تازہ ترین
سڑکوں پر چلنے کی پابندی محبوبہ مفتی کی مہربانیوں کا نتیجہ : عمر عبداللہ
خبراردو:
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیرا علیٰ عمر عبداللہ نے شمالی کشمیر کے رفیع آباد بارہمولہ میں چناوی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی اور بھاجپا کی 4سالہ شراکت داری میں ریاست کو تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ملا، اس حد تک اس ریاست کا بیڑا غرق کیا گیا کہ ہمیں اپنی سڑکوں پر چلنے کی بھی اجازت نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب بارہمولہ سے اُدھمپور تک شاہراہ ہفتے میں دو دن عام لوگوں کے چلنے پر پابندی ہوگی اور یہ سب کچھ محبوبہ مفتی کی مہربانیوں کا نتیجہ ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’مشکل سے ہم نے اس ریاست کو 2014میں ایک مقام پر پہنچایا تھا ، جہاں امن و امان ، خوشحالی اور ترقی کا دور دورہ تھا لیکن 2015میں پی ڈی پی اور بھاجپا کے ملن نے سب کچھ تباہ کردیا، جو ایک نہ مٹنے والی حقیقت ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ 2014میں بے تحاشہ گرفتاریاں اور پبلک سیفٹی ایکٹ نہیں لگایا جارہا تھا، این آئی اے کی سختیاں اور نوجوانوں اور مذہبی رہنماؤں کی تنگ طلبی نہیں کی جارہی تھی، اُس وقت جماعت اسلامی پر پابندی نہیں لگائی گئی تھی، 2014سے پہلے شاہراہ بند نہیں تھی، کیونکہ اس کی ضرورت ہی نہیں پڑی، حالات بالکل ٹھیک تھے اور ہم ان عوام کش اقدامات کی اجازت بھی نہیں دیتے۔یہ سب کچھ محبوبہ مفتی مفتی کی مہربانی ہے کہ ہمیں آج اپنی سڑکوں پر چلنے کی اجازت نہیں۔‘‘
ہفتے میں دو دن شاہراہ پر عام لوگوں کے چلنے کی پابندی کو تغلکی فرمان قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا کہ حکمنامہ جاری کرنے سے پہلے کسی نے یہ بھی نہیں سوچا کی یہاں کے مریض ہسپتال کیسے جائیں گے، یہاں کے ملازم دفتر کہاں سے جائینگے، یہاں کے بچے کن راستوں سے سکول جائینگے؟ عام لوگ اپنا رعبور و مرور کیسے کریں گے؟ کیا نریندرمودی یہاں ہیلی کاپٹر بھیجیں گے؟اسی لئے میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ ان عناصر کو مسترد کریں جن کی بدولت آج ہم اپنی سڑکوں کا استعمال نہیں کرسکتے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’اس ریاست کو اس دلدل سے نکالنے کیلئے آنے والے پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات میں لوگوں کو صحیح فیصلہ کرنا ہوگا، مجھے یاد رہے کہ 2008میں میں مجھے اور محبوبہ مفتی کو پارلیمنٹ میں ریاست پر بات کرنے کیلئے کہا گیا، 5منٹ میں مجھ سے جتنا ہوسکا میں نے کہہ دیا لیکن جب سپیکر نے محبوبہ مفتی کو کشمیر پر بات کرنے کیلئے کہا تو موصوفہ نے کہا ’’میں کیا بولوں یار‘‘ اور بیٹھ گئیں۔ کیا ہمیں ایسے نمائندے چاہئے جو وہاں خاموش رہیں؟ہم نے پی ڈی پی کے اُس نمائندے کو بھی دیکھا جسے بارہمولہ کے لوگوں نے ووٹ دیئے اور اُس نے پارلیمنٹ میں جاکر مودی سے کہا کہ کشمیر کا نوجوان محض دو جوڑے کرتے پجامے کیلئے بندوق اُٹھاتا ہے اور اپنی جان قربان کرتا ہے۔چاپلوسی، اقتدار پرستی اور موقعہ پرستی کی اس سے زیادہ اور کیا حد ہوسکتی ہے۔میں دعوے کیساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جب اکبر لون صاحب پارلیمنٹ جائیں گے تو کشمیریوں کی بات کرینگے اور مودی بھی خاموش سے اُن کو سنیں گے‘‘۔
پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے این سی نائب صدر نے کہا کہ ’’محبوبہ جی آج کہتی ہیں کہ وہ دفعہ370پر آواز اُٹھائیں گی، جب مودی نے اُن کے والد مرحوم مفتی محمد سعید کی سرینگر کے عوامی جلسے میں بے عزتی کی تو موصوفہ نے اُس وقت خاموش رہیں تو دفعہ370پر کیا آواز اُٹھائیں گی۔جب یہاں آپریشن آل آؤٹ شروع محبوبہ مفتی خاموش رہی، جب نئے سرے سے کریک ڈاؤنوں کا سلسلہ شروع ہوا وہ خاموش رہیں، جب 35اے کیخلاف سپریم کورٹ مین کیس ہوا وہ خاموش رہیں، بھاجپا خصوصی پوزیشن کی دھجیاں اُڑا رہے تھے موصوفہ خاموش رہیں، آر ایس ایس والے ہتھیار بند ریلیاں نکال رہے تھے محبوبہ مفتی خاموش بیٹھی، بیروہ کے فاروق ڈار کو فوج کی جیپ کیساتھ باندھ کر درجن بھر دیہات میں گھمایا گیا اُس وقت بھی محبوبہ مفتی خاموش رہیں،آج ہم کیسے اُمید کرسکتے ہیں کہ محبوبہ مفتی کشمیریوں کے حق میں آواز اُٹھائیں گی‘‘۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ محبوبہ مفتی اُس وقت بھی خاموش تماشائی بنی بیٹھی جب یہاں کے نوجوانوں نے ازسرنو بندوقیں اُٹھانا شروع کیا اور اُس وقت بھی آواز بلند نہیں کی جب مرکز نے ریاست کیساتھ سیاسی بات چیت کرنے سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم کہتے آئے ہیں جموں وکشمیر بندوق کا مسئلہ نہیں، یہ پیسے کا مسئلہ نہیں، یہ نوکری یا روزگار کا مسئلہ نہیں، یہ ترقی اور ترقیاتی کاموں کا مسئلہ ، جموں وکشمیر کا بنیادی مسئلہ سیاسی ہے اور بندوق کی نوک سے اس کی ہیت کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا، سیاسی مسئلے کا حل یہاں کے لوگوں کیخلاف سازشیں کرنے سے نہیں ہوگا، سیاسی مسئلہ حل ہوتا ہے تو بات چیت کے ذریعے ہوتا ہے۔نیشنل کانفرنس کی حکومتوں کے دوران حزب المجاہدین کیساتھ بات ہوئی اور حریت کیساتھ بھی بات ہوئی کیونکہ ہم نے ہمیشہ بات چیت کو ہی ترجیح دی اور مرکز کو بھی قائل کیا‘‘۔ اس موقعے پر صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، نامزداُمیدوار ایڈکیٹ محمد اکبر لون، سابق ایم پی شریف الدین شارق، ضلع صدر جاوید احمد ڈار، شمی اوبرائے، غلام حسن راہی، جنک سنگھ سوڑھی، ایڈوکیٹ نیلوفر مسعود بھی موجود تھیں۔
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
