تازہ ترین
فوجی اہلکار اورنگ زیب کی اغوا کے بعد ہلاکت کا معاملہ مہلوک کے 3ساتھی اہلکار گرفتار؛ جنگجوؤں کے ساتھ رابطے کا انکشاف
خبراردو:
گزشتہ برس 44آر آر کیمپ سے وابستہ اہلکار اورنگ زیب کی ہلاکت میں مبینہ طور پر ملوث 3اہلکاروں کو فوج نے حراست میں لیتے ہوئے بڑے پیمانے پر پوچھ تاچھ کا آغاز کیا ہے۔ معلوم ہوا ہے تینوں اہلکاروں کا جنگجوؤں کے ساتھ رابطہ ہونے کاانکشاف ہوا ہے جس کے بعد فوج نے واقعے سے متعلق کورٹ آف انکوائر کے احکامات صادر کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کردی ہے۔
جون 2018میں 44آر آر کیمپ سے وابستہ اہلکار اورنگ زیب ساکن پونچھ کو جنگجوؤں نے عید سے قبل ایک روز اغوا کیا تھا جس کے بعد انہیں نامعلوم مقام پر گولیوں سے بھون ڈالا گیا ۔ جنگجوؤں نے اس واقعے کا ویڈیو عکس بند کرتے ہوئے سوشل میڈیاپر ڈال دیا تھا جس کے بعد ویڈیو وائرل ہوا۔معلوم ہو اہے کہ فوج نے معاملے کی تحقیقات بڑے پیمانے پر شروع کی تھی تاہم چند ماہ گزرنے کے بعد فوج نے مذکورہ کیمپ سے وابستہ 3اہلکاروں کو حراست میں لیتے ہوئے پوچھ تاچھ کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اورنگ زیب نامی فوجی اہلکار کی نقل و حرکت سے متعلق اُن کے ساتھی اہلکاروں نے جنگجوؤں کو مکمل تفصیلات فراہم کی تھی جس کے بعد جونہی اورنگ زیب چھٹی کی غرض سے اپنے کیمپ سے باہر نکلا تو انہیں گاڑی چڑھنے کے دوران ہی بندوق برداروں نے اغوا کیا۔
واضح رہے مذکورہ اہلکار کی ہلاکت کے بعد ریاست کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں لوگوں نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ملوث جنگجوؤں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ مارے گئے فوجی اہلکار کو گزشتہ برس یوم آزادی کے موقعے پر شوریا چکر سے بھی نوازا گیا تھا۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ دو روز قبل اورنگ زیب کے والد نے وجے پور جموں میں وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں بی جے پی میں باضابطہ طور پر شمولیت اختیار کی ہے۔ادھر یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ گزشتہ روز شادی مرگ پلوامہ میں جس نوجوان کو فوج نے حراست کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا تھا اُس کے تار بھی اسی واقعے سے جڑے ہوئے ہیں۔ خیال رہے 4فروری 2019سوموار کو فوج نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر 20سالہ نوجوان توصیف احمد ولد غلام احمد ساکن اچھگوزہ پلوامہ کو گرفتار کیا تھا جس کے بعد بقول نوجوان ، انہیں زیر حراست رکھتے ہوئے انتہائی شدید ٹارچر سے گزارا گیا جس کے بعد نوجوان کو انتہائی نازک حالت میں سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کیا گیا ۔معلوم ہوا کہ 44آر آر شادی مرگ پلوامہ کیمپ سے وابستہ فوجی اہلکاروں نے سوموار کو علاقے سے تعلق رکھنے والے 20سالہ نوجوان توصیف احمد ولد غلام احمد ساکن اچھگوزہ پلوامہ کو گرفتار کرتے ہوئے انہیں زیر حراست سخت اذیت ناک مراحل سے گزارا ہے۔ معلوم ہوا کہ 44آر آر کے میجر شکلا کی قیادت میں فوجی اہلکاروں نے توصیف احمد کو گزشتہ دنوں نامعلوم وجوہات کی بنا پر حراست میں لیا تھاجس کے بعد توصیف کو سیدھے شادی مرک کیمپ منتقل کیا گیا جہاں اسے اذیت ناک مراحل سے دوچار کرایا گیا۔
نوجوان کے مطابق فوجی اہلکاروں نے اس موقعے پر مجھے ٹھرڈ ڈگری ٹارچر کیا جس کے بعد اسے سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کرنا پڑا جہاں اُس کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔توصیف کا کہنا تھا کہ میجر شکلا کی قیادت میں فوجی اہلکاروں نے جہاں مجھے جسمانی تشدد کیا وہیں انہوں نے مجھے ذہنی تکلیف بھی پہنچائی۔ ہسپتال میں زیر علاج توصیف کا کہنا تھا کہ میجر شکلا اور دیگر اہلکاروں نے مجھے ٹارچر کے دوران میری بہن کی تصویر فراہم کرنے کو کہا اور مجھ پر انتہائی دباؤ ڈالا گیا کہ میں آنے والے دنوں میں ہتھیار اُٹھاکر جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہوجاؤں۔زخمی توصیف نے بتایا کہ میجر شکلا نے مجھے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر اُس نے اپنی بہن کی تصویر فوج کو فراہم نہیں کی تو وہ اس کی بہن کو اغوا کریں گے۔ادھر فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے بتایا کہ ہم واقعے سے متعلق تفصیلات جمع کررہے ہیں ۔ خیال رہے کہ توصیف احمد کو پہلے ضلع ہسپتال پلوامہ لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی نازک حالت کو دیکھ کر انہیں سرینگر منتقل کردیا۔اس دوران واقعے نے منگلوار کی شام اُس وقت نیا موڑ لیا جب پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال جاکر توصیف سے متعلق جانکاری حاصل کی۔محبوبہ مفتی نے بتایا کہ وہ اس معاملے پر فوجی کمانڈر سے بات کریں گی اور میں پرامید ہوں کہ گورنر ستیہ پال ملک اس معاملے کو سنجیدہ نوٹس لیں گے۔
محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ توصیف کا بھائی بھی لاپتہ ہے اور اس کے متعلق بھی کوئی معلومات دستیاب نہیں ہے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اورنگ زیب نامی فوجی اہلکار کی ہلاکت میں مبینہ طور پر ملوث 3اہلکاروں میں عابد وانی، تجمل احمد اور عادل وانی شامل ہیں جن کے خلاف فوج نے باضابطہ طور پر انکوائری شروع کردی ہے ۔ انکوائری کے دوران مبینہ طور پر ملوث اہلکاروں سے اپنے ساتھی اہلکار کی تفصیلات جنگجوؤں کو فراہم کرنے کے حوالے سے باریک بینی سے پوچھ تاچھ کی جائے گی۔معلوم ہوا ہے کہ تینوں اہلکار جنوبی کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں جن میں سے دو ضلع پلوامہ اور ایک ضلع کولگام کا رہنے والا ہے۔خفیہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اورنگ زیب قتل کیس کے حوالے سے شروع کی گئی تحقیقات کے دوران ہی تینوں اہلکاروں کے نام سامنے آئے جس کے بعد فوج نے انکوائری کے احکامات صادر کرتے ہوئے تینوں کو گرفتار کرلیا ہے۔
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
ہندوستان1 week agoبیلا کلسٹر کے 729 ووٹوں میں سے 728 کو حذف کرنا ووٹ کی چوری : راہل
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
