تازہ ترین
لاپتہ نوجوان کے افراد خانہ کی28برس کی طویل ترین تلاش،والدکی تلاش سال2018میں انتقال کیساتھ ختم
بھائی کو عدالت سے انصاف کی امید
خبراردو:-
سرینگر:12فروری1992کو حضرت بل سرینگر کا ایک نوجوان مبینہ طور فورسز کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد لاپتہ ہوگیا ،جب سے لیکر آج کی تاریخ تک اُس کے افراد خانہ کی تلاش جاری ہے۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق سجاد احمد بزاز ولد مرحوم غلام محمد بزاز ساکنہ حضرت بل سرینگر کی عمر قریب قریب19برس تھی،جب بقول اُنکے دیگر افراد خانہ کے 12فروری1992کو بی ایس ایف کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران اُسے حراست میں لیکر لاپتہ کردیا گیا۔
لاپتہ نوجوان کے بھائی فیاض احمد بزاز کا کہنا ہے کہ 28سے وہ اپنے لاپتہ بھائی کی تلاش کررہے ہیں۔کپڑے کے تھیلے میں چند اخبارات کی کاپیاں،اپنے بھائی کی ایک ’بلیک اینڈ وائٹ تصویر‘ اور زبان پر ڈھیر سارے سوالات لیکر فیاض احمد بزاز کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے دفتر پر پہنچے اور پُر نم آنکھوں سے کہا ’میرے بھائی سجاد احمد کو 1992میں بی ایس ایف اہلکاروں نے چھاپہ مار کارروائی کے دوراب گھر سے اٹھایا،جب سے لیکر وہ کبھی لوٹ کر نہیں آیا،ہم نے ہر دروازے پر دستک دی لیکن کہیں شنوائی نہیں ہوئی،یہاں دہلی تک کا سفر کیا‘۔
انہوں نے کہا ’اُسکے بھائی کو ذاتی رنجش کی وجہ سے اُس وقت ایک سرکاری بندو ق بردار بقول اُنکے آزاد احمدنے بی ایس ایف آفیسر ڈی ایس راٹھور کے ہاتھوں جبری طور اغوا کرکے لاپتہ کردیا‘۔انہوں نے کہا کہ معاملے کی نسبت پولیس تھانہ نگین میں ایک ایف آئی آر زیر نمبر44/1992درج کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا ’پولیس تصدیق کرچکی ہے کہ اُسکے بھائی کو دوران جبری حراست لاپتہ کردیا گیا‘۔یہ پوچھے جانے پر کیوں آپ کے بھائی کیساتھ ایسا ہوا؟تو فیاض احمد بزاز نے بتایا کہ اُنکا بھائی پڑھائی کیساتھ ساتھ آبائی علاقہ میں کریانہ کی دکان چلا رہا تھا چونکہ آزاد اُنکاپڑوسی تھا،لہٰذا وہ دکان پر آتا رہتا تھا اور دکان سے ادھاری پر سامان بھی لیتا تھا۔انہوں نے کہا ’ایک دن آزاد نے میرے بھائی سے ڈونیشن کا تقاضا کیا،لیکن میرے بھائی نے صاف انکار کیا اور ادھاری واپس دینے کا جوابی تقاضا کیا‘۔
انہوں نیکہا کہ چند ہفتوں کے بعد آزاد بی ایس ایف اہلکاروں کیساتھ اُنکے گھر میں داخل ہوا اور اُسکے بھائی کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے اور لاپتہ کردیا۔انہوں نے کہا ’اُنکے والد مرحوم حلام محمد بزاز نے اپنے بیٹے کی تلاش کو جاری رکھا اور انسانی حقوق کی تنظیموں تک اپنی رُداد پہنچا ئی‘۔
فیاض مزید کہتے ہیں ’اُنکے والد نے اپنے بیٹے کی تلاش جاری رکھی اور یہ تلاش فروری2018میں اُس وقت ختم ہوئی،جب اُنکے والد نے زندگی کی آخری سانس لی اور اس دنیائے فانی سے رحلت کرگئے‘۔فیاض کہتے ہیں ’اپنے والد کے ادھورے مشن اور انصاف کی جنگ میں نے جاری رکھا اور آزاد جو کہ بیرون ریاست مقیم ہوچکا تھا،کو 5اپریل2019کو گرفتار کر کے واپس لایا گیا۔
انہوں نے کہا ’کرائم برانچ اس معاملے کی تحقیقات کررہی ہے اور آزاد کو عدالت میں پیش کیا اور آزاد اس وقت جوڈیشل ریمانڈ میں ہے۔انہوں نے کہا ’27جولائی 2020کو آزاد نے ضمانت کیلئے عرضی بھی دی تھی لیکن عدالت نے ضمانتی عرضی مسترد کی‘۔فیاض کہتے ہیں ’یہ معاملہ صدر کورٹ کی ایک نچلی عدالت میں زیر سماعت ہے اور ہمیں عدالت سے انصاف ملنے کی پوری پوری امید ہے،28سال سے میں اپنے بھائی کو تلاش کررہا ہوں،اُس ملزم کو بھی سزا ملنی چاہئے،جس نے میرے بھائی کو لاپتہ کردیا‘۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
