جموں و کشمیر
شری امرناتھ یاترا:پوتر گھپا تک راستوں کی نگرانی کے لئے کواڈ کوپٹر، نائٹ وژن آلات کا استعمال:فوج
سری نگر، فوج کا کہنا ہے کہ امسال شری امرناتھ جی یاترا کے پر امن اور ہموار انعقاد کے لئے سیکورٹی کے اضافی انتظامات عمل میں گئے ہیں اور کواڈ کوپٹرس کے علاوہ نائٹ وژن آلات کو استعمال میں لایا گیا ہے تاکہ یاترا کے دونوں راستوں پر دن رات کی نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ فوج، پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز کو پورے راستے اور اندرونی علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے اور فوج یاترا کے احسن انعقاد کے لئے پوری طرح سے تیار ہے۔
فوج کی آر آر کے 1سیکٹر کمانڈر امن دیپ سنگھ مالہی نے ان باتوں کا اظہار ہفتے کو پہلگام بیس کیمپ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ‘ہم سب سے پہلے یاتریوں کا استقبال کرتے ہیں امسال پر امن اور ہموار یاترا کے انعقاد کے لئے سیکورٹی کے اضافی انتظامات کئے گئے ہیں’۔ان کا کہنا تھا: ‘پہلگام اور بالتل بیس کیمپوں سے پوتر گھپا تک جانے کے راستوں پر دن رات نگرانی کے لئے کواڈ کوپٹر اور نائٹ وژن آلات کا استعمال کیا گیا ہے، فوج کے علاوہ پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز کو اونچی جگہوں پر تعینات کیا گیا ہے، اندرونی علاقوں میں بھی سیکورٹی فورسز کی ٹکڑیوں کو تعینات کیا گیا ہے’۔انہوں نے کہا: ‘فوجی جوانوں کو سمجھایا گیا ہے کہ وہ یاترا کے دوران مقامی لوگوں کی کم سے کم تکلیف کو یقینی بنائیں تاکہ ان کا کام کاج متاثر نہ ہوسکے’۔
سیکٹر کمانڈر نے کہا کہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ‘مائونٹین اینڈ اولانچ ریسکیو ٹیموں کو بھی تعینات کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ امسال فوری اور موثر رسپانس ٹیمیں کسی بھی قدرتی آفت کی صورت میں تیز انخلا کو یقینی بنائیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ امسال این ڈی ایم اے، این ڈی آر ایم اور ایس آر ڈی آر ایم کی ٹیموں نے مشترکہ مشقیں کیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بر وقت کارروائیوں کی انجام دہی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس دوران فوج کی آر آر کے 3 سیکٹر کمانڈر اتل راجپوت نے کہا کہ پر امن یاترا کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے کثیر سطحی سیکورٹی گرڈ کو لگا دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پوتر گھپا کی طرف جانے والے راستوں کی چوبیس گھنٹے نگرانی کو یقینی بنانے کے لئے نگرانی کے آلات، نائٹ وژن آلات، انٹی ڈرون ٹیمیوں اور بم سکاڈ کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں یاتریوں کے انخلا کے لئے ایمرجنسی ہیلی پیڈس کو تیار رکھا گیا ہے۔
فوجی افسر نے کہا کہ سال گذشتہ کی قدرتی آفت کو مد نظر رکھتے ہوئے امسال اس سلسلے میں موثر اقدام کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا: ‘ہم مقامی لوگوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں جو یاترا کے کلیدی متعلقین ہیں یہ یاترا کشمیریت کا مظاہرہ کرنے کا ایک اور موقع ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ فوج آخری یاتری کی محفوظ واپسی کو یقینی بنائے گی۔
قابل ذکر ہے کہ 62 دنوں پر محیط شری امر ناتھ جی یاترا کا ہفتے کی صبح آغاز ہوا اور یہ یاترا 31 اگست کو اختتام پذیر ہوگی۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
جموں جی آر پی نے 12 سال بعد مفرور کو گرفتار کر لیا
جموں، گورنمنٹ ریلوے پولیس (جی آر پی) جموں نے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 12 سال کے بعد ایک مفرور کو گرفتار کر لیا ہے۔
سرکاری ہینڈ آؤٹ کے مطابق، مفرور کی شناخت پنکج کمار ولد روی داس مندر ہری پورہ، آر ایس پورہ جموں، حال مقیم ایسٹ حسین پورہ شریف پورہ، رانی بازار امرتسر کے طور پر ہوئی ہے، جو ریلوے کورٹ جموں سے جی آر پی مانوال میں درج ایک کیس کی سماعت کے دوران 12 سال سے مفرور تھا۔
انہیں ریلوے کورٹ جموں میں پیش کیا گیا اور ڈسٹرکٹ جیل امپھالا جموں میں بھیج دیا گیا۔
ملزم چھین جھپٹی اور چوری کے ایک اور کیس میں بھی ملوث پایا گیا جبکہ پنجاب کے بڑے شہروں اور جموں و کشمیر میں ایک این ڈی پی ایس کیس بھی اس کے خلاف درج ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ ملزم 2022ء سے 2025ء تک سب جیل پٹھان کوٹ میں بند رہا۔
ترجمان کے مطابق یہ جی آر پی جموں کی جانب سے دو سال میں گرفتار کیا گیا 17واں مفرور ہے۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی کے اختیارات کو نوکرشاہی سے ملے چیلنج پر کانگریس ایم ایل اے کے سوالات
سری نگر، کانگریس ایم ایل اے نظام الدین بھٹ نے منگل کے روز سینئر بیوروکریٹس کی جانب سے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی کارروائی اور اختیارات کو چیلنج کرنے کے مجاز ہونے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ افسران منتخب حکومت سے آزاد ہو کر کام نہیں کر سکتے۔
اسمبلی کارروائی کے دوران قانون کا نقطہ اٹھاتے ہوئے بھٹ نے کہا کہ سینئر بیوروکریٹس کی جانب سے اسپیکر کو بھیجے گئے خطوط ایوان کی “عزت، وقار اور اختیارات” کو چیلنج کرنے کے مترادف ہیں۔
بھٹ نے پوچھا کہ اگر ایک عام قانون ساز حکومت سے مشورہ کیے بغیر حکومت کی حیثیت سے کام نہیں کر سکتا، تو افسران اس ایوان کے وقار اور اتھارٹی کو کیسے چیلنج کر سکتے ہیں؟
ان کے یہ تبصرے جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری اٹل ڈلو اور سکریٹری قانون اچل سیٹھی کی جانب سے اسمبلی اسپیکر کو الگ الگ لکھے گئے خطوط کے بعد سامنے آئے، جن میں دلیل دی گئی تھی کہ ریاست کے درجے کی بحالی کی قرارداد کو زیر غور نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے۔ جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کے روز بی جے پی ایم ایل اے کے ہنگامے اور واک آؤٹ کے درمیان ریاست کے درجے کی بحالی کی قرارداد منظور کی تھی۔
یہ خطوط وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے قرارداد پیش کرنے کے چند دن بعد بھیجے گئے تھے۔
بھٹ نے بیوروکریسی کے اعتراضات کی آئینی اور قانونی بنیاد پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ آئین یا جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ میں کہاں اسمبلی کو اپنے قانون سازی اور طریقہ کار کے اختیارات استعمال کرنے سے روکا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نہ تو آئین، نہ ری آرگنائزیشن ایکٹ، نہ یہ خود قانون ساز ادارہ، اور نہ ہی کوئی روایت یا نظیر اس نفی کرتی ہے۔
انہوں نے جموں و کشمیر کے سابقہ سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کے تحت بنائے گئے بعض قواعد و ضوابط اور نظیروں پر مسلسل انحصار پر بھی سوال اٹھایا، اور دلیل دی کہ سابقہ تین سطحی نظام کے خاتمے کے بعد ادارہ جاتی ڈھانچہ بدل چکا ہے۔
بھٹ نے کہا کہ وزراء منتخب نمائندے ہیں جو عوام کے سامنے جوابدہ ہیں اور انہیں بیوروکریٹک مداخلت کے ذریعے اپنی ذمہ داریاں نبھانے سے نہیں روکا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک کام کا تعلق ہے، وزراء فعال ہیں۔ وہ عوام کے سامنے جوابدہ ہیں، ان کے پاس عوامی مینڈیٹ ہے اور وہ جوابدہ ہیں۔ لیکن ان کے ہاتھ باندھے جا رہے ہیں۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے بیوروکریٹک مداخلت کو “مکمل طور پر غیر آئینی” قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ اس خط کو باقاعدہ طور پر ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے اور اس پر بحث کرائی جائے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز اسمبلی میں کہا تھا کہ انہیں اپنی طرف سے پیش کی گئی قرارداد پر اسپیکر کو رائے دینے والے افسران کے بارے میں باخبر نہیں کیا گیا تھا۔
عمر نے کہا کہ اسپیکر صاحب، میں وزیر قانون اور چیف منسٹر بھی ہوں لیکن مجھے اس بات کا کوئی علم نہیں کہ میری بیوروکریسی نے میری قرارداد پر آپ کو کوئی رائے بھیجی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کس کی ہدایت پر بھیجی گئی تھی۔
بھٹ کی یہ مداخلت ریاست کے درجے کی قرارداد پر اسمبلی میں جاری وسیع تر تصادم کے درمیان سامنے آئی، جس میں اپوزیشن اس کے مندرجات پر سوال اٹھا رہی ہے اور حکومت اس مسئلے پر بحث کرنے کے ایوان کے اختیار کا دفاع کر رہی ہے۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں زبردست ہنگامہ آرائی
سری نگر، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں منگل کے روز اس وقت زبردست ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی جب قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے ریاست کے درجے کی بحالی پر قرارداد منظور کرنے میں ایوان کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھاتے ہوئے اسپیکر عبد الرحیم راٹھور کو عہدے سے ہٹانے کا دوبارہ مطالبہ کیا۔ جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کے روز بی جے پی قانون سازوں کے شور شرابے اور واک آؤٹ کے درمیان ریاست کے درجے کی بحالی کی قرارداد منظور کی تھی۔ جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، شرما اور بی جے پی کے دیگر اراکین نے قرارداد کے کچھ حصوں بالخصوص 2000ء کی خودمختاری کی قرارداد سے جڑے حوالوں پر اعتراض کیا۔ بی جے پی کا موقف ہے کہ وہ ریاست کا درجہ بحال کرنے کی حامی ہے لیکن خودمختاری کے حوالوں کی مخالفت کرتی ہے۔
شور شرابے کے دوران شرما نے قرارداد پر کارروائی کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا جس پر اسپیکر کو مداخلت کرنی پڑی۔ مسٹر راٹھور نے کہا کہ قواعد کے مطابق انہیں عہدے سے ہٹانے کی تحریک کو 14 دنوں کے بعد فہرست میں شامل کر کے اس پر غور کیا جائے گا۔ ہنگامہ جاری رہنے پر اسپیکر نے ایوان میں اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے احتجاجی اراکین کو کارروائی میں خلل ڈالنے کے خلاف خبردار کیا۔ مسٹر راٹھور نے حزب اختلاف کو یاد دلاتے ہوئے کہ وہ پہلے ہی طریقہ کار کی وضاحت کر چکے ہیں اور ضروری نوٹس جاری کر چکے ہیں، کہا کہ میں غنڈہ گردی کی اجازت نہیں دوں گا۔
مسٹر راٹھور نے احتجاجی اراکین سے کہا کہ آپ نے میری ساکھ پر سوالات اٹھائے ہیں، وہ ٹھیک ہے۔ لیکن مجھے سکھانے کی کوشش نہ کریں۔ میں اپنا کردار اور فرض جانتا ہوں۔ نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے حزب اختلاف پر پلٹوار کرتے ہوئے کہا کہ منتخب نمائندوں کو جموں و کشمیر کے عوام نے ان کے مفادات سے جڑے مسائل اٹھانے کے لیے اسمبلی میں بھیجا ہے۔
چودھری نے بی جے پی اراکین پر بحث میں حصہ لینے کے بجائے کارروائی میں خلل ڈالنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب آپ یہاں بحث کے لیے آئے تو آپ نے ایوان کو معطل کیا اور بیٹھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کا استعمال نعرے بازی کے بجائے عوام سے جڑے مسائل بشمول ترقی، روزگار، تعلیم، کھیل اور انتخابات پر بحث کے لیے ہونا چاہیے۔ اس تلخ کلامی نے اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان تصادم کو مزید تیز کر دیا اور بار بار کی رکاوٹوں نے کارروائی میں خلل ڈالا۔ بی جے پی کے قانون ساز بعد میں ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ وہ کچھ دیر بعد ایوان میں واپس آ گئے۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا7 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان7 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
