تازہ ترین
لاک ڈاءون :وادی میں ماہ رمضان کا تیسرا جمعہ
کورونا وائرس کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہنے کیلئے گزشتہ 58 روز سے جاری لاک ڈاؤن کے بیچ ماہ رمضان کے تیسرے جمعے کو بھی تما م چھوٹی بڑی مسا جد کے منبر ومحراب خاموش رہے اور مسلسل8ویں ہفتے بھی لوگوں نے نمازجمعہ گھروں میں ہی ادا کی۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں وکشمیر میں کورونا وائرس کیسوں کی تعدادایک ہزار تک پہنچ جانے اور ہر روز اس تعداد میں غیر معمولی اضافے کے پیش نظر جہاں انتظامیہ لاک ڈاؤن کو سخت سے سخت تر کررہی ہے،وہیں لوگ بھی صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے گھروں میں بیٹھ کر سما جی دور ی کو یقینی بنارہے ہیں،تاکہ لوگ عالمی وبا سے محفوظ رہ سکے۔ اگرچہ گزشتہ ہفتوں کے مقابلے میں کورونا لاک ڈاؤن میں کسی حد تک نرمی لائی گئی اور نجی گاڑیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔تاہم شہر ودیہات میں ہنوز ہر طرح کے بازار بند ہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور ٹھپ ہے۔چہار سو خاموشی چھا ئی ہوئی اور لوگ گھروں میں مقید ہو کر رہ گئے۔وادی کی تمام چھوٹی بڑی مساجد میں ماہ رمضان کے دوران مساجد پوری طرح سے آباد رہتی ہیں،تاہم رواں ماہ رمضان پر عالمگیر وبا کا سیاہ سائیہ رہا ۔
ماہ رمضان میں نماز کی ادائیگی کے دوران لوگوں کی بھیڑ کافی رہتی ہے اور خاص طور پر جمعہ کو نماز کی ادائیگی کیلئے ہر چھوٹی بڑی مساجد میں نمازیوں سے بھری ہوئی تھیں اور یہ عالم ہو تا تھا کہ مساجد کے صحنوں کے باہر سڑکوں پر بھی مصلے بچھتے تھے لیکن امسال تمام چھوٹی بڑی مساجد خالی ہیں۔شہر خاص کے نوہٹہ علاقے میں واقع تاریخی جامع مسجد میں لوگ جمعہ کے روز صبح سے ہی انتظار میں بیٹھے رہتے تھے تاکہ انہیں اندر جگہ ملے اور لوگوں کو صبح 11 بجے سے ہی نماز کی تیاریوں میں مصروف دیکھا جاتاتھا۔تاہم گزشتہ تین جمعے سے کورونا وائرس کی وجہ سے تمام مساجد بند ہیں اور ان میں خال ہی کسی کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے کہیں بھی باقاعدگی کیسا تھ پنجگانہ نمازیں بھی باجماعت ادا نہیں کی جارہی ہیں۔
مسلسل تیسرے جمعے کو بھی وادی کی تمام چھوٹی بڑی مساجد کے منبر ومحراب خاموش رہے اور مسلسل8ویں ہفتے بھی لوگوں نے نما زجمعہ مساجد کی بجائے گھروں میں ادا کی۔مرکزی جامع مسجد سرینگر کیساتھ ساتھ آچار شریف حضرت بل جسے مدینہ ثانی بھی کہا جاتا ہے،میں بھی ماہ رمضان خاص طور پر جمعہ کو کافی بھیڑ دیکھنے کو ملتی تھی،لیکن امسال ایساکچھ نہیں دیکھنے کو مل رہا۔اسی طرح شہر خاص میں واقع حضرت میر سید علی ہمدانی ؒ کی خانقاہ معلی سمیت دیگرصوفی بزرگان دین کی زیارت گاہوں سے منسلک مساجد میں بھی ماہ رمضان کے دوران نمازیوں کی کافی بھیڑ رہتی تھی،لیکن امسال ان عبادت گاہوں کے منبر ومحراب مکمل طور خاموش ہیں اور ماہ رمضان کے تیسرے جمعے کو بھی صورتحال مختلف نہیں رہی۔وادی کے دیگر تمام ضلع و تحصیل صدر مقامات اور دیگر علاقہ جات سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کسی بھی چھوٹی بڑی مسجد میں ماہ رمضان کے تیسرے جمعہ کو بھی نماز جمعہ ادا نہیں ہوئی ہے۔ لوگوں نے گھروں میں ہی نماز ادا کی اور مسجدوں کی طرف جانے سے احتراز کیا۔
ماہ رمضان کے پیش نظر خاص کر جمعے کو جو بازاروں میں لوگوں کی بھیڑ ہوا کرتی تھی وہ بھی کلی طور پر مفقود ہے۔علما ئے دین کا کہنا ہے کہ نماز جمعہ کی ادائیگی اہم فریضہ ہے خاص طور پر ماہ مبارک رمضان کے دوران اس اجتماعی نماز کی فضیلت زیادہ ہی ہے لیکن وبا کے پیش نظر اس کو معطل کرنا بھی لازمی امر ہے تاکہ لوگوں کے جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ان کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ لوگ نماز جمعہ کی ادائیگی سے محروم ہورہے ہیں لیکن وبا کو پھیلنے سے روکنا اور دوسرے انسانوں کو بچانا بھی ایک مستحسن عمل ہے۔ادھرجموں وکشمیر کے مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے لوگوں سے تاکید کی ہے کہ وہ وبا کے پیش نظر شب قدر گھروں میں ہی منانے کا اہتمام کریں۔موصوف مفتی اعظم نے جمعرات کو میڈیا کو وبا جاری ہے اور جموں و کشمیر میں حالات تشویش ناک ہیں اس سلسلے میں لوگوں سے گذارش ہے کہ وہ شب قدر گھروں میں ہی منائیں۔
انہوں نے کہا کہ امسال صدقہ فطر55روپے فی کس مقرر ہوا ہے تاہم صاحبان ثروت کھجور یا کشمش کے حساب سے بھی صدقہ فطر ادا کرسکتے ہیں۔اس دوران دارالعلوم بلالیہ نے امسال اجتماعی اعتکاف کا اہتمام نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔مذکورہ ادارے کی طرف سے جاری ایک پوسٹر میں کہا گیا ہے’موجودہ حالات کے پیش نظر امسال دارالعلوم بلالیہ میں اجتماعی اعتکاف کا نظم نہیں رکھا گیا ہے۔ لہٰذا تمام احباب سے گذارش ہے کہ اپنی اپنی مقامی مساجد میں حسب موقع انفرادی اعتکاف فرما کر امت مسلمہ اور پوری انسانیت کے لئے دعاؤں کا اہتمام کریں‘۔دریں اثناء جموں میں بھی لاک ڈاؤن جار ی ہے اور یہاں بھی مسلم علاقوں میں مسلسل تیسرے جمعے کو بھی مساجد میں نما زجمعہ ادا نہیں کی گئی اور لوگوں نے گھروں میں بیٹھ کر ہی نماز جمعہ ادا کرنے کو ترجیح دی۔
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
