تازہ ترین
لوگ کووڈ ۔ 19کوانتہائی سنجیدگی کیساتھ سمجھنے کی کوشش کریں ،احتیاط لازمی : متحدہ مجلس علماء
کووڈ ۔ 19سے اموات میں تیزی سے اضافہ قابل تشویش
خبراردو:-
سرینگر: وادی کی دینی تنظیموں کے اتحاد متحدہ مجلس علما جموں وکشمیر نے کہا ہے کہ لوگ وادی میں کوویڈ ۔ 19 وبائی بیماری کے تیزی سے پھیلاوَ کو انتہائی سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرےں ۔ انہوں نے کہا کہ حالات کی سنگینی کا احساس اور ادراک کریں اور اس ضمن میں صحت عامہ کے ماہرین ، ڈاکٹروں کے مشوروں ، قواعد وضوابط اور اس حوالے سے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں ۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق متحدہ مجلس علما جموں وکشمیر (جس کی سربراہی نظر بند رکھے گئے میرواعظ عمر فاروق کررہے ہیں ) میں شامل تمام دینی، تعلیمی، سماجی اور ملی اہم اکائیوں انجمن اوقاف جامع مسجد، دارالعلوم رحیمیہ ، مسلم پرسنل لاء بورڈ،انجمن شرعی شیعان، جمعیت اہلحدیث، جماعت اسلامی،کاروان اسلامی، اتحاد المسلمین، انجمن حمایت الاسلام،انجمن تبلیغ الاسلام،جمعیت ہمدانیہ،انجمن علمائے احناف،دارالعلوم قاسمیہ،دارالعلوم بلالیہ ، انجمن نصرۃ الاسلام، انجمن مظہر الحق، انجمن ائمہ و مشاءخ کشمیر،مسلم وقف بورڈ،دارالعلوم نقشبندیہ ، دارالعلوم رشیدیہ ،اہلبیت فاءونڈیشن، مدرسہ کنز العلوم ،پیروان ولایت،اوقاف اسلامیہ کھرم سرہامہ ، انجمن تنظیم المکاتب ، محمدی ٹرسٹ اور دیگر جملہ معاصر دینی، ملی ، سماجی اور تعلیمی انجمنوں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں عوام سے پُر زور اپیل کی ہے کہ وہ وادی میں کوویڈ ۔ 19 وبائی بیماری کے تیزی سے پھیلاوَ کو انتہائی سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں اور حالات کی سنگینی کا احساس اور ادراک کریں اور اس ضمن میں صحت عامہ کے ماہرین ، ڈاکٹروں کے مشوروں ، قواعد وضوابط اور اس حوالے سے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں ۔
مجلس علماء نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ آئے روز کورونا وائرس کی وجہ سے متاثرین اور مرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہر لحاظ سے قابل تشویش اور لمحہ فکریہ ہے کیونکہ ہماری وادی میں سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں صحت کے انتہائی محدود بنیادی ڈھانچے کی موجودگی کی وجہ سے یہ اضافہ تباہ کن نتاءج کا باعث بن سکتا ہے اس لئے اس وبا کے پھیلاءوکو سختی کے ساتھ روکنے کی شدید ضرورت ہے ۔
بیان میں کہا گیا کہ ہمارے ڈاکٹرس اور طبی عملہ روز اول سے اپنی بھر پور صلاحیتوں ہسپتالوں اور شفاخانوں میں کووڈ ۔ 19سے متاثرہ افراد کے علاج و معالجہ کی خاطر آئے روز بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹنے کیلئے رات دن کام کررہے ہیں ہ میں ان کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت ہے جبکہ ڈبلیو ایچ او نے اس وائرس کا ہوا میں موجودگی کے امکان کی طرف بھی اشارہ کیاہے لہٰذا عوام الناس کو چاہئے کہ وہ احتیاطی تدابیر اور اقدامات پر سختی کے ساتھ عمل کو ہر حال میں یقینی بنائیں ۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ بات مشاہدے میں آرہی ہے اور یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ لوگ اکثر و بیشتر اپنے گھروں سے نکلتے وقت ناک اور منہ کو ڈھانپ نہیں رہے ہیں اور نہ ہی سماجی فاصلوں (سوشل ڈسٹنس)کا خیال رکھ رہے ہیں ۔ جبکہ بیشتر افراد غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلتے ہیں ، سڑکوں پرمٹر گشتی کرتے ہیں اور دکانوں کے تھروں پر بیٹھے ہوئے دیکھے جاتے ہیں ۔
مجلس علما نے کہا کہ یہ بات انتہائی حیران کن ہے کہ ایک طرف اجتماعات، عبادت گاہوں اور مساجد میں مذہبی اجتماعات کے انعقاد پابندی ہے جبکہ دوسری طرف باغات ،پارکوں اور سیاحتی مقامات کھول دیئے گئے ہیں اور عوام کا ایک طبقہ ممکنہ خطرات سے غافل ہوکر سیر و تفریح میں لگے ہیں اور خود اس طرح خود اپنے آپ اور اپنے کنبے کیلئے خطرات کو دعوت دے رہے ہیں ۔ مجلس علما نے لوگوں سے پرزور اپیل ہے کہ وہ حالات کی سنگینی کو سمجھیں اور انتہائی مجبوری اور ناگزیر حالات میں ہی ماسک کا استعمال کرکے، سماجی فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے اور دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ہی اپنے گھروں سے نکلنے کی کوشش کریں کیونکہ یہی ایک واحد راستہ ہے جس پر عمل کرکے وائرس کے پھیلاءو کو نہ صرف روکا جاسکتا ہے ۔
مجلس علما نے اس وبائی بیماری کے پیش نظر عوام الناس سے شادی بیاہ کی تقریبات کو مختصر اور محدود کرنے کی بھی اپیل کی ہے ۔ مجلس علماء نے لوگوں سے یہ بھی گزارش کی ہے کہ وہ اس خطرناک وبائی مرض سے اللہ تعالیٰ کے حضور خود بھی پناہ مانگیں اور اپنے اپنے گھروں میں اپنے اہل خانہ اور پوری انسانیت کی حفاظت کے لئے بارگاہ خداوندی میں خصوصی دعاءوں کا بھی اہتمام کریں ۔
ہندوستان
ترکیہ کے صدر کو ہندوستان کی خود مختاری سے جڑے معاملے میں بولنے کا کوئی حق نہیں: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، ہندوستان نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کے جموں و کشمیر کے بارے میں دیے گئے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہندوستان کی خود مختاری سے جڑا معاملہ ہے اور اس پر کسی بیرونی فریق کو بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں اس بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان اس ناپسندیدہ تبصرے کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، “ترکیہ کے صدر کی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران جموں و کشمیر کے بارے میں ناپسندیدہ تبصرے کو ہندستان مسترد کرتا ہے۔ یہ ہندوستان کی سالمیت نیز خود مختاری سے جڑا معاملہ ہے اور کسی بیرونی فریق کو اس پر بولنے کا حق نہیں ہے۔”
رپورٹوں کے مطابق مسٹر اردگان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے کشمیر کے مسئلے سمیت تمام تنازعات کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے دائرے میں بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میں رکنیت کے بارے میں تمام اراکین مل کر فیصلہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی رکنیت کا موضوع آتا ہے تو اراکین کو اجتماعی طور پر اس بارے میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔
ان سے میڈیا میں آئی ان رپورٹوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا جن میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان ترکیہ کو ایس سی او کا مکمل رکن بنانے کے حق میں نہیں ہے۔
یواین آئی ایف اے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی میں بی جے پی کے احتجاج کے بعد عمر نے ارکان اسمبلی اور وزراء کی تنخواہوں میں اضافے کے بل واپس لیے
سری نگر، بی جے پی کے احتجاج کے بعد منگل کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزراء، وزرائے مملکت اور قانون ساز ادارے کے ارکان کی تنخواہوں اور الاؤنس میں اضافے کی تجویز والے 2 بل واپس لے لیے۔
اتفاق سے جموں و کشمیر اسمبلی کی ایک ایوانی کمیٹی نے، جس کی سربراہی بی جے پی کے رکن اسمبلی سرجیت سنگھ سلاتھیہ کر رہے تھے، مجوزہ اضافے کی منظوری دی تھی۔
بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی نے ایوان میں کہا کہ حکومت کو یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین اور معاہدے پر کام کرنے والے ملازمین کو راحت فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
بل پیش کیے جانے کے بعد بی جے پی ارکان کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایوانی کمیٹی میں کوئی اختلافی نوٹ نہیں تھا، جس نے تنخواہوں اور الاؤنس میں مجوزہ اضافے کی سفارش کی تھی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کے ارکان ایک طرف تنخواہوں اور الاؤنس کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو درپیش مسائل کا حوالہ دے کر اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’میں کبھی اس کے حق میں نہیں تھا۔ اپنے ارکان اسمبلی سے پوچھ لیجیے۔ اگر ایک بھی رکن اس کی مخالفت کرتا ہے تو یہ کبھی منظور نہیں ہوگا۔ میں بل واپس لیتا ہوں۔‘‘
اس کے بعد ایوان نے اکثریت سے قانون سازی واپس لینے کے حق میں ووٹ دیا۔
وزیر اعلیٰ نے قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کے انچارج وزیر کی حیثیت سے یہ بل واپس لیے۔
تاہم، ایوان نے سابق ارکان قانون ساز ادارے سے متعلق ایک بل منظور کرلیا۔ حکمراں اور اپوزیشن دونوں جانب کے ارکان نے کہا کہ چونکہ یہ بل سابق ارکان سے متعلق ہے، اس لیے اسے واپس نہیں لیا جانا چاہیے۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے بلدیاتی نظم و نسق، کاروبار کرنے میں آسانی اور زندگی گزارنے میں آسانی، ٹیکس نظام، ٹیکسوں کو معقول بنانے اور جرائم کو غیر فوجداری بنانے سے متعلق وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کیے گئے 4 بل منظور کر لیے۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بل 24 ستمبر اور 28 ستمبر کو پیش کیے تھے اور متعلقہ تاریخوں پر ارکان میں تقسیم کیے گئے تھے۔ بعد ازاں اسمبلی کے جاری خزاں اجلاس کے دوران انہیں غور و خوض اور منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کیے گئے بلوں میں جموں و کشمیر میونسپل (ترمیمی) بل بھی شامل ہے، جسے انہوں نے مکان اور شہری ترقی کے انچارج وزیر کی حیثیت سے پیش کیا۔
وزیر اعلیٰ نے قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کے انچارج وزیر کی حیثیت سے جموں و کشمیر کاروبار کرنے میں آسانی بل، 2026 پیش کیا۔
اس بل کا مقصد اجازت پر مبنی نظام کی جگہ ضابطوں پر مبنی نظم و نسق قائم کرنے کے لیے قانون کو یکجا اور اس میں ترمیم کرنا اور شہریوں اور کاروباری اداروں کو اعتماد کے ساتھ منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور کام کرنے کے قابل بنانا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا مقصد مرکز کے زیر انتظام علاقے میں کاروبار کرنے میں آسانی اور زندگی گزارنے میں آسانی کو اس طرح فروغ دینا ہے کہ روزگار پیدا ہو، سرمایہ کاری راغب ہو اور طویل مدتی اقتصادی ترقی برقرار رہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر خزانہ کے طور پر اپنی حیثیت میں جموں و کشمیر اشیا و خدمات ٹیکس (ترمیمی) بل، 2026 بھی پیش کیا، جس میں جموں و کشمیر اشیا و خدمات ٹیکس ایکٹ، 2017 میں ترمیم کی تجویز ہے۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کیا گیا ایک اور قانون سازی کا مسودہ جموں و کشمیر جرائم کو غیر فوجداری بنانے اور معقول بنانے سے متعلق بل، 2026 تھا۔ اس بل کا مقصد بعض قوانین میں ترمیم کرکے جرائم کو غیر فوجداری بنانا اور انہیں معقول بنانا ہے تاکہ زندگی گزارنے میں آسانی اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ بعض قوانین کو منسوخ کرنے اور اس سے متعلق یا ضمنی معاملات کو نمٹانے کی بھی تجویز ہے۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: سی آئی ایس ایف کیمپ میں فائرنگ، 4 اہلکاروں کی مبینہ موت
جموں، جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ضلع کے بسوہلی علاقے میں منگل کی شام آپسی فائرنگ کے ایک واقعے میں اسسٹنٹ کمانڈنٹ اور سب انسپکٹر سمیت سی آئی ایس ایف کے 4 اہلکاروں کی مبینہ طور پر موت ہوگئی۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ’’ابتدائی اطلاعات کے مطابق سی آئی ایس ایف اہلکاروں کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی، جس کے بعد فائرنگ شروع ہوگئی۔‘‘ بسوہلی کے مَشکا علاقے میں سیوا پروجیکٹ کے قریب واقع سی آئی ایس ایف کیمپ میں آج شام فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ اہلکار پروجیکٹ کی حفاظت کے لیے تعینات تھے۔
اسسٹنٹ کمانڈنٹ، سب انسپکٹر اور 2 جوانوں سمیت سی آئی ایس ایف کے 4 اہلکار شدید زخمی ہوگئے اور انہیں پڑوسی ریاست ہماچل پردیش کے این ایچ پی سی اسپتال لے جایا گیا، لیکن انہوں نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔
مرنے والے اہلکاروں کی شناخت اسسٹنٹ کمانڈنٹ انکِت کمار پانڈے، سب انسپکٹر لکشمن سنگھ، کانسٹیبل رفیق احمد اور کانسٹیبل سندیپ کمار کے طور پر ہوئی ہے۔مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
کٹھوعہ ضلع کی سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس موہیتا شرما نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
ہندوستان7 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا7 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
