تازہ ترین
لاک ڈاءون سے لوگ ذہنی دباءو، چڑچڑا پن ، بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے
تین ہفتوں سے جاری کورونا لاک ڈاءون کے باعث گھروں میں محصور لوگ ذہنی دباءو، چڑچڑا پن، ڈپریشن سمیت مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے، اکثر لوگ بے خوابی کا شکار ہوکر نیندآور گولیاں کھانے پر مجبور ہوگئے ۔
تاہم نفسیاتی ما ہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں لوگوں کو گھروں میں اپنے آپ کو کتابیں پڑھنے ،باغبانی ،ٹیلی ویژن ،ریڈیو سننے کیسا تھ ساتھ دیگر کاموں میں خود کو مصروف رکھنا رکھنے کے علاوہ بچوں کو بھی اپنے ساتھ مصروف رکھنا چاہئے ۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق ماہرین نفسیات نے کورونا کی وجہ سے لوگ میں نفسیاتی عوارض، ذہنی مسائل کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ لوگ میں آگاہی نہ ہونے پر مسائل بڑھ رہے ہیں ۔
مسلسل لاک ڈاءون اور گھروں میں مقید رہنے والے بیشتر لوگوں نے کے این ایس کو ٹیلی فون کرکے اپنی تشویش اورکورونا کے خوف کے باعث اپنے پیاروں کے بڑھتے ہوئے ذہنی مسائل ومشکلات سے آگاہ کیا ۔ ان کا کہنا تھا ’پہلے مہنگائی ،بیروز گاری،ہلاکتوں سمیت دیگر مسائل کی وجہ سے وہ پریشانی سے دوچار تھے اب مسلسل لاک ڈاءون اور کورونا کے خوف نے اس میں مزید اضافہ کر دیا ہے ۔
کورونا وائرس کے بارے میں مصدقہ اور غیر مصدقہ معلومات کی بہتات سے لوگ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو گئے ہیں اور اس کے لیے ماہرین نفسیات نے ٹیلی کلینک یا ٹیلی سائیکاٹری شروع کی ہے جہاں لوگ فون اور ویڈیو کالز کے زریعے ڈاکٹروں سے رابطہ کر سکتے ہیں ۔
اس ٹیلی کلینک یا ٹیلی سائیکاٹری میں لوگوں کو ان کی الجھنوں کے حل اور ان سے نمٹنے کے لیے مشورے دیے جائیں گے ۔ ماہرین کے مطابق اگر ضرورت ہو تو ادویات بھی تجویز کی جا سکتی ہیں ۔ ٹیلی کلینک کیا ہے;238;:جب مریض ہسپتال یا ڈاکٹر کے پاس خود نہ جا سکے یا جہاں متعلقہ ڈاکٹر کی سہولت نہ ہو تو وہاں لوگ ٹیلی فون یا ویڈیو کال یا سکاءپ کے ذریعے اپنے معالج یا کسی بھی ماہر ڈاکٹر سے رابطہ کر سکیں ، مشورہ کرسکیں یا ڈاکٹر مریضوں کو ادویات تجویز کرسکے اس ٹیلی کلینک یا ٹیلی سائیکاٹری کہتے ہیں ۔ ماہرین نفسیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ لوگ لاک ڈاءون کے دوران خود کو زیادہ سے زیادہ مصروف رکھنے کی کوششیں کریں ۔
ان کا کہناتھا کہ لوگوں کو کتابیں پڑھنے ،باغبانی ،ٹیلی ویژن ،ریڈیو سننے کیسا تھ ساتھ دیگر کاموں میں خود کو مصروف رکھنا رکھنے کے علاوہ بچوں کو بھی اپنے ساتھ مصروف رکھنا چاہئے ۔ لاک ڈاءون کے دورا ن ڈھیروں سوال ہر دوسرے گھر میں گونجتے رہتے ہیں ۔ کورونا وائرس کی وجہ سے بڑھتی مریضوں کی تعداد اور اموات کی وجہ سے حکومت نے تعلیمی اداروں کو قبل از وقت بند کر دیا ہے جس کی وجہ سے والدین خصوصاً مائیں بہت تشویش کا شکار ہیں ۔ ہر وقت کے سوالات، بہن بھائیوں کے آپسی جھگڑوں ، گھر میں شور شرابے، باہر جانے کی پابندی، تعلیمی سرگرمیوں کا متاثر ہونا، اور انجانے خوف جیسے بہت سے مسائل کی وجہ سے والدین پریشان ہیں ۔
تاہم اس تشویشناک صورتحال کو تھوڑی سی گفتگو، سرگرمیوں ،دن بھر کے معمولات یعنی روٹین بنانے اور مشترکہ طور پر خوشگوار ماحول بنائے رکھنے سے ممکنہ پریشانیوں اور نفسیاتی مسائل میں تبدیل ہونے سے بچا سکتے ہیں ۔ بچوں سے کیسے بات کریں ;238; یہ بات ذہن میں دہراتے جائیں کہ بچوں کا پریشان اور خوفزدہ ہونا فطری ہے، گھر میں بند رہنے کے ساتھ ساتھ ٹی وی اور موبائل سے مسلسل معلومات کا بہاوَ اس میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ اس موضوع پر خود سے پہل کریں اور بچوں سے بات کرنے کی منصوبہ بندی کریں ۔ چھوٹے بچوں کے سامنے حتی الامکان نیوز چینلز بند رکھیں تاکہ وہ دنیا بھر کی خوفناک اور خوفزدہ کردینے والی خبریں براہ راست نہ سنیں ۔
(اگر گھر میں کوئی کورونا کا مریض نہیں ہے یا بچے براہ راست کسی متاثرہ فرد کو نہیں جانتےتو) بہت سی باتیں بچوں کو بتانا ضروری نہیں ہے ۔ اگر بچہ اسکول ابھی جانا شروع ہوا ہے یا درمیانی کلاسز میں ہے تو اسے غیر مستند اور ڈرا دینے والی معلومات سے بچانے کے لیے اس کی ذہنیت اور عمر کے لحاظ سے آسان انداز اور الفاظ میں کورونا پر بات کریں ۔ ٹین ایجرز کو بڑوں کی طرح ٹریٹ کریں اور کورونا کے طبی اثرات پر بات کریں ۔
بچے جب بھی اپنی پریشانی اور خدشات کا ذکر کریں ، انہیں غور سے سنیں ۔ اگر آپ کی بیٹی یا بیٹا کوئی مبالغہ آمیز بات کریں تو ڈانٹنے یا چیخنے کے بجائے تحمل سے جواب دیں اور سوال کریں کہ انہیں یہ بات کہاں سے پتا چلی ۔ بچوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ بات کریں ، یوں آپ انہیں یقین دہانی کراتے ہیں کہ آپ ان کے خدشات اور احساسات کو سنبھال سکتے ہیں ۔
غیر مستند معلومات کے حوالے سے محتاط رہنے کا کہتے رہیں اور سائنسی اور مستند ذراءع سے معلومات حاصل کرنے پر رہنمائی دیں ۔ مثبت اقدامات پر رہنمائی دیں جیسے ہاتھ دھونا، باہر لوگوں سے ہاتھ ملانے سے گریز اور دور سے سلام کرنا، اگر بہت عرصے گھر پر رہنا ہے تو ان سے کھانے پینے اور ان کی ضروریات کی فہرست بنانے کا کہیں ۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
