تازہ ترین
غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالر غالب سمینار4 تا 6 نومبر
نئی دہلی، 03 نومبر (یو این آئی)غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالر غالب سمینار4 تا 6 نومبر منعقد ہوگا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے بتایا کہ ریسرچ اسکالر سمینار غالب انسٹی ٹیوٹ کے دو بڑے پروگراموں میں ایک ہے۔ غالب انسٹی ٹیو ٹ ہر سال اس سمینار کو بڑے اہتمام سے منعقد کرتا رہا ہے۔ اس مرتبہ یہ سمینار 4 تا 6 نومبر منعقد کیا جارہا ہے، جس میں ملک کی مختلف یونیورسٹیز کے علاوہ ازبکستان، ایران اور مصر سے اسکالرز کی آمد متوقع ہے-
اس سمینارمیں محترمہ کمالہ،محترمہ خودجائیفادلڈورہ (ازبکستان)،محترمہ فاطمہ سادات میرحبیبی(ایران)، محترمہ ولا جمال العسیلی، جناب محمود احمد محمد (مصر) جناب ارشد حسین (عالیہ نیورسٹی،کلکتہ)،جناب آصف خان (روہیل کھنڈ یونیورسٹی ،بریلی)، سید جنید قادری (کے۔بی۔این۔ یونیورسٹی، گلبرگہ) جناب ذبیح اللہ (گلبرگہ یونیورسٹی)، جناب پپو رام (پنجاب یونیوسٹی،چنڈی گڑھ)،محترمہ شاہین اختر(جی۔این۔ڈی۔ یونیورسٹی، امرتسر)، محترمہ فرحت فاطمہ (بی۔آر۔اے۔ یونیورسٹی مظفرپور)، جناب نوید احمد خان (چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ)، محترمہ فاطمہ حق (رانچی یونیورسٹی)، جناب شمشیر علی، جناب عبدالرحمن انصاری (بی۔ایچ۔یو)، محترمہ غزالہ شیریں، جناب محمد عارف (الہ آباد یونیورسٹی)، محترمہ مبینہ بی (ایم۔ایل۔ ایس۔ یونیورسٹی اُدے پور)، جناب محمد عرفان رضا(ممبئی یونیورسٹی)، جناب اعجاز احمد (مانو، حیدر آباد)، محترمہ ثنااظہر، جناب سفیان احمد انصاری (لکھنو ¿ یونیورسٹی)، جناب محمد یٰسین قریشی (گجرات یونیورسٹی،احمدآباد)، محترمہ ہما یاسمین (ڈی۔ڈی۔ یونیورسٹی گورکھپور)، جناب محمد ارشاد (کلکتہ یونیورسٹی)، محترمہ ادیبہ صدیقی، جناب سلیم احمد (اے ایم یو، علی گڑھ)، جناب رکن الدین خان (راجستھان یونیورسٹی)، جناب امتیاز احمد(جے۔ پی۔ یونیورسٹی،چھپرا)،محترمہ رقیہ سعدیہ (ہری سنگھ یونیورسٹی، ساگر)، جناب محمد اقرار، محترمہ سیمیں فلک (جامعہ ملیہ اسلامیہ)، جناب سعد ظفر، محترمہ عائشہ ضیا (جے این یو) ،محترمہ دبیر سیدہ، جناب جاوید اقبال (دہلی یونیورسٹی)، جناب ظہور احمد گنائی(کشمیر یونیورسٹی)،محترمہ کنیز فاطمہ(مگدھ یونیورسٹی،گیا) اورجناب مدثر احمد گنائی(سنٹرل یونیورسٹی،حیدرآباد) اور جناب محمد حنیف(پنجابی یونیورسٹی، پٹیالہ)کی آمد متوقع ہے-
صدارت کے فرائض پروفیسر شہناز انجم، پروفیسر توقیر احمد خان، پروفیسر مظہر مہدی، پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین، پروفیسر کوثر مظہری، پروفیسر اخلاق احمد آہن، ڈاکٹر محمود فیاض ہاشمی، اور ڈاکٹر سید کلیم اصغرانجام دیں گے – جناب شاداب شمیم،جناب رئیس احمد فراہی، جناب محمد افضل زیدی، جناب امیر حمزہ، محترمہ مہر فاطمہ، محترمہ صالحہ عاصم، جناب شاہنواز خان اور جناب عبدالباری قاسمی نظامت کے فرائض انجام دیں گے – علم دوست حلقے میں اس سمینار کی مقبولیت کے پیش نظر کثیر تعداد میں لوگوں کی آمد متوقع ہے۔
دنیا
ایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
تہران، بتایا گیا ہے کہ ایران کا امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکراتی منصوبہ موجود نہیں ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیویارک جانے والے ایرانی وفد کے ایک اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ اس وقت امریکہ میں موجود وزیر خارجہ عباس عراقچی باقاعدہ طے شدہ ملاقاتیں مکمل کرنے کے بعد منگل کو ایران واپس لوٹیں گے اور امریکہ کے ساتھ کسی نوعیت کا مذاکراتی منصوبہ موجود نہیں ہے۔
خبر میں یہ بھی کہا گیا کہ قطر کی ثالثی کے ذریعے ایران کی طرف سے امریکہ کو پہنچائے گئے شرائط کے بارے میں ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا اور اس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے ایران کی جانب سےآبنائے ہرمز میں آمدورفت کے لیے پیش کردہ شرائط کو انہوں نے مسترد کر دیا ہے اور اس کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس ہفتے ایران کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کی توقع رکھتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
کٹھوعہ میں ٹرک ڈرائیور سے مبینہ انٹری فیس وصول کرنے والے پولیس اہلکار کی ویڈیو وائرل، پولیس تحقیقات میں مصروف
جموں، جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ضلع میں وردی پہنے ایک پولیس اہلکار کی جانب سے ٹرک ڈرائیور سے مبینہ طور پر انٹری فیس وصول کرنے کی ویڈیو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہوگئی ہے، جس کے بعد آن لائن حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
ٹرک ڈرائیور کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو میں مبینہ طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ لکھن پور چیک پوائنٹ پر ایک پولیس اہلکار اس سے رقم کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ڈرائیور بلٹی پیش کرنے میں ناکام رہا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ ٹرک میں لدا سامان بلٹی کا متقاضی نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ یہ انٹری پوائنٹ کٹھوعہ ضلع کے اسٹیٹ ٹیکسز انفورسمنٹ ونگ کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
لاری رسید، جسے عام طور پر ٹرک بلٹی کہا جاتا ہے، ایک قانونی دستاویز ہوتی ہے جو ٹرانسپورٹ کمپنی یا مال بردار ادارہ سڑک کے ذریعے سامان کی ترسیل کے لیے سامان وصول کرنے کے ثبوت کے طور پر جاری کرتا ہے۔
ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ ٹرک ڈرائیور پولیس اہلکار کو 30 روپے دینے کی پیشکش کر رہا ہے، جبکہ اہلکار 100 روپے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ڈرائیور بلٹی پیش کرنے میں ناکام رہا تھا۔
ویڈیو کے مطابق، ڈرائیور نے بالآخر پولیس اہلکار کو مطلوبہ رقم ادا کی اور چیک پوائنٹ سے روانہ ہوگیا۔
کٹھوعہ کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) سنیل کیسر نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ’’یہ معاملہ ہمارے علم میں آیا ہے اور اس کی تصدیق کی جا رہی ہے۔‘‘
کٹھوعہ کے ڈپٹی کمشنر، اسٹیٹ ٹیکسز انفورسمنٹ، جوگندر سنگھ نے یو این آئی کو بتایاکہ ’’اس معاملے کا ہمارے محکمہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہماری ٹیمیں ای وے بلوں کی بے ترتیب جانچ اور تصدیق کے لیے تعینات ہیں اور انہیں مناسب وردی میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی نے مکمل ریاستی حیثیت کی فوری بحالی کی قرارداد منظور کرلی
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے حکومت ہند سے مرکز کے زیر انتظام خطے جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت فوری اور بلاتاخیر بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
خودمختاری اور خصوصی حیثیت کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد صوتی ووٹ سے منظور کی گئی۔ بی جے پی کو چھوڑ کر تمام جماعتوں نے قرارداد کی حمایت کی۔
قرارداد کی منظوری سے قبل جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ریاستی حیثیت کی بحالی میں تاخیر پر مرکز سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اسے ’’جلد از جلد‘‘ بحال کرنے کی ہدایت کا مطلب یہ نہیں ہوسکتا کہ اس کے لیے دو سال انتظار کیا جائے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کی حکومت اسمبلی انتخابات کے بعد سے مرکز کی جانب سے ریاستی حیثیت بحال کرنے کے وعدے کی تکمیل کا انتظار کر رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’اسپیکر صاحب، مجھے بتائیے کہ کس انگریزی میں ’جتنی جلد ممکن ہو‘ کا مطلب دو سال ہوتا ہے؟ کس انگریزی میں ’جلد از جلد‘ کا مطلب دو سال ہوتا ہے؟‘‘
عمر عبداللہ نے دسمبر 2023 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے جموں و کشمیر میں ستمبر 2024 تک انتخابات کرانے اور ریاستی حیثیت ’’جلد از جلد‘‘ بحال کرنے کی ہدایت دی تھی۔
موجودہ اسمبلی اکتوبر 2024 میں منتخب ہوئی، جبکہ عمر عبداللہ کی جانب سے 25 ستمبر کو پیش کی گئی قرارداد میں ریاستی حیثیت ’’فوری اور بلاتاخیر‘‘ بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا ریاستی حیثیت کی بحالی کو جموں و کشمیر کی سکیورٹی صورت حال سے جوڑا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’کیا آپ اسے (ریاستی حیثیت کی بحالی کو) ملی ٹنسی سے جوڑ رہے ہیں؟ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ جب تک جموں و کشمیر میں بندوقیں خاموش نہیں ہوجاتیں، ریاست کا درجہ بحال نہیں کیا جائے گا؟‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر ریاستی حیثیت کی بحالی کو ملی ٹنسی کے مکمل خاتمے سے مشروط کیا گیا تو اس فیصلے کا اختیار بالآخر نئی دہلی کے بجائے پاکستان کے پاس چلا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ ’’مرکزی حکومت بار بار کہتی ہے کہ ملی ٹنسی پاکستان سے شروع ہوئی اور گزشتہ 35 برس سے یہاں ملی ٹنسی جاری ہے۔ لہٰذا جب آپ کہتے ہیں کہ بندوقیں خاموش ہونے پر ریاستی حیثیت بحال کی جائے گی تو آپ یہ فیصلہ پاکستان کے حوالے کر رہے ہیں کہ جب بھی بندوقیں خاموش ہوں گی، آپ ہمیں ریاستی حیثیت بحال کریں گے۔ کیا ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ ہماری ریاست کے بارے میں فیصلہ ہماری اپنی حکومت نہیں کرے گی؟ کیا ہم نے یہ طے کرلیا ہے کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت ہمارے وزیر اعظم نہیں دیں گے؟ کیا یہ فیصلہ کسی دوسرے ملک میں ہوگا؟ اگر ایسا طے کیا گیا ہے تو یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ کیونکہ ہمارا ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ اگر یہ فیصلہ کہیں ہونا ہے تو نئی دہلی میں ہوگا۔ یہ فیصلہ کہیں اور نہیں ہوگا۔‘‘
جاری۔یواین آئی۔ ط ا
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا7 days agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
دنیا1 week agoواپس آنے کی خواہش ہے، لیکن بنگلہ دیش حکومت رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے: شیخ حسینہ
-
جموں و کشمیر6 days agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
