ہندوستان
لوک سبھا میں وقف (ترمیمی) بل کی اپوزیشن نے شدید مخالفت کی
نئی دہلی، حکومت نے جمعرات کو لوک سبھا میں وقف (ترمیمی) بل 2024 پیش کرنے کی تجویز پیش کی، جس کی اپوزیشن نے اسے ایوان کے قانونی اختیار سے باہر اور بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کی۔ اور بل کو واپس لینے یا اس پر غوروخوض کرنے کے لئے اسے پارلیمانی کمیٹی کو بھیجنے کا مطالبہ کیا۔
دوپہر ایک بجے اسپیکر اوم برلا کی اجازت سے پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے اس بل کو پیش کرنے کی تجویز پیش کی، جس کی مخالفت کرتے ہوئے اپوزیشن نے قاعدہ 72 کے تحت اس تجویز پر بحث کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسپیکر مسٹر برلا نے رول 72 کے تحت اپوزیشن کو اپنے خیالات پیش کرنے کی اجازت دی۔
ایک طرف جہاں کانگریس، ترنمول کانگریس، سماج وادی پارٹی، ڈی ایم کے، سی پی آئی (ایم)، سی پی آئی، وائی ایس آر کانگریس وغیرہ جیسی جماعتوں نے بل کی مخالفت کی، وہیں حکمراں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی جنتا دل یونائیٹڈ، تیلگو دیشم اور شیوسینا نے بل کی حمایت کی۔ . شیوسینا کے شریکانت ایکناتھ شندے نے اپوزیشن پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر ملک کے نظام کو چلانا چاہتے ہیں انہیں شرم آنی چاہئے۔ اس بل کا مقصد شفافیت اور احتساب لانا ہے لیکن آئین پر ابہام پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جو لوگ احتجاج کر رہے ہیں، ان کی حکومت کو آئین اور وفاقی ڈھانچہ کیوں یاد نہیں آیا جب انہوں نے مہاراشٹر میں شرڈی اور مہالکشمی مندروں میں منتظمین کا تقرر کیا؟
کانگریس کے کے سی وینوگوپال نے کہا کہ یہ بل آئین کے خلاف ہے اور اس سے اس کمیونٹی کے مفادات کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت ہر کمیونٹی کو مذہبی اور رفاہی بنیادوں پر منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد رکھنے کا حق حاصل ہے۔ اس بل میں دو غیر مسلم اراکین کو وقف بورڈ میں شامل کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اجودھیا کے شری رام جنم بھومی تیرتھ کھیت ٹرسٹ میں غیر ہندو ہوسکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ مذہبی آزادی کے حق پر حملہ اور آئین میں فراہم کردہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ہندوستانی ثقافت میں ہر کوئی ایک دوسرے کے عقائد اور مذہبی عقائد کا احترام کرتا ہے۔ لیکن یہ قدم ان میں تفرقہ پیدا کرے گا۔
مسٹر وینوگوپال نے الزام لگایا کہ حکومت فاشزم کی طرف بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف املاک سینکڑوں سال پرانی ہیں۔ بل پاس ہونے پر اس پر تنازعات اٹھائے جائیں گے۔ یہ بل غلط ارادوں سے لایا گیا ہے۔ یہ بل منظور نہیں ہو سکتا۔
سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو نے کہا کہ یہ بل جان بوجھ کر سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے لایا گیا ہے۔ جب وقف بورڈ میں اراکین کو جمہوری طریقے سے منتخب کرنے کا نظام ہے تو پھر نامزدگی کی کیا ضرورت ہے؟ کسی غیر مسلم شخص کو بورڈ میں کیوں ہونا چاہئے؟ انہوں نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ بی جے پی نے یہ بل چند مایوس اور مایوس بنیاد پرستوں کو خوش کرنے کے لیے لایا ہے۔ اس کے بعد مسٹر یادو نے کہا کہ یہ بل اس لیے لایا گیا ہے کیونکہ وہ ابھی ہار گئے ہیں۔ انہوں نے مسٹر اوم برلا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ا سپیکر کا عہدہ جمہوریت کی عدالت ہے لیکن اسپیکر کے حقوق کو بھی سلب کیا جا رہا ہے۔
اس پر وزیر داخلہ امت شاہ برہم ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کے حقوق پورے ایوان کا حق ہیں اور مسٹر اکھلیش یادو ان حقوق کے محافظ نہیں ہیں۔ مسٹر برلا نے اراکین کو ہدایت دی کہ وہ پارلیمنٹ کی نشست یا اندرونی انتظامات پر ذاتی تبصرہ نہ کریں۔
ترنمول کانگریس کے سدیپ بندوپادھیائے اور کلیان بنرجی نے کہا کہ ایوان کو اس سلسلے میں قانون بنانے کا حق نہیں ہے۔ اسے آئین میں ریاست کا موضوع بتایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ حکومت کو مذہبی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں ہے۔ مسٹر بنرجی نے کہا کہ یہ بل آئینی اخلاقیات کے بھی خلاف ہے اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل ہندوستان کو ہندو قوم قرار دینے کی کوشش کی گئی جو کامیاب نہیں ہوئی۔
ڈی ایم کے کی کنی موزی نے کہا کہ آج پارلیمنٹ میں بہت افسوسناک دن ہے جب ایک ایسا بل آیا ہے جو آئین کے تمام آرٹیکلز کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ ہم نے چند روز قبل آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے اور یہ بل آئین، وفاقی ڈھانچے اور انسانیت پر صریح تجاوز اور انصاف کی خلاف ورزی ہے۔ تمام پرانی مساجد خطرے میں پڑ جائیں گی کیونکہ کچھ ماہرین آثار قدیمہ کہیں گے کہ ایک خاص مسجد پہلے مندر تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایک کمیونٹی کو نشانہ بنانے کے لیے یہ بل لایا گیا ہے۔
نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کی سپریا سولے نے کہا کہ حکومت کو بل واپس لینا چاہئے یا اسے پارلیمانی کمیٹی کو بھیجا جانا چاہئے۔ لیکن یہ بل پہلے میڈیا اور پھر اراکین پارلیمنٹ کو بتایا گیا۔ یہ پارلیمنٹ کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل میں وقف ایکٹ کی کئی شقوں کو ختم کرنے کی تجویز ہے اور وقف ٹریبونل کو بھی کمزور کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو ہر ملک میں تحفظ حاصل ہے۔ آخر ایسا کیا ہے کہ اب یہ بل لانا پڑا۔
انڈین یونین مسلم لیگ کے ای ٹی محمد بشیر نے کہا کہ یہ بل آئین اور اس میں درج بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ غلط ارادوں اور بدنیتی پر مبنی ایجنڈے کے ساتھ لایا گیا ہے۔ حکومت وقف املاک پر قبضہ کرنا چاہتی ہے اور اس طرح ملک کے سیکولر ڈھانچے کو تباہ کر رہی ہے۔ اس بل کی منظوری سے وقف کا پورا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ حکومت ظالم بن چکی ہے اور ملک میں زہر پھیلا رہی ہے۔
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
نئی دہلی، 13 اگست (یو این آئی) صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے جمعرات کے روز یہاں ملک کے معزز فنکاروں کو سال 2024 اور 2025 کے لیے سنگیت ناٹک اکادمی فیلوشپ اور سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈز تفویض کیے اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین یہ فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں محترمہ مرمو نے کہا کہ ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکار مل کر ملک کا ایک ایسا ثقافتی نقشہ پیش کرتے ہیں جس میں اس ملک کی مٹی کی کہانیاں اور گیت جڑے ہیں، ایک ایسا نقشہ جس میں تنوع سے بھری اس زمین کے رقص اور تہوار سمائے ہیں اور صدیوں سے پروان چڑھنے والی اس کی زبانوں اور بولیوں کی یادیں بسیں ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ’’ ہندستان کی ثقافت جڑوں سے جڑی ہوئی ہے۔ مختلف قسم کے کھانے پینے، ملبوسات ، رقص اور موسیقی، فطرت سے متاثر ہیں۔ چہچہاتے ہوئے پرندوں، کل کل بہتے آبشاروں، درختوں، پتوں، بادلوں اور ندیوں سے ترغیب لے کر فنکار اپنے رقص اور موسیقی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تنوع اور وحدت کا یہ سنگم ہماری فنونِ لطیفہ کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔‘‘
محترمہ مرمو نے کہا کہ تمام مختلف فنون کے اسالیب میں گرو-شِشیہ (استاد و شاگرد) کی روایت کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارے فنونِ لطیفہ کی سب سے اہم کتاب استاد ہی ہوتے ہیں۔ آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں ہمارے بہت سے لوک فنون پر معدوم ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ایسی فنکارانہ اقسام کا نہ صرف ثبوت اور ریکارڈ رکھنا ضروری ہے بلکہ انہیں زندہ رکھنے کے لیے خصوصی کوششیں بھی ضروری ہو جاتی ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ سنگیت ناٹک اکادمی اسی مقصد سے ‘کلا-دیکشا’ پروگرام کا انعقاد کر رہی ہے۔ انہوں نے سینئر فنکاروں سے کہا کہ وہ اگلی نسل کو تیار کرنے کے لیے منصوبہ بند طریقے سے کوششیں کریں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ فن کی تربیت اور سمجھ سے زندگی کو مالا مال کرنے کے لیے فطرت کو سب سے قدرتی تربیتی ادارہ مانا جاتا ہے۔ لوک اور قبائلی فنون میں زندگی کی فطری خوشی اور قدرت کے ساتھ گہرا مکالمہ نظر آتا ہے۔ ان فنکارانہ شکلوں میں برادری کی یادداشت اور اجتماعی شعور کا اظہار باآسانی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوک فنون ہندستان کی ثقافتی شناخت کی انتہائی اہم بنیاد ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکاروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین ہمارے فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سنگیت ناٹک اکادمی کو ہندستان کی ‘سوفٹ پاور’ کا ایک اہم مرکز مانا جاتا ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ اکادمی آنے والے وقت میں بھی ہندستان کی ثقافتی توانائی سے پوری دنیا کو مستفید کرتی رہے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مودی-شاہ کو چین سے سونے نہیں دیں گے، بغیر نفرت کے لڑتے رہیں گے: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ تبدیلی کے لیے سیاسی طاقت کے ساتھ ہندستان کے تنوع اور ہر فرد کی اظہارِ رائے کی آزادی کی حفاظت ضروری ہے، اس لیے کانگریس بغیر نفرت اور تشدد کے اپنی اس لڑائی کو جاری رکھے گی مسٹر گاندھی نے ‘رچناتمک کانگریس’ کے قومی اجلاس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمعرات کے روز یہاں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور وزیر اعظم نریندر مودی لوگوں کی آزادی چھیننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کو کسی ایک طے شدہ نظام میں ڈھالنے کے بجائے ملک کے لوگوں کو اپنی بات کہنے اور اپنی شناخت کے ساتھ آگے بڑھنے کی آزادی ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی پرانی طاقت چھوٹے تاجر اور چھوٹے کاروباری تھے لیکن نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے انہی طبقات کو نقصان پہنچایا ہے۔ ملک کے چھوٹے تاجروں اور روایتی پیشوں کو نوٹ بندی اوراشیا اورخدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے موجودہ نظام سے نقصان ہوا ہے۔ چھوٹے تاجروں کو ایک طرف کر دیا گیا اور تنظیم نیز بی جے پی کی سیاست میں بڑے سرمایہ دارانہ گروہوں کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھتا گیا۔
مسٹر گاندھی نے میڈیا کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میڈیا کے ایک بڑے حصے پر بھی قبضہ ہو چکا ہے، لیکن صحافیوں کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے سچائی عوام تک پہنچانی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو اوپر سے فون آتے ہیں اور خبریں طے کرائی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی جذبہ ہوتا ہے اور اس قومی جذبے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہندستان کے لوگوں کو کسی طاقت کے دباؤ میں اپنی آواز نہیں دبانی چاہیے۔ کسی شخص کو اپنے مذہب، ثقافت یا خیالات کی بات کے اظہار سے نہیں روکا جانا چاہیے۔ آپ سکھ ہیں تو گرو نانک کی بات کر سکتے ہیں، مسلمان ہیں تو اللہ کی بات کر سکتے ہیں، جین ہیں تو مہاویر کی اور ہندو ہیں تو شیو کی بات کر سکتے ہیں۔ جس کو جو بات کرنی ہے، اسے بولنا چاہیے۔
خارجہ پالیسی پر وزیر اعظم نریندر مودی کو گھیرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ ہندستان کو اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے ایران، امریکہ اور روس کے تناظر میں کہا کہ ہندستان کے سامنے عالمی سطح پر اپنا کردار مضبوط کرنے کا موقع تھا، کیونکہ ایران، روس اور امریکہ ہندستان کے دوست ممالک تھے لیکن ہندستان کی حکومت اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی ترجیح ملک کے سیاسی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور اپنے حمایتی کاروباری گروہوں سے معاشی تعاون لینے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا، “مسٹر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ کے خلاف کانگریس کی لڑائی جاری رہے گی۔ یہ لڑائی نفرت اور تشدد کے راستے پر نہیں، بلکہ ملک کی ثقافت، بھائی چارے، محبت اور عدم تشدد کے راستے پر لڑی جائے گی۔ جس دن تک نریندر مودی اپنا استعفیٰ نہیں دیں گے اور امت شاہ نہیں ہٹیں گے، اس دن تک ہم انہیں سونے نہیں دیں گے۔ ہم انہیں جگائے رکھیں گے—لیکن بغیر نفرت اور بغیر تشدد کے۔”
کانگریس رہنما نے رچناتمک کانگریس کے مقصد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کی طاقت اس کے تنوع اور لوگوں کے اظہارِ رائے میں ہے اور کانگریس کا کام ہر آواز کو جگہ دینا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
راہل گاندھی کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: بی جے پی
نئی دہلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو غیر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن ایک رہنما کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے جمعرات کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی کو غیر ذمہ دار، غیر سنجیدہ، بد نظم اور انا پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سیاسی شائستگی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی بغیر کسی اجازت کے اپنی بہن کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے گیٹ پر جا بیٹھے۔ وہ کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ ان کے والد وزیر اعظم تھے، ان کی دادی اور پرنانا بھی وزیر اعظم تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لیے سکیورٹی کے کتنے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ جب ہوم سکریٹری اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں وزیرِ مملکت جتیندر سنگھ جی وہاں گئے، تو انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت اور بحث کے لیے تیار ہیں۔
مسٹر پرساد نے کہا، ‘جب انہوں نے (مسٹر سنگھ) کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے، تو مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہیں وزیر کا استعفیٰ چاہیے۔ مسٹر گاندھی! ملک اور پارلیمنٹ کی سیاست آپ کی انا، مراعات یافتہ ہونے کے احساس اور اس سوچ کے دباؤ میں نہیں چلے گی کہ آپ اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’ بی جے پی رہنما نے کہا کہ جمہوریت اس طرح کام نہیں کرتی اور شاید یہی آپ کی پارٹی کی موجودہ حالت کی وجہ بھی ہے۔ مسٹر گاندھی اپنی غلطیوں سے سیکھتے نہیں ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی میں ہوئی پولیس کارروائی پر وزیرِ داخلہ جواب دیں۔ اس مطالبے پر انہوں نے ایوان کو چلنے نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ کل وزیرِ داخلہ امت شاہ نے میڈیا کے سامنے کہا کہ میں 24 گھنٹے تک پوری بحث سننے اور ان کے تمام دلائل کا نقطہ بہ نقطہ جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) اور ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا، ‘ہم بحث کے لیے تیار ہیں۔ سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا کہ تبھی انہوں نے (مسٹر گاندھی) نے اپنا مطالبہ بدل دیا اور کہا کہ ہمیں دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ چاہیے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، اور اسی کو مسئلہ بنایا گیا۔’
بی جے پی رہنما نے کہا کہ اس کے بعد مسٹر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ دے دیا۔ جب بحث کی بات آئی، تو مسٹر مودی کی قیادت میں حکومت نے دو بڑے قدم اٹھائے۔ نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پر ایک بہت سخت قانون لایا گیا، فاسٹ ٹریک کورٹ کا نظام قائم کیا گیا اور سزا نیز پیپر لیک گینگ سے نمٹنے کے لیے بھی کارروائی کی گئی۔
اس کے بعد، امتحان اور نیٹ میں اصلاحات کے لیے نندن نیلیکنی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی۔
انہوں نے کہا، “ہم نے صاف کر دیا ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ اگر انہوں نے پارلیمنٹ میں مسٹر شاہ کی بات سنی ہوتی، تو انہیں اپنے سوالات کے جوابات مل جاتے، لیکن، انہوں نے ایوان کو چلنے ہی نہیں دیا۔ تب ان کی (مسٹر گاندھی) دو بے وقوفانہ باتیں سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے (وزیرِ داخلہ نے) گولی چلانے کا حکم دیا ہے، تو وہ استعفیٰ دیں اور اگر نہیں دیا ہے، تو وہ نااہل وزیر ہیں، تب استعفیٰ دیں۔” انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کو حکومت چلانے کی بنیادی سمجھ بھی نہیں ہے۔
مسٹر پرساد نے کہا کہ مسٹر شاہ 24 گھنٹے ایوان میں بیٹھنے کو تیار تھے، پھر بھی مسٹر گاندھی نے کہا کہ نہیں ہمیں ان کا استعفیٰ چاہیے، ان کی بحث سن کر کیا فائدہ۔ مسٹر گاندھی کی سرکشی سے ملک کی سیاست نہیں چلے گی۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
