی جارحیت کو روکنا، بحری ناکہ بندی اور اقتصادی جنگ، اور منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی شامل تھی۔
مسٹر رضائی نے بدھ کے روز ایرانی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک بیان میں کہا، “جب تک ایران کی شرائط پوری نہیں ہو جاتی، آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا اور نہ ہی کوئی بات چیت ہوگی۔”
انہوں نے کہا کہ ایران نہ تو جون میں اسلام آباد کی دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کے ذریعے قائم کی گئی صورت حال پر واپس آئے گا اور نہ ہی اس سے پہلے کی صورتحال کی طرف۔ مسٹر رضائی نے کہا کہ ایران مذاکرات میں جلدی نہیں کرے گا کیونکہ امریکہ کو ایران کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا۔
اس سے قبل ایران کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے کہا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے سات شرائط رکھی تھیں۔
قابل ذکر ہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران میں اہداف پر حملے کیے تھے جس کے بعد ایران نے جوابی حملہ کیا تھا۔ جون کے وسط میں، دونوں ممالک نے دشمنی ختم کرنے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے، لیکن جلد ہی لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی۔ یہ تنازع ابھی تک حل طلب ہے۔
کشیدگی میں اضافے نے آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کو عملی طور پر روک دیا ہے، جس سے تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور مائع قدرتی گیس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے اور دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر5 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر5 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا6 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
دنیا1 week agoہم نے جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرایا:ایران
-
دنیا1 week agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
ہندوستان1 week agoصرف انعام کا اعلان نہیں، مسعود اظہر کو گرفتار کرے پاکستان: ہندوستان
-
دنیا6 days agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا6 days agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا6 days agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا5 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا6 days agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
