ہندوستان
دنیا میں اگلے مالیاتی بحران کا سبب غیر مالیاتی عوامل بھی ہو سکتے ہیں: آر بی آئی گورنر
نئی دہلی، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر سنجے ملہوترا نے ہفتہ کے روز کہا کہ دنیا میں آئندہ مالیاتی بحران کی وجہ غیر مالیاتی عوامل بھی ہو سکتے ہیں۔
مسٹر ملہوترا نے یہاں پانچویں کوٹلیہ اقتصادی کانفرنس میں ’’غیر یقینی صورتحال کے دور میں مرکزی بینکوں کا کردار‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ قطعی ضروری نہیں کہ دنیا میں اگلا مالیاتی بحران مالیاتی وجوہات ہی کی بنا پر آئے۔ اس لیے موجودہ معاشی استحکام مستقبل میں مالیاتی بحران سے تحفظ کی کوئی قطعی ضمانت نہیں ہے، اور بحیثیت مرکزی بینک بدلتے ہوئے حالات پر مسلسل نگاہ رکھنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگلا مالیاتی بحران جغرافیائی و سیاسی (جیو پولیٹیکل) وجوہات، کسی بڑے سائبر حملے یا پھر کسی سنگین تکنیکی خرابی کی صورت میں بھی رونما ہو سکتا ہے، اور اس کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ اس کا دائرہ اثر کتنا وسیع اور گہرا رہتا ہے۔
مسٹر ملہوترا نے کہا کہ اگرچہ مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا براہ راست ریزرو بینک کی ذمہ داری نہیں ہے، لیکن بالواسطہ طور پر یہ اس کے دائرہ اختیار سے منسلک ہے۔ مالیاتی استحکام کے بغیر افراطِ زر (مہنگائی کی شرح) میں استحکام لانا ممکن نہیں، اور اس کے بنا معیشت میں بھی استحکام پیدا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور عالمی سطح پر طویل عرصے تک برقرار رہنے والے مالیاتی استحکام کی بدولت ہی ہم حالیہ برسوں کے دوران مختلف بحرانوں کا کامیابی سے سامنا کر سکے ہیں—چاہے وہ کورونا وبا کا چیلنج رہا ہو یا پھر جغرافیائی و سیاسی بحران۔ انہوں نے مزید کہا کہ مغربی ایشیا کے بحران کے اثرات سے ہندوستانی معیشت بھی محفوظ نہیں رہی ہے اور اس کا اثر قیمتوں پر پڑا ہے، تاہم معیشت کی مضبوط بنیادوں کے باعث افراطِ زر طے شدہ ہدف کے دائرے میں رہی ہے اور ترقی کی شرح بھی مستحکم ہے۔
آر بی آئی گورنر نے کہا کہ موجودہ صدی کے ابتدائی برسوں کے دوران بینکوں کی جانب سے بغیر سوچے سمجھے دیے گئے قرضوں (این پی اے) کے منفی اثرات سے نجات پانے میں ملک کو ایک دہائی کا وقت لگ گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملکی معیشت میں نقد رقم (لیکویڈیٹی) کی فراہمی کو یقینی بنانا بھی ہندوستان میں مرکزی بینک کی اہم ذمہ داری ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے بعض اوقات افراطِ زر میں اضافے کا خطرہ بھی مول لینا پڑتا ہے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
راہل گاندھی نے لوگوں سے اپنے مسائل اور جدوجہد شیئر کرنے کے لیے ’ستیہ گرہ‘ ڈیجیٹل پلیٹ فارم لانچ کیا
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے ’ستیہ گرہ‘ کے نام سے ایک نیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم لانچ کیا ہے، جس کے ذریعے ملک بھر کے لوگ ناانصافی کے خلاف اپنی جدوجہد اور مسائل ان کے ساتھ شیئر کرسکیں گے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ ملک بھر میں لوگ اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں اور اکثر اکیلے ہی جدوجہد کررہے ہیں۔ ’ستیہ گرہ‘ انہی آوازوں کو ایک نقشے پر یکجا کرنے کی ایک پہل ہے، تاکہ مقامی سطح پر جاری جدوجہد کو قومی پلیٹ فارم مل سکے۔
پارٹی نے ہفتہ کو یہ اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ مسٹر گاندھی نے جمعہ کو گاندھی جینتی کے موقع پر اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو لانچ کیا تھا۔
مسٹر گاندھی نے آج اس پلیٹ فارم کے بارے میں کہا، ’’ملک بھر میں لوگ ناانصافی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ اپوزیشن رہنما کی حیثیت سے آپ کی لڑائی میری لڑائی ہے۔ اب نئے ستیہ گرہ کا وقت ہے۔ آپ کن مسائل کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، مجھے بتائیے۔ میں آپ کی بات سن رہا ہوں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں زمین، خواتین کے حقوق، دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے حقوق، تعلیم اور امتحانات سمیت مختلف مسائل کو لے کر احتجاج ہورہے ہیں۔ ’ستیہ گرہ‘ کے ذریعے ان تحریکوں کو منظم کرنے اور انہیں ایک نقشے پر یکجا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے شہری اپوزیشن رہنما کو بتاسکتے ہیں کہ وہ کون ہیں، ان کے لیے کیا اہم ہے اور ان کے حقوق کی راہ میں کون رکاوٹ بن رہا ہے۔ لوگوں کی جانب سے شیئر کیا گیا ہر مسئلہ ’ستیہ گرہ میپ‘ پر ایک پن کی شکل میں نظر آئے گا۔
مسٹرگاندھی نے کہا کہ مسئلے کی سنگینی اور ترجیح کی بنیاد پر ضروری اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ لوگوں کی آواز سڑک سے لے کر پارلیمنٹ تک سنی جاسکے۔ انہوں نے کہا، ’’جہاں سچ کو دبایا جارہا ہے، وہاں لوگوں کو اس کی مخالفت کرنے میں مدد کرنا اپوزیشن رہنما کی حیثیت سے میری ذمہ داری ہے۔‘‘
’ستیہ گرہ‘ پلیٹ فارم پر لوگ اپنی جدوجہد کی کہانی شیئر کرسکتے ہیں۔مسٹر گاندھی نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ، سڑک، خط لکھ کر یا جہاں بھی ان کی ضرورت ہوگی، لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوکر مدد کرنے کی کوشش کریں گے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
کھرگے نے کرناٹک میں خشک سالی پر مودی کو خط لکھ کر مداخلت کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کرناٹک میں شدید خشک سالی کی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر ان سے ذاتی طور پر فوری مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھرگے نے ہفتہ کو وزیراعظم کو خط کے ذریعے کرناٹک میں خشک سالی کی صورتحال سے آگاہ کیا اور کہا کہ ریاست میں ستمبر تک 58 فیصد بارش کی کمی رہی ہے، جس سے بڑے پیمانے پر فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے انہوں نے وزیر داخلہ امت شاہ کو بھی اس سلسلے میں خط لکھا تھا۔
انہوں نے وزیراعظم سے کلیان کرناٹک خطے میں مرکزی ٹیم بھیج کر خشک سالی سے ہونے والے نقصانات کا فوری جائزہ لینے، ریاست کی جانب سے قومی آفات سے نمٹنے کے فنڈ (این ڈی آر ایف) اور ریاستی آفات سے نمٹنے کے فنڈ (ایس ڈی آر ایف) کے تحت مانگی گئی 3705.30 کروڑ روپے کی مکمل امداد جاری کرنے اور چھوٹے و معمولی کسانوں کو راحت دینے کے لیے تازہ ترین اراضی ریکارڈ کی بنیاد پر ان پٹ سبسڈی کا حساب لگانے کی درخواست کی۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ ریاست کے مزید 11 تعلقوں، جہاں فی الحال زمینی تصدیق کا عمل جاری ہے، اور دیگر اہل تعلقوں کو اسی جاری خشک سالی کے واقعے کے تحت مرکزی امداد کے لیے شامل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے پینے کے پانی کی دستیابی یقینی بنانے اور متبادل بجلی کی لاگت کے لیے زیادہ امداد دینے کے ساتھ ساتھ ریاست کو بغیر تاخیر فوری اور مناسب راحت فراہم کرنے کی بھی درخواست کی۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
ووٹ چوری کے خلاف نوجوانوں کے احتجاج کی راہل نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کی یوم پیدائش کے موقع پر جمعہ کو ’ووٹ چوری‘ کے خلاف نوجوانوں کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو اب عہدہ چھوڑنا ہی ہوگا۔
مسٹر گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ہزاروں نوجوان ’ووٹ چوری‘ کے خلاف پرامن اور بغیر تشدد کے اپنے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے سڑکوں پر ہیں اور ان کا مطالبہ واضح ہے کہ گیانیش کمار استعفیٰ دیں اور جمہوریت کو بچایا جائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی-شاہ حکومت کے جواب میں لڑکے اور لڑکیوں کو سڑکوں پر گھسیٹا جا رہا ہے اور سیکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کا قصور صرف اتنا ہے کہ انہوں نے ووٹ چوری پر سوال اٹھایا۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری (تنظیم) کے۔ سی۔ وینوگوپال نے کہا کہ یہ ملک کی جمہوریت کو بچانے اور عام آدمی کے ووٹ کے تحفظ کی لڑائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے ذریعے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ عام لوگوں کے ووٹ چھین رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس، انڈیا اتحاد اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے لیے یہ فیصلہ کن لڑائی ہے اور جمہوریت کو بچانے کے لیے وہ جیل جانے کو بھی تیار ہیں۔
اس دوران کانگریس نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل ایکس پر کہاکہ ’’جمہوریت کے قاتل گیانیش کمار کی خیر نہیں ہے۔ عوام ’ووٹ چوروں‘ کا اطمینان سے حساب لے گی۔‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
دنیا1 week agoہم فتح کے قریب : نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کے باوجود نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا1 week agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
-
کھیل1 week agoسروچی سنگھ اور کمل جیت سنگھ نے ہندوستان کو ایشیائی کھیلوں میں دوسرا طلائی تمغہ دلایا
-
دنیا1 week agoامریکہ-چین سربراہ اجلاس کے آغاز پر ٹرمپ کا شی جن پنگ کا شاندار استقبال
-
دنیا1 week agoیو ایس ایس ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
