تازہ ترین
شوپیان تصام آرائی میں 2جنگجو اور شہری جاں بحق: مکمل رپورٹ
خبراردو: جنوبی کشمیر کے شوپیان اور ترال علاقوں میں سرگرم جنگجوﺅں کےخلاف فیصلہ کن آپریشن جاری رکھتے ہوئے فوج، فورسز اور پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ کی طرف سے کی گئی کارروائی میں 2حزب جنگجو اور ایک عام شہری جاں بحق ہوئے۔
جنوبی کشمیرمیں سرگرم جنگجوﺅں کیخلاف فیصلہ کن آپریشن جاری رکھتے ہوئے فوج ،فورسزاورپولیس کے اسپیشل آپریشن گرﺅپ سے وابستہ اہلکاروں نے علی الصبح ضلع شوپیان کے زینہ پورہ علاقے میں موجودجنگجوﺅں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی ۔علاقے کوچاروں اطراف سے محاصرے میں لینے کے بعدجب سیکورٹی اہلکاروں نے یہاں تلاشی کارروائی شروع کی توایک میوہ باغ میں مبینہ طورپرقائم کردہ خفیہ کمین گاہ میں موجودجنگجوﺅں نے محاصرہ توڑکرفرارہونے کی کوشش میں اندھادھندفائرنگ شروع کردی تاہم الرٹ فورسزنے فوری جوابی کارروائی عمل میں لائی ،جسکے دوران حزب المجاہدین سے وابستہ 2مقامی جنگجواورایک مقامی شہری جاں بحق ہوگیاتاہم پولیس نے دعویٰ کیاکہ جھڑپ کے دوران ماراگیاشہری جنگجوﺅں کاساتھی یااعانت کارتھا۔اس دوران یہاں مشتعل نوجوانوں اورپولیس وفورسزاہلکاروں کے درمیان ٹکراﺅ کے واقعات بھی پیش آئے ۔
اُدھرزینہ پورہ شوپیان میں جنگجومخالف آپریشن کے چلتے فوج ،فورسزاورایس اﺅجی اہلکاروں نے ضلع پلوامہ کے نانرمندورہ اونتی پورہ علاقہ کابعددوپہراچانک محاصرہ کرکے جب یہاں جنگجومخالف آپریشن شروع کیاتومحاصرے میں پھنسے جنگجوﺅں نے فائرنگ شروع کردی جسکے بعدیہاں بھی طرفین کے درمیان شدیدنوعیت کی گولی باری کاتبادلہ ہوا،جوتادم تحریرجاری تھا۔اطلاعات کے مطابق جنگجوﺅں کی موجودگی سے متعلق پختہ اطلاع ملتے ہی فوج کی44آرآر،سی آرپی ایف اورریاستی پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ سے وابستہ اہلکاروں نے جمعہ کوعلی الصبح ضلع شوپیان کے درگڈسوگن زینہ پورہ علاقہ کومحاصرے میں لیا۔پولیس ذرائع نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ محاصرے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعدجب سیکورٹی دستوں نے علاقہ میں تلاشی کارروائی شروع کی تومحاصرے میں پھنسے کچھ جنگجوﺅں نے فرارہونے کی کوشش کے تحت اندھادھندفائرنگ شروع کردی ۔انہوں نے کہاکہ ایک میوہ باغ میں بنائی گئی خفیہ کمین گاہ یاہائیڈآﺅٹ میں موجودجنگجوﺅں کی جانب سے کی گئی فائرنگ کے بعدفوج ،فورسزاورایس اﺅجی اہلکاروں نے پوزیشن سنبھال کرجوابی کارروائی شروع کردی ،جسکے بعدطرفین کے درمیان شدیدگولی باری کاتبادلہ ہوا۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ کچھ وقت تک شدیدفائرنگ کاسلسلہ جاری رہنے کے بعدگولی باری رُ ک گئی لیکن جنگجوﺅں کی جانب سے پھرفائرنگ کاسلسلہ شروع کیاگیا۔انہوں نے بتایاکہ اضافی کمک طلب رکے جنگجوﺅں کیخلاف سیکورٹی اہلکاروں نے اس مرتبہ فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائی ،اورپھرشدیدگولی باری کے بعدیہ سلسلہ تھم گیا۔
پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایاگیاکہ فائرنگ کاسلسلہ تھم جانے کے بعدجب سیکورٹی دستوں نے جائے جھڑپ کی تلاشی کارروائی عمل میں لائی تویہاں سے 2نعشیں اورکچھ اسلحہ وگولی بارودبھی برآمدکیاگیا۔بیان کے مطابق دونوں نعشوں اورہتھیارکویہاں سے برآمدکرنے کے بعدبھی سیکورٹی اہلکاروں نے محاصرہ جاری رکھاکیونکہ اسبات کااندیشہ تھاکہ ابھی کچھ جنگجوﺅں یہاں موجودہوسکتے ہیں ۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ لگ بھگ پانچ گھنٹے تک علاقہ میں مکمل خاموشی یاسکوت جاری رہنے کے بعداچانک فائرنگ کاسلسلہ پھرسے شروع ہوگیا۔انہوں نے کہاکہ پھرایک مرتبہ فوج ،فورسزاورایس اﺅجی اہلکاروںنے اپنی اپنی پوزیشن سنبھال کرجوابی کارروائی عمل میں لائی،جسکے بعدیہاں معرکہ آرائی کادوسراسلسلہ شروع ہوگیاجوشدیدفائرنگ کے بیچ کچھ وقت تک جاری رہا۔ذرائع کاکہناتھاکہ فائرنگ کاسلسلہ تھم جانے کے بعدیہاں پھرسے تلاشی کارروائی عمل میں لائی گئی توایک اورنعش کیساتھ ساتھ کچھ اسلحہ وگولی بارودبرآمدکیاگیا۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ مارے گئے تینوں افرادکی نعشوں کویہاں سے پولیس تھانہ زینہ پورہ شوپیان منتقل کیاگیاتاکہ ان کی شناخت اورتنظیمی وابستگی کے بارے میں تحقیقات عمل میں لائی جاسکے ۔انہوں نے کہاکہ تحقیقات کے دوران مارے گئے تینوں افرادکی شناخت ہوگئی ،جن میں سے 2حزب المجاہدین سے وابستہ جنگجواورایک اُنکااعانت کارہے ۔پولیس ذرائع نے زینہ پورہ میں جاں بحق ہوئے تینوں نوجوانوں کی شناخت ظاہرکرتے ہوئے بتایاکہ مارے جانے والوں میں حزب کمانڈرعابدمنظورماگرے عرف سجوٹائیگرولدمنظوراحمدساکنہ نوپورہ پائین پلوامہ ،حز ب جنگجوہلال احمدساکنہ ارمولہ پلوامہ اوراُن کااعانت کارجاسم احمدشاہ ساکنہ مالندسگن شوپیان شامل ہیں ۔تاہم مقامی لوگوں نے بتایاکہ جھڑپ کے دوران ماراگیاہلال نامی نوجوان ایک معصوم شہری تھا۔
اُدھرمعلوم ہواکہ درگڈسوگن زینہ پورہ شوپیان میں جنگجومخالف آپریشن کے دوران مشتعل نوجوانوں نے سنگباری شروع کردی ،اوراُن کومنتشرکرنے کیلئے پولیس وفورسزاہلکاروں نے فوری کارروائی عمل میں لائی ۔دریں اثناءپولیس ذرائع نے بتایاکہ شناخت کی کارروائی مکمل ہونے کے بعددیگرلوازمات کوبھی عمل میں لایاجائیگا،جسکے بعدزینہ پورہ شوپیان میں مارے گئے دونوں مقامی جنگجوﺅں اوراُن کے اعانت کارکی نعشوں کولواحقین کے سپردکیاجائیگا۔اس دوران زینہ پورہ شوپیان میں جنگجومخالف آپریشن کے چلتے فوج ،فورسزاورایس اﺅجی اہلکاروں نے ضلع پلوامہ کے نانرمڈورہ اونتی پورہ علاقہ کابعددوپہراچانک محاصرہ کرکے جب یہاں جنگجومخالف آپریشن شروع کیاتومحاصرے میں پھنسے جنگجوﺅں نے فائرنگ شروع کردی جسکے بعدیہاں بھی طرفین کے درمیان شدیدنوعیت کی گولی باری کاتبادلہ ہوا،جوتادم تحریرجاری تھا۔معلوم ہواکہ جنگجوﺅں کی موجودگی سے متعلق پختہ اطلاع ملتے ہی فوج کی42آرآر،سی آرپی ایف اورریاستی پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ سے وابستہ اہلکاروں نے جمعہ کوبعددوپہر ضلع پلومہ کے نانرمندورہ اونتی پورہ علاقہ کومحاصرے میں لیکرجب جنگجومخالف کارروائی عمل میں لائی تویہاں موجودجنگجوﺅں نے فرارہونے کی کوشش کے تحت اندھادھندفائرنگ کردی ،جسکے بعدیہاں جھڑپ شروع ہوئی جوآخری اطلاعات موصوہل ہونے تک جاری تھی۔
پولیس ذرائع کے بقول علاقے میں 2سے 3جنگجوﺅں کے چھپے ہونے کی اطلاع ہے۔اس دوران علاقے میں جھڑپ شروع ہونے کےساتھ ہی بس اسٹینڈ ترال میں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز گاڑیوں پر شدید پتھراﺅ کیا جس کے نتیجے میں یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا جس کے نتیجے میںیہاں دوکانداروں اور دیگر تجارتی مراکز نے اپنی دکانوں کے شٹر گراتے ہوئے محفوظ مقامات کی راہ لی۔ معلوم ہوا کہ جائے جھڑپ اور بٹہ گنڈ میں بھی فورسز اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ شام دیر گئے تک جاری تھا۔ علاقے میں جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی یہاں معمول کی زندگی متاثر ہوئی جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی روانی بھی ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ انتظامیہ نے یہاں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور شرپسندوں کی جانب سے بے لگام افواہ بازی پر بریک لگانے کےلئے پولیس ضلع اونتی پورہ میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔
جموں و کشمیر
لداخ میں زلزلے کے دو مسلسل ہلکے جھٹکے محسوس کیے گئے، کشمیر تک لرزش محسوس ہوئی
سری نگر، مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ میں جمعرات کی صبح چار گھنٹے کے اندر زلزلے کے دو جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت بالترتیب 5.5 اور 4.3 ریکارڈ کی گئی۔
نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے مطابق زلزلے کا پہلا جھٹکا صبح 6 بج کر 5 منٹ پر محسوس کیا گیا، جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.5 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز لیہہ-لداخ کے علاقے میں 36.881 ڈگری شمالی عرض البلد اور 74.402 ڈگری مشرقی طول البلد پر زمین کی سطح سے 10 کلومیٹر کی گہرائی میں واقع تھا۔
اس کے تقریباً چار گھنٹے بعد، صبح 9 بج کر 54 منٹ پر دوسرا جھٹکا محسوس کیا گیا۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 4.3 ریکارڈ کی گئی۔
ان دونوں زلزلوں کے جھٹکے کشمیر اور لداخ کے مختلف علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ فی الحال اس واقعے میں کسی بھی قسم کے جانی یا مالی نقصان یا کسی کے ہلاک و زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
کولمبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان
بگوٹا، کولمبیا نے پیر کے روز آنے والے 7.4 شدت کے تباہ کن زلزلے کے متاثرین کی یاد میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 265 ہو گئی ہے، جب کہ کم از کم 3,494 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 496 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے اعلان کیا ہے کہ تمام سرکاری عمارتوں اور سفارتی مشنز پر قومی پرچم سرنگوں رہیں گے۔
پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح 07:34 بجے چوکو صوبے کے شہر سان ہوزے ڈیل پلمار کے قریب 107 کلومیٹر کی گہرائی میں آنے والا یہ زلزلہ، گزشتہ ایک صدی کے دوران کولمبیا میں آنے والا سب سے مہلک زلزلہ بن گیا ہے۔
ایمرجنسی ٹیموں نے پریرا اور کالی جیسے بڑے شہروں میں بھاری مشینری، کھوجی کتوں اور انسانی زنجیروں کا استعمال کرتے ہوئے دن رات کام کیا۔
ڈی لا ایسپریلا نے کہا کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ہماری کوششیں جاری ہیں۔”
نیشنل یونٹ فار ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ (یو این جی آر ڈی) کی جانب سے جاری کردہ نقصانات کی تشخیصی رپورٹ کے مطابق، زلزلے میں 9,215 مکانات تباہ اور 45,457 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کی وجہ سے ملک میں قومی سطح پر آفت (ڈیزاسٹر) کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
یو این جی آر ڈی کے ڈائریکٹر ڈیوڈ سانتیاگو تامایو نے سخت آپریشنل معیارات کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت چار شراکت دار ممالک: امریکہ، اسرائیل، ایکواڈور اور ایل سلواڈور سے آنے والی تکنیکی ریسکیو ٹیموں کو ترجیح دے گی۔
زلزلے کے اثرات مرکزِ زلزلہ کے قریب دیہی علاقوں میں انتہائی شدید تھے۔
مقامی ایمرجنسی یونٹس نے ویلے ڈیل کاؤکا کے شہر ال کائرو میں رپورٹ کیا ہے کہ وہاں کے شہری انفراسٹرکچر کا 80 فیصد حصہ متاثر ہوا ہے اور مقامی عمارتوں کا تقریباً 10 فیصد حصہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عمان کے تباہ حال ٹینکر سے ساحل تک تیل پہنچ گیا، 40 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر
مسقط، عمان کے ماحولیاتی حکام نے کہا ہے کہ تباہ حال آئل ٹینکر کیرولین بیزینگی سے خارج ہونے والا خام تیل ملک کے ساحل تک پہنچ گیا ہے، جس سے مرکزی ساحلی علاقے میں 40 کلومیٹر تک ساحلی پٹی آلودہ ہو گئی ہے۔
عمان کی ماحولیاتی اتھارٹی کے مطابق جون میں عمان کے ساحل کے قریب پھنسنے کے بعد سے خام تیل خارج کرنے والے ٹینکر کا تیل راس مدرکہ کے ساحلوں تک پہنچ گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ تیل کے مسیرہ جزیرے کے جنوبی ساحل تک بھی پہنچنے کا خدشہ ہے۔ یہ جزیرہ عمان کے ساحل سے تقریباً 15 کلومیٹر دور ہے اور وہاں مزید 10 سے 20 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر ہو سکتی ہے۔
ماحولیاتی اتھارٹی نے کہا کہ خصوصی ٹیمیں آلودگی کی نگرانی، صورتحال کا جائزہ لینے اور تیل کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ترجیح ان علاقوں کو دی جا رہی ہے جو ماحولیاتی اعتبار سے زیادہ حساس ہیں۔
عمانی حکام کے مطابق اس ہفتے کے آغاز تک تیل کا پھیلاؤ تقریباً 400 مربع کلومیٹر تک پہنچ چکا تھا، جبکہ تیل کا زیادہ ارتکاز ہالانیات جزائر کے اطراف میں ہے۔ یہ علاقہ سمندری حیات کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے میرین ریزرو کا حصہ ہے، جہاں سمندری کچھوؤں اور دیگر آبی حیات کے مسکن موجود ہیں۔
تاہم ماحولیاتی تنظیم گرین پیس سمیت بعض اداروں کا کہنا ہے کہ تیل کا پھیلاؤ عمانی حکام کے اندازے سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ گرین پیس نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ایک غیر معمولی ماحولیاتی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
کیرولین بیزینگی 8 جون کو عمان کے ال ہالانیات جزائر کے قریب ناکارہ ہو گیا تھا، جب عملے نے ممکنہ دھماکے کی اطلاع دی تھی۔ واقعے کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آئی۔
مغربی حکومتوں کے مطابق یہ ٹینکر روس کے اس نام نہاد شیڈو فلیٹ کا حصہ تھا جس کے ذریعے روسی تیل کی نقل و حمل کی جاتی ہے۔ روس کے یوکرین پر 2022 کے حملے کے بعد اس کے تیل پر متعدد پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
2001 میں تعمیر کیا گیا یہ ٹینکر اس وقت یورپی یونین، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا اور یوکرین کی پابندیوں کی زد میں ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹینکر میں موجود تقریباً 8 لاکھ بیرل خام تیل کا اخراج ایک بڑے پیمانے کی ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن سکتا ہے۔ لوزیانا اسٹیٹ یونیورسٹی کے تیل کے اخراج کے ماہر کرسٹوفر ڈیلیا نے اسے ایک خاصا بڑا تیل کا اخراج قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے غیر قانونی یا پابندیوں سے بچنے والے ٹینکروں کے معاملے میں صفائی کے اخراجات کی ذمہ داری طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے آلودگی کی صورت میں متاثرہ علاقوں کی صفائی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
