تازہ ترین
فلاح وبہبود کی درجنوں اسکیمیں: ہند وارہ کی بزرگ بیوہ تاجا بیگم ہنوز مدد کی منتظر
سرینگر: انتظار کی دہلیز پر بیٹھی تاجا بیگم کی آنکھیں اپنے اپنوں کی راہ تک رہی ہیں۔یہ طویل ترین انتظار’انسانی ہمدردی اور جذبہ ایثار‘ کا منتظر ہے۔ سالہا سال گذر جانے کے باوجود تاجا بیگم کے ایک کمرے پر مشتمل کچے مکان کی طرف جانے والے راستے پردور دور تک کوئی نظر نہیں آتا،البتہ ہمسایہ اپنا فرض بخوبی نبھا رہے ہیں۔
شمالی سرحدی ضلع کپوارہ کے براری پورہ ہندوارہ گاؤں میں بیوہ تاجا بیگم برسوں سے اکیلے زندگی کا سفر اپنی یادوں کیساتھ طے کررہی ہیں۔قصبہ ہند وارہ سے محض ایک کلو میٹر کی دوری پر واقع براری پورہ گاؤں میں رہائش پذیر تاجا بیگم انتظامیہ کی نظروں سے اوجھل ہیں۔سرکار نے غریب عوام،بزرگ شہریوں اور معاشی طور کمزور افرادکی فلاح بہبود کیلئے نہ جانے کتنی اسکیمیں مرتب کی ہیں،لیکن تاجا بیگم کو ابھی تک ایک بھی اسکیم کے تحت فائدہ حاصل نہیں ہوا ہے۔
نہ تو تاجا بیگم کی کوئی مالی مدد ہورہی ہے اور نہ ہی کسی سرکاری اسکیم کے تحت اُنہیں کوئی مدد فراہم ہورہی ہے۔ستم ظریفی یہ کہ عوامی نمائندے ہونے کے دعویدار وں کو بھی تاجا بیگم کی مفلسی آج تک نظر نہیں آئی۔تاجا بیگم کہتی ہیں:’میں اپنے ہمسایوں کی وجہ سے زندہ ہوں،میرے پاس اس ٹین شیڈ کے سوا کچھ نہیں اور جو کپڑے میں نے پہنے ہیں،اللہ اور میرے ہمسایہ ہی میراگھر ہیں،کیونکہ میرے کھانے پینے کا انتظام ہمسایہ ہی کررہے ہیں‘۔جب ہم نے اُن سے پوچھا کہ آپ نے انتظامیہ کے کسی ذمہ دار سے مدد کیلئے اپروچ کیا،تو انہوں نے کہا’میرے کوئی مدد نہیں کررہا ہے،میں کسی کوئی نہیں جانتی،وہ صرف اُن کو فائدہ پہنچا رہے ہیں،جنکی پہنچ سیاستدانوں تک ہے‘۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مقامی وارڈ ممبر نے کچھ برس قبل اُن سے کہا تھا کہ ’اے اے وائی‘ اسکیم کے تحت اُسے پکا مکان مل سکتا ہے،لیکن ایک ہزار روپے کی ادائیگی کرنے ہوگی،میں نے ہمسایہ سے ایک ہزار روپے ادھار لئے لیکن آج تک مجھے مکان نہیں ملا‘۔تاجا بیگم کے ہمسایوں کا کہنا ہے کہ اسکے دو بیٹے سابق جنگجو تھے،جنہیں نامعلوم افراد نے اغوا کرکے بیک وقت موت کی آغوش میں سلا دیا۔ان کا کہنا ہے کہ ایک نعش برآمد کی گئی تھی،لیکن دوسرے کی نعش تاحال نہیں ملی۔
یہ واقعہ2اپریل 1996میں پیش آیا تھا جبکہ اس خاتون کا تیسرا بیٹا بھی پُراسرار طورلاپتہ ہوگیا۔تاجا بیگم کا شوہر بھی چندبرس قبل انتقال کرگیا‘۔انہوں نے انتظامیہ سے تاجا بیگم کی انسانی بنیادوں پر مدد کرنے کی اپیل کی،کیونکہ اس کا کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں ہے۔میونسپل کمیٹی ہندوارہ کے چیئرمین،مسرور بانڈے کا کہنا ہے کہ وہ مذکورہ خاتون کے کیس کے بارے میں کوئی علمیت نہیں رکھتے ہیں۔اگر وہ میرے دفتر میں دستاویز جمع کرتی ہے،تو ضرور مدد کی جائیگی۔(کے این ایس)
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
