تازہ ترین
لاک ڈاءون میں مزید توسیع کا قوی امکان
اگرچہ مرکزی حکومت نے ابھی تک ملک گیر لاک داؤن میں توسیع کا کوئی اعلان نہیں کیا،تاہم مرکزی وزارت داخلہ نے تیسرے مرحلے کے واضح اشارے دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن سے متعلق نئے رہنما خطوط 4مئی سے نافذ ہوں گے جبکہ کئی اضلاع میں نرمی بھی کی جائے گی۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ نے کل لاک ڈاون سے متعلق ایک جامع جائزہ میٹنگ کی،جس میں ملک گیر لاک ڈاؤن میں توسیع اور نرمی کے سبھی امور پر تبادلہ خیا ل کیا گیا۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ ابھی تک لاک ڈاون کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے۔وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ یقینی بنانے کیلئے کہ ابھی تک حاصل ہونے والی کامیابی ضائع نہ ہو، تین مئی تک لاک ڈاون کے رہنما اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کیا جانا چاہئے۔ کووڈ-
اْنیس سے لڑنے کیلئے نئے رہنما اصول کا نفاذ چار مئی سے ہوگا، جس کے تحت کئی ضلعوں میں خاطر خواہ مہلت دی جائے گی۔ ترجمان نے کہا کہ اس سے متعلق تفصیلات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔مرکزی حکومت نے ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں اور مزدوروں کو اپنی اپنی ریاست میں پہنچانے سے متعلق حکم جاری کیا ہے۔ اپنے حکم نامے میں وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ تمام افرادکی جس جگہ وہ موجود ہیں، وہاں اور منزل پر پہنچنے کے بعد دونوں مرتبہ طبی جانچ کی جانی چاہئے اور گھر پہنچنے کے بعد گھر پر ہی یا قرنطینہ مراکز میں وزارتِ صحت کے رہنما خطوط کے مطابق الگ تھلگ رہنا ہوگا۔وزارت کے اعلان کو اس اشارے کے طور پر دیکھا جارہا ہے کہ کئی رعایات کے ساتھ لاک ڈاؤن کی مدت کو 3 مئی سے آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔
مرکزی وزارت داخلہ نے ملک میں مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے لوگوں کو راحت دیتے ہوئے ریاستوں کے درمیان آمد و رفت کھولنے کی اجازت دی تھی۔واضح رہے کہ ملک بھر میں 3 مئی تک لاک ڈاؤن نافذ ہے اور حکومت کو اس کے بعد کی حکمت عملی تیار کرنی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ پیر کو سبھی ریاستوں کے وزرائے اعلی کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ اس سلسلے میں میٹنگ بھی کی تھی۔ادھر مختلف ریاستوں میں پھنسے ہوئے مزدوروں کی واپسی جاری ہے۔ مدھیہ پردیش میں اب تک دوسری ریاستوں میں پھنسے بیس ہزار سے زیادہ مزدور واپس لائے گئے ہیں۔ ان تمام مزدوروں کی طبی جانچ کے بعد اْنہیں اْن کے آبائی اضلاع بھیجا جارہا ہے۔ مدھیہ پردیش کے تقریباً ایک لاکھ مزدور دوسری ریاستوں میں کام کرتے ہیں۔ اْن میں سے کچھ پہلے ہی واپس آچکے ہیں۔جموں وکشمیر انتظامیہ نے لاک ڈاون کے بعد سے اب تک ملک کے مختلف حصوں میں پھنسے تقریباً 17ہزار مزدوروں، طلبا اور دیگر لوگوں کو اپنے آبائی وطن واپس آنے میں مدد کی ہے۔ واپس آئے اِن مزدوروں کو پروٹوکول کے مطابق قرنطینہ میں رکھا گیا ہے، جس کے بعد اِنہیں اْن کے آبائی علاقوں کو بھیجا جارہا ہے۔
اس دورا ن جموں کشمیر حکومت نے اعلان کیا کہ عنقریب درماندہ افراد کو واپس لانے کا تفصیلی منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے۔سرکاری ترجمان روہت کنسل نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا”مرکزی زیر انتظام جموں کشمیر کی سرکار بہت جلد ایس او پی جاری کرے گی جس کے تحت مزدوروں اور طالب علموں کی نقل و حمل کو منظم طریقہ سے انجام دیا جائے گا“۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ہر کسی کو ایڈوائزری کا انتظار کرنا چاہئے اور کسی کو بھی نوڈل آفیسر کے ساتھ کارڈی نیشن کے بغیر چلنا نہیں چاہئے۔
انہوں نے لکھا”ہم ہر ایک کے پاس پہنچیں گے، ابھی صبر سے کام لینے کا وقت ہے“۔انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی لوگ بنا اجازت نکلیں گے اْنہیں 21دن کے قرنطین کیلئے بھیجا جائے گا۔کنسل نے لکھا”مہربانی کرکے انتظامیہ کی اجازت کے بغیر نہ نکلیں،غیر منظم طریقے سے آنے والوں کو لکھنپور میں ہی 21دن کے قرنطین کیلئے بھیجا جائے گا“۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
