تازہ ترین
سوڈان میں فوج جنگ بندی میں 72 گھنٹے کی توسیع پر رضامند
سوڈان میں متحارب افواج نے اتوار کے روز ایک دوسرے پر جنگ بندی کی تازہ خلاف ورزیوں کا الزام عاید کیا ہے لیکن دونوں فریقوں نے کہا کہ جنگ بندی کے باضابطہ معاہدے کی مدت اتوار کی نصف شب ختم ہونے والی تھی مگر اب اس میں مزید 72 گھنٹےکی توسیع کی جائے گی۔
سوڈانی فوج اور نیم فوجی سریع الحرکت فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان 15 اپریل کو اقتدار کی کشمکش کے نتیجے میں لڑائی شروع ہوئی تھی اوراس میں اب تک سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔
دریائے نیل کے کنارے واقع سوڈانی دارالحکومت خرطوم میں لڑائی میں مصروف متحارب فریقین کے درمیان جنگ بندی کی موجودہ مدت اتوار کی نصف شب(2200 جی ایم ٹی) کو ختم ہو رہی تھی۔سوڈانی فوج نے پہلے اس میں توسیع پررضامندی ظاہر کی ہے اورکہا ہے کہ اسے امید ہے کہ ‘باغی’ بھی معاہدے کی پاسداری کریں گے لیکن اس کا خیال ہے کہ وہ حملے جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اس سے پہلے بھی فریقین امریکا سمیت ثالثوں کی کوششوں کے نتیجے میں ہونے والی جنگ بندی کے دوران میں بھی لڑتے رہے ہیں۔آر ایس ایف کا کہنا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ بین الاقوامی،علاقائی اور مقامی سطح پرمطالبات کے بعد کیا گیا ہے۔
خبررساں ادارے رائٹرز کے ایک صحافی کاکہنا ہے کہ خرطوم میں اتوارکی صبح صورت حال نسبتاً پرسکون رہی، جہاں فوج رہائشی علاقوں میں موجود آر ایس ایف فورسز سے نبردآزما ہے۔
البتہ سوڈانی فوج نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مغرب سے خرطوم کی طرف جانے والے آر ایس ایف کے قافلوں کو تباہ کردیا ہے جبکہ آر ایس ایف کا کہنا ہے کہ فوج نے صوبہ خرطوم کے متعدد علاقوں میں اس کے ٹھکانوں پر حملے کے لیے توپ خانے اور جنگی طیاروں کا استعمال کیا۔
دارالحکومت میں اپنی فورسز کو مضبوط کرنے کی کوشش میں فوج نے ہفتہ کے روز کہا کہ سنٹرل ریزرو پولیس کی خرطوم میں تعیناتی شروع کردی گئی ہے اور آہستہ آہستہ اس کی نفری دارالحکومت کے دیگر علاقوں میں تعینات کی جائے گی۔
سینٹرل ریزرو پولیس سوڈان کی پولیس فورس کا ایک بڑا اور بھاری ہتھیاروں سے لیس ڈویژن ہے جو دارفور کے مغربی علاقے اور جنوبی سوڈان کے نوبا پہاڑوں میں تنازعات سے لڑنے کا تجربہ رکھتا ہے۔
مارچ 2022 میں امریکا نے سینٹرل ریزرو پولیس پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے اس پر 2021 کی فوجی بغاوت کے خلاف خرطوم اور دیگر مقامات پرمظاہرین کے خلاف حد سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔
سوڈان کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس فورس کوان مارکیٹوں اور املاک کی حفاظت کے لیے تعینات کیا گیا ہے جنھیں لوٹ مارکا نشانہ بنایا گیا تھا۔آر ایس ایف نے ہفتہ کے روز اسے لڑائی میں ملوث کرنے پرخبردارکیا تھا۔
‘براہ راست مذاکرات نہیں’
خرطوم میں جاری لڑائی میں اب تک آر ایس ایف کی فورسز شہر بھر میں پھیلی ہوئی ہیں کیونکہ فوج ڈرونز اور لڑاکا طیاروں کے حملوں کے ذریعے انھیں بڑے پیمانے پر نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
دو امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ امریکا نے اپنے شہریوں کوپورٹ سوڈان سے لے جانے کے لیے ایک بحری جہاز بھیجا ہے جبکہ برطانیہ نے پیر کے روز مشرقی بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع پورٹ سوڈان سے اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے اضافی پرواز کے انتظام کا اعلان کیا ہے۔
دریں اثناء سوڈان میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے وولکر پرتھیس نے پورٹ سوڈان میں صحافیوں کو بتایا کہ فریقین کے درمیان ’’کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہیں، مذاکرات کی تیاریاں ہیں‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ علاقائی اور بین الاقوامی ممالک دونوں فریقوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
پرتھیس نے ہفتے کے روزرائٹرزکو بتایا کہ فریقین پہلے کے مقابلے میں مذاکرات کے لیے زیادہ تیار ہیں، انھوں نے امید ظاہر کی کہ فریقین کے نمائندوں کے درمیان جلد براہ راست ملاقات ہوگی جس کا مقصد ‘نگرانی کے طریقہ کار کے ساتھ منظم جنگ بندی کا حصول’ ہے۔
فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان پہلے یہ کَہ چکے ہیں کہ وہ آر ایس ایف کے سربراہ جنرل محمد حمدان دقلو کے ساتھ کبھی مذاکرات میں نہیں بیٹھیں گے۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے الریاض میں جنرل عبدالفتاح البرہان کے سفیردفلہ الحاج علی سے ملاقات کی اور ان سے پُرامن رہنے کی اپیل کی۔متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زاید نے بھی جنرل البرہان سے ٹیلی فون پربات چیت کی ہے۔
واضح رہے کہ سوڈان کی چارکروڑ60 لاکھ نفوس پرمشتمل آبادی میں سے ایک تہائی کو لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی انسانی امداد کی ضرورت تھی جبکہ اس مسلح تنازع نے سوڈان میں جمہوری حکومت کے قیام کے مقصد سے بین الاقوامی حمایت یافتہ سیاسی انتقال اقتدار کے عمل کو پٹڑی سے اتار دیا ہے۔
معروف سویلین سیاستدان خالد عمر یوسف نے ٹویٹرپر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ جنگ کسی واحد فوج یا جمہوری منتقلی کا باعث نہیں بنے گی اور اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ معزول حکومت دوبارہ اقتدار میں نہیں آئے گی۔
سوڈان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ لڑائی میں 528 افراد ہلاک اور 4599 زخمی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے بھی اتنی ہی تعداد میں ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے لیکن ان کا ماننا ہے کہ مہلوکین اور زخمیوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔سوڈان میں جاری لڑائی میں پانچ رضاکار امدادی کارکنان بھی مارے گئے ہیں۔
دنیا
ایران کے وزیر خارجہ عراقی کی قطری ثالثوں سے ملاقات، امریکہ کا جوہری معاملہ حل کیے بغیر معاہدے سے انکار
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقی نے نیویارک میں قطری ثالثوں سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز پر بات چیت کی ہے، جبکہ ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملہ حل کیے بغیر جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
عراقی نے پیر کو ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ قطری ثالث ملاقات میں زیر بحث آنے والی تجاویز امریکہ کے سامنے پیش کریں گے اور انہیں امید ہے کہ واشنگٹن کا حتمی جواب منگل تک موصول ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا، ”ہم نے خیالات اور ایران کی شرائط پوری کرنے کے لیے حل تلاش کرنے اور ان شرائط پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بات کی۔ ان کے پاس کچھ تجاویز تھیں اور ہم نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ وہ انہیں امریکی فریق کے سامنے بھی پیش کریں گے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ جواب کا انتظار کرنے کے لیے نیویارک میں قیام کریں گے، عراقی نے کہا کہ وہ چند گھنٹوں میں تہران روانہ ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا، ”جب بھی قطریوں کے پاس کوئی جواب ہوگا، وہ جانتے ہیں کہ اسے ہم تک کیسے پہنچانا ہے۔”
عراقی نے ان ملاقاتوں کو قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ذریعے جاری پیغامات کے تبادلے کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ ایران کی جانب سے اپنی تجویز پیش کیے جانے کے بعد یہ رابطے ”زیادہ سنجیدہ شکل” اختیار کر گئے ہیں۔
ایران نے جمعہ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنی تجویز پیش کی تھی، جس میں امریکہ سے ایرانی منجمد اثاثے جاری کرنے، پابندیاں اٹھانے اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
عراقی کے مطابق ان اقدامات کو چار یا پانچ دن کے اندر مکمل کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جا سکتی ہے اور ساتویں روز ایران کے جوہری پروگرام سمیت حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے ”ناقابل قبول” قرار دیا تھا۔
الجزیرہ سے بات کرنے والے امریکی عہدیدار نے کہا کہ بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔
عہدیدار نے مذاکرات کو ”مثبت اور تعمیری” قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملہ حل کیے بغیر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ٹرمپ جوہری معاملے میں پیش رفت کے بدلے ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور ایرانی منجمد اثاثے جاری کرنے پر آمادہ ہیں۔
عہدیدار نے کہا، ”ایران نے اشارہ دیا ہے کہ وہ جوہری معاملات پر لچک دکھانے کے لیے تیار ہے، تاہم فریقین اب بھی وعدوں پر عمل درآمد کے وقت اور اس معاملے پر اختلاف رکھتے ہیں کہ پہلے کون سا فریق کون سا قدم اٹھائے گا۔”
امریکی عہدیدار نے ایران کے بارے میں شکوک کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ تہران نے جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی کی اور تجارتی بحری جہازوں پر حملے کیے۔ تہران اس الزام کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے لبنان پر اسرائیلی حملے روکنے کی اپنی ذمہ داری پوری نہ کرکے اور آبنائے ہرمز کے متبادل بحری راستے قائم کرنے کی کوشش کرکے خود اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی۔
جاری۔ یو این آئی۔ع ا۔
ہندوستان
سیتا رمن نے دوحہ میں نیپال، سعودی عرب کے وزرائے خزانہ کے ساتھ دوطرفہ اہمیت کی حامل میٹنگیں کیں
نئی دہلی/ دوحہ، وزیرِ خزانہ محترمہ نِرملا سیتا رمن نے قطر کے اپنے دورے کے دوران نیپال کے وزیرِ خزانہ سوَرن واگلے کے ساتھ ملاقات کی ہے۔
محترمہ سیتا رمن دوحہ میں ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کی سالانہ میٹنگ کے سلسلے میں وہاں گئی ہیں۔ وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ اس میٹنگ کے دوران محترمہ سیتا رمن نے اتوار کے روز نیپال کے وزیرِ خزانہ مسٹر واگلے کے ساتھ ایک الگ میٹنگ کی۔ دونوں وزراء نے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ہوئی دونوں کے درمیان دوبارہ ہوئی اس ملاقات پر مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے نئی دہلی میں ہوئی پچھلی میٹنگ کے دوران ہوئی بات چیت کو آگے بڑھانے کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔
میٹنگ کے دوران محترمہ سیتا رمن اور مسٹر واگلے نے نیپال میں حال ہی میں آئے تباہ کن سیلاب کے بعد بحالی اور اصلاحات کے موضوع پر نیپال کے اندازے اور ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا۔ ساتھ ہی، دونوں نے اس مشکل وقت میں ہندوستان جو بھی مدد دے سکتا ہے، اس کی باریکیوں پر کام کرنے کے لیے دونوں ممالک کی ٹیموں کے درمیان مسلسل بات چیت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزراء نے نئی دہلی میٹنگ میں شروع کیے گئے پروجیکٹوں کی پیش رفت پر بھی بات چیت کی اور مسلسل رابطہ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یو ٹی آئی-این پی آئی لنکج کو جلد شروع کرنے اور استعمال کرنے پر بھی بات چیت ہوئی، کیونکہ یہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند پہل ہے۔
محترمہ سیتا رمن نے اے آئی آئی بی کے بورڈ آف گورنرز کی دوحہ کانفرنس کے دوران سعودی عرب کے وزیرِ خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان سے بھی ملاقات کی۔ مسٹر الجدعان نے ہندوستان کی مضبوط معاشی کارکردگی اور بہتر ہوتے سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے سیتا رمن کو مبارکباد دی اور سعودی معیشت پر اپنی رائے رکھی۔
محترمہ سیتا رمن نے کہا کہ سعودی عرب ہندوستان کا قابلِ اعتماد اور اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔ ساتھ ہی، انہوں نے دفاع، سکیورٹی، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی، ہیلتھ کیئر، تعلیم، ثقافت اور لوگوں کے درمیان باہمی تبادلے جیسے کئی شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان جامع شراکت داری کا ذکر کیا۔ دونوں وزراء نے ہند- سعودی عرب دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے (بی آئی ٹی) پر بات چیت کے کامیاب اختتام کا خیر مقدم کیا۔ اس سے دوطرفہ سرمایہ کاری کے لیے ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد ڈھانچہ ملے گا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بڑھے گا۔ مسٹر الجدعان نے کہا کہ سعودی عرب اس کے جلد نافذ ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورۂ سعودی عرب کے دوران ظاہر کیے گئے نقطۂ نظر کو یاد کرتے ہوئے، دونوں وزراء نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے پر تبادلۂ خیال کیا۔ مسٹر الجدعان نے ہندوستان سے سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرنے میں گہری دلچسپی دکھائی۔
محترمہ سیتا رمن نے اسی دوران سوئٹزرلینڈ کے سفیر اور اے آئی آئی بی میں اس کے نمائندے گورنر پریکشتروں لازیری سے بھی الگ سے ملاقات کی۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
خواتین کو گھر میں بند کرکے رکھنے میں نہیں، مجرموں پر کارروائی ہے حل : راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے خواتین کی سکیورٹی کےتعلق سے حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں گھر میں بند کرکے رکھنا حل نہیں ہے بلکہ سڑکوں کو محفوظ بنانے اور خواتین کے خلاف جرائم کرنے والوں کو سزا دینے کی ضرورت ہے۔
مسٹر گاندھی نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ ملک بھر میں خواتین سڑکوں پر چلنے کے دوران ہراسانی اور عصمت دری کے واقعات سے خوفزدہ ہیں اور حکومت کا جواب ہے کہ انہیں گھر میں رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نظام متاثرہ کو قصوروار ٹھہراتا ہے اور مجرم کو بچاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حل خواتین کو گھر کے اندر رکھنا نہیں، بلکہ سڑکوں کو محفوظ بنانا، خواتین کے ساتھ بدسلوکی کرنے والی مردانہ ذہنیت کا سامنا کرنا اور حملہ کرنے والوں کو تیزی سے اور بغیر کسی استثنیٰ کے سزا دینا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ ہزاروں طلبہ اور نوجوان خواتین کی سکیورٹی کے مطالبے کے حق میں سڑکوں پر ہیں۔ انہوں نے ملک بھر کی زیادہ سے زیادہ نوجوان خواتین، خاص طور پر جین زی سے بڑی تعداد میں آگے آنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ حکومت خواتین کے درد کے تئیں بہری ہے اور دباؤ پڑنے پر ہی سنے گی۔ انہوں نے کہا کہ پرامن مظاہرہ جمہوری حق ہے اور وہ اس کے ساتھ پوری طرح کھڑے ہیں۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا7 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا7 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان7 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر7 days agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
