پاکستان
علم کا کوئی مذہب نہیں، مسلم بچیوں کو پڑھانے والا پشاور کا مسیحی خاندان
حصول علم کی خاطر ہر دور میں لڑکیوں کی تگ و دو جاری رہتی ہے۔ پشاور میں لڑکیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کا بیڑا اٹھانے والا اور اصل خراج تحسین کا حق دار ہے ایک مسیحی خاندان۔
یہ کہانی ایک ایسے مسیحی خاندان کی ہے، جس نے پشتون قوم کی بیٹیوں کو پڑھایا ہے۔ اس مشکل اور کٹھن سفر میں اس خاندان کی خواتین کا کردار سب سے نمایاں ہے۔
درس وتدریس کا ایک سو سالہ پرانا سفر
علم کی شمع جلائے رکھنے والے درس وتدریس سے وابستہ اس خاندان کا یہ سفر تقریباﹰ گزشتہ ایک سو سالوں سے جاری ہے۔ پروفیسرالون ایڈون جو اے ایڈون کے نام سے جانے جاتے ہیں اس خاندان کے سربراہ ہیں۔
ڈی ڈبلیو کو اپنے خاندان کی داستان سناتے ہوتے کہتے ہیں،”الزبتھ سکول پشاور کے علاقے کریم پورہ کی ایک تنگ سی گلی میں 1905ء میں انگریز دور حکومت میں قائم کیا گیا تھا۔ اس وقت اس سکول کو روایات کے خلاف سمجھا جاتا تھا کیونکہ انگریز دور حکومت میں لڑکیاں پردے میں یہاں آتیں اور تعلیم حاصل کرتی تھیں۔ ‘‘ اُس وقت پروفیسر ایڈون کی نانی مسز آئی ڈی پرکاش اس سکول میں پڑھایا کرتی تھیں۔ یہاں ہندو، سکھ اور ایک دو مسلم گھرانوں کی لڑکیاں پڑھنے آتی تھیں۔
پختون جج
پروفیسر ایڈون کے مطابق ان کی نانی کی ہمیشہ سے خواہش اور کوشش تھی کہ پختون بچیاں بھی یہاں تعلیم حاصل کریں مگر جب 1930ء میں الزبتھ سکول اپنی اس وقت نئی اور آج کی موجودہ عمارت میں منتقل ہوا اور ایک انگریز خاتون مس میریٹ اس کی پرنسپل تعینات ہوئیں تو مسز آئی ڈی پرکاش کو انگریز دور کے ایک پختون جج کے بارے میں معلوم ہوا۔
مٹہ مغل خیل سے تعلق رکھنے والے اس جج کی 5 بیٹیاں تھیں۔ ان کے بارے میں مسز آئی ڈی پرکاش نے پرنسپل میریٹ کو بتایا اور یہ مشورہ دیا کہ اگر یہ جج اپنی بیٹیوں کو پڑھانے پر راضی ہو جائے تو دیگر پشتون خاندان بھی اپنی بیٹیوں کو سکول بھیجیں گے۔ یوں ان دو خواتین نے اس جج سے ملاقات کی اور اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلوائیں۔ اس کے بعد جج اپنی پانچوں بیٹیوں کو سکول بھیجنے لگے۔
یہ سلسلہ مسز آئی ڈی پرکاش نے چالیس سال تک جاری رکھا، جس کے بعد علم کے زیور سے آراستہ کرنے کی ذمہ داری ان کی بیٹی اور پروفیسر اے۔ ایڈون کی والدہ ایس ایڈون کے نے اٹھا لی۔ مسز ایڈون نے 45 سال اس ذمہ داری کو نبھایا۔ ان کی سب سے منفرد بات یہ کہ ان 45 سالوں میں انہوں نے سکول سے ایک دن بھی چھٹی نہیں کی تاکہ بچیوں کا نقصان نہ ہو۔
کوئی چھٹی نہیں
پروفیسر ایڈون کے مطابق ان کی والدہ نے خود ماں بننے کا فیصلہ بھی تب کیا جب سالانہ چھٹیاں ہوتی تھیں اور اب اس خاندان کی ایک اور بیٹی اور پروفیسر ایڈون کی اہلیہ مسز روزلین ایڈون بھی اسی سکول میں 1988ء سے پڑھاتی آ رہی ہیں۔
انہوں نے بھی 45 سال تک اس سکول میں قوم کی بیٹیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر کے رواں سال الزبتھ گرلز ہائی سکول سے بطور وائس پرنسپل ریٹائرمنٹ لے لی۔ اس گھرانے اور علم کی روشنی پھیلانے کا سفر 100 سال سے جاری ہے۔
مسز روزلین
مسز روز لین نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے بتایا،”اپنی بچیوں کو ان کا حق دینا اور ان کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا آسان نہیں تھا۔ الزامات بھی لگے، شک بھری نگاہیں اور رویے بھی برداشت کیے مگر اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے۔ والدین کو راضی کرنے کے لیے بچیوں کی فیس خود ادا کرنے کی پیشکش بھی کرتے تھے۔ اور پھر لوگوں نے بہت اعتماد بھی کیا، اپنی بیٹیوں کی پرورش ہم پر چھوڑی بہت پیار ملا اور آج تک عزت بھی کرتے ہیں‘‘۔
بیرون ملک کا سفر
پروفیسر اے ایڈون نے اپنی ابتدائی تعلیم پشاور میں حاصل کی پھر اس کے بعد شمالی افریقہ میں ملازمت اور تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ 1989ء میں وہ واپس پشاور آئے اور پی سی ایس کا امتحان پاس کر کے گورنمنٹ کالج میں ملازمت اختیار کی جہاں وہ کئی برس تک انگریزی پڑھاتے رہے۔
اُس کے بعد مشہور ایڈورڈز کالج میں بھی درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ پروفیسر ایڈون کے مطابق شمالی افریقہ کے لیے منتخب ہونے کا عمل شروع ہوا تو وہ اس وقت پی اے ایف کالج پشاور میں پڑھا رہے تھے۔
سنہری یادیں
ڈی ڈبلیو سے سنہری تاریخ شیئر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا،”کالج کی لائبریرین نے بتایا کہ کیمبرج والوں کو انگریزی کے استاد درکار ہیں آپ درخواست دے دیں لیکن مجھے امید نہیں تھی کہ میں منتخب ہو جاؤں گا جس کے بعد اسی لائبریرین نے میری درخواست بھیجی پھر مجھے انٹرویو کے لیے بلایا گیا تو وہاں مجھ سمیت 7 ہزار افراد تھے، جس میں 18 کو منتخب کیا جانا تھا۔
مگر میں پھر بھی اسی سوچ میں تھا کہ میں منتخب نہیں ہوں گا مگر وہ دن بھی آیا جب میں سلیکٹ ہو گیا۔‘‘ پروفیسر ایڈون نے کیمبرج میں ملازمت کے ساتھ ساتھ لیڈز یونیورسٹی سے بھی تعلیم حاصل کی ہے۔
علم کا کوئی مذہب نہیں
پروفیسر الون ایڈون کے مطابق 4 خواتین یعنی نانی، والدہ، اہلیہ اور بیٹی کا ان کی کامیابی میں90 فیصد کردار رہا ہے۔ پروفیسر ایڈون کہتے ہیں،”علم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، ہم نے ہمیشہ تعلیم کا حق ادا کیا۔ میں اقلیتی برادری سے ہوں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان چھوڑ کر کسی دوسرے ملک جاؤں۔بحیثیت استاد اس شعبے نے بہت عزت دی۔ ہر مذہب کے لوگوں نے پیار، عزت اور احترام دیا جس میں سب سے زیادہ مسلمان شاگردوں کی ہے۔‘‘
پروفیسر ایڈون نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا،”بطور مسیحی اس خطے کے لوگوں نے جو مقام دیا وہ کہیں اور نہیں مل سکتا۔ خیبر پختونخوا کے لوگ دنیا کے الٹ چلتے ہیں۔ دوسرے لوگ طاقتور مگر پختونخوا کے لوگ کمزور کے ساتھ کھڑے ہونا جانتے ہیں اور اسی طرز عمل نے مجھے یہاں رہنے پر مجبور کیا اور یہیں کا ہو کر رہ گیا۔‘‘
اس خاندان کا درس و تدریس کا سلسلہ یہاں نہیں رکا۔ پروفیسر ایڈون اور مسز ایڈون کی بڑی بیٹی یمیمہ ایڈون اس وقت کنیرڈ کالج لاہور میں انگریزی ادب کی لیکچرر ہیں جبکہ مائرہ ایڈون تاریخی اسلامیہ کالج سے انگریزی ادب میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ جبکہ خیبر پختونخوا کی اقلیتی پی ایم ایس آفیسر ہیں۔ پروفیسر اے ایڈون کا اکلوتے بیٹے ڈاکٹر سڈرک ایڈون بھی اپنے خاندان کی خواتین کی طرح اس مشن کا حصہ ہیں اور پشاور کی ایک یونیورسٹی میں شعبہ مینجمنٹ سائنسز میں چیئرمین کے عہدے پر تعینات ہیں۔
(بشکریہ قومی آواز)
پاکستان
تحریک انصاف تحریک ختم کرکے مذاکرات کے لیے آگے آئے، شہباز شریف
اسلام آباد، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایجی ٹیشن اور لانگ مارچ کی سیاست ترک کر کے مذاکرات کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل احتجاج ملک کی اقتصادی ترقی اور بین الاقوامی امیج کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ٹریفک کو کم کرنے کے لیے بنائے جانے والے کشمیر چوک انڈر پاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جناب شریف نے کہا، “میں اب بھی ان سے کہتا ہوں کہ ہوش میں آجائیں، اپنے لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو ہم ضرور آپ کے ساتھ بیٹھیں گے اور بات کریں گے تاکہ پاکستان آگے بڑھ سکے، یہ آپسی محنت اورپاکستانی قوم کی آواز ہے ۔”
تقریب میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین سہیل اشرف سمیت متعدد ارکان پارلیمنٹ اور دیگر معززین نے شرکت کی۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت کی مخلصانہ کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی نے ایک بار پھر دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے تھے لیکن حتمی مسودہ تیار ہونے کے بعد تحریک انصاف کے آخری لمحات میں تبدیلی کے مطالبات کی وجہ سے یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا براہ راست معیشت پر اثر پڑے گا، برآمدات، مینوفیکچرنگ اور درآمدات متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کارکن یا انجینئر وقت پر فیکٹری یا دفتر نہ پہنچ سکے تو پورے ملک کو نقصان پہنچے گا۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت نے میکرو اکنامک استحکام کو بحال کیا ہے اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے معاشی ترقی کی جانب کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات، ترسیلات زر اور صنعتی پیداوار میں اضافہ جیسے اشارے مثبت ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان کامیابیوں کو نقصان پہنچانا ریاست کے مفادات کے خلاف ہوگا۔
انہوں نے کہا، “ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، اور ہم اسے ہر ممکن طریقے سے یقینی بنائیں گے۔”
مسٹر شریف نے کشمیر چوک پروجیکٹ کو ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کرنے پر مسٹر نقوی اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔ منصوبے کی لاگت 1.6 بلین پاکستانی روپے تھی، جبکہ ٹھیکہ 1.4 بلین روپے میں دیا گیا تھا۔ چار سلپ روڈ بنائے جائیں گے۔ اس چوراہے پر فی الحال تقریباً 107,000 گاڑیاں چلتی ہیں اور خاص طور پر وی آئی پی کی نقل و حرکت کے دوران یہ ٹریفک جام کا شکار ہوتا ہے۔
یو این آئی۔ الف الف ۔ م الف
پاکستان
عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
پشاور، جیل میں قید پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ہزاروں حامیوں نے ان کی رہائی اور آئینی و سیاسی حقوق میں اضافے کے مطالبے پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
لانگ مارچ اتوار کو پی ٹی آئی کے زیر اقتدار صوبہ خیبر پختونخوا سے شروع ہوا۔ شرکا اسلام آباد پہنچنے سے قبل راستے میں کئی مقامات پر قیام کریں گے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی جلوس کی قیادت کر رہے ہیں اور انہوں نے نوجوانوں سے اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکام مارچ کو دارالحکومت میں امن و امان کی صورت حال متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ شہر کے اطراف ہزاروں پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
اہم شاہراہوں اور سرکاری علاقے کے اطراف رکاوٹوں کے طور پر مال بردار کنٹینر بھی رکھے گئے ہیں۔ اس علاقے میں پارلیمنٹ، وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔
تازہ کشیدگی ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب ہفتے کے اختتام پر پی ٹی آئی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔ یہ مارچ، جو پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے مطالبات پر مذاکرات کی پیشکش کے بعد ملتوی کر دیا گیا تھا۔
عمران خان اور پاکستان کی سیاسی قیادت کے درمیان سیاسی تنازع 2022 میں پارلیمنٹ کے ذریعے ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جاری ہے۔ خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام فوج پر عائد کیا تھا، جس کی فوج نے تردید کی ہے۔
مئی 2023 میں ان کی گرفتاری کے بعد پرتشدد احتجاج کے نتیجے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جس کے بعد کریک ڈاؤن میں پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور بعض کو بعد میں فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں۔
سابق بین الاقوامی کرکٹ اسٹار اور ملک کی اہم سیاسی شخصیت عمران خان خود کو ’’سیاسی قیدی‘‘ قرار دیتے رہے ہیں۔
فوج اور سویلین حکومت اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کا حوالہ دیتی ہیں۔ عمران خان کو کئی مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہے، تاہم ان میں سے ایک کے سوا باقی تمام سزائیں بعد میں معطل یا کالعدم قرار دی جا چکی ہیں اور ان کے خلاف اپیلیں زیر سماعت ہیں۔
حکومت نے پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرحد سے متصل صوبے میں بڑھتے ہوئے عسکریت پسندانہ حملوں سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کی جانب سے وضع کردہ حکمت عملی میں تعاون کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے مذاکرات کے خاتمے کے حوالے سے اسلام آباد کی وضاحت مسترد کر دی ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صوبائی حکومت وفاقی انسداد دہشت گردی پالیسی پر عمل نہیں کرتی تو اس کے خلاف آئینی اور قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
ہندوستان1 week agoبیلا کلسٹر کے 729 ووٹوں میں سے 728 کو حذف کرنا ووٹ کی چوری : راہل
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
