جموں و کشمیر
سیاحوں کی متوقع تعداد میں کمی، ہر شعبے کو نقصانات کا سامنا :وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ
یہ احساس ہے کہ BJPکی انتخابی شکست ریاستی درجہ کی بحالی میں رکاﺅٹ بنی
جموں و کشمیر کا ریاست نہ ہونامنتخب حکومت کاسب سے بڑا چیلنج
سری نگر :جے کے این ایس : وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو خطے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی شکست کی سزا نہیں دی جا سکتی۔عمرعبداللہ نے کہاکہ یہاں لوگوںمیں یہ ایسا احساس ہے کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ نہیں مل سکتا کیونکہ بی جے پی نے اسمبلی انتخابات نہیں جیتے۔ جے کے این ایس مطابق نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں سے تین طرفہ عمل کا وعدہ کیا گیا تھا جس میں حد بندی، انتخاب اور ریاست کا درجہ شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کا درجہ بحال نہیں کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی شکست کی وجہ سے اسے بحال نہیں کیا جا سکتا۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں وکشمیر میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ اس کی ریاست کا درجہ بحال نہیں ہو گا کیونکہ بی جے پی گزشتہ سال اسمبلی انتخابات نہیں جیت سکی تھی۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی واحد پارٹی ہے جس نے ریاست کی بحالی کی مخالفت کی۔عمرعبداللہ نے یہاں اپنے نجی دفتر کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو ریاست کا درجہ نہیں ملے گا کیونکہ بی جے پی انتخابات میں ہار گئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ یہ ایک ناانصافی ہے کیونکہ کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ ریاست کا درجہ تب ہی بحال ہوگا جب بی جے پی جیتے گی۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ جونیشنل کانفرنس کے نائب صدر بھی ہیں، نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو بی جے پی کی شکست کی سزا نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت منتخب حکومت کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ جموں و کشمیر ایک ریاست نہیں ہے۔ عمر عبداللہ نے کہاکہ ہمیں امید تھی کہ عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں کے پیش نظر ریاست کی حیثیت بحال ہو جائے گی اور یہاں تک کہ سپریم کورٹ کو بھی سہ رخی عمل کے بعد اس کی بحالی کے بارے میں بتایا گیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ اگر ریاست کی بحالی کی مخالفت ہے تو وہ صرف بی جے پی کی طرف سے آرہی ہے۔عمرعبداللہ نے کہا کہ ان کی11 ماہ کی حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ جموں و کشمیر ایک ریاست نہیں ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جس طرح سے لوگوں سے وعدہ کیا گیا تھا اور سپریم کورٹ کو مطلع کیا گیا تھا، ہمیں توقع تھی کہ یہ تین مراحل پر مشتمل عمل ہوگا: پہلے حد بندی، پھر انتخابات، اس کے بعد ریاست کی بحالی۔انہوںنے کہاکہ حد بندی ہوئی، انتخابات ہوئے اور لوگوں نے جوش و خروش سے انتخابات میں حصہ لیا۔ یہ بی جے پی کی بدقسمتی تھی کہ وہ انتخابات نہیں جیت سکی، لیکن لوگوں کو اس کی سزا نہیں دی جا سکتی ۔
عمرعبداللہ نے کشمیر میں سیاحت پر کہا کہ اسٹیک ہولڈرز خوش نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے وادی میں سیاحت کے احیاءکے لیے کوششیں کیں۔ لیکن سیاح اس تعداد میں نہیں آئے جس طرح ہماری توقع تھی۔ لیکن ہم اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ حالیہ یاتریوں کے بعد سیاحوں کی آمد میں اس طرح اضافہ نہیں ہوا جس کی ان کی توقع تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاحوں کی متوقع تعداد میں کمی کی وجہ سے ہر شعبے کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم سیاحوں کو جموں و کشمیر کی طرف راغب کرنے کے لیے ہماری کوششیں جاری ہیں۔ ’مجھے محمدﷺ سے پیار ہے‘مہم سے متعلق تنازعہ کے بارے میں پوچھے جانے پر، عمرعبداللہ نے کہا کہ صرف ایک ذہنی طور پر بیمار شخص ہی ان الفاظ کو لکھنے کا مقدمہ بنا سکتا ہے۔انہوں نے زور دے کر کہاکہ ان تین الفاظ سے کس کو کوئی مسئلہ ہو سکتا ہے میں یہ سمجھنے میں ناکام ہوں کہ یہ گرفتاری کی بنیاد کیسے بن سکتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ میں چاہتا ہوں کہ عدالتیں اسے جلد از جلد درست کر دیں۔ مجھے محمدﷺ سے محبت ہے لکھنا کیسے غیر قانونی ہے۔عمرعبداللہ نے کہا کہ اگر اس مہم کو مسلمانوں سے جوڑا بھی گیا ہو تب بھی ’آئی لو محمدﷺ‘لکھنا غیر قانونی نہیں ہو سکتا۔
انہوںنے مزیدکہاکہ کیا دوسرے مذاہب کے لوگ اپنے مقدس ہستیوں اور رہنماو ¿ں کی تعریف نہیں کرتے جب آپ کشمیر سے باہر سفر کرتے ہیں تو شاید ہی کوئی ایسی گاڑی ہو جس میں دیوتا کی تصویر نہ ہو، اگر یہ غیر قانونی نہیں ہے تو یہ غیر قانونی کیسے ہو جاتا ہے ۔
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں یومِ آزادی سے پہلے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیا
سرینگر، جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلن پربھات نے جمعرات کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں یومِ آزادی کی تقاریب سے پہلے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوں کو مکمل طور پر الرٹ رہنے اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کو مضبوط کرنے کی ہدایت دی۔
میٹنگ میں جموں و کشمیر پولیس، بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف)، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کے سینیئر حکام شامل ہوئے۔ ان میں اسپیشل ڈی جی پی (ہم آہنگی)، اے ڈی جی پی (سی آئی ڈی)، کشمیر اور جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی)، رینج ڈی آئی جی، اضلاع کے ایس ایس پی اور دیگر حکام شامل تھے۔
مسٹر پربھات نے میٹنگ میں 15 اگست کی تقاریب کے لیے سیکورٹی انتظامات اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ الرٹ رہیں تاکہ یہ قومی تقریب بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں سیکورٹی نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے فورسیز کی موثر تعیناتی، علاقے میں بہتر نگرانی اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر بھی زور دیا۔
پولیس ڈائریکٹر جنرل نے اہم مقامات، بالخصوص سرینگر کے بخشے اسٹیڈیم میں انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے تقریب کے مقام کے اندر اور آس پاس ٹریفک کنٹرول اور پارکنگ مینجمنٹ کو موثر طریقے سے کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ باہمی ہم آہنگی کو بہتر رکھیں تاکہ تقریب میں شرکت کرنے والے لوگوں کو کم سے کم پریشانی ہو اور انہیں تمام ضروری سہولیات آسانی سے مل سکیں۔ سیکورٹی تیاریوں، جوانوں کی تعیناتی، انٹیلی جنس معلومات، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر انتظامات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل پورے کشمیر میں سکیورٹی مزید سخت
سری نگر، یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر پورے کشمیر میں سکیورٹی انتظامات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام نے 15 اگست کی تقریبات کو پرامن اور بلارکاوٹ یقینی بنانے کے لیے وادی کے مختلف علاقوں میں فل ڈریس ریہرسل بھی کی۔
جمعرات کو یہاں بخشی اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ودھی کمار بردی نے کہا کہ قومی تقریب کی تیاریوں کے سلسلے میں وادی کے تمام اضلاع میں سکیورٹی ریہرسل کی گئی ہے۔
بردی نے کہاکہ ’’وادی کے تمام اضلاع میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی انتظامات کی بھی مکمل ریہرسل کی گئی ہے، تاکہ 15 اگست کو ہم مرکزی تقریب کو بلارکاوٹ منعقد کر سکیں۔‘‘
گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں ہونے والے دو دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ وادی بھر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان معاملات میں تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ اضلاع کی جانب سے تمام مضبوط سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے۔‘‘
بردی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں اور 15 اگست کو ایک قومی تقریب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ انتظامی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے دارالحکومت میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے عوام سے ان تقریبات کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
دہلی کے لال قلعہ میں 25 نومبر کو ہونے والے دھماکے، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے، کو مبینہ طور پر القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کی ایک ذیلی تنظیم سے باضابطہ طور پر جوڑے جانے سے متعلق رپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو تفصیلات الگ سے شیئر کی جائیں گی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’ابھی ہماری معلومات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کشمیری پنڈتوں کو مبینہ دھمکیوں کی رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنے بیان کو یومِ آزادی اور اس سے متعلق سکیورٹی انتظامات تک محدود رکھیں گے۔
حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک دھمکی آمیز خط میں چھ کشمیری پنڈتوں کے نام درج ہونے کے بعد سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کو زبانی طور پر مشورہ دیا ہے کہ وہ 20 اگست تک اپنے دفاتر میں حاضر نہ ہوں۔
وادی میں تقریباً 6,000 مہاجر ملازمین کام کر رہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں اور اقلیتی ملازمین کی رہائش والے کیمپوں اور دیگر مقامات پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
