ہندوستان
سیاسی شائستگی کو برقرار رکھنا وزیراعظم کی ذمہ داری،انہوں نے اپوزیشن کی توہین کی: پرینکا
گوالیار، ملک کی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد ‘انڈیا’ کے قیام کے بعد پہلی بار وزیر اعظم نریندر مودی پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ وزیر اعظم پر سیاسی شائستگی برقرار رکھنے کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے اور انہوں نے اپنی اپنی ریاستوں کی نمائندگی کرنے والے اپوزیشن لیڈروں کو ایک ’سر‘ میں چور کہہ کر ملک کے مختلف سینئر اپوزیشن لیڈروں کی توہین کی ہے۔
مدھیہ پردیش کے گوالیار میں اپنے ایک روزہ قیام کے دوران کانگریس کی طرف سے منعقدہ ‘جن آکروش ریلی’ سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ واڈرا نے ایک ایک کر کے کئی مسائل پر وزیر اعظم پر حملہ کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم کو گھیرنے کی کوشش کی یہاں تک کہ وزیر اعظم کی طرف سے منی پور کے بارے میں اتنے لمبے عرصے تک کوئی بیان نہیں آیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مختلف صنعتی گھرانوں کو لے کر مرکزی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ مدھیہ پردیش میں آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل منعقد کی گئی اس ریلی میں ریاست میں کانگریس کے سینئر لیڈران سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ، دگ وجئے سنگھ اور اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر گووند سنگھ بھی موجود تھے۔
اپنے خطاب کے آغاز میں محترمہ واڈرا نے کہا کہ ہندوستانی سیاست کی بنیاد تحریک آزادی سے رکھی گئی تھی۔ ہمارے ملک کی روایت رہی ہے کہ ہم لیڈروں میں شائستگی، سادگی اور سچائی جیسی خوبیاں تلاش کرتے ہیں، لیکن آج حالات بدل چکے ہیں۔ ہر پلیٹ فارم پر لیڈروں نے دوسروں کے عیب ڈھونڈنا شروع کر دیے ہیں۔
اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ ملک کے وزیر اعظم پر سیاسی تہذیب کو برقرار رکھنے کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ حال ہی میں اپوزیشن کا ایک بڑا اجلاس ہوا، اگلے ہی دن وزیر اعظم کا بیان آیا، جس میں انہوں نے ‘سب دھان 22 پسیری’ کی طرز پر اپوزیشن کے تمام لیڈروں کو چور کہا۔ اپوزیشن کے سبھی لیڈر سینئر ہیں، ہر پلیٹ فارم پر اپنی اپنی ریاستوں کی نمائندگی کرتے ہیں، سبھی بڑی پارٹیوں کے لیڈر ہیں، جنہوں نے طویل عرصے تک ملک کی خدمت کی، لیکن وزیر اعظم نے ان سب کی توہین کی ہے۔
اس کے بعد محترمہ واڈرا نے کہا کہ پورا منی پور دو مہینے سے جل رہا ہے، لیکن وزیر اعظم نے 77 دنوں تک کچھ نہیں کہا۔ بدقسمتی سے کل ایک خوفناک ویڈیو منظر عام پر آیا، جس کے بعد وزیر اعظم کو منی پور پر بولنے پر مجبور ہونا پڑا۔ وزیراعظم نے ایک جملہ بولا لیکن اس میں بھی ملی جلی سیاست کی۔ ان ریاستوں کا ذکر کیا جہاں اپوزیشن کی حکومتیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپنی 30 منٹ کی تقریر میں وہ بھی وزیر اعظم مودی پر 10 منٹ، مدھیہ پردیش حکومت کے گھپلوں پر 10 منٹ اور مرکزی وزیر جیوترادتیہ سندھیا پر 10 منٹ بول سکتی ہیں، لیکن وہ ایسا نہیں کریں گی کیونکہ انہیں عوامی مسائل پر بات کرنی ہے۔
اس سلسلے میں انہوں نے عوام سے کہا کہ عوام کو یہ سوال اٹھانا چاہیے کہ حکومت نے ملک کی ساری جائیداد دو تین خاندانوں کو کیوں بیچ دی؟ حکومت نے روزگار کی کمپنیاں اپنے دوستوں کو کیوں فروخت کیں؟ اس کے ساتھ انہوں نے پبلک سیکٹر کی کمپنیوں، چھوٹے کاروبار اور فوج کی اگنیویر بھرتی اسکیم پر بھی سوالات اٹھائے۔
کانگریس کی جنرل سکریٹری نے دعویٰ کیا کہ ملک کا ایک صنعتکار ایک دن میں 1600 کروڑ روپے کما رہا ہے، وہیں ایک کسان ایک دن میں 27 روپے بھی کمانے سے قاصر ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
جموں و کشمیر10 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا14 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا14 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا10 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا14 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا13 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان12 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
