تازہ ترین
عالمی تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے جاری کی رپورٹ ، جموں وکشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی پر زور ہ
ہند۔پاک جارحانہ طرز عمل سے باز رہیں، دونوں ممالک سیز فائر کا احترام کریں
خبراردو:-
سرینگر:عالمی تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسس گروپ (آئی سی جی) نے بھارت پر زور دیا کہ وہ جموں وکشمیر کے تئیں اپنے اپروچ پر دوبارہ نظر ثانی کرکے جموں وکشمیر کے ریاستی درجے کو بحالی کرے تاکہ کشیدگی اور تناؤ کم ہو۔
مذکورہ گروپ نے ہندوستان اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ جارحانہ طرز عمل سے باز رہیں اور 2003 میں باہمی رضامندی سے ہونے والی سیز فائر کا احترام کریں۔
کے این ایس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق عالمی تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسس گروپ (آئی سی جی) نے اپنی نئی رپورٹ میں بھارت کو مشورہ دیا کہ کشمیر کے سیاسی طبقے سے دوبارہ بات چیت کرے اور وادی میں سیکیورٹی فورسز کی بدانتظامیوں کو ختم کریں اور نئی دہلی کے بین الاقوامی شراکت داروں اور اتحادیوں پر زور دیا کہ انہیں اس کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹرنیشنل کرائسس گروپ (آئی سی جی) نے ہندوستان کے بین الاقوامی اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسے’ریاست جموں وکشمیر کی بحالی، نظر بند سیاستدانوں کو آزاد کرنے اور سیکیورٹی فورسز کی عام شہریوں سے ہونے والی زیادتیوں کے خاتمے کے لیے اس پر دباؤ ڈالے‘۔’
جموں وکشمیر داؤ پر لگتا جا رہا ہے‘ کے نام سے جاری رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ ہندوستان کے حالیہ اقدامات نے خطے کی دو جوہری طاقتوں کے مابین فوجی اشتعال انگیزی کے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔آئی سی جی نے ہندوستان اور پاکستان دونوں سے مطالبہ کیا کہ وہ جارحانہ طرز عمل سے باز رہیں اور 2003 میں باہمی رضامندی سے ہونے والی سیز فائر کا احترام کریں۔آئی سی جی نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ کشمیر،پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کے قیام کے لیے2003-07 کے دوران اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لینے کی ترغیب دیتی ہے،جس میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے معاہدے بھی شامل ہیں۔
اسی عرصے کے دوران عسکریت پسندی کا خاتمہ ہوا اور ہندوستان اور پاکستان نے باہمی بات چیت اور اعتماد پیدا کرنے کے متعدد اقدامات کا انتخاب کیا جس میں ایل او سی کا افتتاح بھی شامل تھا تاکہ دونوں ممالک میں کشمیری آزادانہ طور پر سفر اور تجارت کر سکیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ان کوششوں میں نئی دہلی اور کشمیریوں کے بڑے اسٹیک ہولڈرز کے مابین بات چیت کی راہیں کھل گئیں جس میں آل پارٹیز حریت کانفرنس بھی شامل ہے، جسے کشمیر میں سب سے زیادہ نمائندگی کی حامل سیاسی قوت سمجھا جاتا ہے۔
اس میں نوٹ کیا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران کانگریس پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے تعلق کی بنیاد پر سیاسی منظرنامے کے دو مختلف کونوں سے تعلق رکھنے والے بھارت کے یکے بعد دیگرے دو وزرائے اعظم نے بھی سیاسی ذرائع سے کشمیریوں کی شکایات کو دور کرنے پر اتفاق کیا تھا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس سے مقامی سطح پر عسکریت پسندی میں بھی اضافہ ہوا جو ضروری نہیں کہ سرحد پار سے آنے والے احکامات پر انحصار کرے۔آئی سی جی نے نوٹ کیا کہ پچھلے سال فروری کے پلوامہ حملے کے پیچھے خودکش بمبار بھی ایک مقامی تھا جہاں مذکورہ واقعے نے ہندوستان اور پاکستان کے مابین تناؤ کو جنم دیا تھا۔
رپورٹ میں متنبہ کیا گیا کہ ان مقامی عسکریت پسندوں کے ایک اور حملے سے دونوں ممالک کے مابین تناؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ بھارت یقینی طور پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرائے گا جس سے محاذ آرائی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ کشمیر میں بدامنی کی مسلسل وجوہات کی وضاحت کرتے ہوئے آئی سی جی نوٹ کرتا ہے کہ یہ علاقہ جمہوری نگرانی یا مقامی سیاسی نمائندگی سے خالی ہے، کشمیر کے پورے سیاسی طبقے کی گرفتاری کے ایک سال بعد بھی اس کے کچھ نامور سیاستدان تاحال نظربند ہیں جبکہ جنہیں رہا کیا گیا ہے، انہوں نے ابھی تک مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
ہندوستان1 week agoبیلا کلسٹر کے 729 ووٹوں میں سے 728 کو حذف کرنا ووٹ کی چوری : راہل
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
