کھیل
عالمی ٹیسٹ چیمپین شپ کے فائنل میں نیوزی لینڈ کی جیت، جانیں ٹیم انڈیا کی ہار کی وجہ
عالمی ٹیسٹ چیمپین شپ کے فائنل مقابلہ میں نیوزی لینڈ نے تاریخ رقم کرتے ہوئے ہندوستان کو 8 وکٹ سے شکست دے دی، نیوزی لینڈ نے 2 وکٹ کے نقصان پر ہدف حاصل کر لیا، جانیں ٹیم انڈیا کی ہار کی وجہ کا رہی!
نیوزی لینڈ نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپین شپ کے فائنل میں ہندوستان کو 8 وکٹوں سے شکست دے کر تاریخ رقم کر دی۔ ہندوستان نے جیت کے لئے نیوزی لینڈ کو 139 رنز کا ہدف دیا تھا، جو کیوی ٹیم نے 2 وکٹوں پر حاصل کر لیا۔ کین ولیمسن نے کپتان والی اننگز کھیلتے ہوئے 52 رنز بنائے اور آخر تک کریز پر موجود رہے۔ ولیمسن کے علاوہ راس ٹیلر نے 47 رنز بنائے اور اپنی ٹیم کو شاندار فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ نیوزی لینڈ نے 144 سالوں سے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا خطاب اپنے نام کر کے تاریخ رقم کی ہے۔
آئیے جانتے ہیں کہ ٹیسٹ چیمپین شپ کے فائنل میں ہندوستان کی شکست کی اہم وجوہات کیا تھیں؟
کھلاڑیوں کے انتخاب میں کوتاہی
ٹیسٹ چیمپین شپ کے فائنل میں شکست کی سب سے بڑی وجہ کھلاڑیوں کا غلط انتخاب تھی۔ پورے ٹیسٹ میچ میں ٹیم انڈیا نے ایک تیز باؤلر کی کمی محسوس کی۔ خاص طور پر بھونیشور کمار جیسے سوئنگ باؤلر کو ٹیم میں چیمپئن شپ کے فائنل میں شامل نہ کرنا ہندوستانی ٹیم کے لئے سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم جیمسن، ساؤتھی اور ویگنر جیسے تیز گیندبازوں کے ساتھ میدان میں اتری اور ہندوستانی بلے بازوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا، ہندوستان کے خلاف تاریخی فائنل میں نیوزی لینڈ نے اپنی پلیئنگ الیون میں ایک بھی اسپنر کو شامل نہیں کیا۔
انڈین ٹاپ آرڈر کی ناکامی
تاریخی فائنل میں ہندوستان کا ٹاپ آرڈر بری طرح ناکام رہا۔ وراٹ کوہلی ہوں یا رہانے، سب نے مایوس کیا۔ روہت شرما کو دونوں اننگز میں عمدہ آغاز ملا لیکن وہ بڑا اسکور نہیں کر سکے۔ وراٹ کوہلی نے پہلی اننگز میں 44 رنز بنائے تھے لیکن وہ بھی سوئنگ گیندوں کے سامنے بے بس نظر آئے۔ جیمسن نے انہیں دونوں اننگز میں سوئنگ اور آؤٹ سوئنگ گیند پر پویلین کا راستہ دکھایا۔ بھارت کے لئے نئی دیوار پجارا ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں ناکام نظر آئے۔ پجارا دونوں اننگز میں فلاپ رہے۔ صرف یہی نہیں دوسری اننگز میں بھی انہوں نے سلپ میں راس ٹیلر کا کیچ ڈراپ کر دیا۔
پریکٹس میچ نہیں کھیلنا
تاریخی ٹیسٹ میچ سے قبل ہندوستانی ٹیم کے کھلاڑی ایک بھی پریکٹس میچ نہیں کھیلے تھے۔ جس کا خمیازہ انہیں فائنل میں برداشت کرنا پڑا۔ اگرچہ ہندوستانی ٹیم کے کھلاڑیوں نے آپس میں ’انٹرا اسکواڈ‘ میچ کھیلے لیکن اس پریکٹس میچ کے فائنل میں ہندوستانی ٹیم کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
جسپریٹ بمراہ کا بے اثر ہو جانا
ورلڈ ٹیسٹ چیمپین شپ میں جسپریت بمراہ کیوی بلے بازوں کے لئے بے اثر رہے۔ پہلی اننگز میں بمراہ نے 26 کی گیندبازی کی لیکن وہ ایک وکٹ بھی حاصل نہ کر سکے۔ وہیں، دوسری اننگز میں بھی ان کی بولنگ میں وہ چیز نظر نہیں آئی جو نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کے لئے زیادہ مشکل پیدا کرتی۔
نیوزی لینڈ کے آخری 4 وکٹوں نے میچ بدل دیا
کیوی ٹیم کی پہلی اننگز کے دوران آخری 4 ٹیلنڈروں نے مل کر 87 رنز بنائے جس سے میچ میں فرق پیدا ہو گیا۔ ایک طرف جہاں نیوزی لینڈ کی 6 وکٹیں 162 رنز پر گر گئیں لیکن اس کے بعد آخری 4 بلے بازوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ نیوزی لینڈ نے پہلی اننگز میں 249 رنز بنائے تھے اور پہلی اننگز کی بنیاد پر 32 رنز کی برتری حاصل کر لی تھی۔ ہندوستان کی شکست کی یہ بھی ایک اہم وجہ تھی۔
کھیل
پاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا
نشین، (جاپان) ابھیشیک شرما (61)، تلک ورما (ناٹ آؤٹ 51) اور شیوم دوبے (27 رن/2 وکٹ) کی شاندار کارکردگی کی بدولت ہندوستان نے ہفتہ کو ایشیائی کھیل 2026 کی کرکٹ مقابلے کے فائنل میں روایتی حریف پاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر خطاب اپنے نام کر لیا۔
212 رن کے ہدف کا تعاقب کرنے اتری پاکستان کی ٹیم کے لیے کپتان صاحبزادہ فرحان اور ماجد صاداقت کی افتتاحی جوڑی نے پہلی وکٹ کے لیے 33 رن جوڑے۔ چوتھے اوور میں واشنگٹن سندر نے صاحبزادہ فرحان (10) کو آؤٹ کرکے ہندوستان کو پہلی کامیابی دلائی۔ اگلے ہی اوور میں اکشر پٹیل نے عثمان خان (3) کو آؤٹ کردیا۔ پاکستان کی تیسری وکٹ ساتویں اوور میں ماجد صاداقت (23) کے طور پر گری۔ اس کے بعد حسن نواز اور صائم ایوب کی جوڑی نے پاکستان کی اننگز کو سنبھالا۔ دونوں بلے بازوں نے چوتھی وکٹ کے لیے 87 رن جوڑ کر پاکستان کی میچ میں واپسی کرائی۔ 15ویں اوور میں شیوم دوبے نے صائم ایوب (29) کو آؤٹ کرکے اس شراکت داری کا خاتمہ کیا۔ 18ویں اوور میں واشنگٹن سندر نے عبدالصمد (9) کو آؤٹ کرکے پاکستان کو پانچواں جھٹکا دیا۔ اس دوران حسن نواز نے ایک سرا سنبھالے رکھتے ہوئے تیزی سے رن بنائے۔
شیوم دوبے نے انہیں میچ کی آخری گیند پر وکٹ کیپر سنجو سیمسن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرایا۔ انہوں نے 51 گیندوں میں 5 چوکے اور 7 چھکوں کی مدد سے 96 رن کی اننگز کھیلی۔ پاکستان کی ٹیم مقررہ 20 اوور میں 6 وکٹ پر 192 رن ہی بنا سکی اور مقابلہ 19 رن سے ہار گئی۔ہندوستان کی جانب سے شیوم دوبے، واشنگٹن سندر اور اکشر پٹیل نے 2-2 وکٹیں حاصل کیں۔
اس سے پہلے آج یہاں ابھیشیک شرما (61) اور تلک ورما (ناٹ آؤٹ 51) کی جارحانہ نصف سنچری اننگز کی بدولت ہندوستان نے پاکستان کو جیت کے لیے 212 رن کا ہدف دیا تھا۔ ہندوستانی کپتان شریئس ایئر نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا۔ بلے بازی کے لیے اتری ہندوستانی ٹیم کو تیسرے اوور کی پہلی گیند پر وائبھو سوریہ ونشی (15) کے طور پر پہلا جھٹکا لگا۔ اگلے ہی اوور میں سنجو سیمسن (2) رن بناکر پویلین لوٹ گئے۔ اس کے بعد کپتان شریئس ایئر نے ابھیشیک شرما کے ساتھ اننگز کو سنبھالا۔ دونوں بلے بازوں کے درمیان تیسری وکٹ کے لیے 42 رن کی شراکت داری ہوئی۔ آٹھویں اوور میں عرفات منہاس نے ابھیشیک شرما کو اسٹمپ آؤٹ کرکے اس شراکت داری کو توڑا۔ ابھیشیک نے 28 گیندوں میں 3 چوکے اور 7 چھکے لگاتے ہوئے 61 رن کی اننگز کھیلی۔
13ویں اوور میں ایشان کشن (20) رن اور اگلے اوور میں شریئس ایئر (21) رن بناکر آؤٹ ہوئے۔ شیوم دوبے نے 15 گیندوں میں 2 چوکے اور 2 چھکوں کی مدد سے 27 رن بنائے۔ ہندوستان نے مقررہ 20 اوور میں 6 وکٹ پر 211 رن کا چیلنجنگ اسکور کھڑا کیا۔ تلک ورما نے 22 گیندوں میں 3 چوکے اور 4 چھکے لگاتے ہوئے ناٹ آؤٹ 51 رن کی اننگز کھیلی۔ پاکستان کی جانب سے عرفات منہاس اور احمد دانیال نے 2-2 وکٹیں حاصل کیں۔ صائم ایوب اور ابرار احمد نے ایک ایک بلے باز کو آؤٹ کیا۔
یو این آئی۔ ایم جے
کھیل
ڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
سری نگر، موجودہ رنجی ٹرافی چیمپئن جموں و کشمیر نے سری نگر میں ایرانی کپ کے دوسرے دن زبردست حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو مشکل حالات سے نکل کر ’ریسٹ آف انڈیا‘ کے خلاف پہلی اننگز میں 41 رنز کی برتری حاصل کر لی۔
صبح 37 رنز پر چار وکٹ اور لنچ کے بعد 166 رنز پر آٹھ وکٹ کے مشکل مرحلے سے گزرنے والی موجودہ رنجی ٹرافی چیمپئن ٹیم کو تجربہ کار پارس ڈوگرا (75 رنز) اور نمبر 10 پر کھیلنے والے لون ناصر مظفر (58 گیندوں پر جارحانہ 64 رنز) نے سنبھالا اور ٹیم کو 278 رنز تک پہنچا دیا۔
’ریسٹ آف انڈیا‘ کی ٹیم پہلے دن 237 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی تھی۔ جموں و کشمیر کی برتری حاصل کرنے کی امیدوں کو اس وقت ابتدائی دھچکا لگا جب مکیش چودھری نے اوور نائٹ بلے باز شبھم کھجوریہ اور کامران اقبال کو پہلے ہی پانچ اووروں میں آؤٹ کر دیا۔
اس کے بعد ڈوگرا اور عبدالصمد نے 97 رنز کی شراکت قائم کرکے اننگز کو سنبھالا اور لنچ تک جموں و کشمیر کا اسکور 134 رنز پر چار وکٹ تک پہنچا دیا۔ صمد (57 رنز) اس جوڑی میں زیادہ جارحانہ رہے اور وقفے سے عین قبل انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں اپنی 12ویں نصف سنچری مکمل کی۔
تاہم لنچ کے بعد ’ریسٹ آف انڈیا‘ نے واپسی کرتے ہوئے صمد کو آؤٹ کر دیا۔ اس کے بعد کنہیا ودھاون، عابد مشتاق اور ساحل لوٹرا بھی 11 اوور کے دوران آؤٹ ہوگئے۔ 166 رنز پر آٹھ وکٹ گرنے کے بعد بھی جموں و کشمیر 71 رنز پیچھے تھی۔
اس کے بعد ڈوگرا اور مظفر نے نویں وکٹ کے لیے 64 رنز کی شراکت قائم کرکے اننگز کا رخ بدل دیا۔
ڈوگرا 75 رنز بناکر آؤٹ ہوئے، جس کے ساتھ ہی چودھری نے اننگز میں اپنی پانچویں وکٹ حاصل کی، لیکن مظفر نے جارحانہ کھیل جاری رکھا اور آخری وکٹ کے لیے سنیل کمار کے ساتھ 48 رنز جوڑ کر جموں و کشمیر کو برتری دلا دی۔ مظفر بالآخر 64 رنز پر آؤٹ ہوئے اور جموں و کشمیر کی پوری ٹیم 278 رنز پر سمٹ گئی۔ چودھری نے 78 رنز دے کر پانچ وکٹ حاصل کیے، جبکہ آکاش دیپ نے 43 رنز دے کر تین وکٹ لیے۔
جواب میں ’ریسٹ آف انڈیا‘ نے اسٹمپس تک ایک وکٹ پر 24 رنز بنا لیے تھے اور وہ اب بھی 17 رنز پیچھے تھی۔ سودیپ گھرامی اور سَنَت سانگوان ناٹ آؤٹ تھے، جبکہ سست اوور ریٹ کے باعث 15 اوورز کا کھیل نہیں ہو سکا۔
مختصر اسکور:
ریسٹ آف انڈیا: 237 اور 1/24 (سنیل کمار 1/9)، جموں و کشمیر: 278 (پارس ڈوگرا 75، لون ناصر مظفر 64، عبدالصمد 57؛ مکیش چودھری 5/78، آکاش دیپ 3/43) — 17 رنز پیچھے۔
یواین آئی۔ ظ ا
کھیل
رضوان کو این سی سی آئی اے کا پراسس فالو کرنا چاہیے: یونس خان
کراچی، پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے کہا ہے کہ وہ بطور کرکٹر محمد رضوان کے ساتھ کھڑے ہیں، تاہم رضوان سے متعلق جاری معاملے پر بات کرتے ہوئے احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔پاکستانی میڈیا رپورٹ کے مطابق یونس خان نے ایک پروگرام میں کہا کہ کرکٹرز پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے بڑے نہیں ہوسکتے اور اس معاملے میں محتاط انداز میں گفتگو کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) ایک معتبر ادارہ ہے اور محمد رضوان کو متعلقہ قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ”ہم کسی کے وکیل نہیں ہیں اور نہ ہی ہمیں اس کیس سے متعلق مکمل معلومات ہیں۔”
یونس خان نے کہا کہ محمد رضوان سے متعلق معاملہ ایک سرکاری دورے کے دوران پیش آیا ہے، اس لیے کیس کا نتیجہ سامنے آنے تک اس پر گفتگو میں احتیاط ضروری ہے۔
سابق کپتان نے بتایا کہ ماضی میں انہیں بھی اسی نوعیت کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ان کے معاملات تقریباً چار ماہ تک جاری رہے تھے۔
واضح رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں محمد رضوان اور امام الحق سے متعلق این سی سی آئی اے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
