ہندوستان
لوک سبھا کے ساتویں اور آخری مرحلے کی انتخابی مہم ختم، ووٹنگ یکم جون کو ہوگی
نئی دہلی، 18 ویں لوک سبھا انتخابات کے لئے تقریباً دو ماہ تک جاری رہنے والی انتخابی مہم جمعرات کی شام 6 بجے ختم ہو گئی۔ شدید گرمی اور ایک دوسرے کے خلاف سیاسی جماعتوں کے تند و تیز بیانات اور شوروغل سے بھری ہوئی انتخابی مہم آج تھم گئی ۔
ان انتخابات کے ساتویں اور آخری مرحلے میں ہفتہ کو 57 پارلیمانی نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوگی جس میں آٹھ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام چنڈی گڑھ شامل ہے ۔ اس کے ساتھ ہی اوڈیشہ اسمبلی کے چوتھے اور آخری مرحلے میں 42 سیٹوں کے لیے ایک ہی دن ووٹنگ ہوگی۔ ضابطے کے مطابق ان سیٹوں پر انتخابی مہم پولنگ سے 48 گھنٹے قبل آج شام 6 بجے ختم ہو گئی۔
انتخابی مہم میں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) کی زیر قیادت حکمران اتحاد نے اقربا پروری، خوشامد پسندی اور بدعنوانی پر کانگریس اور دیگر جماعتوں پر مشتمل انڈیا اتحاد پر حملہ کیا۔ اپوزیشن نے بی جے پی کی زیرقیادت حکومت پر انتخابی بانڈز میں بدعنوانی، مذہبی تقسیم کی سیاست اور اپوزیشن لیڈروں کے خلاف تحقیقاتی ایجنسیوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ آئین کو تبدیل کرنے کے منصوبوں کا الزام لگایا۔
عام انتخابات کے ساتویں مرحلے کے لیے حکمراں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) اور اپوزیشن انڈیا اتحاد کے اسٹار پرچارکوں کے علاوہ ان کی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے عوامی جلسوں اور روڈ شوز وغیرہ کے ذریعے اپنے امیدواروں کے لیے بھرپور مہم چلائی۔ منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کے انتظامات کے مطابق ووٹنگ کی مدت ختم ہونے سے 48 گھنٹے قبل عوامی مہم روک دی جاتی ہے۔ اس کے بعد امیدوار اور ان کے حامی ذاتی سطح پر رابطہ کر کے ووٹرز کی حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔
آج آخری مرحلے میں انتخابی مہم ختم ہونے سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے پنجاب کے ہوشیا پور میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کیا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ آج کل ملک کے لوگ انڈیا اتحاد سے آئین، آئین کے نعرے سن رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمرجنسی کے دوران آئین کا گلا گھونٹا۔ 1984 کے فسادات میں جب سکھوں کو گلے میں ٹائر باندھ کر جلایا جا رہا تھا تو انہوں نے آئین کا خیال نہیں کیا۔
دریں اثنا، وزیر اعظم آج شام کنیا کماری کا دورہ کریں گے اور کنیا کماری میں مشہور وویکانند راک میموریل میں دو دن (48 گھنٹے) دھیان لگائیں گے۔ ان کے قیام کے لیے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
ساتویں مرحلے میں 57 لوک سبھا سیٹوں پر 904 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ اس مرحلے میں مرکز کے زیر انتظام علاقے چنڈی گڑھ کی ایک سیٹ کے لیے ووٹنگ ہوگی۔ اس کے علاوہ اوڈیشہ اسمبلی کی کل 147 سیٹوں کے انتخابات کے آخری مرحلے میں 42 سیٹوں پر حکمران بیجو جنتا دل (بی جے ڈی)، بی جے پی اور کانگریس کے درمیان مقابلہ ہے۔ ریاستی اسمبلی انتخابات کے پہلے، دوسرے اور تیسرے مرحلے میں 13 مئی کو 28، 20 مئی کو 35 اور 25 مئی کو 42 سیٹوں پر ووٹنگ ہوئی۔
ساتویں اور آخری مرحلے میں اتر پردیش کی 13 سیٹوں پر 144، پنجاب کی 13 سیٹوں پر 328، مغربی بنگال کی 9 سیٹوں پر 124، بہار کی آٹھ سیٹوں پر 134، اڈیشہ کی چھ سیٹوں پر 66، ہماچل پردیش کی چار سیٹوں پر 37 ، جھارکھنڈ کی تین نشستوں پر 52 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں اور مرکز کے زیر انتظام چنڈی گڑھ کی ایک سیٹ پر 19 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ سات مرحلوں میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے آخری مرحلے کے لیے ووٹنگ یکم جون کو ہوگی۔ نتائج 4 جون کو آئیں گے۔
اتر پردیش کی 13 سیٹوں کے نام جن پر یکم جون کو ووٹنگ ہوگی مہاراج گنج، گورکھپور، کشی نگر، دیوریا، بانس گاؤں، گھوسی، سلیم پور، بلیا، غازی پور، چندولی، وارانسی، مرزا پور اور رابرٹس گنج ہیں ۔
بہار کی جن سیٹوں پر آخری مرحلے میں ووٹنگ ہوگی وہ ہیں نالندہ، پٹنہ صاحب، پاٹلی پتر، اررا، بکسر، سہسرام، کرکت اور جہان آباد۔ پہاڑی ریاست ہماچل پردیش میں ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہو رہی ہے۔ ریاست کی جن چار سیٹوں پر ووٹنگ ہو گی ان میں کانگڑا، منڈی، ہمیر پور اور شملہ شامل ہیں۔ اڈیشہ کی چھ پارلیمانی سیٹوں کے نام میور بھنج، بالاسور جاج پور، کیندرپارا، جگت سنگھ پور، بھدرک ہیں، جن پر آخری مرحلے میں ووٹنگ ہوگی۔ پنجاب کی جن 13 پارلیمانی نشستوں پر ووٹنگ ہو گی ان میں گورداس پور، امرتسر، کھڈور صاحب، جالندھر (محفوظ)، ہوشیار پور (محفوظ)، آنند پور صاحب، لدھیانہ، فتح گڑھ صاحب (محفوظ)، فرید کوٹ (محفوظ)، فیروز پور، بھٹنڈہ، سنگرور اور پٹیالہ سیٹ شامل ہیں۔
مغربی بنگال کی نو پارلیمانی نشستوں میں دمدم، باراسات، بشیرہاٹ، جے نگر، متھرا پور، ڈائمنڈ ہاربر، جادھو پور، جنوبی کولکاتہ ، نارتھ کولکاتہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ راج محل، دمکا، جھارکھنڈ کے گوڈا اور مرکز کے زیر انتظام چنڈی گڑھ کی سیٹوں پر بھی یکم جون کو ووٹنگ ہوگی۔
لوک سبھا انتخابات کے آخری مرحلے میں یکم جون کو ووٹنگ ہونی ہے۔ اس مرحلے میں وزیر اعظم نریندر مودی، بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت، انوراگ ٹھاکر، روی کشن، روی شنکر پرساد، سنجے ٹنڈن، کانگریس کے اکھلیش پرتاپ سنگھ، اجے رائے، ترنمول کانگریس کے جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی، پنجاب کے سابق وزیر اعلی چرنجیت سنگھ چنی اور دیگر شامل ہیں۔ بھوجپوری فنکار پون سنگھ سمیت کئی مرکزی وزراء کی قسمت کا فیصلہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں بند ہوگا۔
انتخابات کے اس مرحلے کے لیے 57 نشستوں کے لیے کل 2105 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کیے تھے۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے بعد 954 امیدوار انتخابی میدان میں رہ گئے تھے اور کاغذات نامزدگی واپس لینے کے بعد 904 امیدوار رہ گئے ہیں۔
لوک سبھا کی کل 543 سیٹوں میں سے 486 سیٹوں پر ووٹنگ کا عمل ختم ہو گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 102 سیٹوں پر 66.14 فیصد، دوسرے مرحلے میں 88 سیٹوں پر 66.71 فیصد، تیسرے مرحلے میں 93 سیٹوں پر 65.68 فیصد، چوتھے میں 96 سیٹوں پر 67.71 فیصد، پانچویں میں 49 سیٹوں پر 62.20 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ اور چھٹے مرحلے میں 58 پارلیمانی نشستوں پر 63.37 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔
ساتویں اور آخری مرحلے میں یکم جون کو ووٹنگ ہوگی۔ انتخابی نتائج 4 جون کو آئیں گے۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں ساتویں مرحلے میں 57 سیٹوں پر کل 65.29 فیصد ووٹ ڈالے گئے تھے۔ مغربی بنگال میں سب سے زیادہ 78.80 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ سب سے کم ٹرن آؤٹ 51.37 فیصد بہار میں ریکارڈ کیا گیا۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
ترکیہ کے صدر کو ہندوستان کی خود مختاری سے جڑے معاملے میں بولنے کا کوئی حق نہیں: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، ہندوستان نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کے جموں و کشمیر کے بارے میں دیے گئے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہندوستان کی خود مختاری سے جڑا معاملہ ہے اور اس پر کسی بیرونی فریق کو بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں اس بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان اس ناپسندیدہ تبصرے کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، “ترکیہ کے صدر کی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران جموں و کشمیر کے بارے میں ناپسندیدہ تبصرے کو ہندستان مسترد کرتا ہے۔ یہ ہندوستان کی سالمیت نیز خود مختاری سے جڑا معاملہ ہے اور کسی بیرونی فریق کو اس پر بولنے کا حق نہیں ہے۔”
رپورٹوں کے مطابق مسٹر اردگان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے کشمیر کے مسئلے سمیت تمام تنازعات کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے دائرے میں بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میں رکنیت کے بارے میں تمام اراکین مل کر فیصلہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی رکنیت کا موضوع آتا ہے تو اراکین کو اجتماعی طور پر اس بارے میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔
ان سے میڈیا میں آئی ان رپورٹوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا جن میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان ترکیہ کو ایس سی او کا مکمل رکن بنانے کے حق میں نہیں ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
بحرِ ہند میں سب سے پہلے مدد کا ہاتھ بڑھانے والا ہندوستان پسندیدہ سکیورٹی پارٹنر : راج ناتھ
نئی دہلی، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان بحرِ ہند کے خطے میں آفت یا بحران کے وقت سب سے پہلے مدد کا ہاتھ بڑھانے والے نیز پسندیدہ سکیورٹی پارٹنر کا کردار ادا کر رہا ہے لیکن اسٹریٹجک صورتِ حال کے پیشِ نظر اس کی ذمہ داری بھی بڑھ رہی ہے اور بحریہ کو سمندری شعبے میں بدلتے چیلنجوں کے پیشِ نظر نگرانی اور جوابی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
مسٹر سنگھ نے منگل کے روز یہاں ہندوستانی بحریہ کے اعلیٰ کمانڈروں کی کانفرنس کے دوسرے انعقاد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی بحیرہ چین، بحیرۂ روم اور بحرِ اوقیانوس میں ہندوستانی جنگی جہازوں کی موجودگی ملک کی ‘سمندر’ میں بحری صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحریہ حکمتِ عملی کے اعتبار سے مضبوط علاقائی طاقت کے طور پر اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ سمندری شعبے میں جہازوں کی بڑھتی ہوئی بھیڑ، دھوکہ دہی اور ‘گرے-زون’ سرگرمیوں نے صورتِ حال کو پہلے سے زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے سمندری نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنے اور بڑھتی ہوئی سمندری آمد و رفت کے تجزیے کی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی بحریہ ‘وکست بھارت 2047’ کے تصور میں حکمتِ عملی کی بنیاد ہے۔ بحریہ کا کردار صرف سمندری سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں ہے، بلکہ وہ معاشی سکیورٹی، علاقائی استحکام اور طاقت کے مظاہرے کو بھی مضبوط کرتی ہے۔ بحریہ کو حکومت کے ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی سمندری طاقت کا مقصد صرف سمندر میں ترنگا لہرانا نہیں، بلکہ جہاں بھی ترنگا نظر آئے وہاں سکیورٹی، بھروسے اور اعتماد کا پیغام دینا ہے۔ انہوں نے کہا، “اگر سمندر محفوظ ہیں، تو ہندوستان محفوظ ہوگا اور اگر ہندوستان محفوظ ہے، تو وکست بھارت کا عزم مزید مضبوط ہوگا”۔
وزیرِ دفاع نے مغربی ایشیا کے بحران کے دوران بحریہ کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ‘آپریشن اورجا سرکشا’ کے تحت آبنائے ہرمز سے ہندوسانی پرچم والے تجارتی جہازوں، خاص طور پر ایل پی جی ٹینکروں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانا بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اپنے خام تیل کا تقریباً 85 سے 90 فیصد اور قدرتی گیس کا تقریباً 50 فیصد سمندری راستوں سے درآمد کرتا ہے۔ اس لیے سمندری راستوں کی سکیورٹی ملک کی معیشت، توانائی کی فراہمی اور دفاعی تیاریوں سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔
بحریہ کومقامی بنانے کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ ہندوستان جنگی جہاز سازی کا نظام اب عالمی معیار کو پورا کر رہا ہے۔ حال ہی میں کمیشن کیے گئے جنگی جہازوں میں 75 فیصد سے زیادہ دیسی سامان کا استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ہندوستان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ دوست ممالک کو جنگی جہازوں کی برآمد بھی کرنی چاہیے۔
مسٹر سنگھ نے موجودہ سال کو بحریہ کے لیے تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سال 18 جنگی جہازوں کو بحریہ کے بیڑے میں شامل کیا جا رہا ہے جو بحریہ کی تاریخ میں ایک سال میں سب سے بڑی تعداد ہے۔
انہوں نے اسے ملک کے گھریلو بحری جہاز سازی کے نظام کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا اشارہ بتایا۔
انہوں نے ‘آل رینکس، آل رولز’ کے تحت خواتین کی شرکت بڑھانے کے لیے بحریہ کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے فرنٹ لائن جنگی جہازوں اور طیاروں پر خواتین افسران کی تعیناتی اور ‘ناوِکا ساگر پریکرما’ میں ان کی شرکت کا بھی ذکر کیا۔
وزیرِ دفاع نے مشترکہ بحری افواج کے تحت ‘کمبائنڈ ٹاسک فورس-154’ کی کمان سنبھالنے پر بحریہ کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کوچی میں ہندوستان کی کمان کے دوران ہوئے ‘آپریشن سدرن ریڈینس’ کا بھی ذکر کیا، جس میں 27 ممالک کے 276 اہلکاروں، 76 ماہرین اور چار بین الاقوامی تنظیموں نے حصہ لیا۔
انہوں نے ‘لوکاین-26’ کے لیے آئی این ایس سدرشنی کی تعیناتی کو بھی ہندوستان کی سمندری سفارت کاری اورہندوستانی تارکینِ وطن کے ساتھ لگاؤ کے لحاظ سے اہم بتایا۔
بحریہ کے کمانڈروں کی تین روزہ کانفرنس یکم اکتوبر تک چلے گی۔ اس میں بحریہ کی اعلیٰ قیادت آپریشنل تیاریوں، سمندری سکیورٹی اور مستقبل کی صلاحیتوں کی ترقی کا جائزہ لے رہی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
سیتا رمن نے دوحہ میں نیپال، سعودی عرب کے وزرائے خزانہ کے ساتھ دوطرفہ اہمیت کی حامل میٹنگیں کیں
نئی دہلی/ دوحہ، وزیرِ خزانہ محترمہ نِرملا سیتا رمن نے قطر کے اپنے دورے کے دوران نیپال کے وزیرِ خزانہ سوَرن واگلے کے ساتھ ملاقات کی ہے۔
محترمہ سیتا رمن دوحہ میں ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کی سالانہ میٹنگ کے سلسلے میں وہاں گئی ہیں۔ وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ اس میٹنگ کے دوران محترمہ سیتا رمن نے اتوار کے روز نیپال کے وزیرِ خزانہ مسٹر واگلے کے ساتھ ایک الگ میٹنگ کی۔ دونوں وزراء نے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ہوئی دونوں کے درمیان دوبارہ ہوئی اس ملاقات پر مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے نئی دہلی میں ہوئی پچھلی میٹنگ کے دوران ہوئی بات چیت کو آگے بڑھانے کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔
میٹنگ کے دوران محترمہ سیتا رمن اور مسٹر واگلے نے نیپال میں حال ہی میں آئے تباہ کن سیلاب کے بعد بحالی اور اصلاحات کے موضوع پر نیپال کے اندازے اور ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا۔ ساتھ ہی، دونوں نے اس مشکل وقت میں ہندوستان جو بھی مدد دے سکتا ہے، اس کی باریکیوں پر کام کرنے کے لیے دونوں ممالک کی ٹیموں کے درمیان مسلسل بات چیت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزراء نے نئی دہلی میٹنگ میں شروع کیے گئے پروجیکٹوں کی پیش رفت پر بھی بات چیت کی اور مسلسل رابطہ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یو ٹی آئی-این پی آئی لنکج کو جلد شروع کرنے اور استعمال کرنے پر بھی بات چیت ہوئی، کیونکہ یہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند پہل ہے۔
محترمہ سیتا رمن نے اے آئی آئی بی کے بورڈ آف گورنرز کی دوحہ کانفرنس کے دوران سعودی عرب کے وزیرِ خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان سے بھی ملاقات کی۔ مسٹر الجدعان نے ہندوستان کی مضبوط معاشی کارکردگی اور بہتر ہوتے سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے سیتا رمن کو مبارکباد دی اور سعودی معیشت پر اپنی رائے رکھی۔
محترمہ سیتا رمن نے کہا کہ سعودی عرب ہندوستان کا قابلِ اعتماد اور اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔ ساتھ ہی، انہوں نے دفاع، سکیورٹی، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی، ہیلتھ کیئر، تعلیم، ثقافت اور لوگوں کے درمیان باہمی تبادلے جیسے کئی شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان جامع شراکت داری کا ذکر کیا۔ دونوں وزراء نے ہند- سعودی عرب دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے (بی آئی ٹی) پر بات چیت کے کامیاب اختتام کا خیر مقدم کیا۔ اس سے دوطرفہ سرمایہ کاری کے لیے ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد ڈھانچہ ملے گا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بڑھے گا۔ مسٹر الجدعان نے کہا کہ سعودی عرب اس کے جلد نافذ ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورۂ سعودی عرب کے دوران ظاہر کیے گئے نقطۂ نظر کو یاد کرتے ہوئے، دونوں وزراء نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے پر تبادلۂ خیال کیا۔ مسٹر الجدعان نے ہندوستان سے سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرنے میں گہری دلچسپی دکھائی۔
محترمہ سیتا رمن نے اسی دوران سوئٹزرلینڈ کے سفیر اور اے آئی آئی بی میں اس کے نمائندے گورنر پریکشتروں لازیری سے بھی الگ سے ملاقات کی۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
دنیا7 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
ہندوستان5 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
