تازہ ترین
صبروایثار،وپرہیزگاری روزے کا بنیادی فلسفہ…
ندیم احمد خان:
آپؐ نے ارشاد فرمایا: روزہ رکھ کر بھی جو شخص جھوٹ اور فریب کے کام نہ چھوڑے، تو اللّٰہ کو اس کی ضرورت نہیں کہ انسان اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔
اسلامی عبادت میں “روزے” کو مرکزی مقام اور بنیادی اہميت حاصل ہے، جب کہ اسے ارکان دین میں تیسرا رکن ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ “روزہ” درحقیقت صبر وضبط اور تزکیۂ نفس کا بہترین مظہر ہے۔ یہ ایک ایسی عبادت ہے، جس کا تصور الہامی اور غیر الہامی مذاہب کی تاریخ میں ملتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالی ہے:” اے ایمان والو، تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بنو۔” (سورۃ البقرہ:183) قرآنِ کریم کی اس ہدایت زبانی سے یہ معلوم ہوا کہ روزے کا حقیقی مقصد ” تقویٰ ” کا حصول ہے، تقویٰ اور پرہیزگاری اسلامی عبادات کی بنیادی روح ہے، قرآن کریم اور احادیث نبویؐ میں کم وبیش ہر عبادت اور نیک عمل کا بنیادی مقصد “تقویٰ” ہی کو قرار دیا گیا ہے۔ خواہشاتِ نفس کی پیروی سے اپنے آپ کو روکنا، نفس کے بےلگام گھوڑے کو لگام دینا اور دین کی اتباع میں مصروفِ عمل رہنا، روزے کی حقیقی روح ہے، جو درحقیقت تقویٰ اور پرہیزگاری کے حصول کے بعد ہی ممکن ہے۔
اس سلسلے میں رسولؐ کا درج ذیل ارشادِ گرامی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمؐ نے ارشاد فرمایا:” روزہ ڈھال ہے، لہٰذا روزہ رکھنے والا نہ بےہودہ بات کرے اور نہ جاہلوں والے کام کرے، اگر کوئی اس سے جھگڑا کرے یا برا بھلا کہے، تو کہہ دے کہ ” میں روزے دار ہوں”۔ رمضان المبارک میں عموماً ایسے مناظر عام دیکھنے میں آتے ہیں کہ لوگ راہ چلتے ایک دوسرے سے الجھ پڑتے ہیں، بےصبری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بسا اوقات نوبت دست و گریباں ہونے تک پہنچ جاتی ہے۔ راستے میں سفر کرتے وقت یا خریداری کے موقع پر جس عجلت اور بےصبری کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، یہ بھی درحقیقت ضبطِ نفس کے منافی عمل اور روزے کی حقیقی روح کے برخلاف ہے۔ آپؐ نے ایک موقع پر تاکید کے طور پر دو مرتبہ ارشاد فرمایا:” اس پروردگار کی قسم، جس کے قبضے میں میری جان ہے، روزے دار کے منہ کی بو، اللّٰہ تعالیٰ کے ہاں مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ اور پاکیزہ ہے۔” (اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے) وہ روزے دار اپنا کھانا، پینا اور شہوت میری وجہ سے چھوڑتا ہے، روزہ تو میرے لیے ہے اور میں اس کا بدلہ دوں گا اور ایک نیکی کا اجر دس گنا ہے۔” (بخاری/ الجامع النصحیح) صحابی رسولؐ حضرت سہل بن عاعدیؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ نے ارشاد فرمایا:” جنت کے دروازوں میں ایک خاص دروازہ ہے، جسے “باب الریان” کہا جاتا ہے، اس دروازے سے قیامت کے روز صرف روزے داروں کا داخلہ ہوگا، ان کے سوا اس دروازے سے کوئی اور داخل نہیں ہوسکے گا، اس دن پکارا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ بندے جو اللّٰہ کے لیے روزے رکھا کرتے تھے (اور بھوک پیاس کی تکلیف اٹھایا کرتے تھے) ان کے سوا اس دروازے سے کسی اور کا داخلہ نہیں ہوسکے گا۔جب وہ روزے دار اس دروازے سے جنت میں پہنچ جائیں گے تو یہ دروازہ بند کردیا جائے گا، پھر کسی کا اس سے داخلہ نہیں ہوسکے گا” (صحیح بخاری).
ایک اور حدیثِ قدسی ہے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ نے ارشاد فرمایا:” ابنِ آدم کے ہر عمل کا ثواب بڑھتا رہتا ہے، اسے ایک نیکی کا ثواب دس گنا سے سات سو تک ملتا ہے، اور اس سے زائد اللّٰہ جتنا چاہے، اتنا ملتا ہے، مگر روزے کے متعلق اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ” وہ تو میرے لیے ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔روزے دار اپنی خواہشات اور کھانے پینے کو میری وجہ سے چھوڑتا ہے۔” روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں، ایک خوشی اسے افطار کے وقت ملتی ہے اور ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت ملے گی، روزے دار کے منہ کی بو اللّٰہ کے ہاں مشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے،” ( ابنِ ماجہ السنن باب فضل الصیام) یہ کہنا بالکل درست ہے کہ تقویٰ اور پرہیزگاری روزے کی حقیقی روح ہیں۔
اگر ان عظیم مقاصد کا حصول نہیں ہوتا تو یہ سمجھا جائے، گویا روزہ رکھا ہی نہیں گیا، یا یہ کہا جائے کہ جسم کا روزہ ہوگیا، تاہم روح کا روزہ نہیں ہوا، اس حقیقت کی وضاحت کے لیے رسولؐ کے ارشاد مبارک کو پیش نظر رکھا جائے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا:” روزہ رکھ کر بھی جو شخص جھوٹ اور فریب کے کام نہ چھوڑے، تو اللّٰہ کو اس کی ضرورت نہیں کہ انسان اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔” (ترمذی/ باب الصوم) اسی اخلاص، پرہیزگاری اور بےریائی کا نتیجہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:” الصوم لی وانا اجزی بہ۔” روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔” اجر، جزا اور نیکیوں پر بدلہ تو اللّٰہ تعالیٰ ہی دیتا ہے، تاہم میں اس کی عظمت و اہمیت کے اظہار کے لیے اس کے اجر اور جزا کو اللہ تعالیٰ نے اپنی جانب منسوب فرمایا ہے۔ تقویٰ اور پرہیزگاری کی بدولت ہی بندہ ان اعمال سے باز رہتا ہے، جو خواہشات کو بڑھانے والی اور انسانی جزبات کو بےلگام کرنے والی ہیں۔ روزے میں جن اعمال اور امور سے بچنے اور باز رہنے کا حکم دیا گیا، ان پر عمل کرکے درحقیقت نفس اور جسم دونوں کی تربیت کی جاتی ہے، نیکیوں پر عمل اور گناہ اور بد اعمالیوں سے باز رہنے کا حقیقی جزبہ بیدار ہوتا ہے۔ یہی درحقیقت تقویٰ کی حقیقت اور روزے کی حقیقی روح ہے۔ باالفاظ دیگر روزہ تزکیۂ نفس، تطہیر قلب اور تربیت کا بہترین اور مثالی ذریعہ ہے۔ یہ روح اور جسم دونوں کے تزکیے اور تطہیر میں موثر کردار ادا کرتا ہے۔
اسلام میں “زکوٰۃ” کی حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ درحقیقت جمع شدہ مال کی تطہیر اور پاکیزگی کا ذریعہ ہے، جب کہ سرکارِ دوعالم ﷺ کے ارشاد گرامی کے بمو جب ” ہر شے کی زکوٰۃ ہوتی ہے اور روزہ جسم کی زکوٰۃ ہے۔” اس طرح ہر سال رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں جو رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا موسم بہار ہے، اہل ایمان اس ماہ مقدس کے روزے رکھ کر صبر و ایثار، ضبط نفس، ایثار و ہمدردی، تزکیۂ باطن اور تطہیر قلوب کی باقاعدہ تربیت حاصل کرتے ہیں۔ یہ عبادت و ریاضت درحقیقت تقویٰ اور تزکیۂ نفس سے عبادت ہے۔ عرب دنیا کے نامور مؤلف اور معروف مزہبی اسکالر علامہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی اپنی کتاب ” العبادۃ فی الاسلام” میں روزے کی حقیقت اور اس کے فلسفے کے متعلق لکھتے ہیں: روزے میں عزم و ارادے کی تقویت اور صبر و برداشت کی تربیت ہوتی ہے، چنانچہ روزے کی حالت میں بندہ بھوکا رہتا ہے، جب کہ اس کے سامنے لذیز غذا موجود ہوتی ہے، وہ پیاسا رہتا ہے، حالانکہ اس کے سامنے ٹھنڈا پانی موجود ہوتا ہے، اس کو رب کے سوا کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا اور اس کے ضمیر کے علاوہ اس پر دیگر کسی چیز کا غلبہ بھی نہیں ہوتا، اس کے بیدار مضبوط ارادے کے سوا کوئی دیگر سہارا بھی نہیں ہوتا، وہ روزانہ پندرہ پندرہ گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ روزے سے رہتا ہے اور ہر سال 29 یا 30 دن مسلسل روزے رکھتا ہے، تو روزوں کے علاوہ کون سا دوسرا ارادہ ہے جو انسان کے تربیت کا کام کرتا اور اسے صبر و برداشت کی تعلیم دیتا ہے، وہ صرف روزہ ہے، جسے اسلام نے مسلمانوں کے لیے ماہ رمضان میں فرض اور لازم قرار دیا ہے۔
ہندوستان
الیکشن کمیشن نے فہرست سے رہ جانے والے ووٹروں کے اندراج کے لیے خصوصی مہم چلانے کی ہدایت دی
نئی دہلی، ہندوستان کے الیکشن کمیشن نے ان ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف الیکٹورل افسران، ضلعی الیکشن افسران اور الیکٹورل رجسٹریشن افسران کو ہدایت دی ہے جہاں ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) مکمل ہو چکی ہے کہ وہ فہرست میں شامل ہونے سے رہ جانے والے اہل ووٹروں کی شناخت اور ان کے اندراج کے لیے خصوصی مہم شروع کریں۔ اس مہم میں نوجوان اور پہلی بار ووٹ دینے والے ووٹروں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
یکم اکتوبر کو جاری کیے گئے خط میں کمیشن نے کہا کہ یہ کارروائی ووٹر فہرستوں کی مسلسل تازہ کاری کے تحت کی جائے گی۔ اس دوران ایسے افراد کی شناخت کی جائے گی جن کے نام ایس آئی آر سے پہلے کی ووٹر فہرستوں میں موجود تھے، لیکن موجودہ فہرستوں میں نہیں مل رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی نئے اہل ہونے والے ووٹروں کے اندراج میں بھی سہولت فراہم کی جائے گی۔
یہ ہدایت یکم اکتوبر کو تمام چیف الیکٹورل افسران کے ساتھ کمیشن کی میٹنگ کے بعد جاری کی گئی ہے اور 29 ستمبر کو جاری کیے گئے اس کے خط کے سلسلے کی کڑی ہے۔
الیکشن کمیشن نے اس سے پہلے کہا تھا کہ بہار اور مغربی بنگال سمیت 20 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر مکمل ہو چکی ہے اور نظرثانی کے دوران یا اس کے بعد فہرست سے رہ جانے والے افراد کے ساتھ ساتھ نوجوان اور پہلی بار ووٹ دینے والے افراد مسلسل تازہ کاری کے عمل کے ذریعے اپنا نام ووٹر فہرست میں شامل کرا سکتے ہیں۔
تازہ ہدایات کے تحت بوتھ لیول افسران موجودہ ووٹر فہرست کا ایس آئی آر سے پہلے کی فہرست سے موازنہ کریں گے اور بوتھ کے لحاظ سے ایسے ووٹروں کی فہرست تیار کریں گے جن کے نام سابقہ فہرستوں میں موجود تھے لیکن موجودہ فہرست میں نہیں ہیں۔
بی ایل اوز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے افراد کی موجودہ صورت حال معلوم کرنے کے لیے گھر گھر جائیں اور اہل پائے جانے پر فارم 6 کے ذریعے ان کے اندراج میں سہولت فراہم کریں۔
کمیشن نے بی ایل اوز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہر ہفتے کم از کم 20 سے 25 ایسے ووٹروں تک پہنچیں، تاکہ تقریباً ایک ماہ میں یہ کارروائی مکمل کی جا سکے۔ شناخت کیے گئے ہر ووٹر کی صورت حال درج کی جائے گی، جس میں یہ بھی شامل ہوگا کہ آیا فارم 6 جمع کیا گیا ہے یا نہیں۔
گھر گھر جانے کے دوران بی ایل اوز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی دوسرے ایسے اہل ووٹر کی بھی شناخت کریں اور اس کے اندراج میں سہولت فراہم کریں جو فہرست میں شامل ہونے سے رہ گیا ہو، جس میں پہلی بار ووٹ دینے والے اور نوجوان ووٹر بھی شامل ہیں۔ بی ایل اوز کی تیار کردہ فہرستیں تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے بوتھ لیول ایجنٹوں کے ساتھ شیئر کی جائیں گی، جبکہ الیکٹورل رجسٹریشن افسران کو یہ فہرستیں فارم 6 کی درخواستوں اور فیلڈ تصدیقی رپورٹوں کے ساتھ فراہم کی جائیں گی۔
اس کے بعد الیکٹورل رجسٹریشن افسران عوامی نمائندگی قانون، 1950 اور ووٹر رجسٹریشن ضوابط، 1960 کے مطابق مناسب فیصلے کریں گے۔ کارروائی مکمل ہونے پر الیکٹورل رجسٹریشن افسران بوتھ کے لحاظ سے فہرستیں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ بھی شیئر کریں گے، تاکہ انہیں فہرست سے رہ جانے والے اہل ووٹروں کی شناخت میں مدد کرنے کا ایک اور موقع مل سکے۔
کمیشن نے انتخابی حکام کو بوتھ لیول کیمپ منعقد کرنے کی بھی ہدایت دی ہے، تاکہ ووٹر فہرست میں نام شامل کرانے کی درخواستیں جمع کرنے میں سہولت ہو۔ رات میں قیام گاہوں اور مزدور بستیوں میں رہنے والے افراد کے ساتھ ساتھ بے گھر اور دیگر محروم افراد کے لیے بھی خصوصی کیمپ منعقد کیے جا سکتے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ووٹر کا اندراج ایک مسلسل عمل ہے، کہا کہ جس شخص کا ابھی تک اندراج نہیں ہوا ہے یا جس کا نام ووٹر فہرست سے حذف کر دیا گیا ہے، وہ کسی بھی وقت اندراج کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ کمیشن کے مطابق خصوصی مہم کا مقصد ایسے تمام اہل ووٹروں کی شناخت کرنا اور ان کے اندراج میں سہولت فراہم کرنا ہے۔
کمیشن نے چیف الیکٹورل افسران، ضلعی الیکشن افسران اور الیکٹورل رجسٹریشن افسران سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں، مقامی سطح پر عوامی رابطہ مہم، منظم ووٹر تعلیم و انتخابی شرکت (سویپ) کی سرگرمیوں، باقاعدہ پریس بریفنگ اور دیگر ذرائع کے ذریعے بیداری اور عوامی رابطہ پروگرام منعقد کریں، تاکہ اہل شہریوں کو ووٹر کے طور پر اپنا نام درج کرانے کے اس موقع سے آگاہ کیا جا سکے۔
تازہ ہدایت ایسے وقت میں آئی ہے جب ایس آئی آر کی کارروائی کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور ان ووٹروں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے جن کے نام نظرثانی کے بعد ووٹر فہرستوں میں شامل نہیں ہو سکے ہیں۔ 26 ستمبر کو کمیشن نے کہا تھا کہ جن ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر مکمل ہو چکی ہے، وہاں فہرست سے رہ جانے والے، نوجوان اور پہلی بار ووٹ دینے کے اہل ووٹروں کے اندراج میں سہولت فراہم کرنے کے لیے فوری طور پر خصوصی مہم شروع کی جائے گی۔
الیکشن کمیشن نے انتخابی حکام کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ وہ چیف الیکٹورل افسر، ضلعی الیکشن افسر اور الیکٹورل رجسٹریشن افسر کی سطح پر اس مہم کی پیش رفت کی قریبی نگرانی اور باقاعدگی سے جائزہ لیں، تاکہ یہ مہم تمام اہل شہریوں تک پہنچ سکے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
ہندوستان
کھڑگے اور راہل گاندھی نے گاندھی جینتی پر باپو کو خراج عقیدت پیش کیا
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور سابق صدر راہل گاندھی نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کو ان کی 157 ویں یوم پیدائش پر جمعہ کو ان کی یادگار راج گھاٹ پر خراج عقیدت پیش کیا مسٹر کھڑگے نے سوشل میڈیا پر مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کا ایک اقتباس شیئر کیا: “پہلے وہ آپ کو نظر انداز کرتے ہیں، پھر آپ پر ہنستے ہیں، پھر آپ سے لڑتے ہیں اور پھر آپ جیت جائیں گے۔”
کانگریس صدر نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جنہوں نے ناانصافی کے خلاف سچائی کو سب سے طاقتور ہتھیار، عدم تشدد کو ناانصافی کے خلاف سب سے طاقتور ہتھیار بنایا، نہ صرف ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کی رہنمائی کی بلکہ پوری دنیا کو انسانیت، ہمدردی اور امن کا راستہ بھی دکھایا۔
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ آج جب بابائے قوم کے نظریات اور اقدار کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے، انہیں حقیقی خراج عقیدت باپو کے سچائی، عدم تشدد، ہم آہنگی اور انصاف کے اصولوں پر ثابت قدم رہنا ہے۔ انہوں نے گاندھی جینتی پر باپو کو عاجزانہ خراج عقیدت پیش کیا اور ہم وطنوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
معاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
واشنگٹن، یکم اکتوبر (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اطمینان بخش معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ وسط مدتی انتخابات کے بعد تہران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کرسکتا ہے، تاہم انہوں نے ایران کے ساتھ دیرپا امن کے امکان پر بھی سوال اٹھایا۔
ٹائم میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایرانی تجویز مسترد کردی کیونکہ اس کی شرائط ان کی توقعات کے مطابق نہیں تھیں۔ ان کے بقول ایران نے آبنائے کے صرف ’’کچھ حصوں‘‘ کو کھولنے کی پیشکش کی تھی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقی نے کہا تھا کہ تہران نے آبنائے ہرمز سات روز میں دوبارہ کھولنے کا منصوبہ امریکہ کو پیش کیا ہے۔ بعد میں ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا نے بتایا کہ واشنگٹن نے جوابی تجویز دی ہے جس پر تہران غور کررہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی حالیہ ہفتوں میں بڑی حد تک رک گئی ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر اسے دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے۔ وسط مدتی انتخابات کے بعد نئے حملوں کے امکان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا، ’’یہ ممکن ہے‘‘، اور امریکہ کے پاس ’’بہت سے ہتھیار‘‘ موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابتدا میں انہیں توقع تھی کہ جنگ چھ سے آٹھ ہفتے جاری رہے گی، لیکن ایران کی جوہری صلاحیتوں کی تباہی کے بعد انہوں نے کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ تہران اپنی صلاحیتیں کسی اور شکل میں دوبارہ بحال نہ کرسکے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، باوجود اس کے کہ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران امریکہ نے ایران پر تین حملے کیے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے کبھی مذاکرات سے گریز نہیں کیا اور نہ کریں گے۔‘‘
پیزشکیان نے کہا کہ ایران اقتصادی مسائل حل کرنے اور پاکستان، عراق، ترکمانستان اور آذربائیجان کے راستے تجارتی روابط بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار بحری راستوں میں شامل ہے۔ 2025 میں روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل اور تیل کی مصنوعات اس راستے سے گزرتی تھیں، جو عالمی تیل تجارت کا تقریباً 20 فیصد ہے۔ عالمی ایل این جی کی تقریباً 20 فیصد تجارت بھی آبنائے سے ہوتی ہے، جس میں قطر کا نمایاں حصہ ہے۔
ایران کے شمال میں واقع آبنائے ہرمز کے جنوب میں عمان اور متحدہ عرب امارات ہیں اور یہ خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ یہ آبنائے توانائی کے علاوہ ایل این جی، کھاد، خوراک، ادویات اور دیگر اشیا کی عالمی ترسیل کے لیے بھی اہم ہے۔ عالمی کھاد تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ معمول کے حالات میں اسی راستے سے گزرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
ہندوستان7 days agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا7 days agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر نے کتابوں پر پابندی کے معاملے پر سوال اٹھائے، میر واعظ نے ان کے نام اور وجوہات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا
-
دنیا7 days agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
دنیا1 week agoیو ایس ایس ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں
-
جموں و کشمیر7 days agoبی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
