تازہ ترین
سوپور جھڑپ :2مقامی جنگجونوجوان جاں بحق ،مکمل رپورٹ
خبراردو:
قصبہ سوپورکے ایک مضافاتی گاؤں گنڈبراٹھ کلان میں بدھ کی شام شروع ہوئی خونین معرکہ آرائی جمعرات کوعلی الصبح لشکرطیبہ سے وابستہ 2مقامی جنگجونوجوانوں کے جاں بحق ہونے کیساتھ ہی اختتام پذیرہوئی ۔ڈی آئی جی شمالی کشمیراتل کمارنے کہاکہ بدھ کوشام دیرگئے فائرنگ کاتبادلہ ہونے کے بعدرات بھرکیلئے جنگجومخالف آپریشن روک دیاگیاتاہم پورے علاقے کوچاروں اطراف سے سیل رکھاگیاتاکہ محصورجنگجویہاں سے فرارنہ ہونے پائیں ۔انہوں نے کہاکہ جمعرات کوعلی الصبح فیصلہ کن کارروائی کے دوران لشکرسے وابستہ2جنگجومارے گئے ۔اُدھرجنگجومخالف آپریشن مکمل ہونے کے بعدیہاں سے واپس لوٹ رہے سیکورٹی اہلکاروں پرمقامی مشتعل نوجوانوں نے سنگباری کی ،جسکے جواب سیکورٹی اہلکاروں نے آنسوگیس کے گولے داغے ۔اس دوران شمالی قصبہ سوپوراوراسکے نواحی علاقوں میں مکمل ہڑتال رہی جبکہ ممکنہ افواہوں اورمظاہروں کے پیش نظرحکام کی ہدایت پراس پورے علاقے میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل رکھی گئی ۔
پولیس ذرائع نے بتایاکہ جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق مصدقہ اطلاع ملتے ہی فوج کی 22آرآر،سی آرپی ایف ،ریاستی پولیس اوراسکے اسپیشل آپریشن گروپ سے وابستہ اہلکاروں نے بدھ کی دوپہرتقریباً2بجے قصبہ سوپورکے ایک مضافاتی علاقہ گنڈمحلہ براٹھ کلان کومحاصرے میں لیکر جنگجومخالف آپریشن شروع کیا۔ذرائع نے بتایاکہ ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظرقصبہ سوپوراورنواحی علاقوں میں بدھ کی سہ پہرسے ہی موبائل انٹرنیٹ سروس کومنقطع کردیاگیا۔انہوں نے بتایاکہ محاصرے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعدسیکورٹی اہلکاروں نے تلاشی کارروائی عمل میں لائی کیونکہ اسبات کی اطلاع تھی کہ علاقہ میں 2یا3جنگجوچھپے بیٹھے ہیں ۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ تلاشی کارروائی کے دوران بدھ کی شام تاریکی کاسایہ پڑنے کیساتھ ہی محاصرے میں پھنسے جنگجوؤں نے فرارہونے کی کوشش کے تحت سیکورٹی اہلکاروں پرفائرنگ کردی ،جسکے جواب میں فورسزاہلکاروں نے بھی جوابی کارروائی عمل میں لائی ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ بعددوپہرمحاصرے کی کارروائی عمل میں لائے جانے کے بعدجب سیکورٹی اہلکارگھرگھرتلاشی لے رہے تھے تونمازمغرب کے بعدیہاں گولیاں چلنے کی آوازسنائی دی جبکہ اسکے بعدکچھ دھماکے بھی ہوئے ۔انہوں نے کہاکہ شام کاسایہ پڑنے کیساتھ ہی فوجی اورفورسزاہلکاروں نے جنریٹرچالوکئے اورخصوصی لائٹس کوروشن کیاگیا۔ڈی آئی جی شمالی کشمیراتل کمارنے بتایاکہ بدھ کی شام گولیوں کاتبادلہ ہونے سے اسبات کی تصدیق ہوئی کپ جنگجومحاصرے میں پھنس چکے ہیں ،اسلئے فوری طوراضافی کمک طلب کرکے جنگجوؤں کے فرارہونے کی کسی بھی کوشش کوناکام بنانے کیلئے پورے علاقے کوسختی کیساتھ سیل رکھاگیا۔انہوں نے کہاکہ رات بھرکیلئے آپریشن کوروک دیاگیاتاہم پورے علاقے کومحاصرے میں رکھاگیاتاکہ محصورجنگجوفرارہونے نہ پائیں ۔ڈی آئی جی شمالی کشمیرکامزیدکہناتھاکہ جمعرات کوعلی الصبح محصورجنگجوؤں کیخلاف دوبارہ کاروائی عمل میں لائی گئی ،اوراس دوران طرفین کے درمیان گولیوں کاتبادلہ ہوا،جوکچھ وقت تک جاری رہا۔
سینئرپولیس آفیسراتل کمارنے بتایاکہ سیکورٹی اہلکاروں کی فیصلہ کن کارروائی کے نتیجے میں 2جنگجومارے گئے ۔پولیس ترجمان نے مزیدجانکاری فراہم کرتے ہوئے بتایاکہ دونوں جنگجوؤں کی نعشوں اور2 اے کے 47رائفلوں کوجائے جھڑپ سے برآمدکیاگیا۔انہوں نے کہاکہ مارے گئے دونوں جنگجوؤں کی نعشوں کوسوپورپہنچایاگیاجہاں انکی شناخت عمل میں لائی گئی ۔پولیس ترجمان نے بتایاکہ گنڈبراٹھ کلان سوپورمیں جھڑپ کے دوران مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت اوئیس احمدبٹ ساکنہ گنڈبراٹھ سوپوراورطاہراحمدڈارساکنہ سعدپورہ سوپورکے بطورہوئی اوریہ دونوں مقامی جنگجولشکرطیبہ سے وابستہ تھے ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ جنگجوؤں اورفورسزکے درمیان ہوئی طویل معرکہ آرائی کے دوران گولیوں اوردھماکوں کی زدمیں آکرکم سے کم دورہائشی مکانات کوجزوی نقصان پہنچا۔ پولیس ترجمان نے بتایاکہ شناخت کاعمل مکمل ہونے کے بعددونوں جنگجوؤں کی نعشیں لواحقین کے سپردکی گئیں ۔ترجمان نے بتایاکہ سوپوراوراسکے مضافاتی علاقوں میں بدھ کی سہ پہرموبائل انٹرنیٹ سروس کواس بناء پرمعطل رکھاگیاتاکہ ممکنہ افواہوں اورمظاہروں پرروک لگائی جاسکے ۔اُدھردومقامی جنگجوؤں کے جاں بحق ہوجانے کیساتھ ہی جب آپریشن مکمل کرکے فوجی ،فورسزاورایس اؤجی اہلکارگنڈبراٹھ کلان سے واپس جارہے تھے تویہاں مشتعل نوجوانوں نے سیکورٹی اہلکاروں پرسنگباری شروع کردی ،جسکے جواب میں پولیس وفورسزاہلکاروں نے آنسوگیس کے گولے داغے ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ طرفین کے درمیان سنگباری اورٹیر گیس شلنگ کاسلسلہ کچھ وقت تک جاری رہا۔
اس دوران جمعرات کی سہ پہرجب جاں بحق ہوئے جنگجونوجوانوں اوئیس احمدبٹ ساکنہ گنڈبراٹھ سوپوراورطاہراحمدڈارساکنہ سعدپورہ سوپورکی نعشوں کوسوپورسے آبائی علاقوں میں پہنچایاگیاتویہاں بڑی تعدادمیں لوگ جمع ہوئے ۔اس دوران دونوں دیہات میں نوجوان اسلام اورآزادی کے حق میں نعرے بازی کرتے رہے ۔اوئیس اورطاہرکی نمازجنازوں میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی ،جسکے بعددونوں کی نعشوں کوجلوس کی صورت میں نزدیکی مزارشہداء پہنچایاگیاجہاں دونوں جنگجونوجوانوں کی نعشیں اشکبارآنکھوں کی موجودگی میں اورنعروں کے بیچ سپردلحدکی گئیں۔
دنیا
شمالی کوریا آئندہ امریکہ-جنوبی کوریا فوجی مشقوں پر برہم
پیانگ یانگ، شمالی کوریا نے اگلے ہفتے شروع ہونے والی امریکہ اور جنوبی کوریا کی بڑی فوجی مشقوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ایک اشتعال انگیز اقدام قرار دیا ہے جس سے جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے۔
شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعہ کو سرکاری خبر رساں ایجنسی کورین سینٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) کے مطابق کہا کہ امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کے درمیان فوجی تعاون ایک جوہری اتحاد میں تبدیل ہو رہا ہے، اور شمالی کوریا ’’خطرے کی نئی سطح کا جواب دفاعی صلاحیت کی نئی سطح سے دے گا‘‘۔
پیانگ یانگ معمول کے مطابق جنوبی کوریا میں ہونے والی فوجی مشقوں کو اشتعال انگیزی قرار دے کر ان کی مذمت کرتا ہے۔
’’الچی فریڈم شیلڈ‘‘ (Ulchi Freedom Shield) کے نام سے ہونے والی یہ فوجی مشقیں 17 اگست سے شروع ہو کر 27 اگست تک جاری رہیں گی۔ ان میں ڈرون حملوں، جی پی ایس میں خلل اور سائبر حملوں سے نمٹنے کی مشقیں بھی شامل ہوں گی، کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادی شمالی کوریا کی بدلتی ہوئی فوجی صلاحیتوں کے مطابق اپنی تیاریوں کو ڈھال رہے ہیں۔
شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ مشقیں گزشتہ پانچ برس کی مشقوں سے کافی مختلف ہوں گی اور جدید جنگ کے نئے پہلوؤں کی بنیاد پر جنگ لڑنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے منعقد کی جائیں گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’سلامتی یقینی بنانے کا ہمارا مستقل اصول یہ ہے کہ خطرے کی نئی سطح کا جواب دفاعی صلاحیت کی نئی سطح سے دیا جائے۔‘‘
شمالی کوریا نے روس کی یوکرین کے خلاف جنگ میں لڑنے کے لیے اندازاً 12,000 سے 15,000 فوجی بھیجے تھے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اب وہ مزید 10,000 فوجی تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ہزاروں شمالی کوریائی فوجی ہلاک ہوئے، تاہم اس معاہدے کے نتیجے میں شمالی کوریا کو جنگ کے میدان میں قیمتی تجربہ حاصل ہوا، جبکہ اسے ہتھیاروں، توانائی اور براہِ راست مالی امداد کی صورت میں بھی فائدہ ملا۔
امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ افواج کے کمانڈ کے ترجمان کرنل ریان ڈونلڈ نے اس ہفتے کہا کہ یورپ میں جاری جنگ میں شمالی کوریا کی فوجی تعیناتی نے جزیرہ نما کوریا میں امریکی اور جنوبی کوریائی فوجیوں کو درپیش خطرے کو تبدیل کردیا ہے۔انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’انہوں نے وہاں حاصل کیے گئے اسباق کو شمالی کوریا واپس پہنچایا ہے۔ ہماری فوجی تربیت میں اس خطرے کو مدنظر رکھا گیا ہے۔‘‘
شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقیں ایسے وقت میں کی جارہی ہیں جب یورپ، مشرق وسطیٰ اور دنیا کے دیگر حصوں میں فوجی اور سیاسی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید سنگین ہوتی جارہی ہے۔
شمالی کوریا نے جمعہ کو یہ بھی کہا کہ وہ اپنی جوہری دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط کرے گا۔ پیانگ یانگ نے امریکہ پر جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی حد کم کرنے اور دنیا کو ’’جوہری جنگ کے دہانے‘‘ پر پہنچانے کا الزام عائد کیا۔
بدھ کو شمالی کوریا نے جزیرہ نما کوریا کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی جانب ایک بیلسٹک میزائل فائر کیا تھا۔ یہ چھ روز کے اندر شمالی کوریا کی جانب سے کیا جانے والا دوسرا میزائل تجربہ تھا۔
’’الچی فریڈم شیلڈ‘‘ مشقوں میں جنوبی کوریا کے 18,000 فوجی اور ملک میں موجود 28,500 امریکی فوجیوں کے دستوں کے اہلکار حصہ لیں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
میر واعظ کا الزام: ایک بار پھر نظر بند کیا گیا، ’معمول کی صورتِ حال‘ کے دعووں پر سوال اٹھائے
سری نگر، کشمیر کے میر واعظ اور حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے جمعہ کو کہا کہ انہیں ایک بار پھر نظر بند کر دیا گیا ہے اور سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے جانے سے روک دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں میر واعظ نے بتایا کہ یہ نئی پابندی مقدس ماہ ربیع الاول کے آغاز کی شب عائد کی گئی ہے۔
انہوں نے جموں و کشمیر میں حکام کی جانب سے ’معمول کی صورتِ حال‘ کے کیے جانے والے دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں بار بار سری نگر کی جامع مسجد میں نماز ادا کرنے سے روکنا انتظامیہ کے ان سرکاری دعووں کی ساکھ کو ختم کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر حکام خود اپنے معمول کی صورتِ حال کے دعووں پر اتنا اعتماد نہیں کرتے کہ مجھے بار بار جامع مسجد جانے سے روکتے ہیں، تو اس دعوے کی کیا ساکھ رہ جاتی ہے؟‘‘
انتظامیہ کی جانب سے میر واعظ پر عائد پابندیوں کی فوری طور پر کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی گئی۔ اس سے قبل بھی کئی مواقع پر، خاص طور پر جمعہ کے دن، ان پر اسی طرح کی پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں، جس کے باعث وہ تاریخی جامع مسجد میں نماز ادا کرنے اور لوگوں سے خطاب کرنے سے محروم رہے ہیں۔
اس دوران میر واعظ نے ایک بیان جاری کرکے جموں و کشمیر اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو ربیع الاول کے بابرکت ماہ کی مبارکباد دی۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
غزہ سٹی کے پولیس سربراہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک، اسرائیل کی مہلک کارروائیاں جاری
غزہ، تازہ اسرائیلی حملوں میں غزہ سٹی کے پولیس عہدیدار جمال ابو کامل اور خان یونس میں ایک اور شخص ہلاک ہوگیا۔
غزہ کی وزارت داخلہ کے مطابق 43 سالہ کرنل جمال ابو کامل جمعرات کو اس وقت ہلاک ہوئے جب اسرائیلی ڈرون نے غزہ سٹی کے جنوب مغرب میں الرشید اسٹریٹ پر ان کی گاڑی کو تین میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ حملے میں دو دیگر افراد بھی زخمی ہوئے۔
یہ ہلاکت اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی فضائی حملوں کی عارضی معطلی ختم کرنے کے ایک روز بعد ہوئی ہے۔ اس وقفے کے دوران بھی اسرائیلی زمینی حملے جاری رہے، جبکہ اسرائیل اکتوبر میں طے پانے والی نام نہاد ’جنگ بندی‘ کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ابو کامل کو ’’خطرے کو ختم کرنے‘‘ کے لیے نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ وہ حماس کے کمانڈر تھے، تاہم اس دعوے کے ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔
غزہ کی پولیس فورس نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ابو کامل ’’اپنی پولیس کی ذمہ داریاں انجام دینے کے پابند تھے اور ان کا کسی دوسری سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں تھا‘‘۔
غزہ کی وزارت داخلہ نے کہا کہ ابو کامل کو اسرائیلی حملے میں ’’شہید‘‘ کیا گیا۔
حماس نے بھی اس ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’قابض افواج کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف کیے جانے والے وحشیانہ جرائم کا تسلسل‘‘ قرار دیا۔ حماس نے کہا کہ یہ غزہ کی پٹی میں افراتفری اور بدامنی پھیلانے کی اسرائیل کی ’’ناکام اور قابلِ افسوس کوششوں‘‘ کا حصہ ہے۔
جمعرات کو اس سے قبل جنوبی غزہ کے خان یونس میں دو افراد کو لے جانے والی ایک موٹر سائیکل کو بھی اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔ اسرائیل نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ حملے کا ہدف حماس کا ایک کمانڈر تھا، تاہم اس دعوے کے لیے بھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔
بدھ کو اسرائیل نے غزہ میں 3 اگست کے بعد پہلا فضائی حملہ کیا۔ بیت لاہیا میں ایک گاڑی کو نشانہ بنانے والے حملے میں بلدیاتی ادارے کا ایک ملازم ہلاک اور پانچ دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
امریکی دباؤ کے تحت اسرائیل نے ایک ہفتے سے زائد عرصے تک غزہ میں فضائی حملے روک رکھے تھے۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے منصوبے میں ’’اہم پیش رفت‘‘ کے اعلان کے بعد کیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور حماس نے ان کے 15 نکاتی منصوبے پر اتفاق کیا ہے، جس پر غزہ بورڈ آف پیس کے ذریعے عمل درآمد کیا جانا تھا۔ منصوبے کے تحت اسرائیلی فوج کو غزہ سے انخلا کرنا تھا جبکہ حماس کو غیر مسلح ہونا تھا۔
حماس نے کہا تھا کہ وہ مکمل جنگ کی واپسی سے بچنے کے لیے معاہدے کو قبول کرتی ہے، تاہم اس کا اصرار تھا کہ منصوبے پر عمل درآمد اسرائیل کی جانب سے پہلے اپنی فوجیں واپس بلانے اور حملے روکنے سے مشروط ہوگا۔تاہم اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اتوار کو معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ سے اس وقت تک واپس نہیں جائے گی جب تک حماس کو ’’حقیقی طور پر غیر مسلح‘‘ نہیں کردیا جاتا۔ اس اعلان کے تین روز بعد اسرائیلی فضائی حملے دوبارہ شروع ہوگئے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 10 اکتوبر 2025 کو ’’جنگ بندی‘‘ نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیل کے تقریباً روزانہ ہونے والے حملوں میں 1,250 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔
جمعرات کو فلسطینی وزارت خارجہ و تارکین وطن نے امریکی حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔
وزارت نے غزہ واپس آنے والے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فورسز کے حملوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے مسلسل حملوں کی بھی مذمت کی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
