دنیا
طالبان کی حکومت کے تحت خواتین کے قتل کے واقعات میں بتدریج اضافہ
کابل، افغانستان کے حوالے سے ایک نئی پریشان کن رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں طالبان کی حکومت کے تحت خواتین کے سر قلم کیے جانے اور ان کی لاشوں کو ندیوں اور گلیوں میں پھینکے جانے کے واقعات کا انکشاف ہوا ہے العربیہ کی رپورٹ کے مطابق تنظیم ’’ افغان وِٹنیس‘‘ یا ’’ افغان گواہ‘‘ کی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ دو سال قبل اگست میں طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد سے افغانستان میں انسانی حقوق کی 3 ہزار 329 مبینہ خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔ ذرائع سے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے محققین نے گزشتہ سال جنوری سے اب تک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ایک ہزار 977 الزامات کو رپورٹ کیا ہے۔ ان خلاف ورزیوں میں قتل، حراست اور تشدد کے واقعات شامل ہیں۔
اس تحقیق میں طالبان کے ہاتھوں خواتین کے تشدد سے مارے جانے کی سیکڑوں رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ خواتین کے قتل کے واقعات میں “بتدریج اضافہ” ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنوری 2022 سے تنظیم ’’ افغان گواہ‘‘ نے خواتین کو انفرادی طور پر قتل کیے جانے کی رپورٹیں درج کی ہیں۔ ماری جانے والی ان خواتین میں سے اکثر کو تشدد اور بربریت کا نشانہ بھی بنایا گیا ۔
محققین نے بتایا ہے کہ انہوں نے گزشتہ سال جنوری سے اس سال جولائی کے درمیان ملک بھر میں ایسے ہی 188 کیسز ریکارڈ کیے اور ان رپورٹس میں ایسی خواتین کے کیسز بھی شامل ہیں جن کا سر قلم کیا گیا یا گولی مار دی گئی اور ساتھ ہی چھری کے وار بھی کئے گئے۔ تنظیم کے مطابق ان کی لاشوں کو اکثر ندیوں یا گلیوں میں پھینک دیا جاتا تھا ۔ بعض اوقات ایسی رپورٹس بھی سامنے آئیں کہ ان کو تشدد کرکے یا سانس بند کرکے مارا گیا ہے۔
’’افغان وٹنس‘‘ پراجیکٹ کے ڈیوڈ اوسبورن نے کہا کہ طالبان انسانی حقوق، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے حقوق سمیت معدد وعدوں سے مکر گئے ہیں۔ حکام اور سکیورٹی اہلکاروں کو عام معافی دینے کے متعلق بھی عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد سے خواتین کےخ قتل کے رپورٹ ہونے والے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کوڑے مارنے اور سرعام پھانسیوں کو دوبارہ متعارف کرا دیا گیا ہے۔ سابق سیکورٹی اور مسلح افواج کے اہلکارں کی ہلاکتوں اور گرفتار کیے جانے کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں۔ سول سوسائٹی، میڈیا اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں پر جبر مسلط کیا جارہا ہے۔
ماہرین کے مطابق رپورٹ کئے گئے تمام کیسز کی تصدیق کرنا ناممکن تھا تاہم بڑی تعداد میں افغانوں کی رپورٹوں نے طالبان اور دیگر کی طرف سے انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالی ہے۔
اوسبورن نے مزید کہا کہ خطرات کے باوجود بہت سی خواتین نے احتجاج جاری رکھا ہے۔ لیکن ان آوازوں اور مجموعی طور پر افغانستان میں سول سوسائٹی کی آوازوں سے طالبان حکمرانوں کی کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی دکھائی دی۔
اس تناظر میں محققین نے طالبان کی سپریم کورٹ کے جاری کردہ 56 حکم ناموں کو بھی ریکارڈ کیا ہے۔ ان حکم ناموں میں 350 سے زائد افراد کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔
ان سزاؤں میں بنیادی طور پر زنا، ہم جنس پرستی اور غیر قانونی تعلقات سے منسلک مبینہ اخلاقی جرائم کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پہلی عوامی جسمانی سزا کا نفاذ اکتوبر 2022 میں کیا گیا تھا۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
شام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
دمشق، دمشق کی ایک عدالت نے منگل کو شام کے سابق صدر بشار الاسد کو منصوبہ بند قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی ہے عدالت نے شام کے صوبہ درعا میں سیاسی سلامتی کے سابق سربراہ عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی عدالت نے نجیب کو منصوبہ بند قتل اور تشدد کا مجرم قرار دیا غور طلب ہے کہ بشار الاسد 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کی موت کے بعد شام کے صدر بنے تھے۔ ابتدائی طور پر، انہیں ایک جدید اور اصلاح پسند رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن جب 2011 میں ملک بھر میں ان کی حکمرانی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے، تو انہوں نے انہیں کچلنے کے لیے سخت فوجی کارروائی کا سہارا لیا۔ اس کے بعد شام ایک طویل اور تباہ کن خانہ جنگی میں الجھ گیا، جس میں لاکھوں شہری مارے گئے اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔ اپنی دو دہائیوں سے زیادہ کی آمرانہ حکومت کے دوران، اسد پر اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔
شامی باغی افواج کے ہاتھوں دمشق پر قبضے اور دسمبر 2024 میں حکومت کے خاتمے کے بعد، بشار الاسد 8 دسمبر 2024 کو روسی فوج کی مدد سے راتوں رات شام سے فرار ہو گئے، جہاں صدر ولادیمیر پوتن نے انہیں اور ان کے خاندان کو سیاسی پناہ دے دی۔ وہ اس وقت روس کے دارالحکومت ماسکو میں اپنے خاندان کے ساتھ سیاسی پناہ گزین کے طور پر مقیم ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے دنیا کے سامنے خود کو ایک “مضبوط اور ناقابل تسخیر طاقت” کے طور پر ثابت کیا ہے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہو کر سب کو حیران کر دیا ہے۔
مسٹر عراقچی نے ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور حکام نے انہیں کئی بار بتایا ہے کہ ایران نے “معجزہ کر کے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ “کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایران امریکہ کا اس طرح مقابلہ کر سکتا ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو اسرائیل، مغربی ممالک اور کچھ دوسرے ممالک کی حمایت حاصل تھی، اس کے باوجود ایران نے اس کا سامنا کیا۔
مسٹر عراقچی نے جنگ کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے کیے گئے مطالبات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر ٹرمپ نے جنگ کے آغاز میں سوشل میڈیا پر دو الفاظ لکھے تھے: ’’غیر مشروط ہتھیار ڈالنا‘‘۔ وہ ہم سے یہی چاہتے تھے اور 20 دن بعد وہی دشمن مذاکرات کی التجا کر رہا تھا۔
مسٹر عراقچی کے تبصرے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے درمیان مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا19 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر18 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان20 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا18 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا23 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا22 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
