تازہ ترین
کورونا وائرس ،لاک ڈاءون اور طبی قید
کورونا وائرس کی روکتھام کیلئے پوری دنیا کیساتھ ساتھ کشمیرمیں جاری غیر معینہ عرصے کیلئے لاک ڈاؤن (تالہ بندی) اور طبی قیدکے بیچ اگرچہ مساجد پر قفل چڑ ھے ہوئے ہیں لیکن لوگ ماہ رمضان کی رحمتوں،برکتوں اور مغفرتوں سے محروم نہیں ہورہے ہیں۔تاہم گھروں میں مقید لوگ صحت بخش غذائیت سے محروم ہیں۔
روزہ داروں کو ا فطاری میں کھجور،پھل اور نہ ہی شربت میسر ہیں۔اس دوران ماہرین طب کا کہنا ہے کہ گھر میں طبی قید یا گوشہ نشینی، نقل و حرکت کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے،کیونکہ گھر کے کاموں میں مدد اور معاونت کے ذریعے جسم کی سرگرمی کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابقماہ رمضال المبارک شروع ہونے کیساتھ ہی دنیا کے تقریباً ڈیڑھ ارب مسلمانوں نے روزے رکھنا شروع کردیں۔
اگرچہ اس بار بھی زیادہ تر مسلمان ہر سال آنے والے رمضان کی طرح روزے رکھ رہے ہیں، تاہم اس بار تقریباً سب ہی مسلمانوں کیلئے رمضان کا مہینہ پچھلے سال یا اس سے بھی قبل سالوں جیسا نہیں ہوگا۔اس بار رمضان المبارک ایک ایسے وقت میں شروع ہو ا جب دنیا کے دیگر ممالک کی طرح کشمیر بھی کورونا وائرس سے نبرد آزما ہیں۔کورونا وائرس دیگر ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے اور کشمیر بھی اسکی لپیٹ میں مکمل طور پر ہے۔
اور اسی وبا سے بچنے کے لیے جہاں کئی اسلامی ممالک نے ماہ رمضان المبارک سے قبل ہی مذہبی عبادات کو عارضی طور پر معطل کردیا، وہیں تمام اسلامی ممالک نے جزوی لاک ڈاؤن بھی نافذ کر رکھاہے۔ چونکہ دنیا بھر میں کورونا وائرس نے معمولات زندگی کو درہم برہم کر دیا ہے۔ اس صورت حال میں رواں سال رمضان مبارک کا مہینہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں قدرے مختلف ہے جبکہ کورونا کی روک تھام کیلئے ملک گیر لاک ڈاؤن اور قرنطینہ ہے۔سماجی دوری اختیار کرنے اور رہنما خطوط کے باعث عبادت گاہیں بھی مقفل ہیں۔وہیں اہلیان کشمیر کو ماہ رمضان میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے صحت بخش غذائیت سے محرومی کا سامنا ہے۔
بازار مسلسل بند رہنے سے پل،کھجور اور مشروبات وشربت کہیں دستیاب نہیں ہے،ایسے میں روزہ داروں کو خالص پانی سے ہی افطاری کرنے پڑرہی ہے جبکہ سحری میں بھی روزہ داروں کو صحت بخش غذائیت نہیں مل رہی ہے۔ اس دوران ماہرین طب نے باور کرایا کہ رمضان کے مہینے میں جسمانی صحت برقرار رکھنے اور وزن کو بڑھنے سے روکنے کیلئے نقل و حرکت نہایت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ گھر میں طبی قید یا گوشہ نشینی، نقل و حرکت کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔
گھر کے کاموں میں مدد اور معاونت کے ذریعے جسم کی سرگرمی کو برقرار رکھا جا سکتا ہے اور صحت بخش غذائی نظام کو اپنا کر وزن میں اضافے سے بچا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گھر میں ورزشن کے لیے کوئی وقت مقرر کریں جبکہ ان میں زیادہ تر ورزشوں کے لیے بڑی جگہ یا خصوصی ساز و سامان کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
ان کا کہناتھا کہ ’پہلا: روزے دار کو افطار کا آغاز پانی کے علاوہ دو قسم کے مائع مواد سے کرنا چاہیے۔ ان میں میٹھا شربت جو ترجیحاً پھلوں کا قدرتی جوس ہو اور یا پھر کھجور کے ساتھ گرم سْوپ لیا جائے‘۔ماہرین طب نے کہا ’دوسرا: اس کے آدھے گھنٹے بعد مرکزی افطار کیا جائے، یہ جسم میں اہم کاموں کی انجام دہی میں معاون غذاؤں پر مشتمل ہونا چاہیے۔ ان میں نشاستہ اور گلوکوز شامل ہے۔ نشاستہ کو گلوکوز سے زیادہ محفوظ شمار کیا جاتا ہے۔ چاول، مکرونی اور روٹی کی مختلف اقسام یہ سب نشاستہ میں شامل ہیں۔ ساتھ ہی کسی ایک نوعیت کی پروٹین بھی لینا چاہیے جو خلیوں کے بننے میں مددگار ہو۔ اس میں گوشت، مرغی، انڈا، ترکاری اور مچھلی شامل ہے‘۔
تیسرا:رنگین سبزیوں کے حصول کی ضرورت بھی اہم ہے۔ سلاد میں کم از کم 5 مختلف رنگ نظر آنے چاہیئں۔ سبزیاں انسانی جسم میں اہم کارروائیوں کی سلامتی میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ماہرین طب نے زور دیا کہ رمضان میں رات کی نیند پوری کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ انسان کے جسم میں میلاٹونن مواد کا اخراج سورج غروب ہونے کے بعد اور رات کو سونے کے دوران ہوتا ہے۔ میلاٹونن مواد انسانی جسم کی حیاتیاتی گھڑی کو منظم رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
