تازہ ترین
لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر جنگی صورتحال پیدا،ہند۔چین آمنے سامنے
وادی گلوان میں سرحدی جھڑپ،افسر سمیت3فوجی اہلکار ہلاک
وزیر اعظم مودی،وزیر دفاع،چیف آف ڈیفنس آرمی اسٹاف،تینوں افواج کے سربراہان کے درمیان میٹنگیں
سرینگر:ہندوستان اور چین کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی کے بیچ لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر جنگی صورتحال کے بیچ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان سوموار کی شب وادی گلوان میں سرحدی جھڑپ ہوئی جس میں ایک فوجی افسر سمیت3فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔فوج نے واقعہ اور ہلاکتوں کی تصدیق کی۔
ادھر سرحدی کشیدگی اور جنگی صورتحال پیدا ہونے پر وزیر اعظم نریندر مودی،وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ،چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپین راوت اور تینوں افواج کے سربراہان کے درمیان میٹنگیں ہوئیں جس میں آئندہ کی حکمت عملی کا خاکہ کھینچا گیا۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق ہندوستان اور چین سرحد پر مشرقی لداخ میں پچھلے ایک مہینے سے بھی زیادہ وقت سے چلے آرہے تعطل کے درمیان پیر کی رات دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان لداخ میں ح واقع وادی گلوان اورپیگانگ جھیل علاقے میں پرتشدد جھڑپ ہوئی جس میں ہندوستانی فوج کے ایک افسر اور دواہلکار ہلاک ہوگئے۔
فوج نے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں افواج کے جوانوں کے اپنی اپنی جگہوں سے پیچھے ہٹنے کے عمل کے تحت یہ جھڑپ پیر کی رات پیگانگ جھیل علاقے میں ہوئی جس میں فوج کے ایک افسر اور دو جوان ازجان ہوگئے۔فوج کے ابتدائی بیان میں کہا گیا ہے کہ گلوان وادی میں دونوں افواج کے جوانوں کے پیچھے ہٹنے کے عمل کے دوران افواج کے درمیان تشدد ہوا ہے جس میں دونوں طرف کے فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس دوران ایک افسر اور دو جوان ہلاک ہو گئے۔
دونوں فریقوں کے سینئر فوجی افسر گلوان وادی میں بات چیت کررہے ہیں، جس سے تناؤ کو دور کرکے حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ فوج نے واضح طورپر کہا ہے کہ جھڑپ میں دونوں طرف کے فوجی مارے گئے ہیں حالانکہ یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ چین کے کتنے فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ فوج نے یہ بھی واضح کیا کہ جھڑپ کے دوران فائرنگ نہیں ہوئی ہے۔واضح رہے کہ مشرقی لداخ میں پچھلے ایک مہینے سے بھی زیادہ وقت سے دونوں افواج کے درمیان شدید تعطل بنا ہوا ہے۔
اس تعطل کو دور کرنے کے لئے پچھلے کچھ ہفتوں میں دونوں افواج کے سینئر افسران کے درمیان مسلسل میٹنگیں ہورہی ہیں۔گزشتہ چھ جون کو ہوئے لیفٹننٹ جنرل سطح کے مذاکرات کے بعد دونوں افواج نے اپنے فوجیوں کو کچھ پیچھے ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔پیچھے ہٹنے کے عمل دوران ہی یہ جھڑپ ہوئی ہے۔پچھلے ایک مہینے میں دونوں افواج نے حالیہ لائن آف کنٹرول کے نزدیک بھاری گاڑیوں،آلات اور جوانوں کی تعیناتی بڑھا دی ہے۔ دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت کی جانب سے مسلسل کہا جارہا ہے کہ اس مسئلے کا حل بات چیت کے ذریعہ نکالا جائیگا۔ دونوں افواج کے افسروں کے درمیان پیر کو بھی ایک میٹنگ ہوئی تھی۔
دونوں افواج کے درمیان ہوئی جھڑپ کے بعد بات چیت کے ذریعہ تعطل کو دور کرنے کی کوششوں کو ٹھیس لگ سکتی ہے۔ایک اور رپورٹ کے مطابق وادی گلوان لداخ میں انڈیا اور چین کی سرحدی لائن کا علاقہ ہے۔ اس علاقے میں انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی نے حالیہ دنوں میں ایک بار پھر سر اٹھایا ہے اور اس تناؤ کو سنہ1999 میں انڈیا کے روایتی حریف پاکستان کے ساتھ کرگل میں ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی کشیدگی کہا جا رہا ہے۔
اس سے قبل سنہ2017 میں انڈیا اور چین کی افواج ڈوکلام کے مقام پر آمنے سامنے آئی تھیں لیکن گذشتہ ایک ماہ کے دوران مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ سمیت انڈیا اور چین کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے مختلف مقامات پر دونوں جانب سے افواج کی موجودگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔
ماضی قریب میں انڈیا اور چین کے درمیان اس علاقے میں چار جھڑپیں ہوئی ہیں لیکن کسی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔لداخ میں پینگونگ ٹیسو، گالوان وادی اور دیمچوک کے مقامات پر دونوں افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی جبکہ مشرق میں سکم کے پاس بھی ایسے ہی واقعات پیش آئے ہیں۔مئی میں بیجنگ میں چین کے سرکاری میڈیا میں کہا گیا تھا کہ ’مغربی سیکٹر کی گلوان وادی میں انڈیا کے ذریعے یکطرفہ اور غیر قانونی تعمیرات کے ذریعے موجودہ صورتحال کو بدلنے کی کوشش کے بعد پیپلز لبریشن آرمی نے اپنا کنٹرول سخت کر دیا ہے۔‘
مشرقی لداخ میں پینگونگ سو جھیل کے نزدیک پانچ اور چھ مئی کو چینی اور انڈین فوجیوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی تھی۔انڈین میڈیا این ڈی ٹی وی نے انٹیلیجنس ماہرین کے اوپن سورسز ڈیٹریسفا کے حوالے سے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ چین پینگوگ جھیل سے 200کلو میٹر کے فاصلے پر اپنے ایئر بیس پر بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام کر رہا ہے۔
اس نے چھ اپریل کی ایک سٹیلائٹ تصویر پیش کی ہے اور اس کا مقابلہ 21 مئی کی سیٹلائٹ تصویر سے کیا ہے جس میں واضح فرق دکھایا گیا ہے۔اس سے قبل انڈیا نے کہا تھا کہ چینی فوج کے کچھ خیمے چین میں وادی گالوان کے ساتھ دیکھے گئے ہیں۔ اس کے بعد انڈیا نے بھی وہاں فوج کی تعیناتی میں اضافہ کیا ہے۔
اسی کے ساتھ ہی چین کا الزام ہے کہ انڈیا وادی گالوان کے قریب دفاع سے متعلق غیر قانونی تعمیرات کر رہا ہے۔دریں اثناء وزیر اعظم نریندر مودی،وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ،چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپین راوت اور تینوں افواج کے سربراہان کے درمیان میٹنگیں ہوئیں۔ان میٹنگوں میں سرحدی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا اور آئندہ کی حکمت عملی کا خاکہ کھینچا گیا۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر16 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان18 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا16 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا16 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا20 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا20 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا20 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
