کھیل
پاکستان کے صدر جنرل ایوب خان نے ملکھا کو دیا تھا ’فلائنگ سکھ‘ کا خطاب
جس پاکستان نے ملکھا سے ان کے ماں باپ کو چھینا اسی پاکستان نے انہیں جی بھر کرمحبت دی۔ پاکستان سے لوٹنے کے بعد ملکھا کے آگے دولفظ مزید جڑگئے، ’اڑن سکھ‘ ملکھا۔
ہندوستان کے مشہورا سپرنٹر ملکھاسنگھ کو’ اڑن سکھ ‘یعنی ’فلائنگ سکھ‘ کا خطاب ہمسایہ ملک پاکستان کے سابق صدر جنرل ایوب خان نے دیا تھا۔
دراصل ہندوستان کے لئے جیسے ملکھا تھے ویسے ہی پاکستان کے لئے عبدالخالق تھے۔ ساٹھ کی دہائی تھی اورجنوری کا سرد مہینہ تھااور پاکستان کے اردواخبار ات میں ہیڈلائن چھپی ’’خالق بمقابلہ ملکھا- پاکستان بمقابلہ انڈیا‘‘۔ ملکھا کے لئے اس ملک میں لوٹنا کسی ٹروما سے کم نہیں تھا جس میں اپنے ماں باپ بھائی بہنوں کے گلے کٹتے ہوئے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھاتھا۔
ملکھا کی ولادت غیرمنقسم ہندوستان میں ہوئی تھی، جسے آج پاکستان کہتے ہیں۔ جب سال 1947 میں ہندوستان کی سرزمیں پر دولکیریں کھینچ دی گئیں۔ ادھر ہندوستان میں مسلمان مارے گئے تو دوسری جانب ہندووں کے قتل عام کئے گئے۔ ملکھا کاخاندان بھی ہندوستان آنے کی کوشش میں ہی تھا کہ ملکھا کے والدین اور آٹھ بھائی بہنوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔ بچہ ملکھا، بھاگتے، گرتے، بچتے ہوئے اکیلے ہی ہندوستان آپہنچے۔ دہلی کے مہاجرکیمپوں میں رہے۔ کوئی کام نہیں ملتا تھا ان دنوں تو بقول مرحوم ملکھا سنگھ کے پریشانی میں خواہش ہوئی کہ ڈاکو بن جائیں ، لیکن بڑے بھائی کی صحبت نے چور نہیں بننے دیا۔
1951 میں ملکھاسپاہی ہوگئے۔آغاز میں پاکستان جانے کے سوال پر ملکھا جھجکنے لگے۔ تب ہندوستان کے وزیراعظم جواہرلال نہرو سے ان کی بات ہوئی، نہرونے ملکھا سے کہا-تمہارے پاس اس ملک کا پیارہے اورمحبت ہے، ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔ اس لئے پرانی بات بھلادو، انہوں نے دوستی کے جذبے سے تمہیں اپنے یہاں دوڑنے کے لئے مدعوکیا ہے۔ میں چاہتا ہوں تم وہاں جاؤ اور ہمارے ملک کی نمائندگی کرو۔‘‘نہرو سے تسلی مل جانے کے بعد ملکھا پاکستان جانے کے لئے تیارہوگئے۔
واگہہ بارڈر عبورکرتے ہوئے ملکھا کی جیپ پر پاکستانیوں نے پھول برسائے، پھول برسانے والے اور اس استقبال سے خوش ہونے والے دونوں ہی لوگ تقسیم میں ضرور اپنوں کو کھوئے ہوئے تھے، پھر بھی آج دونوں اپنا ماضی بھلا کر مستقبل کے ساتھ انصاف کرنا چاہتے تھے۔ سڑک کے دونوں جانب کھڑے لوگ ہندوستانی کھلاڑی کوخوش آمدید کہہ رہے تھے اور خوش ہورہے تھے۔ یہ وہ دو ملک مل رہے تھے جنہوں نے دس سال پہلے ہی اپنی اپنی تلواروں کو ایک دوسرے کے گلے سے نیچے اتاراہوگا۔ لیکن اس دن کا آنا اس بات کی گنجائش کا بھی گواہ تھا کہ لاکھ نفرتوں میں محبت کے پھول اگائے جاسکتے ہیں۔ ادھر کے باغ میں نہروجیسا ذہین مالی تھا ادھر بھی کسی کا دل ہندوستان کے لئے پگھلاہوگا۔
ریس یعنی شروع ہوئی۔ خالق سومیٹر کی ریس مارنے والے عظیم کھلاڑی تھے اورملکھا تھوڑی دورتک جانے والے جانباز گھوڑے تھے، مقابلہ دوممالک کے ساتھ ساتھ دوبہادروں کا بھی تھا۔ دونوں میں سے کوئی انیس بیس نہیں۔ دونوں برابر۔آغاز میں میں ہی خالق ملکھا سے دوقدم آگے نکل گئے، خالق آگے آگے، ملکھا پیچھے پیچھے، لیکن 150 یارڈ ہوتے ہوتے ملکھابرابری پر آگئے، اگلے ہی لمحے خالق پیچھے چھوٹ گئے۔ ملکھا نے محض 20.7 سکینڈ میں میدان مارلیا۔ پوری دنیا میں وہ نیا ریکارڈ بنا۔چاروں جانب ساٹھ ہزار پاکستانی مایوس۔ پاکستان کے صدر جنرل ایوب ملکھاکے پاس پہنچے اورجیت کاہار پہنادیا۔ ایوب ملکھا سے بولے ’ملکھا تم دوڑے نہیں یار، تم تواڑے ہو۔پوری دنیا کے اخباروں میں اگلے روز یہ خبرچھپ گئی، ایوب کے لفظوں نے ملکھا کونیا نام دے دیا۔ ہرجگہ ایک ہی لائن چھپی، یہیں سے ملکھا کانام فلائنگ سکھ پڑا۔جس پاکستان نے ملکھا سے ان کے ماں باپ کو چھینا اسی پاکستان نے انہیں جی بھر کرمحبت دی۔ پاکستان سے لوٹنے کے بعد ملکھا کے آگے دولفظ مزید جڑگئے، ’’اڑن سکھ ملکھا۔
کھیل
میسی کی شکست کے باوجود اسکالونی کو ٹیم پر فخر
نیویارک، ارجنٹینا کے مینیجر لیونل اسکالونی نے اعتراف کیا کہ اسپین ورلڈ کپ جیتنے کا حقدار تھا، لیکن ہار کے باوجود انہیں اپنی ٹیم پر فخر ہے۔
دفاعی چیمپئن نے اپنے پچھلے چاروں ناک آؤٹ میچوں میں سے ہر ایک کو جیتنے کے لیے آخری لمحات میں گول کیے تھے، لیکن نیو جرسی اسٹیڈیم میں ایک اور ڈرامائی کھیل سے بچنے میں ناکام رہے۔
میچ کے بعد اسکالونی نے کہا، “مجھے دکھ ہو رہا ہے۔ کوئی اس بارے میں بہت کچھ کہہ سکتا ہے کہ ہم یہاں تک کیسے پہنچے، لیکن یہ اس کے لائق نہیں ہے۔ میں بس ان کھلاڑیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو ایک بار پھر ہمیں فائنل میں لے گئے۔ وہ (اسپین) بہتر تھے، یہ سچ ہے، لیکن میرے کھلاڑیوں نے جو کچھ حاصل کیا، اس کی زبردست یادیں میرے پاس رہیں گی۔ ہم جیت میں عظیم ہیں اور ہار میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ آج رات، ہم دکھاتے ہیں کہ ہم ہارنا جانتے ہیں۔
ہم ہار گئے اور ہم نے اسے قبول کر لیا۔”
یواین آئی۔الف الف
کھیل
طویل علالت کے بعد شہپور زادران انتقال کر گئے
نئی دہلی، افغانستان کے سابق فاسٹ گیندباز شہپور زادران 39ویں سالگرہ سے ایک روز قبل طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ گزشتہ کئی ماہ سے دہلی کے ایک اسپتال میں نایاب بیماری ہیموفیگوسائٹک لمفوہسٹیوسائٹوسس (ایچ ایل ایچ) کے باعث زیر علاج تھے۔
ان کے انتقال کی تصدیق ان کے چھوٹے بھائی غمئی زادران نے کی، جو جنوری میں علاج کے لیے دہلی منتقل کیے جانے کے بعد سے مسلسل ان کے ساتھ تھے۔ شہپور زادران ایچ ایل ایچ کی شدید نوعیت میں مبتلا تھے، جو ایک نایاب بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام درست طریقے سے کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
2000 اور 2010 کی دہائی میں افغانستان کرکٹ کے عروج کے دوران شہپور زادران نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ چھ فٹ دو انچ قد کے شہپور زادران اپنے طویل رن اپ اور لہراتے بالوں کے ساتھ گیندبازی کے لیے مشہور تھے۔ افغانستان کرکٹ بورڈ کے مطابق ملک میں کرکٹ کی بنیاد مضبوط کرنے میں ان کا اہم کردار رہا۔ انہوں نے 2009 سے 2020 کے درمیان 44 ایک روزہ اور 36 ٹی20 بین الاقوامی میچ کھیلے اور مجموعی طور پر 80 بین الاقوامی وکٹیں حاصل کیں۔
2015 کے ایک روزہ ورلڈ کپ میں انہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 10 وکٹیں حاصل کیں اور افغانستان کے سب سے کامیاب گیندباز رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 2010 سے 2016 کے درمیان چار ٹی20 ورلڈ کپ کھیلے، جن میں نو میچوں میں نو وکٹیں حاصل کیں۔
شہپور زادران کی علالت کے دوران راشد خان، سابق کپتان اصغر افغان اور دیگر کئی نمایاں کرکٹرز مسلسل ان کے رابطے میں رہے۔
افغانستان کرکٹ بورڈ نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ شہپور زادران نے اپنے پورے کریئر میں عزت، حوصلے اور فخر کے ساتھ افغانستان کرکٹ کی خدمت کی اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ بورڈ نے کہا کہ وہ نوجوان افغان کرکٹرز اور دنیا بھر کے شائقین کے لیے ایک تحریک تھے، جبکہ ان کی جرات، عزم اور کھیل سے محبت نے نئی نسل کو بڑے خواب دیکھنے کا حوصلہ دیا۔
بیان میں شہپور زادران کے اہل خانہ، دوستوں، سابق ساتھیوں اور افغانستان کرکٹ برادری سے بھی گہرے تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
شہپور زادران افغانستان کے صوبہ لوگر میں پیدا ہوئے، تاہم جنگ کے باعث ان کا خاندان پشاور منتقل ہوگیا، جہاں انہوں نے نیاز اسٹیڈیم اور جمخانہ میں کرکٹ سیکھی۔ ابتدا میں وہ پاکستان کی نمائندگی کرنا چاہتے تھے اور شعیب اختر ان کے آئیڈیل تھے، لیکن بعد میں سابق کرکٹر اقبال سکندر کی ترغیب پر افغانستان واپس آ گئے۔
انہوں نے اگست 2009 میں نیدرلینڈز کے خلاف ایک روزہ میچ سے بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا اور 24 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کے ون ڈے کریئر کی بہترین بولنگ رہی۔ فروری 2010 میں آئرلینڈ کے خلاف ٹی20 بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا، جبکہ اس فارمیٹ میں ان کی بہترین بولنگ 2018 میں دہرادون میں بنگلہ دیش کے خلاف 40 رنز دے کر 3 وکٹیں تھی۔
یو این آئی۔ م س
کھیل
میسی ورلڈ کپ کی تاریخ کے ٹاپ اسکورر بنے
ڈلاس، کلب اور قومی ٹیم کے لیے 750 سے زائد سینئر گول کر چکے ارجنٹینا کے لیونل میسی فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔
میسی فیفا ورلڈ کپ میں 28 میچوں میں 17 گول کے ساتھ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ انہوں نے جرمنی کے میروسلاو کلوز (24 میچوں میں 16 گول) کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ارجنٹینا کے لئے آسٹریا کے خلاف پہلا ہاف تاریخی ثابت ہوا۔ ابتدا میں گھبراہٹ کے باعث لیونل میسی نے ایک پنالٹی مس کی اور ایک اور موقع گنوا دیا، لیکن ارجنٹینا کے کپتان نے شاندار واپسی کرتے ہوئے میروسلاو کلوزکا ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گولوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔ میسی کے اس یادگار گول کی بدولت موجودہ چیمپئن ارجنٹینا کو ہاف ٹائم تک 1-0 کی برتری دلائی۔
میسی نے الجیریا کے خلاف ارجنٹینا کی گزشتہ ہفتے 3-0 سے جیت میں ہیٹ ٹرک بھی اسکور کی تھی۔
میسی فٹ بال ورلڈ کپ میں ارجنٹینا کے لیے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بھی ہیں۔ ان میں سے سات گول قطر میں ہوئے 2022 فیفا ورلڈ کپ میں کئے تھے، جسے ارجنٹینا نے جیتا تھا۔
انہوں نے اپنے بین الاقوامی کیریئر میں 201 میچوں میں 121 گول کیے ہیں، جس سے وہ ارجنٹینا کے لئے اب تک کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ بین الاقوامی فٹبال میں سب سے زیادہ گول کرنے والوں کی فہرست میں بھی میسی دوسرے نمبر پر ہیں، ان سے آگے صرف ان کے حریف کرسٹیانو رونالڈو ہیں۔
میسی سے پہلے، گیبریل بٹسٹوٹا (12 میچوں میں 10 گول) فیفا ورلڈ کپ میں ارجنٹائن کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی تھے۔ ڈیاگو میراڈونا (21 میچز) اور یوراگوئے 1930 کے گولڈن بوٹ کے فاتح گیلرمو سٹیبیل (چار میچز) نے آٹھ آٹھ گول کئے ہیں۔
فیفا ورلڈ کپ کوالیفائر میں بھی لیونل میسی کا گول کرنے کا ریکارڈ شاندار رہا ہے، انہوں نے 72 میچوں میں 36 گول کئے ہیں۔
لیونل میسی کا پہلا فیفا ورلڈ کپ گول
لیونل میسی نے 2006 میں جرمنی میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کے دوران ہیمبرگ کے ورلڈ کپ اسٹیڈیم میں سربیا اور مونٹی نیگرو کے خلاف ارجنٹینا کے گروپ سی کے دوسرے میچ میں اپنا پہلا ورلڈ کپ گول کیا تھا۔ اپنی ٹیم کو گروپ کے پہلے میچ میں آئیوری کوسٹ کے خلاف 2-1 سے جیتتے ہوئے بنچ سے دیکھنے کے بعد، لیونل میسی نے اگلے میچ میں سربیا اور مونٹی نیگرو کے خلاف 75ویں منٹ میں متبادل کے طور پر میدان پر اتر کر اپنا ورلڈ کپ ڈیبیو کیا۔ اس وقت ارجنٹینا پہلے سے ہی 3-0 سے آگے تھا اور اپنے ڈیبیو کے صرف تین منٹ بعد ہی، لیونل میسی نے ہرنان کریسپو کی مدد سے ارجنٹینا کے لئے میچ کا چوتھا گول کیا۔ 88ویں منٹ میں کارلوس تیویز کے پاس پر میسی نے گول کیا اور مخالف ٹیم کے گول کیپر کو نیئر پوسٹ پر چھکاتے ہوئے 6-0 کی بڑی جیت پکی کی۔
جاری یواین آئی۔الف الف
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان3 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
ہندوستان3 days agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
