تازہ ترین
قلم دوات جماعت ریاست کے جھنڈے کو نہیں بچا پائی، خصوصی پوزیشن کی کیا رکھوالی کریگی؟: عمر عبداللہ
خبراردو:
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیرا علیٰ عمر عبداللہ نے شمالی کشمیر کے بارہمولہ خواجہ باغ میں الیکشن ریلی سے خطاب کے دوران بھاجپا اور پی ڈی پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دونوں پارٹیوں نے ملک اور ریاست میں تباہی اور بربادی مچادی ہے جس کا خمیازہ صرف عوام کو بھگتنا پڑرہا ہے۔عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ پچھلے 5سال کے دوران مرکز میں بھاجپا کی حکومت نے ملک کا بیڑا غرق کیا جبکہ یہاں ریاست میں پی ڈی پی کیساتھ مل کر تباہی اور بربادی مچادی، جس کا خمیازہ آج بھی یہاں کے لوگ بھگت رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے زندگی میں پہلی بار دیکھا کہ یوم پاکستان کے موقعے پر نئی دلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کے باہر پولیس اہلکار لوگوں کو باہر روک رہے تھے اور انہیں اندر نہ جانے کیلئے کہہ رہے تھے۔ یہ سب کچھ اُنہی لوگوں کی ایما پر ہورہا تھا جو چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہونے کے بجائے اور زیادہ بگڑ جائیں۔‘‘انہوں نے کہاکہ ’’جب دونوں ممالک کے درمیان رشتے بگڑجاتے ہیں تو اس کا سب سے زیادہ خمیازہ جموں وکشمیر کے لوگ بھگتے ہیں۔
جو لوگ ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر جنگ کی باتیں کرتے ہیں اُن کو خمیازہ نہیں بھگتنا پڑتا، اُن کے گھروں کے اوپر اُس ملک کے جہاز نہیں جاتے، وہ سرحد کے قریب نہیں رہتے، گولہ باری سے اُن کے گھر تباہ نہیں ہوتے، جب جنگ کی بات آتی ہے اُس کا اثر ہم پر پڑتا ہے،جبھی تو میں پوچھتا ہوں کہ جناب پچھلے 5سال میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا؟۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’ہمارے ہائے وے اب ہمارے نہیں رہے، سرینگر سے بارہمولہ زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ لگتا تھا آج مجھے 2گھنٹے لگے، جگہ جگہ ہائے وے بند کیا جاتا ہے، گاڑیوں کو آگے جانے کی اجازت نہیں۔ میں 6سال اس ریاست کا وزیر اعلیٰ رہا، مجھے اچھی طرح یاد ہے ، شروع شروع میں فوج کی گاڑی پر فوجی بندوق لیکر گاڑیاں روکنے کیلئے کھڑا ہوتھا، آہستہ آہستہ ہم نے حالات ٹھیک کئے،پھر بندوق کے بجائے اُن کے ہاتھوں میں لاٹھیاں ہوا کرتی تھیں اور وہ ڈنڈے دکھا کر گاڑیوں کو روکتے تھے، ہم نے یہ معاملہ بھی کور کمانڈر کیساتھ اُٹھایا اور کہاکہ ’’یہ ٹھیک نہیں لگتا آپ کے لوگ دوسری گاڑیوں پر ڈنڈے برساتے ہیں، اس سے لوگ ناراض ہوجاتے ہیں، لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے‘‘، اُن کے ہاتھوں سے پھر وہ ڈنڈے بھی لئے گئے، وہ پھر اشاروں سے گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کرتے تھے۔2014تک حالات اتنے سازگار ہوگئے تھے کہ دوسری گاڑیوں کو روکنے کیلئے فوج کی گاڑیوں پر فوجی ہوتا ہی نہیں تھا۔
آج 2019کا حال دیکھئے ہر جگہ بندوقیں لیکر گاڑیوں کو روکنے کیلئے فوج اور فورسز کے اہلکار ہوتے ہیں۔عام گاڑیوں کو فورسز کی گاڑیوں سے 50میٹر دور رکھا جاتا ہے، یہی حصولیابی ہے بھاجپا اور پی ڈی پی کی حکومت کی‘‘۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا کہ میں حیران ہوتا ہوں جب محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ پی ڈی پی والے خصوصی پوزیشن کو بچائیں گے، ’’محبوبہ جی !گذشتہ4سال کے دوران آپ نے تو خصوصی پوزیشن کی دھجیاں اُڑا دیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ ’’پی ڈی پی حکومت نے یہاں جی ایس ٹی کا اطلاق عمل میں لایا ،ہم نے محبوبہ مفتی کو روکنے کی بہت کوشش کی ، ہم اس وقت کہا میڈم یہ جی ایس ٹی مت لگائے، اس سے اس ریاست کو نقصان ہوگا، نہ صرف مہنگائی بڑھے گی بلکہ دفعہ370کو بھی زک پہنچے گا، لیکن موصوفہ نے ایک نہیں مانی اور یہ مرکزی قانون یہاں لاکر ہی دم لیا‘‘۔ موبائل ریچارج کی مثال پیش کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ پہلے ہمیں 100روپے کے ریچارج پر برابر 100روپے ملتے ہیں کیونکہ یہاں موبائل پر کوئی ٹیکس نہیں تھا لیکن جی ایس ٹی لاگو ہونے کے بعد یہاں 100روپے کے ریچارج پر 18روپے کٹتے ہیں، اُس میں سے 9 روپے مودی صاحب کی حکومت کی تجوری میں جاتے ہیں اور 9روپے گورنر انتظامیہ کی تجوری میں چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح باقی چیزوں پر بھی بے تحاشہ ٹیکس لگا اور مہنگائی بڑھی، ٹورسٹ ٹیکسیوں ، ہوٹلوں ، کھانے پینے کے سامان، ملبوسات، بچوں کی کتابوں، ہینڈی کرافٹس، قالینوں نیز ہر ایک چیز پر ٹیکس عائد کیا گیا۔عمر عبداللہ نے محبوبہ مفتی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ خصوصی پوزیشن کیا رکھوالی کریں گی؟ آپ تو ہمارے جھنڈے کو نہیں بچا پائے، آپ کی حکومت آتے ہی ایک حکمنامہ نکلا کہ ہر سرکاری ادارے پر ریاست کا جھنڈا ہونا چاہئے لیکن 2دن کے اندر اندر اُس آرڈر کو کالعدم کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’میرے ساتھی بشارت بخاری نے بحیثیت وزیر قانون محبوبہ مفتی صاحبہ کو ایک فائل سونپی اور جس میں نقلی سٹیٹ سبجیکٹ کو منسوخ کرنے کی سفارش کی گئی تھی، محبوبہ مفتی بتائیں کہ انہوں نے اُس فائل کا کیا کیا؟ محبوبہ جی اپنی حکومت اور اپنی جماعت کو بچانے کیلئے آپ نے یہ فائل غائب کردی کیونکہ آپ بھاجپا کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔آپ خصوصی پوزیشن کو بچاؤ گی؟‘‘۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے مزید کہا کہ کیا دوبارہ ہمیں 5سال کیلئے وہی حکومت چاہئے جو ہمارے جذبات کی ترجمانی نہ کرے، جو ہمارے جذبات کی رکھوالی نہ کرے، جو جموں وکشمیر کے مسئلے کی بات ہی نہ کرے،جو ہمیں ڈرائے اور دھمکائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے کتنے نوجوان مارے گئے، کتنے نوجوان ملی ٹنٹ بنے۔ گریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ یہاں تک کہ نوکری پیشہ نوجوانوں نے مجبور ہوکر بندوق اُٹھائی،محبوبہ جی !جن نوجوانوں کو ہم روشنی کی کرن دکھانا چاہتے تھے اُن کو آپ نے قبروں میں لیٹا دیا، پچھلے 5سال کا حساب کتاب دیکھئے، ہم نے کیا کھویا کیا پایا۔‘‘ عمر عبداللہ نے کہا کہ قلم دوات اور سیب کے نشان والے بھاجپا کے قریبی ہیں اور گذشتہ4سال میں ہوئی تباہی اور برداری میں برابر شریک ہیں،یہی لوگ آج طرح طرح لبا س اور مختلف رنگ اور روپ بدل کے آپ سے ووٹ مانگیں گے، کوئی مذہب کے نام پر، کوئی ذات کے نام پر ،کوئی برادری کے نام پے اور کوئی زبان کے نام پر ، ایسے لوگوں کو یکسر مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مذہب، ذات ، زبان اور برداری کے نام پر وو ٹ نہیں مانگتے، اُمیدوار کے نام پر ووٹ مانگے ہیں، جو سب سے بہترین اُمیدوار ہونگے۔ این سی نائب صدر نے کہا کہ حالات کو سازگار بنانے اور سیاحت کو دوام بخشنے کیلئے ہماری سابق حکومت نے کام کیاتھا ، نئے نئے مقامات پر سیاحت کے نقشے پر لایا ، تعمیر و ترقی کو دور دورہ تھا لیکن اس سب پر پی ڈی پی بھاجپا حکومت نے پانی پھیر دیا۔ ٹیئر گیس، پیلٹ گن، تباہی اور بربادی کے سوا ہم نے گذشتہ4سال میں کچھ نہیں دیکھا،آج یہ لوگ مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہیں، آج ان کو اچانک ہمدردی یاد آگئی ہیں ، ہم کیسے بھول سکتے ہیں کہ گذشتہ4سال میں ہم نے کس تباہی اور کن حالات کا سامنا کیا۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق عمر عبداللہ کاکہنا تھا کہ کیا ہم اگلے 5سال کیلئے بھی یہی دیکھنا چاہتے ہیں؟ کیا ہم دوبارہ 5سال کیلئے ان سازشوں کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ہم چاہتے ہیں کہ اگلے 5سال بھی ریاست کے باہر کشمیریوں کو نشانہ بنایا جائے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے بچے جو بیرونِ ریاست پڑھ رہے تھے بی جے پی اور آر ایس ایس کی بدولت ان کو ایک ایک کو وہاں سے بگھایا گیا، ہم نے 10دن انتظار کیا کہ کب وزیر اعظم صاحب ہمارے حق کی بات کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت نے ہمارے بچوں کو نہیں بچایا۔ پنجاب ،ہریانہ ، دلی اور دیگر ریاستوں میں ہمارے سردار بھائیوں نے ہمارے کشمیر کے بچوں کو بچایا،میں شکر گزار ہوں سکھ برادری کا ، جہاں بھی اُن کے گورودوارے اور ادارے تھے وہاں انہوں نے کشمیریوں کی حفاظت کی۔جو کام مودی کو کرنا تھا وہ ہمارے سردار بھائیوں نے کیا۔
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
