دنیا
غزہ میں ‘کوئی بھی محفوظ نہیں ہے’: ٹیڈروس
اقوام متحدہ، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریسس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کے ہنگامی اجلاس میں کہا کہ غزہ میں ‘کہیں بھی اور کوئی بھی محفوظ نہیں ہے’ اور یہاں صحت کا نظام ‘اپنے گھٹنوں پر‘ ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے جمعہ کو ہونے والی میٹنگ میں کہا کہ زمینی سطح پر صورتحال سنگین ہے اور اسپتالوں میں بے ہوشی کے بغیر آپریشن کیے جانے سے لے کر ہر دس منٹ میں ایک بچے کی موت تک صور حال انتہائی سنگین ہے۔
انہوں نے زوردیتے ہوئے کہا، ’’کہیں بھی اور کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبی عملہ 23 لاکھ لوگوں کی صحت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔
مسٹر ٹیڈروس نے کہا کہ تعاون ظاہر کرنے کا بہترین طریقہ صحت کے کارکنوں کوزندگی بچانے کے لئے ضروری چیزیں فراہم کرنا ہے۔ تقریباً 63 میٹرک ٹن اس طرح کی امداد بھیجی گئی ہے، لیکن ان شہریوں تک پہنچنے کے لیے بلا روک ٹوک رسائی کی ضرورت ہے جو بحران کے لئے ذمہ دار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او مسلسل جنگ بندی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ “مزید برآں، میں نے دونوں فریقوں سے بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرنے کی اپیل کی ہے۔”
میٹنگ کے اختتام پر دوبارہ بات کرتے ہوئے، مسٹر ٹیڈروس نے کہا، “غزہ میں، کہیں بھی اورکوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ انہوں نے سفیروں سے پوچھا، ’’تصور کیجئے کہ آپ اس صورتحال میں پھنس گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے ہم جنگ بندی اور بلا روک ٹوک انسانی رسائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہم سلامتی کونسل سے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
ایران کے وزیر خارجہ عراقی کی قطری ثالثوں سے ملاقات، امریکہ کا جوہری معاملہ حل کیے بغیر معاہدے سے انکار
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقی نے نیویارک میں قطری ثالثوں سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز پر بات چیت کی ہے، جبکہ ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملہ حل کیے بغیر جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
عراقی نے پیر کو ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ قطری ثالث ملاقات میں زیر بحث آنے والی تجاویز امریکہ کے سامنے پیش کریں گے اور انہیں امید ہے کہ واشنگٹن کا حتمی جواب منگل تک موصول ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا، ”ہم نے خیالات اور ایران کی شرائط پوری کرنے کے لیے حل تلاش کرنے اور ان شرائط پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بات کی۔ ان کے پاس کچھ تجاویز تھیں اور ہم نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ وہ انہیں امریکی فریق کے سامنے بھی پیش کریں گے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ جواب کا انتظار کرنے کے لیے نیویارک میں قیام کریں گے، عراقی نے کہا کہ وہ چند گھنٹوں میں تہران روانہ ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا، ”جب بھی قطریوں کے پاس کوئی جواب ہوگا، وہ جانتے ہیں کہ اسے ہم تک کیسے پہنچانا ہے۔”
عراقی نے ان ملاقاتوں کو قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ذریعے جاری پیغامات کے تبادلے کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ ایران کی جانب سے اپنی تجویز پیش کیے جانے کے بعد یہ رابطے ”زیادہ سنجیدہ شکل” اختیار کر گئے ہیں۔
ایران نے جمعہ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنی تجویز پیش کی تھی، جس میں امریکہ سے ایرانی منجمد اثاثے جاری کرنے، پابندیاں اٹھانے اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
عراقی کے مطابق ان اقدامات کو چار یا پانچ دن کے اندر مکمل کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جا سکتی ہے اور ساتویں روز ایران کے جوہری پروگرام سمیت حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے ”ناقابل قبول” قرار دیا تھا۔
الجزیرہ سے بات کرنے والے امریکی عہدیدار نے کہا کہ بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔
عہدیدار نے مذاکرات کو ”مثبت اور تعمیری” قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملہ حل کیے بغیر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ٹرمپ جوہری معاملے میں پیش رفت کے بدلے ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور ایرانی منجمد اثاثے جاری کرنے پر آمادہ ہیں۔
عہدیدار نے کہا، ”ایران نے اشارہ دیا ہے کہ وہ جوہری معاملات پر لچک دکھانے کے لیے تیار ہے، تاہم فریقین اب بھی وعدوں پر عمل درآمد کے وقت اور اس معاملے پر اختلاف رکھتے ہیں کہ پہلے کون سا فریق کون سا قدم اٹھائے گا۔”
امریکی عہدیدار نے ایران کے بارے میں شکوک کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ تہران نے جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی کی اور تجارتی بحری جہازوں پر حملے کیے۔ تہران اس الزام کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے لبنان پر اسرائیلی حملے روکنے کی اپنی ذمہ داری پوری نہ کرکے اور آبنائے ہرمز کے متبادل بحری راستے قائم کرنے کی کوشش کرکے خود اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی۔
جاری۔ یو این آئی۔ع ا۔
دنیا
صدر ایردوان کی نے انڈونیشیا کے صدر سوبیانتو سے ٹیلیفونک بات چیت
انقرہ، صدر رجب طیب ایردوان نے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔
صدارتی محکمہ اطلاعات کے بیان کے مطابق، گفتگو میں ترکیہ-انڈونیشیا تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی موضوعات پر بات چیت کی گئی۔
صدر ایردوان نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کی بین الاقوامی فورمز پر یکجہتی سے خوش ہیں اور اسے برقرار رکھنا ترکیہ اور انڈونیشیا کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
ایردوان نے زور دیا کہ تجارت اور دفاعی صنعت بالخصوص کئی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا اہم ہے اور اس سمت میں اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
ترک صدر نے سبیانتو کو 9 تا 20 نومبر کو انطالیہ میں منعقدہ COP31 لیڈرز سمٹ میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنوبی لبنان میں اسرائیلی توپخانے اور طیاروں کے حملے، متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا گیا
بیروت، لبنانی فوج کے ایک ذریعے نے اسپوتنک کو بتایا کہ اسرائیلی توپخانے اور طیاروں نے جنوبی لبنان کے مختلف قصبوں اور رہائشی علاقوں پر متعدد حملے کیے ہیں۔
ذرائع نے پیر کو بتایا، ’’اسرائیلی توپخانے نے یاطر کے مضافات، حاریس اور حدّاثہ کے درمیان واقع علاقے، زوطر الشرقیہ، برعشیت، خیام، کفر تبنیت، میفدون، عیترون، حولا اور دیگر علاقوں کے مضافات پر شدید گولہ باری کی۔‘‘
ذریعے نے مزید بتایا کہ اسرائیلی طیاروں نے زبقین، خیام، میس الجبل، حاریس اور حدّاثہ کے درمیان واقع علاقے، منصوریہ، کفر تبنیت اور قنطارہ کے مضافات کو بھی نشانہ بنایا۔
لبنان اور اسرائیل نے 26 جون کو واشنگٹن میں ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں مکمل جنگ بندی اور ملک کے جنوبی حصے پر لبنانی فوج کا کنٹرول بحال کرنے کی شق شامل ہے، تاہم اس کے لیے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا شرط ہے۔ اس معاہدے پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر مذاکرات 4 سے 6 اگست تک روم میں جاری رہے تھے۔
اس کے باوجود لبنان پر اسرائیلی حملے تقریباً روزانہ جاری ہیں۔ اسرائیل نے ملک کے جنوبی حصے میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے، جہاں سے مقامی آبادی کی ایک بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور ہو چکی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا7 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا7 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان7 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر7 days agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان6 days agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
