ہندوستان
صوفیاء کرام نے بنا تفریق مذہب و ملت ہمیشہ محبت و اخوت، امن و آشتی اور خدمت خلق کو فروغ دیا:پروفیسر افشار عالم
نئی دہلی، جامعہ ہمدرد کے شیخ الجامعہ پروفیسر افشار عالم نے کہا کہ صوفیاء کرام نے بنا تفریق مذہب و ملت ہمیشہ محبت و اخوت ، امن و آشتی اور خدمت خلق کو فروغ دیا ہے۔ یہ بات انہوں نے صوفی سینٹر (مرکز مطالعات تصوف) جامعہ ہمدرد اورخانقاہ غوثیہ کے زیر اہتمام و اشتراک ” تصوف کی اصل و معنویت اور عالم گیریت کے دور میں اس کی ضرورت” کے عنوان سے یہاں منعقدہ ایک بین الاقوامی سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم ان کی تعلیمات کی عملی طور پر تبلیغ و ترویج کریں ۔
مہمان خصوصی سید ظفر اقبال اشرفی نے کہا آ ج عالمگیر سطح پر اس بات کی سخت ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ مشائخ اور صوفیا کو خانقاہوں اور آستانوں سے نکل کر عملی میدان میں آنا چاہیے اور ہندوستانی سماج واقوام میں بقائے باہمی، اخوت و ہمدردی اور امن و شانتی کی فضا ہموار کرنی چاہیے، کیونکہ آ ج بھی ہندوستان کی ایک بہت بڑی تعداد خانقاہوں و درگاہوں سے وابستہ ہے اور ان کا ایک روحانی اثر ہے۔
سید اسلم میاں وامقی نے کہا کہ جامعہ ہمدرد میں صوفی سینٹر کا قیام لائق مبارک باد عمل ہے جو یقیناً بہت باعث برکت ثابت ہوگا۔ کیونکہ صوفیاء کا اصل مشن گناہ و فساد اور بدی و شر کے خلاف جہاد کرنا ہے ۔
پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ تصوف یا صوفیاء کی تاریخ بہت قدیم ہے کوئی زمانہ ایسا نہیں کہ جو صوفیاء کی خدمات سے خالی ہو۔ الحاج حفیظ اللّہ شریف نے کہا کہ صوفیاء نے ہمیشہ لوگوں کا دکھ درد دور کرنے اور ان کی مشکلات کو حل کرنے کا درس دیا ہے ۔ ڈاکٹر مفتی مکرم احمد نے کہا کہ اللّہ کی ہر ایک مخلوق سے محبت کرنے ، قلب و ذہن کو پاک و صاف رکھنے ، غلطی معاف کرنے ، حرص و طمع دور کرنے ، توکل علی اللہ کرنے، غصہ و تکبر دور کرنے اور سب سے حسن سلوک سے پیش آنے کا نام تصوف ہے۔
اس موقع پر نمازِ ظہر سے قبل اورنماز ظہر کے بعد کنونشن سینٹر کے ہال نمبر ایک اور دو میں دو دو مساوی تعلیمی نشستیں منعقد ہوئیں ، جن میں تقریباً پچاس تحقیقی مقالات پڑھیے گئے اور سامعین و سامعات کثیر تعداد میں موجود رہیں۔
اختتامی اجلاس میں سید حماد نظامی نے کہا کہ اگر کوئی کانٹے بچھائے تو آپ اس کے بدلے میں پھول بچھاؤ ، اگر کانٹوں کے بدلے کانٹے بچھائے گئے تو ساری دنیا کانٹوں سے بھر جائے گی ۔
پروفیسر مسعود انور علوی نے کہا کہ تصوف اور صوفیا کی تعلیمات کو قرآن و حدیث میں احسان کے نام سے متعارف کرایا گیا ہے اور یہی حقیقی اسلام ہے ۔ پروفیسر خواجہ اکرام نے کہا کہ تصوف صرف اسلام کے ساتھ خاص نہیں بلکہ اکثر عالمی مذاہب میں اس کے نقوش پائے جاتے ہیں ۔
رجسٹرار جامعہ ہمدرد ڈاکٹر ایم۔ اے سکندر نے کہا کہ صدیوں پرانی ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب صوفیاء کی مرہون منت ہے ، صوفیاء کا تعلق دل سے ہے ، یہ دلوں کی آ لودگی دور کرکے ایک اچھا انسان بناتے ہیں ۔شاہ عارف علی سبو میاں نے فرمایا کہ جامعہ ہمدرد میں صوفی سینٹر کا قیام ایک تاریخی کام ہے۔ میں اس پر جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ مولانا زاہد رضا نے کہا کہ اس طرح کے سیمینارس سے نہ صرف نئ نسل کی فکری، نظریاتی اور عملی آبیاری ہوگی بلکہ ان کے اندر مادی چیلینجیز سے مقابلہ کرنے کا ہنر پیدا ہوگا۔
ڈاکٹر افضل مصباحی نے اس موقع پر مختصر انداز میں خانقاہ غوثیہ چشتیہ کی دینی ،تعلیمی اور سماجی خدمات کا خاکہ پیش کیا اور ڈاکٹر محمد فضل الرحمن نے سیمینار کی رپورٹ پیش کی ۔آخر میں بڑے خوش گوار ماحول میں ڈاکٹر محمد احمد نعیمی نے ہدیہ تشکر پیش کیا ۔
اس تقریب میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی دہلی ، دہلی یونیورسٹی دہلی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی، جامعہ ہمدرد دہلی ، عالیہ یونیورسٹی کولکاتہ، دارالہدی اسلامک یونیورسٹی کیرالا ، بنارس ہندو یونیورسٹی بنارس ، ذاکر حسین کالج دہلی ،جامعہ رضویہ حنفیہ مانک پور پرتاپ گڑھ اور جامعہ المصطفی ککرالہ بدایوں وغیرہ کے پروفیسرس ، ڈاکٹرس اور اسکالرس نے بڑی تعداد میں حصہ لے کر تصوف سے متعلق مختلف موضوعات پر مختلف مساوی مجالسِ میں تقریباً پچاس تحقیقی مقالات پیش فرمائے ۔ علاوہ ازیں علم انٹرنیشنل یوکے ، درگاہ اجمیر شریف ، درگاہ نظام الدین دہلی ، درگاہ قطب صاحب دہلی ،خانقاہ غوثیہ چشتیہ غازی پور ، خانقاہ وامقیہ بریلی ، خانقاہ اشرفیہ کچھو چھہ ، خانقاہ شیخ العالم ردولی بارابنکی ، خانقاہ قدیریہ پیلی بھیت ،خانقاہ رشیدیہ مین پوری وغیرہ کے مشائخ وسجادگان اور مدارس و مساجد کے علماء کرام نے کثیر تعداد میں شرکت فرمائی ۔سیمینار کے افتتاحی اجلاس کا آغاز صبح دس بجے تلاوت قرآن اور نعت پاک سےہوا۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت شیخ الجامعہ پروفیسر افشار عالم صاحب نے کی اور سید ظفر اقبال اشرفی، بانی و صدر علم انٹرنیشنل،یوکے،مہمان خصوصی ، سید اسلم میاں وامقی بریلی ، الحاج حفیظ اللّہ شریف بنگلور ،ڈاکٹر مفتی مکرم احمد دہلی اورپروفیسر اختر الواسع دہلی بطور مہمان اعزازی سیمینار کی زینت رہے۔ڈاکٹر محمد فضل الرحمن اور ڈاکٹر محمد احمد نعیمی نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔
اس موقع پر پروفیسر لطیف کاظمی ، پروفیسر عبید اللہ فہد ، پروفیسر عبدالسلام جیلانی ، ڈاکٹر ندیم اشرف ، ڈاکٹر ریحان اختر اے۔ایم۔یو۔ علی گڑھ ، ڈاکٹر واحد نظیر، ڈاکٹر شاہد تسلیم ،ڈاکٹر مشتاق تجاروی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ ، پروفیسر مشتاق قادری ، ڈاکٹر علی احمد ادریسی ، ڈی۔ یو۔ ڈاکٹر صفیہ عامر صاحبہ ، ڈاکٹر وارث متین مظہری ۔ ڈاکٹر آبرو امان اندرابی ، ڈاکٹر سمیہ احمد ، ڈاکٹر نجم السحر ، ڈاکٹر انور حسین خان ، ڈاکٹر منہاج احمد ، شاہ عبد الرحمن خاں چشتی ، مفتی فہیم ازہری ، مفتی رضوان ازہری ، مولانا کلیم رضوی ، مولانا منظر محسن ،مولا نا غلام رسول ، مولانا حشمت نعیمی ، مولانا حیدر نعیمی اور مختلف مدرسوں اور مسجدوں کے علماء ،اساتذہ اور یونیورسٹی کے بہت سے طلباء بطور خاص سیمینار میں موجود تھے ۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
نئی دہلی، 13 اگست (یو این آئی) صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے جمعرات کے روز یہاں ملک کے معزز فنکاروں کو سال 2024 اور 2025 کے لیے سنگیت ناٹک اکادمی فیلوشپ اور سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈز تفویض کیے اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین یہ فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں محترمہ مرمو نے کہا کہ ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکار مل کر ملک کا ایک ایسا ثقافتی نقشہ پیش کرتے ہیں جس میں اس ملک کی مٹی کی کہانیاں اور گیت جڑے ہیں، ایک ایسا نقشہ جس میں تنوع سے بھری اس زمین کے رقص اور تہوار سمائے ہیں اور صدیوں سے پروان چڑھنے والی اس کی زبانوں اور بولیوں کی یادیں بسیں ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ’’ ہندستان کی ثقافت جڑوں سے جڑی ہوئی ہے۔ مختلف قسم کے کھانے پینے، ملبوسات ، رقص اور موسیقی، فطرت سے متاثر ہیں۔ چہچہاتے ہوئے پرندوں، کل کل بہتے آبشاروں، درختوں، پتوں، بادلوں اور ندیوں سے ترغیب لے کر فنکار اپنے رقص اور موسیقی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تنوع اور وحدت کا یہ سنگم ہماری فنونِ لطیفہ کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔‘‘
محترمہ مرمو نے کہا کہ تمام مختلف فنون کے اسالیب میں گرو-شِشیہ (استاد و شاگرد) کی روایت کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارے فنونِ لطیفہ کی سب سے اہم کتاب استاد ہی ہوتے ہیں۔ آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں ہمارے بہت سے لوک فنون پر معدوم ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ایسی فنکارانہ اقسام کا نہ صرف ثبوت اور ریکارڈ رکھنا ضروری ہے بلکہ انہیں زندہ رکھنے کے لیے خصوصی کوششیں بھی ضروری ہو جاتی ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ سنگیت ناٹک اکادمی اسی مقصد سے ‘کلا-دیکشا’ پروگرام کا انعقاد کر رہی ہے۔ انہوں نے سینئر فنکاروں سے کہا کہ وہ اگلی نسل کو تیار کرنے کے لیے منصوبہ بند طریقے سے کوششیں کریں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ فن کی تربیت اور سمجھ سے زندگی کو مالا مال کرنے کے لیے فطرت کو سب سے قدرتی تربیتی ادارہ مانا جاتا ہے۔ لوک اور قبائلی فنون میں زندگی کی فطری خوشی اور قدرت کے ساتھ گہرا مکالمہ نظر آتا ہے۔ ان فنکارانہ شکلوں میں برادری کی یادداشت اور اجتماعی شعور کا اظہار باآسانی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوک فنون ہندستان کی ثقافتی شناخت کی انتہائی اہم بنیاد ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکاروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین ہمارے فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سنگیت ناٹک اکادمی کو ہندستان کی ‘سوفٹ پاور’ کا ایک اہم مرکز مانا جاتا ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ اکادمی آنے والے وقت میں بھی ہندستان کی ثقافتی توانائی سے پوری دنیا کو مستفید کرتی رہے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مودی-شاہ کو چین سے سونے نہیں دیں گے، بغیر نفرت کے لڑتے رہیں گے: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ تبدیلی کے لیے سیاسی طاقت کے ساتھ ہندستان کے تنوع اور ہر فرد کی اظہارِ رائے کی آزادی کی حفاظت ضروری ہے، اس لیے کانگریس بغیر نفرت اور تشدد کے اپنی اس لڑائی کو جاری رکھے گی مسٹر گاندھی نے ‘رچناتمک کانگریس’ کے قومی اجلاس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمعرات کے روز یہاں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور وزیر اعظم نریندر مودی لوگوں کی آزادی چھیننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کو کسی ایک طے شدہ نظام میں ڈھالنے کے بجائے ملک کے لوگوں کو اپنی بات کہنے اور اپنی شناخت کے ساتھ آگے بڑھنے کی آزادی ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی پرانی طاقت چھوٹے تاجر اور چھوٹے کاروباری تھے لیکن نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے انہی طبقات کو نقصان پہنچایا ہے۔ ملک کے چھوٹے تاجروں اور روایتی پیشوں کو نوٹ بندی اوراشیا اورخدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے موجودہ نظام سے نقصان ہوا ہے۔ چھوٹے تاجروں کو ایک طرف کر دیا گیا اور تنظیم نیز بی جے پی کی سیاست میں بڑے سرمایہ دارانہ گروہوں کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھتا گیا۔
مسٹر گاندھی نے میڈیا کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میڈیا کے ایک بڑے حصے پر بھی قبضہ ہو چکا ہے، لیکن صحافیوں کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے سچائی عوام تک پہنچانی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو اوپر سے فون آتے ہیں اور خبریں طے کرائی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی جذبہ ہوتا ہے اور اس قومی جذبے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہندستان کے لوگوں کو کسی طاقت کے دباؤ میں اپنی آواز نہیں دبانی چاہیے۔ کسی شخص کو اپنے مذہب، ثقافت یا خیالات کی بات کے اظہار سے نہیں روکا جانا چاہیے۔ آپ سکھ ہیں تو گرو نانک کی بات کر سکتے ہیں، مسلمان ہیں تو اللہ کی بات کر سکتے ہیں، جین ہیں تو مہاویر کی اور ہندو ہیں تو شیو کی بات کر سکتے ہیں۔ جس کو جو بات کرنی ہے، اسے بولنا چاہیے۔
خارجہ پالیسی پر وزیر اعظم نریندر مودی کو گھیرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ ہندستان کو اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے ایران، امریکہ اور روس کے تناظر میں کہا کہ ہندستان کے سامنے عالمی سطح پر اپنا کردار مضبوط کرنے کا موقع تھا، کیونکہ ایران، روس اور امریکہ ہندستان کے دوست ممالک تھے لیکن ہندستان کی حکومت اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی ترجیح ملک کے سیاسی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور اپنے حمایتی کاروباری گروہوں سے معاشی تعاون لینے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا، “مسٹر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ کے خلاف کانگریس کی لڑائی جاری رہے گی۔ یہ لڑائی نفرت اور تشدد کے راستے پر نہیں، بلکہ ملک کی ثقافت، بھائی چارے، محبت اور عدم تشدد کے راستے پر لڑی جائے گی۔ جس دن تک نریندر مودی اپنا استعفیٰ نہیں دیں گے اور امت شاہ نہیں ہٹیں گے، اس دن تک ہم انہیں سونے نہیں دیں گے۔ ہم انہیں جگائے رکھیں گے—لیکن بغیر نفرت اور بغیر تشدد کے۔”
کانگریس رہنما نے رچناتمک کانگریس کے مقصد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کی طاقت اس کے تنوع اور لوگوں کے اظہارِ رائے میں ہے اور کانگریس کا کام ہر آواز کو جگہ دینا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
راہل گاندھی کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: بی جے پی
نئی دہلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو غیر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن ایک رہنما کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے جمعرات کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی کو غیر ذمہ دار، غیر سنجیدہ، بد نظم اور انا پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سیاسی شائستگی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی بغیر کسی اجازت کے اپنی بہن کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے گیٹ پر جا بیٹھے۔ وہ کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ ان کے والد وزیر اعظم تھے، ان کی دادی اور پرنانا بھی وزیر اعظم تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لیے سکیورٹی کے کتنے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ جب ہوم سکریٹری اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں وزیرِ مملکت جتیندر سنگھ جی وہاں گئے، تو انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت اور بحث کے لیے تیار ہیں۔
مسٹر پرساد نے کہا، ‘جب انہوں نے (مسٹر سنگھ) کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے، تو مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہیں وزیر کا استعفیٰ چاہیے۔ مسٹر گاندھی! ملک اور پارلیمنٹ کی سیاست آپ کی انا، مراعات یافتہ ہونے کے احساس اور اس سوچ کے دباؤ میں نہیں چلے گی کہ آپ اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’ بی جے پی رہنما نے کہا کہ جمہوریت اس طرح کام نہیں کرتی اور شاید یہی آپ کی پارٹی کی موجودہ حالت کی وجہ بھی ہے۔ مسٹر گاندھی اپنی غلطیوں سے سیکھتے نہیں ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی میں ہوئی پولیس کارروائی پر وزیرِ داخلہ جواب دیں۔ اس مطالبے پر انہوں نے ایوان کو چلنے نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ کل وزیرِ داخلہ امت شاہ نے میڈیا کے سامنے کہا کہ میں 24 گھنٹے تک پوری بحث سننے اور ان کے تمام دلائل کا نقطہ بہ نقطہ جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) اور ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا، ‘ہم بحث کے لیے تیار ہیں۔ سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا کہ تبھی انہوں نے (مسٹر گاندھی) نے اپنا مطالبہ بدل دیا اور کہا کہ ہمیں دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ چاہیے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، اور اسی کو مسئلہ بنایا گیا۔’
بی جے پی رہنما نے کہا کہ اس کے بعد مسٹر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ دے دیا۔ جب بحث کی بات آئی، تو مسٹر مودی کی قیادت میں حکومت نے دو بڑے قدم اٹھائے۔ نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پر ایک بہت سخت قانون لایا گیا، فاسٹ ٹریک کورٹ کا نظام قائم کیا گیا اور سزا نیز پیپر لیک گینگ سے نمٹنے کے لیے بھی کارروائی کی گئی۔
اس کے بعد، امتحان اور نیٹ میں اصلاحات کے لیے نندن نیلیکنی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی۔
انہوں نے کہا، “ہم نے صاف کر دیا ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ اگر انہوں نے پارلیمنٹ میں مسٹر شاہ کی بات سنی ہوتی، تو انہیں اپنے سوالات کے جوابات مل جاتے، لیکن، انہوں نے ایوان کو چلنے ہی نہیں دیا۔ تب ان کی (مسٹر گاندھی) دو بے وقوفانہ باتیں سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے (وزیرِ داخلہ نے) گولی چلانے کا حکم دیا ہے، تو وہ استعفیٰ دیں اور اگر نہیں دیا ہے، تو وہ نااہل وزیر ہیں، تب استعفیٰ دیں۔” انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کو حکومت چلانے کی بنیادی سمجھ بھی نہیں ہے۔
مسٹر پرساد نے کہا کہ مسٹر شاہ 24 گھنٹے ایوان میں بیٹھنے کو تیار تھے، پھر بھی مسٹر گاندھی نے کہا کہ نہیں ہمیں ان کا استعفیٰ چاہیے، ان کی بحث سن کر کیا فائدہ۔ مسٹر گاندھی کی سرکشی سے ملک کی سیاست نہیں چلے گی۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
